Home / کالم / میلہ ۔۔۔۔15 ہاڑ…87 گ ب بابے دی بیر

میلہ ۔۔۔۔15 ہاڑ…87 گ ب بابے دی بیر

*میلہ۔۔۔۔15 ہاڑ۔۔۔چک نمبر 87 گ ب، بابے دی بیر*

*تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا خیر شاہ سے بدستور ۔۔۔۔۔۔۔سید صادق حسین شاہ / سید محمّد اقبال شاہ ۔۔۔۔۔اور اب ۔۔سید فرحت عبّاس شاہ ۔۔۔۔
کم از کم چھے عشروں سے زائد ۔۔۔یہ میلہ اپنی شاندار روایات رکھتا ہے ۔۔۔۔۔محفل نعت سے لے کر انسانی فرحت کے تمام لوازمات کو اپنے دامن میں سموے ہوۓ ، کئی نسلوں نے اپنے بچپن میں اس میلے سے بڑی تفریح نہیں دیکھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس میلے کے منتظمین میں بابا دلدار احمد نمبردار اور ان کی اہلیہ اماں حشمت بی بی مرحومہ نے اس میلے کو بڑی عقیدت و احترام سے منانے کی جو روایت شروع کی تھی وہ انھوں نے تا دم مرگ خوب نبھای ۔اور اپنی اولاد رانا گلزار محمّد نمبر دار اور رانا ریاض احمد کو بھی اس میلے کو شان و عقیدت سے منانے کی ترغیب دیتے رہے جو انھوں نے اپنی زندگی میں خوب نبھائی ۔۔۔۔یہاں سے تربیت حاصل کر کے رانا ریاض احمد نے پھر خود کسی اور مرشد کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔۔وہ اس مرشد کی تربیت سے فیض یاب ہونے کے لیے اپنا سب کچھ تیاگ کر اسی کے ہی رہے ۔۔۔یوں اس مرشد نے ان پر اپنا ایسا رنگ چڑھایا کہ وہ خود خلعت یافتہ ہو گئے ۔۔۔اور خود خلافت حاصل کر کے ڈجکوٹ کے ساتھ ہی اپنا مرشد خانہ بنا کر اپنے مریدین کی باطنی اصلاح کرنے لگے ۔۔ ۔۔۔۔۔۔رانا دلدار احمد نمبر دار اور ان کی درویش صفت اہلیہ اماں حشمت بی بی نے ہی گاؤں چک 87 گ ب میں پیر سید خیر شاہ کے ہاتھ پر بیعت کی پھر ساری زندگی سید خیر محمّد شاہ اور پھر ان کے بھانجے سید صادق حسین شاہ کی مریدی میں اس عرس کو خوب عمدگی سے نبھایا ۔۔۔سید خیر محمّد شاہ کی زندگی میں ہی ان کے مریدین کی تعداد بڑھنے لگ گئی تھی جس میں اس گاؤں کے بیشتر لوگ سید خیر محمّد شاہ کی مریدی میں جوق در جوق شامل ہونے لگے ۔۔۔۔۔اس طرح اس 15 ھاڑ کے عرس کو یہاں محفل نعت تک محدود رکھا گیا تھا ، اس کا دائرہ کار پھیلتے پھیلتے محفل سماع اور نقلوں تک پھیل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔گاؤں کے اس میلے کو اتنی شہرت ملی کہ قرب و جوار کے دیہات کے باسی بھی اس کے محفل سماع اور نقلوں کو ہزاروں کی تعداد میں سننے اور دیکھنے کے لیے آنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔پیر خیر شاہ کے وصال کے بعد اس سلسلہ قادریہ کی خلافت پیر خیر شاہ کے بھانجے سید صادق حسین شاہ کے سپرد کی گئی چونکہ پیر خیر شاہ کی اپنی اولاد نہ تھی ۔۔۔۔۔
پھر پیر سید صادق حسین نے خلافت کے اس منصب کو عمدگی سے چلایا ۔۔پیر سید صادق حسین شاہ پیکر عجز و انکسار ہونے کے ساتھ ایک درویش صفت اور ربی یاد میں مستغرق رہنے والی ہستی تھی ۔۔جو اپنے مریدین کو بھی احکام شرعیہ کی پابندی کی تلقین کرتے رہتے تھے ۔۔۔۔۔راقم (اظہار احمد گلزار) کو اس درویش منش کی زیارت کے فرواں مواقع نصیب ہوۓ ہیں ۔۔۔۔بہت ہی خاموش طبع ، حلیم ، خلیق ، مرنجاں مرنج اور دل میں خوف خدا رکھنے والی ہستی ہر کسی کو اپنے پیار میں مقید کر لیتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ان کی نگرانی میں جب تک عرس ہوتا رہا تو ان کی خدمت کرنے کے ہمیں بھی بہت مواقع ملے ۔۔۔میرے تایا جان نور محمّد نور کپور تھلوی ، میرے والد گرامی رانا محمّد گلزار کپور تھلوی ۔۔عرس پر اپنے آموں کے باغ سے ٹبوں میں برف لگا کر آموں کو خوب ٹھنڈا کر کے پیر سید صادق حسین شاہ ،اور ان کے ساتھ آئے مہمانوں کی خوب تواضع کرتے ۔۔۔خدمت گزاری میں میرے ساتھ میرے کزن ابرار احمد ، الطاف احمد اور اشتیاق احمد بھی ہوتے اور قلمی آموں سے مہمان نوازی کا یہ سلسلہ کئی سال سید صادق حسین شاہ کی زندگی تک چلتا رہا ۔۔۔۔۔۔
ان کی زندگی میں گاؤں کے بیشتر لوگ ان کے حلقہ مریدین میں شامل ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔میرے تایا جان اور والد گرامی سے وہ عقیدت کا رشتہ رکھتے تھے اور ان کے والد چودھری محمّد بخش کو اپنا چچا سمجھتے تھے اس وجہ سے ان کو اپنے بھائیوں کی طرح سمجھتے تھے ۔۔ اور یہ بھی اپنے اپنے بزرگ کی طرح ان کی عزت آدر کرتے تھے ۔۔۔۔۔میں نے اپنے والد اور تایا کو اس ہستی کا بے حد احترام کرتے دیکھا ہے ۔۔ایک دفعہ میرے والد گرامی نے سید صادق حسین شاہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو سید صادق حسین شاہ نے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ تم میرے بھائی کے بیٹے ہو ۔۔۔۔چودھری محمّد بخش مجھے بھائیوں کی طرح عزیز ہیں ۔۔اس طرح تم میرے بیٹے ہو ۔۔۔لیکن میرے ابا جان رانا محمّد گلزار کپور تھلوی ، ہمیشہ سید صادق حسین شاہ کا حد درجہ احترام کرتے تھے۔ ۔۔۔۔۔
۔چودھری محمّد بخش ، سید خیر محمّد شاہ ، رانا دلدار احمد نمبر دار کی زندگیوں میں شروع ہونے والا یہ عرس سید صادق حسین شاہ کے وصال کے بعد خلافت ان کے اکلوتے بیٹے سید محمّد اقبال حسین شاہ کو سونپی گئی ۔۔جنھوں نے اس منصب کی پاسداری کرتے ہوۓ عوام الناس کا دل حتی المقدور دیں اسلام کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی ۔۔چونکہ گاؤں کے لوگ محفل نعت اور محفل سماع کے ساتھ ساتھ تفریح طبع کے بھی دلدادہ ہوتے ہیں ۔۔اس لیے اس عرس میں نقلوں کا بھی اضافہ کر دیا گیا ۔۔۔۔نقلوں میں اضافہ سید خیر شاہ کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا ۔۔۔آج سے چالیس پنتالیس سال قبل گاؤں کے لوگوں کے لیے تفریح طبع کے مواقع نہیں ہوتے تھے اور سادہ دیہاتی انھی نقالوں کو سن کر محظوظ ہو جاتے تھے ۔۔۔اس طرح یہ سادہ دل لوگ بڑی شدت سے اس عرس کا انتظار کرتے تھے ۔۔۔۔۔
وقت کا پییہ تیزی سے گھومتا رہتا ہے ۔۔۔پانی کئی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے ۔۔دنیا اور چہرے بدل چکے ہیں جو کل تھے ، وہ آج نہیں ہیں ۔۔۔جو آج ہیں وہ کل نہیں ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے بزرگ اور اس میلے کےتمام بزرگ منتظمین راہی ملک عدم ہو گئے ہیں ۔۔۔۔رانا گلزار محمّد
نمبردار کے گھر ایک خوبصورت محفل نعت کا اہتمام ہوتا تھا ۔۔رانا گلزار محمد نمبردار کی رحلت کے بعد بھی ان کے بیٹے رانا امتیاز احمد نے اس سلسلے کو جاری رکھا ہوا ہے۔۔یہ میلہ کئی حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے ۔۔محفل نعت کروانے کی ذمہ داری رانا گلزار محمد نمبردار کے اہل خانہ پر عائد ہوتی ہے ۔۔جب کہ محفل سماع اور نقالوں کو بلانے کے لیے بابا مندہ خان، بابا انور ملو خان ، بھا عبد الحمید اور بہت سے دیگر منتظمین کے ذمہ ہوتا ہے ۔۔۔۔دو سال قبل بابا انور عرف ملو خان بھی یہ دنیا چھوڑ گئے ۔۔۔جب یہ عرس آتا ہے تو بابا ملو خان ، بھا حمید اور بابا مندھ خاں کی یاد بڑی شدت سے آتی ہے ۔۔۔ بھا حمید نے بابے عدالت خاں کے ڈھیرے سے اس عرس میں ایک نئی آن بان کے ساتھ ” مہندی ” نکالنے کی رسم کو شروع کیا ۔۔مخصوص راستوں کو قمقموں سے سجایا جاتا تھا اور پھر ڈھول اور مختلف سازوں کے ساتھ جوانوں اور بوڑھوں کے بھنگڑوں اور لڈی کے شور میں ہاتھوں میں آتش دان پکڑ کر مہندی کے تھالوں سے گاؤں کی طرف بڑھا جاتا تھا ۔۔۔۔یہ تفریح کی ایک منفرد پیشکش ہوتی تھی ۔۔۔۔۔بھا حمید کی رحلت کے ساتھ ہی یہ رسم بھی ختم ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ صرف تفریح طبع کے لیے سامان ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔جس کو گاؤں کے لوگ بہت پسند کرتے ہیں ۔

عرس اور میلہ ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اس وقت ان مریدین کی خلافت سید فرحت حسین شاہ کے پاس ہے جو سید محمد اقبال شاہ کے فرزند ہیں ۔۔۔
وہ اپنے پڑنانا ،دادا ،اور والد بزرگوار کے ہاتھوں سے لگائے ہوئے اس پودے کو سینچ رہے ہیں ۔۔۔۔سید خیر محمّد شاہ ،سید صادق حسین شاہ اور سید محمد اقبال شاہ کا لگایا ہوا یہ پودا تاحال سرسبز و شاداب ہے اور مریدین اپنے مرشد سے تعلق استوار رکھتے ہیں ۔۔۔۔ سید فرحت حسین شاہ ایک جواں عمر ، اور منکسر المزاج انسان ہیں ۔۔۔جو اپنے مریدین کے لیے نیک جذبات رکھتے ہیں ۔۔اصلاح احوال کے ساتھ ساتھ ان کو ربی یاد اور عاقبت کی فکر یاد دلاتے ہیں ۔۔۔
آج پندرہ ہاڑ ہے ۔۔29 جون ہے ۔۔۔۔جب بھی سال بعد یہ تاریخ آتی ہے تو ایک ایک چہرہ میری نظروں کے سامنے گھوم جاتا ہے ۔۔۔میں اپنے بچپن میں واپس چلا جاتا ہوں ۔۔۔وہی محفل نعت ، قوالی کی محفلیں اور وہی نقلیں میرے دل اور دماغ کے نہاں خانوں پر دستک دینا شروع کر دیتی ہیں ۔۔۔۔یہ دن انگلی پکڑ کر مجھے اپنے بچپن میں لے جاتا ہے ۔۔۔۔۔ وہ بزرگ ایک ایک کر کے میرے سامنے آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔۔۔دانو نقلیا ، منظور بھٹی ، طفیل نقلیا اور منیر حسین کے علاوہ نقلوں کا ایک ایک ہیرو میرے سامنے اپنے میک اپ میں اپنا کردار ادا کرتا دکھائی دینے لگ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

بچپن کا حساب کچھ یوں ہے کہ جوں جوں انسان پچپن کی طرف بڑھتا ہے بچپن زیادہ شدت سے یاد آنا شروع ہو جاتا ہے۔ یوں تو ہر دور کے بچوں کا بچپن تقریباً یکساں ہی گزرتا ہے مگر چونکہ ہر فرد منفرد ہے تو ہر ایک کی کہانی بھی علیحدہ ہوتی ہے آج سے تین چار عشرے قبل کے بچے معصوم ہوا کرتے تھے ۔اس وقت موبائل فونز اور طرح طرح کی ڈیوائسیس کا عفریت گھروں میں داخل نہیں ہوا تھا ۔۔

بچپن انسان کی زندگی کا واحد حسین دور ہوتا ہے اور تقریباً سب ہی اپنے بھولپن ،شرارتوں ،اور بے فکری کے اس زمانے کو یاد کرتے ہیں ہم اپنے بچپن کی یادوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ وہ کہیں نہ کہیں ہمارے لاشعور میں موجود ہوتی ہیں۔۔۔ہاں۔۔یہ زندگی کی پریشانیاں اور مصروفیات میں دھندلا ضرور جاتی ہیں لیکن ختم نہیں ہوتیں۔

جب بچے تھے تو دعا کیا کرتے تھے کہ کاش جلدی سے بڑے ہو جائیں اور آج جب بڑے ہوگئے ہیں تو دہائیاں دیتے پھرتے ہیں کہ۔

” شب ہائے عیش کا وہ زمانہ کدھر گیا۔۔؟

اور صبح کا وہ وقت سہانا کدھر گیا۔۔؟

وہ دن کہاں گئے۔۔؟وہ زمانہ کدھرگیا۔۔؟

بچپن کے کھیل کود،جوانی کے ذوق و شوق

سب خواب ہو گئے ، فسانے میں ڈھل گیا۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے