Home / اسلام / نَشاناتِ عِبرت اور مَقاماتِ عِبرت !!

نَشاناتِ عِبرت اور مَقاماتِ عِبرت !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَنعام ، اٰیت 4 تا 11 ))) 🌹
نَشاناتِ عِبرت اور مَقاماتِ عِبرت !! 🌹
ازقلم
📕 خترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 وماتاتیھم
من اٰیة من اٰیٰت ربھم
الا کانوا عنھا معرضون 4 فقد
کذبوابالحق لماجاٸھم فسوف یاتیھم
انبٰٶاماکانوا بہ یستھزٶن 5 الم یرواکم اھلکنا
من قبلھم من قرن مکنٰھم فی الارض مالم نمکن لکم
وارسلناالسما ٕ علھم مدرارا وجعلناالانھار تجری من تحتھم
فاھلکنٰھم بذنوبھم وانشانامن بعدھم قرنااٰخرین 6 ولو نزلنا علیک
کتٰبافی قرطاس فلمسوہ بایدیھم لقال الذین کفرواان ھٰذا الاسحر مبین
7 وقالوا لولاانزل علیہ ملک ولو انزلنا ملکا لقضی الامر ثم لاینظرون 8 ولوجعلنٰہ
ملکالجعلنٰہ رجلا وللبسنا علیھم مایلبسون 9 ولقد استھزٸ برسل من قبلک فحاق بالذین
سخروامنھم ماکانوابہ یستھزٶن 10 قل سیروا فی الارض ثم انظروا کیف کان عاقبة المکذبین 11
اُن کے رَب نے اُن کو ہر ایک دلیل دی ھے اور اُن کے رسُول نے بھی اُن سے ہر ایک اپیل کی ھے مگر اُن رُوگردان لوگوں کی گردن پھر بھی ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی رہی ھے یہاں تک کہ جب آپ سَچ کی ساری سچاٸیوں کے ساتھ اُن کے درمیان پُہنچے تو اُنہوں نے ہر سَچاٸ کے ساتھ ایک اِستہزا و تمسخر کیا لیکن اَب وہ وقت کُچھ زیادہ دُور نہیں ھے جب اِن پر سَچ کے سارے نتاٸج اور جُھوٹ کے سارے نقاٸص ظاہر ھو جاٸیں گے ، آخر اِن لوگوں کے دیدہِ عبرت نے اَقوامِ رَفتہ کے اُن نشاناتِ عبرت اور اُن مقاماتِ عبرت کو کیوں نہیں دیکھا جن کی زمینیں آسمان کی آب رسانی سے سیراب ھوتی تھیں اور اِن زمینوں کی رگوں اور ریشوں میں بھی پانی کے سَوتے موجود ھوتے تھے ، اِن کے اِقتدار کے مقابلے میں اقتدار کا کوٸ دُوسرا دعوےدار بھی نہیں تھا لیکن قُدرت کے دَستِ انتقام نے اُن کی بلند و بالا بستیوں کو ذلتوں اور پستیوں میں دَھکیل کر اِن کو اہلِ عبرت کے لیۓ نَقشِ عبرت بنا دیا تھا اور قُدرت نے اُن کے اُن محل نُما مکانوں اور اُن کی اُن جنت نُما زمینوں کا دُوسری قوموں کو مالک بنا دیا تھا ، سَو اے ھمارے رسول ! اگر ھم تُجھ پر آسمان سے ایک لکھی ھوٸ کتاب بھی اُتار دیتے اور اُس کو یہ اپنے ہاتھوں سے چُھوکر بھی دیکھ لیتے تو یہ اُس کو عمل کو بھی ایک کارِ جادُو گری قرار دیتے ، یہ تُند خُو اور بہانہ جُو لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنے اِس نبی کے ساتھ اَپنا کوٸ فرشتہ کیوں نہیں بھیج دیا جو ھمارے سامنے اِس نبی کی تصدیق کرتا اور ھم اُس فرشتے کی تصدیق سے اِس نبی کی تصدیق کرتے اور اگر ھم نے اِن کی خواہش کے مطابق اِن میں کوٸ فرشتہ بھی اُتار دیا ھوتا تو اِس اِتمامِ حُجت کے بعد اِن پر عذاب کا فیصلہ بھی ھو چکا ھوتا کیونکہ وہ فرشتہ بھی انسانی شکل میں ھوتا اور اُس فرشتے کے بارے میں بھی اِن کے دِل میں اُس وقت یہی اشکال موجود ھوتا جو اِس وقت موجود ھے ، سَو اے ھمارے رسول ! اِس سے پہلے بھی اہلِ زمین کے پاس ھمارے رسول آتے ر ھے ہیں اور اِس سے پہلے بھی اہلِ زمین ھمارے رسولوں کے ساتھ یہی انکار و استکبار کرتے ر ھے ہیں ، آپ اِن سے کہیۓ کہ تُم ذرا زمین میں چل پھر کر تو دیکھو تاکہ تُم جان سکو کہ حق کو جُھٹلانے والوں کا کیا اَنجام ھوا ھے !
🌹 سُورةُالاَنعام اور مساٸلِ حلال و حرام ! 🌹
سُورةُالاَنعام کا آغازِ کلام ” حمد “ ھے اور حمد کا معنٰی ” تعارف “ ھے اور تعارف سے مُراد ایک دُوسرے کو جاننا اور پہچاننا ھوتا ھے ، اِس مقام پر اِس مضمون کو لانے کا مقصد اِس اَمر کی تفہیم کرانا ھے کہ اللہ خالق کے طور پر انسان کو ہمیشہ سے جانتا ھے اور انسان کو مخلوق کے طور پر اللہ کو ہمیشہ کے لیۓ جاننا ھے ، سُورت کے اِس آغازِ کلام میں قُرآن کے پڑھنے والے کو یہ بھی بتا دیا گیا ھے کہ انسانی فطرت کو اللہ نے زمین کی مِٹی کی طرح تابع دار اور فرماں بردار بنایا ھے لیکن اِنسان زمین کی طر ح یَک سُو اور یَک رُو نہیں ھے اِس لیۓ یہ کبھی تو اپنے خالق کے تعارف کے لیۓ سَر تاپا بیقرار ھوجاتا ھے اور کبھی یَک بہ یَک سراپا انکار ھو جاتا ھے ، اِس کے اِس اِقرار و انکار بہت سی وجوہ ھوتی ہیں جن میں ایک وجہ رزقِ حلال یا رزقِ حرام کا کمانا اور کھانا ھے ، انسان کا جسم جب اپنی جان کو حلال خوراک فراہم کرتا ھے تو اِس کی جان سرنگوں ھو جاتی ھے اور جب یہ جسم اپنی جان کو حرام خوراک مُہیا کرتا ھے تو اِس کی جان سرکش ھو جاتی ھے ، اِس لیۓ یہ کبھی تو اللہ کا تعارف حاصل کرنے پر راضی ھوتا ھے اور کبھی اللہ کا تعارف حاصل کرنے سے اعراض کرتا ھے ، اِس کی پہلی کیفیت کا نام ایمان و اطمینان اور دُوسری کیفیت کا نام اضطراب و ہیجان ھے ، اِسی لیۓ اِس سُورت میں اللہ تعالٰی نے رزقِ حلال کے اہتمام اور رزقِ حرام سے اجتناب کے مساٸل کو بھی موضوعِ سُخن بنایا ھے !
🌹 سُورةُالاَنعام اور حُسنِ معاشرت کا اہتمام ! 🌹
دُوسری چیز جو انسان پر براہِ راست اَثر اَنداز ھوتی ھے اور سب سے زیادہ اَثر انداز ھوتی ھے وہ انسان کی وہ اجتماعی معاشرت اور اِس کا وہ اجتماعی ماحول ھے جس میں جتنا حلال و حرام کا اہتمام یا عدمِ اہتمام ھوتا ھے ، حرام خوراک جس انسانی جسم اور جس انسانی جان میں جاتی ھے وہ اُس انسانی جسم اور اُس انسانی جان میں ایک مرض کی طرح اپنی جگہ بناتی ھے اور پھر اُس میں ٹھہر جاتی ھے اور حلال خوراک جس انسانی جسم اور جس انسانی جان میں جاتی ھے وہ اُس انسانی جسم اور اُس انسانی جان میں دَوا کی طرح اپنا اَثر دکھاتی ھے ، انسان کا اِنفرادی طور پر کمانا اور کھانا جتنا پاکیزہ ھوتا ھے اُس کا اَخلاقی و رُوحانی ماحول بھی اتنا ہی پاکیزہ ھوتا ھے اور انسان کی اِنفرادی خوراک جتنی غیر معیاری ھوتی ھے اُس کا اَخلاقی و رُوحانی ماحول بھی اتنا ہی پَست و غیر پاکیزہ ھوتا چلا جاتا ھے ، اِس لیۓ قُرآنِ کریم نے اپنی اَکثر اٰیات کے بین السطُور میں اَچھا ماحول اختیار کرنے اور بُرا ماحول اختیار نہ کرنے کی تلقین کی ھے اور چونکہ اَعلٰی انسانی ماحول اور اَعلٰی انسانی اَخلاق و کردار ہی انسان کو ایمان کی طرف لاتا ھے اور بُرا ماحول اور بُرا اَخلاق و کردار ہی انسان کو کُفر کی طرف لے جاتا ھے اِس لیۓ اِس سُورت میں سب سے پہلے تاریخِ کُفر اور تاریخِ اہلِ کفر کا تذکرہ کیا گیا ھے تاکہ انسان کفر سے بچنے کا اہتمام کرے کیونک جو انسان کفر سے بچنے کا اہتمام کرتا ھے وہ کفر سے پیدا ھونے والے اُن اِنفرادی و اجتماعی جراٸم سے بھی بچتا چلا جاتا ھے جن سے بچنا مطلوب ھوتا ھے !
🌹 ذکر کُفر اور تَذکرہِ اہلِ کُفر ! 🌹
مَتنِ اٰیات میں کُفر اور اہلِ کفر کا جتنی تفصیل سے ذکر ھوا ھے ھم نے مفہومِ اٰیات میں اُس کو اتنی ہی تفصیل سے اُجاگر کرنے کی کوشش کی ھے لیکن اٰیات کے مجموعی مطالعے سے معلوم ھوتا ھے کہ اِن اہلِ انکار میں اہلِ انکار کا پہلا طبقہ وہ ھے جو عادتا ہر عملِ خیر کا انکار کرتا ھے ، اہلِ انکار کا یہ مُنافق و مُتکبر طبقہ ہر قوم میں ھوتا ھے اور ہر جگہ پر ھوتا ھے اور اہلِ انکار کے اِس طبقے کو بار بار طرزِ خیر کے ساتھ عملِ خیر کی دعوت دینے کی ضرورت ھوتی ھے ، اہلِ اِنکار کا دُوسرا طبقہ وہ ھے جو نَسلی و نَسبی اعتبار سے اپنے نَسلی و نَسبی نظریات کے تابع ھوتا ھے اور یہ طبقہ بھی ہر جگہ پر ھوتا ھے اور قوم میں موجود ھوتا ھے ، اِس طبقے کا دین و مَذہب اور مَسلک و مَشرب کُچھ بھی ھو ، اِس کا اَصل دین اِس کے خاندانی رسم و رواج کے تابع ھوتا ھے اور یہ طبقہ آنکھیں بند کر کے وہ تمام جاہلانہ رُسوم اَدا کرتا ھے جو اُس کے خاندان میں موجود ھوتی ہیں لیکن اُس کے دین میں موجود نہیں ھوتیں ، یہ طبقہ اہلِ اسلام میں موجود ھوتا ھے تو دینِ اسلام کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر موجود ھوتا ھے ، اہلِ کفر اِس طبقے کے کردار و عمل کو دینِ اسلام کی تعلیم سمجھ کر دینِ اسلام سے مُتنفر ھوتے ہیں اہلِ انکار کے اِس طبقے کو بھی بار بار دعوت دینے کی ضرورت ھوتی ھے لیکن سُوۓ اتفاق یہ ھے کہ عجمی اسلام کے نام نہاد داعی و مُبلغ اِس طبقے کو اہلِ انکار نہیں سمجھتے بلکہ مَحض گناہگار گردانتے ہیں کیونکہ یہ طبقہ خود اِن اہلِ مذاہب کا وہ آسان شکار ھوتا جس پر اِن کی دوکان داری چل رہی ھوتی ھے ، قُرآن کی اٰیاتِ بالا میں مرکزی مضمون کے طور پر اہلِ کُفر کے جس بڑے طبقے کا ذکر کیا گیا ھے وہ اہلِ کُفر کا وہ طبقہ ھے جو اپنے اپنے زمانے میں اللہ کے ہر نبی اور ہر رُسول سے یہ کہا کرتا تھا کہ اللہ ھم سے براہِ راست بات کر کے تیرے سچے ھونے کی ھم کو شہادت دے یا اللہ تیرے ساتھ اپنے کسی ایسے جلیل القدر فرشتے کو نازل کر دے جو ھمارے سامنے تیری نبوت کی تصدیق کرے ، اہلِ کُفر کا یہ وہ طبقہ ھے جو کسی صورت میں بھی دین و ایمان قبول کرنے پر تیار نہیں ھوتا اور وہ اپنے اِس دلی انکار کو اپنی زبانی کٹ حجتی میں چُھپاتا ھے لیکن اللہ رحیم و کریم پھر بھی اِس طبقے کو اپنی سزا سے بچانا چاہتا ھے ، اسی لیۓ اِس کی ھدایت کے لیۓ بار بار اپنے نبی اور اپنے رسول بھیجتا رہا ھے ، قُرآنِ کریم نے اِس طبقے کے ہر اعتراض پر کلام کیا ھے اور اِس کے ہر سوال کا اِس کے ذھنی معیار کے مطابق جواب بھی دیا ھے کیونکہ قُرآن کا بڑا مُخاطب یہی بڑا طبقہ ھے جس کو اللہ کا ہر نبی اور ہر رُسول اُس وقت تک دعوت دیتا رہا ھے جب تک اللہ نے خود ہی اپنے اُس نبی یا رسول کو اِس دعوت سے منع نہیں کیا ھے اور یہ بات اِس بات کی دلیل ھے کہ حق کے ایک داعی و مُبلغ کے لیۓ حالات جنتے بھی مُشکل و دُشوار کیوں ھوں قُرآن کی دعوت کا کام اُس داعی کا اور اِس اُمت کا وہ اجتماعی فریضہِ حیات و نجات ھے جو فریضہ اِس اُمت کے جُملہ اَفراد اور اِس اُمت کی جُملہ جماعتوں کو اپنی اپنی طاقت و توفیق کے مطابق اَنجام دینا ہی دینا ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے