Home / اسلام / جُھوٹی نبوت کے جُھوٹے پیرو کار !!

جُھوٹی نبوت کے جُھوٹے پیرو کار !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَنعام ، اٰیت 21 تا 26 ))) 🌹
جُھوٹی نبوت کے جُھوٹے پیرو کار !! 🌹
ازقلم
📕 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
ومن اظلم
ممن افترٰی علی
اللہ کذبا او کذب باٰیٰتہ
انہ لا یفلح الظٰلمون 21 ویوم
یحشرھم جمیعا ثم نقول للذین
اشرکوااین شرکاٶکم الذین کنتم تزعمون
22 ثم تکن فتنتھم الا ان قالوا واللہ ربنا ماکنا
مشرکین 23 انظر کیف کذبوا علٰی انفسھم وضل عنھم
ماکانوایفترون 24 ومنھم من یستمع الیک وجعلنا علٰی قلوبھم
اکنة ان یفقھوہ وفی اٰذانھم وقرا وان یروا کل اٰیة لایٶمنوابھا حتُی
اذاجاٶک یجادلونک یقول الذین کفرواان ھٰذاالااساطیر الاولین 25 وھم
ینھون عنہ وینٸون عنہ وان یھلکون الا انفسھم وما یشعرون 26
بَھلا اُس انسان سے زیادہ ظالم کون سا انسان ھو گا جو اللہ پر جُھوٹا الزام لگاۓ اور اُس انسان سے زیادہ ظالم کون سا انسان ھو گا جو اللہ کی اٰیات کو جُھٹلاۓ لیکن یقین جانو کہ جو شخص اِس جُرم کا ارتکاب کرے گا وہ ناکام و نامُراد ھو کر مرے گا ، جس روز ھم سب انسانوں کو جمع کریں گے اُس روز اِن مشرک لوگوں سے پُوچھیں گے کہ اَب وہ تُمہارے خُدا کے ساتھ ٹھہراۓ ھوۓ شریک لوگ کہاں ہیں جن کو تُم دُنیا میں اپنا خُدا بناۓ ھوۓ تھے ، اُس وقت اُن کے پاس اِس کے سوا کوٸ چارہِ کار نہ ھو گا کہ وہ اللہ کی قَسم اُٹھا کر کہیں گے کہ ھم مُشرک نہیں تھے اور جس روز یہ لوگ یہ قَسم کھاٸیں گے اُس روز اُن کے وہ سارے جعلی حاجت رَوا غاٸب ھو جاٸیں گے ، اِن مُشرکوں میں کُچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جو کان اور دِھیان لگا کر ھماری بات سُنتے ہیں مگر اِس حال میں کہ ھم نے اُن کے کانوں اور اُن کے دلوں پر پہرے لگا رکھے ہیں ، اِس لیۓ ھم جانتے ہیں کہ جو بات اپنے گمان کے مطابق وہ سُنتے ہیں دَرحقیقت وہ بات وہ ہر گز نہیں سُنتے اور جو بات اپنے گمان کے مطابق وہ سمجھتے ہیں دَرحقیقت وہ بات ہر گز وہ نہیں سمجھتے ، اِس لیۓ صداقت کی کوٸ نشانی دیکھ کر بھی وہ لوگ آپ سے مُطمٸن نہیں ھوں گے ، حق سننے اور حق سمجھنے کے بعد حق کا انکار کرنے والے اِن لوگوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو آپ کے پاس آکر حق کے حق میں جَھگڑا کر ر ھے ھوتے ہیں لیکن وہ آپ کی مجلس سے نکلتے ہی کہتے ہیں کہ اِن کے پاس تو اَز رفتہ قصوں کا ایک طُو مار ھے جو سنایا جاتا ھے ، اِس سے زیادہ اِس کی کوٸ حیثیت نہیں ھے ، یہ وہ لوگ ہیں جو خود بھی قبولِ حق سے رُکے ھوۓ ہیں اور دُوسرے لوگوں کو بھی قبولِ حق سے روکنے کا باعث بنے ھوۓ ہیں ، یہ لوگ اِس گمھنڈ اور اِس گمان میں مُبتلا ہیں کہ وہ اپنے اِس طرزِ عمل سے آپ کی دعوتِ حق کے کام میں کوٸ رکاوٹ ڈال دیں گے لیکن وہ نہیں جانتے کہ وہ اپنی اِن حرکات سے اپنی ہی تباہی و بربادی کا سامان جمع کر ر ھے ہیں !
🌹 لُغاتِ اٰیات اور تشریحاتِ لُغات ! 🌹
پہلی اٰیت کا پہلا لَفظ ” اَظلم “ اور دُوسرا لَفظ ” اِفترا “ ھے ، اَظلم کثرت سے استعمال ھونے والے معروف لفظ ظُلم سے اسمِ تفضیل ھے جو ظُلم کی اُس کثرت کو ظاہر کرتا ھے جو اُس میں موجود ھوتی ھے اور ظُلم کا معنٰی کسی چیز کو اُس کے مقررہ مقام سے ہٹا کر اُس مقام پر رَکھنا ھوتا ھے جو اُس کا مقررہ مقام نہیں ھوتا اور ظالم انسان اپنے اِس ظالمانہ عمل سے اللہ کے مقرر کیۓ ھوۓ نظمِ کاٸنات میں مداخلت کر کے شرک کا ارتکاب کرتا ھے ، اِس پہلی اٰیت کا دُوسرا لفظ اِفترا ھے جو مصدر معروف ھے اور جس کا معنٰی کسی پر بُہتان لگانا ھوتا ھے اور بُہتان کا معنٰی کسی کے ساتھ کسی ایسی بُری بات کو منسُوب کرنا ھوتا ھے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے درست نہیں ھوتی اور اٰیتِ بالا میں اِس بات سے کسی شخص کی وہ بات مُراد ھے جو اُس شخص نے اللہ کی ذات یا اللہ کی اٰیات کے ساتھ منسوب کی ھوٸ ھوتی ھے ، قُرآنِ کریم کی اِس اٰیت کے مطابق کسی شخص کی اللہ کی طرف منسوب کی گٸ پہلی بات یہ ھے کہ وہ شخص لوگوں کے سامنے یہ دعوٰی کرے کہ وہ اللہ کا نبی ھے اور دُوسری بات یہ ھے کہ وہ شخص اللہ کی طرف کوٸ ایسی بات منسوب کرے جو اللہ کی اٰیات کے خلاف ھو اور اِس دُوسری بات کی قُرآن نے خود ہی یہ وضاحت کردی ھے کہ اِس بات سے مُراد اُس شخص کا اللہ کے حوالے سے اللہ کی اٰیات کا وہ مفہوم پیش کرنا ھے جو دَرحقیقت اللہ کی اُس اٰیت کا مفہوم نہیں ھے بلکہ اُس کے اپنے خودساختہ خیالات کا ایک خود ساختہ مفہوم ھے ، نتیجہِ کلام یہ ھوا کہ قُرآن کے نزدیک کسی شخص کا نبوت کا دعوٰی کر کے اپنے خود ساختہ کلام کو اللہ کا کلام قرار دینا یا اللہ کے سَچے کلام کی اپنی مطلب براری کے لیۓ وہ تشریح کرنا اِس دُنیا میں ھونے والے سارے مظالم میں سے سب سے بڑا ظُلم ھے ، اٰیاتِ بالا میں سے دوسری اٰیت کا آخری لَفظ ” تزعمون “ ھے جو جمع مذکر حاضر فعل مضارع معروف کا صیغہ ھے جس کا مصدری معنٰی گُمان ھے اور اٰیت ھٰذا میں یہ لفظ اللہ کے اُس خطاب کا حصہ ھے جو خطاب وہ قیامت کے روز اُن اہلِ شرک سے کرے گا جن کا اِس اٰیت کے پہلے حصے میں ذکر ھوا ھے ، گُمان انسان کے اُس خیال ، اُس اَندازے ، اُس شُبہے ، اُس احتمال یا اُس وھم کو کہتے ہیں جو انسان کے دِل میں اُس اِحساس کے طور پر موجود ھوتا ھے جس کا حقیقت سے دُور پار کا بھی کوٸ تعلق نہیں ھوتا ، اسی لیۓ تیسری اٰیت کے پہلے حصے میں اِس احساس کے حامل لوگوں کے فریبِ نفس اور کذبِ نفس پر حیرت کا اِظہار بھی کیا گیا ھے !
🌹 ظُلم اور شرک کا مقامِ اِتصال ! 🌹
دُوسری اٰیت میں اللہ کی ذات پر بُہتان باندھنے اور اللہ کی اٰیات کے تکذیب کے اِسی ظُلمِ عظیم کو شرکِ عظیم کہہ کر یہ انکشاف کیا گیا ھے کہ قیامت کے روز جب نبوت کے جُھوٹے دعوے کرنے اور نبوت کے جُھوٹے دعوٶں کی تصدیق کرنے والوں سے اِس بارے میں جو باز پرس ھو گی تو وہ اُس کے جواب میں اللہ کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر کہیں گے کہ ھم مُشرک نہیں تھے ، اِس لیۓ جن لوگوں نے یہ سمجھا ھے تو بالکُل غلط سمجھا ھے کہ قیامت کے روز وہ لوگ اللہ کے رُو بہ رُو ھوتے ھوۓ بھی ایک جُھوٹی قَسم اُٹھاٸیں گے ، اَمرِ واقعہ یہ ھے کہ وہ لوگ اپنے گمان کے مطابق تو ایک سَچی قَسم ہی اُٹھاٸیں گے لیکن حقیقت کے اعتبار سے اُن کی یہ قَسم جُھوٹ ھو گی ، عجمی عُلما کے ذخیرہِ حدیث میں جن تیس جُھوٹے اور دَجّال مُدعیانِ نبوت کے ظاہر ھونے کی خبر دی گٸ ھے اُس میں بھی” کلھم یزعم انھم نبی اللہ “ کے اَلفاظ ہیں جن کا مطلب یہ ھے کہ اللہ کے آخری نبی نے اپنے بعد آنے والے اُن تیس ذھنی مریضوں کے ظہور کی خبر دی ھے جن کے ذھن میں اُن کے ذھنی مریض ھونے کے باعث نبوت کا وہ شیطانی گمان ھوگا جس کا وہ دعوٰی کریں گے لیکن دَرحقیقت اُن کا دعوہِ نبوت جُھوٹ ھوگا اور اِس اَمر کا ایک مقصدی اور لازمی تقاضا یہ ھے کہ زمین کے جس حصے میں جب بھی کوٸ نبوت دعوے دار سامنے آۓ اُس کو ایک لَمحے کی تاخیر کیۓ بغیر ہی دماغی اَمراض کے کسی ادارے کی تحویل میں دے دیا جاۓ اور اِس کے اِس دعوے کے خلاف جو دیگر قانونی تقاضے پُورے کیۓ جاٸیں وہ اِس ابتداٸ اور اَھم اَقدام کے بعد کیۓ جاٸیں ، اِس سلسلہِ کلام کے بعد کی جو دیگر آیات اِس سلسلہِ کلام سے جُڑی ھوٸ ہیں وہ بھی معنوی اعتبار سے اُن ہی مذکورہ اُمور کی تشریح ہیں جن کا سطورِ بالا میں ذکر ھوا ھے ، اِس لیۓ اُن کی الگ سے کسی توضیح کی ضرورت نہیں ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے