Home / کالم / بے ضمیر

بے ضمیر

*”کشمیر کو بےضمیر کیا سمجھے!* ”

تحریر: *حافظ عمیرحنفی*

تاریخ ِ اقوام عالم کو پڑھا جائے تو جہاں چنگیز خان اور ہلاکو خان کو ظلم و جبر میں ایک مذموم تاریخ کے ساتھ یاد رکھا جاتا ہے وہیں بھارت کے ظلم و جبر کی اندوہناک تاریخ بھی کسی کو بھولی نہیں ہے ان کی سفاکیت نے شاید چنگیز و ہلاکو کو بھی شرما دیا ہوگا روز ِ اول سے انسانیت کے اس دشمن بھارت نے نجانے کتنے کشمیری لخت جگر ان کی ماؤں سے چھین لیے اور ان گنت ماؤں اور بیٹیوں کی عزتیں تاتار ہوچکی بپےشمار والدین کو اولاد کےسامنے ذبح کیا جا چکا لاتعداد بچے جوان بوڑھے غائب کردیے گئے! ان ہزار داستانوں کے بعد اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل انصاف کی فراہمی کا نعرہ لگائیں تو ہم سامعین کو بھی سر شرم سےجھکا لینے چاہیے! برسوں سے ظلم کی چکی میں پسنے والے اس کشمیر کی کہانی بہت دردناک اور تکلیف دہ ہے

شعبہ تحقیق و مطالعہ پاکستان شریعت کونسل کے مطابق کشمیر کی مختصر تاریخ کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے کہ چودھویں صدی کے ربع اول میں کشمیر کے ایک راجہ رینچن یارام چندر نے ایک عرب مسافر سید بلبل شاہ کی نماز و تبلیغ سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیا اور اپنا اسلامی نام صدرالدین رکھا اور سری نگر میں جامع مسجد تعمیر کروائی اس طرح سے کشمیر کے اسلامی دور کا آغاز ہوا پندرھویں صدی کے ربع اول میں کشمیر کی قسمت جاگی ایک نیک سیرت رعایا پرور علم دوست عادل بادشاہ سلطان زین العابدین عطا ہوا اسی نیک سیرت سلطان نے جامع مسجد کے ساتھ دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی اور علماء کی سرپرستی کی اس کا دور بہت سنہری دور تھا 1558 میں مغل فرمانروا جلال الدین اکبر نے کشمیر کو فتح کیا یوں کشمیر شاہ میری خاندان کے ہاتھوں سے نکل کر مغل خاندان کے تسلط میں آگیا سلطان محی الدین اور اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد جب مغلیہ سلطنت زوال پذیر ہوئی اور مغل شہزادوں کی آپسی چپقلش کیوجہ طوائف الملوکی کا دور شروع ہوا اور ریاستیں خود مختار ہونے لگی تو کشمیر پر افغانیوں کا تسلط قائم ہوگیا یوں 1753 میں مغلیہ حکومت کا سورج غروب ہوا

1819 میں رنجیت سنگھ مہاراجہ نے پنجاب کے ایک لشکر مصر دیوان چند کی قیادت میں راجوری کے راستہ سے کشمیر پر حملہ کیا اور کشمیر کے حاکم جبار خان کو شکست دیکر سکھوں کا عَلم بلند کردیا یہیں سے ظلم و بربریت کا نا بند ہونے والا باب کھلا رنجیت سنگھ نے کشمیر کے ڈوگرہ خاندان کو آلہ کار بنایا اس خاندان کے دو افراد دھیان سنگھ اور گلاب سنگھ رنجیت سنگھ کے درباری ملازم تھے انہیں رنجیت سنگھ نے اہل کشمیر پر مسلط کردیا ڈوگروں اور سکھوں نے مل کر اہل کشمیر پر بے تحاشا ظلم ڈھائے! کشمیریوں کی صنعت کو تباہ کردیا اس دور میں شال بافی کی صنعت ترقی پذیر تھی اس میں 26 فیصد ٹیکس عائد کرکے اسے مفلوج کردیا شیر سنگھ کے دور میں قحط بھی پڑا ان مظالم اور قحط سے تنگ آکر بہت سارے کشمیری پنجاب کی طرف ہجرت کرگئے! چنانچہ آج پنجاب کے مختلف علاقوں میں یہ کشمیری آباد ہیں

رنجیت سنگھ اور شیر سنگھ کے بعد سکھ اقتدار زوال پذیر ہوا تو فرنگی نے پنجاب پر براہ راست تسلط قائم کرنے کی خاطر سکھوں کو درمیان سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا سکھوں نے مزاحمت کی لیکن بالآخر 1846 میں پنجاب فرنگی حکومت کے زیر نگین آگیا سکھوں اور انگریزوں کی اس جنگ میں گلاب سنگھ نے فرنگی کا تعاون کیا جس کے نتیجے میں فرنگی نے 16 مارچ 1846 میں “معاہدہ امرتسر” کے ذریعے 75 لاکھ روپے نقد ایک گھوڑا، بارہ بکریاں اور چھ جوڑے شال پر مشتمل سالانہ خراج کے عوض ریاست جموں و کشمیر کو مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ بیچ دیا ظلم بر ظلم یہ کہ جاتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ بھی کرگیا یوں کشمیر ڈوگرہ شاہی خاندان کے ہاتھوں میں آگیا ڈوگرہ خاندان نے مسلمانوں کو ستانے اور ظلم ڈھانے کے پہلے بھی ریکارڈ توڑ رکھے تھے اور وہ مظالم و قوانین جو پہلے سے قائم ہوچکے تھے ان میں اضافہ کردیا مساجد مسمار ہونے لگیں، ایک گائے کے ذبیحہ پر پورا خاندان شہید کردیا جاتا کوئی سکھ کسی مسلمان کو قتل کردیتا تو اس کی سزا صرف 14 روپے جرمانہ تھی جن میں سے دو روپے مقتول کو باقی 12 روپے سرکاری خزانہ میں جمع کروانے ہوتے تھے! بیشتر مسلمان ان مظالم کی تاب نہ لاتے ہوئے ہجرت کرتے رہے ڈوگرہ مظالم کا یہ دور تاریخ کا تاریک ترین اور اندوہناک باب ہے

1931 میں ڈوگرہ خاندان کے ظلم و تشدد کے باعث جب ایک مسلمان کی شہادت ہوئی تو مدتوں سے سینوں میں پکنے والا لاوا پھٹ پڑا پھر تحریکات جنم لینے لگی! 1947 میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو جن ریاستوں کو استصواب رائے کا حق تھا کہ وہ جس کے ساتھ چاہے الحاق کرلیں ان میں ایک ریاست جموں و کمشیر بھی شامل تھی بدقسمتی سے راجہ نے عوام کی رائے لیے بغیر بھارت میں شامل کردیا جس کو اقوام متحدہ نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ یہ کشمیری عوام کا حق ہے اب بھارت کے پاس اس کا جواز بنتا ہی نہیں ہے ظلم بر ظلم یہ کہ آئین میں آرٹیکل 370 جس میں اضافہ کرکے اقوام متحدہ نے کشمیر کو خود مختار آزاد ریاست کی حیثیت دے رکھی تھی 5 اگست 2019 کو بھارت نے اسے پس پشت ڈالتے ہوئے کشمیر کو بھارتی یونین میں شامل کردیا ایک سال مکمل ہونے کو ہے روزانہ ہزاروں لاشیں گر رہی ہیں نا تو انسانی حقوق کی تنظیموں نے کوئی پیش رفت کی نا ہی پوری دنیا میں امن کے فروغ کے دعویدار اقوام متحدہ کا کوئی عمل نظر آیا کشمیر کے نام پر کھانے بنانے والے نجانے کن بند کمروں میں چلے گئے!

کل گزشتہ سوشل میڈیا پر ایک بچہ جو اپنے مقتول نانا کے سینے پر بیٹھا ہے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو سوئی ہوئی قوم کو کچھ خیال آیا لیکن عادات سابقہ کی طرح اس مرتبہ بھی چند نعروں اور احتجاجی قرار دادوں کے بعد بات کہانی ختم ہوجائے گی برسوں سے کئی بچے یوں ہی باپ دادوں کے ساتھ نکلتے ہیں اکیلے واپس لوٹتے ہیں ہزاروں غائب کردیے گئے لیکن ہم ہیں کہ خاموش تماشائی ہیں مسئلہ یہ ہے کہ کشمیر کو بےضمیر کیا سمجھے گا…. ؟

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے