Home / اسلام / توحید پر قُرآن کے تین سوالات اور جوابات

توحید پر قُرآن کے تین سوالات اور جوابات

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَنعام ، اٰیت 12 تا 20 🌹
توحید پر قُرآن کے تین سوالات اور جوابات !! 🌹 ازقلم 📕خترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 قل لمن ما
فی السمٰوٰت والارض
قل للہ کتب علٰی نفسہ
الرحمة لیجمعنکم الٰی یوم
القیٰمة لاریب فیہ الذین خسروا
انفسھم فھم لا یٶمنون 12 ولہ ما سکن
فی الیل والنہار وھوالسمیع العلیم 13 قل اغیر
اللہ اتخذ ولیا فاطرالسمٰوٰت والارض وھو یطعم ولا
یطعم قل انی امرت ان اکون اول من اسلم ولا تکونن من
المشرکین 14 قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم 15
من یصرف عنہ یومٸذ فقد رحمتہ وذٰلک فوزالمبین 15 وان یمسسک اللہ
بضر فلا کاشف لہ الا ھو وان یمسسک بخیر فھو علٰی کل شٸ قدیر 16 وھوالقاھر
فوق عبادہ وھوالحکیم الخبیر 18 قل ای شٸ اکبر شھادة قل للہ شھید بینی و بینکم
واوحی الی ھٰذا القراٰن لانذرکم بہ ومن بلغ اٸنکم لتشھدون ان مع اللہ اٰلھة اخرٰی قل لا اشھد
قل انما ھو الٰہ واحد واننی برٸ مما تشرکون 19 الذین اٰتینٰھم الکتٰب یعرفونہ کما یعرفون ابناٸھم
الذین خسروا انفسھم فھم لایٶمنون 20
اے مُحمد ! آپ پہلے اِن لوگوں سے یہ سوال کریں کہ وہ کون سی ذاتِ گرامی ھے جو ہر لَمحہ و ہر آن زمین و آسمان میں موجود ھوتی ھے ، پھر خود ہی اِن کو یہ جواب دیں کہ وہ اللہ کی وہ ذاتِ گرامی ھے جس نے مخلوق پر رحم کرنا خود پر لازم کر لیا ھے ، یہی وہ ذاتِ گرامی ھے جس نے حساب کے لیۓ قاٸم ھونے والے اُس یومِ اجتماع پر تُم سب کو جمع کرنا ھے جس یومِ اجتماع کے آنے میں ذرا برابر بھی شُبہ نہیں ھے ، جو لوگ جزا و سزا کے اِس فیصلہ کُن اجتماع کے آنے پر یقین نہیں کریں گے وہ اُس دِن اور اُس وقت اپنی خواہش و آرزُو کی تَکمیل میں ناکام ھو جاٸیں گے ، لگے ہاتھوں آپ اِن سے یہ بھی پُوچھ لیجۓ کہ تُمہارے سامنے ایک طرف تو اللہ کی وہ ذاتِ گرامی ھے جو ہمہ وقت تُمہارے ساتھ ساتھ رہتی ھے اور وہ ذاتِ گرامی رات کے ہر رَواں لَمحے اور دِن کے ہر رَواں لحظے میں اپنے اِس ٹھہراٶ کے ساتھ اِس طرح ٹھہری ھوٸ ھے کہ وقت کی رَفتار اور رَوانی اُس کے سکُون پر اَثر اَنداز نہیں ھوتی اور زمان و مکان کے جس لَمحے اور جس لَحظے میں اُس کی جو زمانی و مکانی مخلوق اُس کے سامنے اپنا دَستِ طلب پھیلاتی ھے تو وہ ذاتِ گرامی اپنی کسی مخلوق کے دَستِ سوالی کو خالی نہیں رہنے دیتی اور دُوسری طرف تُمہارے وہ خودساختہ معبُود ہیں جو بذاتِ خود تُمہاری طرح مُحتاج و دَست نگر ہیں ، اَب تُم اِس بات کا فیصلہ کرو کہ تُم اپنے لیۓ اللہ کی رحمت کو پسند کرو گے یا اپنی کسی ایسی خود ساختہ ہستی کو جو اپنے وجودِ ذات کے لیۓ خود بھی ایک مجبور مُحتاج ہستی ھے اور آپ میرے اِن بندوں سے دوبارہ یہ سوال کیجۓ کہ وہ کون سی ذاتِ عالی ھے جو اپنی ساری مخلوق کو کِھلاتی اور پِلاتی ھے لیکن اُس کی ساری مخلوق میں کوٸ بھی ایسا نہیں ھے جو اُس کو کُچھ کِھلاتا یا پِلاتا ھے کیونکہ اُس کی ذات اِن اَدنٰی ضروریات سے ایک بلند تر ذات ھے ، اِس سوال و جواب کے بعد آپ میرے اِن بندوں کو یہ بھی بتادیجیۓ کہ ارض و سما کے اُس خالق نے مُجھے حُکم دیا ھے کہ میں اُس کا پہلا مُسلم بنوں اور کبھی بھی اُس کے اِقتدار و اختیار میں کسی کو شریک نہ کروں اور میں اُس کے اِس حُکم کے مطابق اُس کا پہلا مُسلم بندہ بن گیا ھوں ، میں اُس کے اُس بڑے یومِ حساب کے بڑے حساب سے لَرزہ بَراَندام رہتا ھوں ، جو شخص اپنے اَعمالِ خیر سے اُس دِن کو اپنے حق میں پھیر دے گا وہی اُس کی بڑی مہربانی سے بڑی کامرانی حاصل کرے گا ، کیونکہ اُس کی عظمت و شان یہ ھے کہ اگر وہ تُم کو کوٸ اَذیت دینے کا فیصلہ کر لے تو تُم کو اُس سے کوٸ بھی نہیں بچا سکتا اور اگر وہ تُم کو کوٸ رَاحت دینے کا ارادہ کر لے تو اُس مولاۓ کاٸنات کو کوٸ بھی نہیں روک سکتا ، وہ ایسا حکمت کار اور ایسا با اختیار ھے کہ اُس کی اِس کاٸنات کی کوٸ چھوٹی سی چھوٹی یا بڑی سے بڑی شٸ اُس کے داٸرہ علم و اختیار سے باہر نہیں ھے ، اِن سارے اُمور کے بعد آپ اِن لوگوں سے یہ سوال بھی پُوچھ لیں کہ اُس عالی ذات کے اقتدار و اختیار کے بارے میں ہر چیز سے بڑھ کر کس چیز کی گواہی مُعتبر ھے اور اِس سوال کے بعد آپ خود ہی اِن کو یہ بھی بتا دیں کہ میرے کارِ نبوت اور تُمہارے اِقرارِ نبوت کے دَرمیان سب سے بڑی گواہی اللہ کی اپنی گواہی ھے اور اُس گواہی کی صداقت پر اُس کا مُجھ پر نازل کیا ھوا یہ قُرآن گواہ ھے تاکہ یہ قُرآن تُم میں سے جس کسی کے پاس بھی پُہنچے وہ اِس کے اِس آفاقی پیغام سے آگاہ ھو جاۓ اور اس کی دی ھوٸ آگاہی کے مطابق زندگی بسر کرے ، تو پھر کیا اَب بھی تُم اپنی جُھوٹ مُوٹ کی وہی پہلی گواہی دوگے کہ اللہ کے اقتدار و اختیار میں اُس کے کُچھ دُوسرے شریکے بھی شریکِ اقتدار اور شریکِ اختیار ہیں ، اگر تُم یہ گواہی دیتے ھو تو دیتے رھو ، میں تُمہاری اِس گواہی سے بیزار ھوں کیونکہ زمان و مکان کی ہر تحقیق سے اِس اَمر کی تصدیق ھو چکی ھے کہ اللہ ہی اِس کاٸناتِ ہَست و بُود کا وہ واحد الٰہ ھے جس کے سوا کوٸ بھی الٰہ نہیں ھے ، آپ میرے اِن بندوں کو یہ سب باتیں بتانے کے بعد اِس بات کی تسلّی رَکھیں کہ آپ نے میرا پیغام میرے بندوں تک پُوری کامیابی کے ساتھ پُہنچا دیا ھے اور میرے یہ بندے میرے اِن اَحکام کو اِس طرح سے جان پہچان گۓ ہیں جس طرح کہ وہ اپنے اپنے بچوں کو جانتے اور پہچانتے ہیں ، اگر اِس کے بعد بھی یہ لوگ میرے اِن اَحکام کو فراموش کریں گے تو اَپنا ہی نُقصان کریں گے !
🌹 اٰیات اور تو ضیحاتِ اٰیات ! 🌹
اللہ کی توحید پر اللہ کی اِن اٰیات کا یہ مربُوط سلسلہِ کلام گزشتہ سلسلہِ کلام کی اُن آخری دو اٰیات سے شروع ھوا ھے جن میں یہ کہا گیا ھے کہ اِس سے پہلے بھی زمین پر اہلِ زمین کے لیۓ ھمارے رسول آتے ر ھے ہیں اور اِس سے پہلے بھی اہلِ زمین ھمارے رسولوں کو جُھٹلاتے ر ھے ہیں ، اگر تُم ھمارے اُن رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگوں کا عبرتناک اَنجام دیکھنا چاہتے ھو تو پھر ہمت کر کے اپنے محدود داٸرہِ زمین سے باہر نکلو اور پھر اپنی کُھلی آنکھوں کے ساتھ ھماری اِس کُھلی زمین کا مُطالعہ و مُشاھدہ کرو تاکہ تُم اُن نافرمان لوگوں کی تباہی کے آثار دیکھ کر عبرت حاصل کرسکو اور اُس بَد اَنجامی سے بَچ سکو جس بَد اَنجامی کا شکار ھو کر وہ لوگ صفحہِ ہستی سے مٹ چکے ہیں اور چونکہ زمین میں نکلنے کا مقصد زمین میں نکل کر زمین کی سَر سَری سی سیر کرنا یا زمین کی ناپ تول کرنا مقصود نہیں ھے بلکہ اِس سیر سے مُراد کاٸنات کا قابلِ ذکر و قابلِ لحاظ مُشاھدہ کرنا ھے اِس لیۓ اَب موجودہ اٰیات میں یہ بتایا گیا ھے زمین پر اللہ کے رسولوں کی آمد کی غرض انسانوں کو اللہ کی توحید سے رُو شناس کرانا تھا ، اِس لیۓ جب تُم مُشاھدہِ زمین کے لیۓ زمین میں نکلو تو زمین کے چاروں طرف پھیلے ھوۓ اُس خلا پر بھی ایک مُتجسسانہ نگاہ ڈالو اور سوچو کہ ارض و سما کے اِس بیکراں کارخانے کو کون چلا رہا ھے اور کس مقصد کے لیۓ چلا رہا ھے ، اگر تُم اِس سوال پر غور کرو تو پھر ھمارے رسول کی زبان سے کیۓ گۓ اُن سوالات پر بھی ضرور غور کرو جو ھم نے اپنے رسول کی زبانی اُس کے زمانے کے لوگوں کے کانوں میں ڈالے تھے اور جن کے جواب دینے سے اُن کی زبانیں گُنگ ھوگٸ تھیں ، اِس لیۓ اُن عقلی و مَنطقی سوالات کے جوابات بھی ھم نے خود دے دیۓ تھے تاکہ تُم اپنے بہتر زمانوں میں اُس زمانے کے لوگوں سے بہتر اَنداز میں اِن سوالات پر غور کرو اور فطرت کے مُسلمہ کاٸناتی اصولوں کے مطابق ایک عقلی و مَنطقی طریقے کے ساتھ اپنے خالق کی کھوج لگاٶ اور اُس کی خَلاقی کے اُن مقاصد کو جاننے کی کوشش کرو جس خلّاقی کی تکمیل کے لیۓ اُس نے تمہیں اپنی اِس زمین پر چند روزہ مُہلتِ حیاتِ اور قُوتِ سعی و عمل دے کر مامور کیا ھے ، جو لوگ اللہ کے اَحکام کے مطابق کاٸنات کے اَسرار ورُموز کو سمجھیں اور جانیں گے وہی لوگ ارتقاۓ حیات کے اَگلے مَرحلے میں داخل ھو سکیں گے اور جو لوگ علم و خبر کی اِس دُنیا میں علم و خبیر سے بیخبر رہ کر اپنے رِبِ علیم و خبیر سے جتنے دُور رہیں گے اُن کا سفرِ ارتقاۓ حیات بھی اُن سے اتنا ہی دُور ھو تا چلا جاۓ گا ، اٰیاتِ بالا میں بیان کیۓ گۓ مقاصد و مطالب کو ھم نے بڑی حَد تک مفہومِ اٰیات میں سمیٹنے کی کوشش کی ھے اور اُس کوشش کے بعد اِن سطور میں اُن مقاصد و مطالب کی تفصیل دَر تفصیل کی کُچھ زیادہ ضروت نہیں ھے تاہَم اِس سارے سلسلہِ کلام کی ” پَنچ لاٸن “ یہ ھے کہ جب تک اہلِ زمین کے پاس قُرآن موجود ھے ، اہلِ زمین کے پاس اُس کا پُورا سامانِ ھدایت موجود ھے لیکن اِس کتاب سے ھدایت پانے کی واحد شرط یہ ھے کہ جس طرح ہر ایک مُسلمان کے لیۓ اللہ کو واحد و لاشریک ذات ماننا لازم ھے اسی طرح ہر ایک مُسلمان کے لیۓ اللہ کے اِس کلام کو بھی واحد و لاشریک کلام ماننا لازم ھے اور جس طرح اللہ کے ساتھ کسی غیر کو شریکِ اَحکام کرنا دین کا انکار سمجھا جاتا ھے اسی طرح قُرآن کے ساتھ بھی کسی دُوسری کتاب کو شریکِ اَحکام کتاب بنانا بھی دین کا انکار سمجھا جاۓ ، جب تک اہلِ اسلام ، اللہ کے وَاحد و اَحد اور قُرآن کے وَاحد و اَحد ھونے کو عملی طور پر تسلیم نہیں کریں گے تب تک زمین پر اہلِ اِسلام کا عزت حاصل کرنا دیوانے کا ایک خواب ھو گا !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے