Home / اسلام / خالق کا تعارف اور خالق کی تعریف !!

خالق کا تعارف اور خالق کی تعریف !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَنعام ، اٰیت 1 تا 3 🌹
خالق کا تعارف اور خالق کی تعریف !! 🌹 { 2 } 🌹
ازقلم 📕اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 الحمد
للہ الذی خلق
السمٰوٰت والارض
وجعل الظلمٰت والنور
ثم الذین کفروا بربھم یعدلون 1
ھوالذی خلق منکم من طین ثم قضٰی
اجلا واجل مسمٰی ثم انتم تمترون 2 وھو اللہ
فی السمٰوٰت و فی الرض یعلم سرکم و جھرکم و یعلم
ما تکسبون 3
ہر اُس جان دار اور ہر اُس جہان دار مخلوق کے لیۓ اللہ کی ذات کو جاننا لازم ھے جس نے ہر جان دار و ہر جہان دار مخلوق کو پیدا کیا ھے اور جس نے ہر جان دار و جہان دار مخلوق کے حَدِ سفر کے لیۓ زمین اور حَدِ نظر کے لیۓ آسمان بناۓ ہیں اور پھر اِن زمین و آسمان کے درمیان اَندھیرا و اُجالا پیدا کیا ھے لیکن اِس کے باوجود بھی اُس خالق کی ایک مُنکر مخلوق اُس کے وجود کے بارے میں مُنصفانہ طرزِ فکر اختیار نہیں کرسکی حالانکہ وہ وہی خالق ھے جس نے تُم کو مِٹی کی خود کار و خود اِختیار فطرت کے اُصولِ پیداٸش کے مطابق پیدا کیا ھے ، پھر فطرت کے اسی اُصول کے مطابق اُس نے تُمہاری زندگی اور موت کی ایک مُدت مقرر کی ھے لیکن اِس کے بعد بھی جب تُم شُبہات کا شکار ر ھے تو اُس نے زمین و آسمان میں تُمہاری خبر گیری کے لیۓ ایک ایسا نظامِ خبر داری بھی قاٸم کردیا ھے جس کے تحت تُمہارے سارے خاموش خیال اور تُمہارے سارے پُرجوش اَعمال اُس پر عیاں ھوتے رہتے ہیں !
🌹 رَبوبیت و تَخلیق اور تَنزیل ! 🌹
اِس مضمون کی پہلی تحریر میں یہ بات تَحریر کی جاچکی ھے کہ سُورةُالاَنعام قُرآنِ کریم کی اُن پانچ سُورتوں میں سے ایک سُورت ھے جن پانچ سُورتوں کا آغاز ” الحمد للہ “ سے ھوتا ھے اور جن پانچ سُورتوں کا آغاز ” الحمد للہ “ سے ھوتا ھے اُن پانچوں سُورتوں میں اللہ کے اِس قولی تعارف ” الحمد للہ “ کے بعد اللہ کے کارِ تَخلیق اور مَقصدِ تَخلیق کا ذکر کیا گیا ھے ، اِس مضمون کی سب سے پہلی سُورت ، سُورتِ فاتحہ ھے جس میں اللہ کے اِس پہلے تعارف کے بعد اُس کی پہلی صفت رَبوبیت کا ذکر کیا گیا ھے اور ربوبیت کے اِس ذکر کا مقصد انسان کو یہ بتانا ھے کہ اللہ نے اپنے اِس جہان میں جو مخلوق پیدا کی ھے اُس مخلوق کی پرورش کے لیۓ اُس نے آب و گِل کے قُدرتی اِتصال کے ذریعے ایک ایسا قُدرتی اِنتظام بھی کردیا ھے کہ جس انتظام کے تحت وہ مخلوق اُس کے ایک مُسلسل حُکمِ کُن کے مطابق ایک تَسلسل کے ساتھ پیدا بھی ھوتی رہتی اور پروان بھی چڑھتی رہتی ھے ، مثال کے طور پر اُس مہین سے بیج کو دیکھا جا سکتا ھے جو مِٹی میں اُتر کر زمین سے نَم ، خلا میں اُبھر کر فضا سے کاربن ، سُورج سے حرارت و روشنی لیتا ھے اور درخت بن جاتا ھے ، انسان اِس کی شاخ و جَڑ کو جلاتا ھے تو زمین کا نَم ، فضا کا کاربن اور سُورج کی حرارت و روشنی دُھواں بن کر اُڑجاتی ھے اور لَکڑی راکھ بن کر زمین میں رہ جاتی ھے ، دیکھیں تو درخت کا نام و نشان نہیں ھے ، سوچیں تو نمی ، حرارت اور روشنی مُرکب Compound سے نکل کر بسیط Extend میں چلی گٸ ھے اور راکھ جو نَقدِ زمین تھی وہ نذرِ زمین ھو گٸ ھے ، مزید غور کرنے پر مزید معلوم ھو گا کہ درخت کا مُرکب ٹوٹ کر زمین کو بیج کی صورت میں کروڑوں نۓ مُرکبات دے گیا ھے ، پہلی صورت عالَمِ نظر ھے اور دُوسری عالَمِ دِگر ، دُنیا کی ہر ایک شٸ دُنیا میں تعمیر کے اِثبات اور تخریب کی نَفی کے درمیان اسی طرح ڈوبتی اُبھرتی رہتی ھے ، سُورةُالفاتحہ کے پہلے ” الحمد للہ “ کے بعد بیان کیۓ گٸے اللہ کے اِس کارِ ربوبیت کا پہلا تُحفہ زندگی اور ارتقاۓ زندگی ھے جس کے تحت ربوبیت کا یہی دَستِ حکمت کار موت سے زندگی کو اور زندگی سے موت کو نکال رہا ھے ، اللہ کے اِس تعارف کا قابلِ ذکر پہلو یہ ھے کہ قُرآن نے اللہ کے خالق ھونے کا 241 بار اور اُس کے رب ھونے کا 973 بار ذکر کیا ھے جو اِس بات کی دلیل ھے کہ اگر اللہ کا خالقِ کاٸنات ھونا اُس کا کارِ عظیم ھے تو اُس کا کاٸنات کا پرورش کار ھونا اُس کا کارِ عظیم تَر ھے ، قُرآن کی پہلی سُورت کے پہلے ” الحمد للہ “ اور اِس دُوسری کے دُوسرے ” الحمد للہ “ کے بعد اللہ کے اسی عملِ تخلیق کے عِلمِ تخلیق کو پیش کیا گیا ھے ، الحمد للہ کی صورت میں اللہ کا تیسرا مقامِ تعارف قُرآن کی سُورةُالکہف ھے جس میں ” الحمد للہ “ کے اِس تعارف کے بعد اللہ کی تنزیل کا ذکر کیا گیا ھے جو کاٸنات کا مقصدِ ھے اور اِس میں اِس تنزیل کے بارے میں یہ کہا گیا ھے کہ ہر جان و جہان کا تعارف اور ہر ایک تعارف اُس عظیم ذات کے لیۓ جس نے اپنے عظیم بندے پر وہ عظیم کتاب نازل کی ھے جس میں کسی اُلجھاٶ ، کسی تضاد ، کسی کمی و کجی یا کسی سَہو و خطا کا کوٸ اِمکان نہیں ھے اور اِس تیسرے ” الحمد للہ “ کے بعد اللہ کے تعارف کا چوتھا مقام سُورَہِ سبا ھے جس میں انسان کو یہ بتایاگیا ھے کہ اللہ نے انسان اور کاٸنات کو بنانے کے بعد اِن کو پروان چڑھانے کے لیۓ اِرتقاۓ حیات کے خود کار نظام کے سپرد کرکے اِن کو تَنہا نہیں چھوڑ دیا بلکہ اللہ اپنی اِس خُداٸ کے ایک ایک ذَرے کے ساتھ خود بھی موجود ھے اور اللہ کے تعارف ” الحمد للہ “ سے شروع ھونے والی پانچویں سُورت ، سُورةُالفاطر ھے جس میں یہ بتایا گیا ھے کہ اللہ اپنی اِس تلاشی اور تَراشی ھوٸ کاٸنات کے ساتھ تَب سے اپنے نَفسِ نفیس کے ساتھ بذاتِ خود موجود ھے جب سے اُس کی یہ کاٸنات موجود ھے اور اِس بات سے یہ بات خود بخود ہی ثابت ھو جاتی ھے کہ اللہ جس طرح اپنی اِس کاٸنا کے آغازِ کار کا نگران ھے اسی طرح وہ اپنی اِس کاٸنات کے اَنجام کا بھی نگران ھے اور انسان بھی اُس کی نگرانی میں ھے !
🌹 لُغاتِ اٰیات اور نُکاتِ اٰیات ! 🌹
سُورةُالاَنعام کی اِن تین اٰیات میں آنے والے تین اَلفاظ ، ظُلمات و نُور اور ” طین “ وضاحت طلب ہیں ، ظُلمات ظُلمت کی جمع ھے اور ظُلمت کا معنٰی تاریکی ھے اور اِس مقام پر ایک تو وہی تاریکی مُراد ھے جو ہر روز غروبِ آفتاب کے بعد ہر دیکھنے والی نظر کو نظر آتی ھے اور اِس تاریکی کو ہر روز طلوعِ آفتاب کی روشنی آتی ھے اور فنا کرکے چلی جاتی ھے اور دُوسری تاریکی سے مُراد کُفر و شرک کی وہ تاریکی ھے جو دِل کی زمین پر آتی رہتی ھے اور آفتابِ قُرآن کی روشنی اِس تاریکی کو فنا کے گھاٹ اُتارتی رہتی ھے ، ظُلمات کے مقابلے میں جس نُور کا ذکر کیا گیا ھے وہ اَزل سے اَبد تک ایک مُطلق و مُجرد نُور ھے اِس لیۓ ظُلمات کی ساری تارکیوں کے مقابلے میں اِس مجرد نُور کا ایک بار ہی ذکر کیا گیا ھے ، اِس سلسلہِ کلام کا تیسرا قابلِ تشریح لفظ ” طین “ ھے جس کا ترجمہ عام طور پر مِٹی کیا جاتا ھے لیکن دَرحقیقت ”طین “ کا معنٰی فطرت ھے جس سے اُردو زبان کا لفظِ ” بَد طینت “ بنا ھے ، مِٹی کی فطرت میں تابع داری اور وفاداری ھے ، لہٰذا اِس کو قُدرت نے جو چیز اُگانے اور جس چیز کا جو ذاٸقہ بنانے کا حکم دیا ھے ، یہ وہی چیز اُگاتی ھے اور اُس کا وہی رنگ اور وہی ذاٸقہ بناتی ھے جو اُس کی فطرت میں اُس کی فطرتِ ثانیہ بنا کر شامل کیا گیا ھے اور قُرآن انسان کی تعمیر کے حوالے سے جس طین کا ذکر کرتا ھے اُس سے یہی اَمرِ فطرت مُراد ھوتا ھے جس سے انسان اعراض کرکے نافرمانی کا ثبوت دیتا ھے ، انسان کے اِس رویۓ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ھے کہ اِس کی فطرت میں تو یہی مِٹی ھے اور یہی مِٹی کی خاکساری ھے لیکن اِس کا نفس اور اِس کے اہلِ نفس کا ماحولِ نفس اِس کو مُسلسل بغاوت پر اُکساتا ھے اور اِس کی اِس معاشرتی بغاوت کا علاج اِس کتاب کی با مقصد تلاوت ھے جو اِس کی قلبی و نظری اور فکری و رُوحانی اصلاح کے لیۓ نازل کی گٸ ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے