Home / کالم / مشتری ہوشیار باش!

مشتری ہوشیار باش!

تحریر
پیام امداد/امداداللہ طیب
📕📕📕📕📕📕📕
آپ میں سے اکثر دوستوں نے یہ جملہ دیواروں، مکانوں پر لکھا ہوا پڑھا ہو گا۔ مشتری ہوشیار باش! خبردار! یہ مکان، یہ جگہ یہ پلاٹ،ہماری ملکیت ہے۔ اس جملے کے لکھنے کی غرض یہ ہوتی ہے۔کہ جگہ،پلاٹ،مکان ہمارا ہے۔ آپ غلط بیانی میں آکر یا دھوکا دہی سے اصل مالک مکان سے چوری چھپے یہ مکان، پلاٹ نہ خریدیں۔ ورنہ نقصان کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔

یہ دھوکہ فراڈ اتنا عام ہے کہ مالک اپنی جائیداد کے تحفظ کے لئے پلاٹ،مکان پر یہ جملہ لکھوا دیتا ہے۔تاکہ کوئی جعل ساز قبضہ نہ کرلے، یا میری جائیداد اپنے نام نہ کر لے۔ اس جعل سازی کے مرتکب افراد پر ریاستی قوانین کے تحت مقدمات بھی ہوتے ہیں۔ان کو سزائیں بھی ملتی ہیں۔ ریاست ان جعل سازوں سے ہوشیار رہنے کے لیے عوام الناس میں آگاہی مہم چلاتی ہے۔تاکہ عوام نقصان سے بچ جائے۔
دنیا میں رہتے ہوئے ایسے کئی جعل سازوں سے آپ کا واسطہ پڑا ہوگا۔ یا آپ بال بال کسی کے آگاہ کرنے پر بچے ہونگے۔ اگر آپ کو قانون سے آگاہی نہیں، تو آپ ان جعل سازوں کے پھندے میں آکر اپنا دنیاوی نقصان کروا بیٹھے گے۔ دنیا میں رہتے ہوئے ایمان کے لٹیروں کا معاملہ بھی کچھ اسی طرح ہے۔

یہ بھی جعل سازی کے مرتکب ہو کر مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔زمین،جائیداد،مال و دولت کے لٹیروں کی طرح یہ شروع ہی میں بندے کی سب سے قیمتی متاع ایمان پر ہاتھ صاف نہیں کرتے ہیں۔اور نہ ہی اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ گردانتے ہیں۔یہ مسلمانوں والے اعمال و افعال کرتے ہیں۔ کلمہ،نماز،روزہ،زکوة،حج جیسے شعائر اللہ بھی بجا لاتے ہیں۔
جیسا کہ مرزا بشیرالدین محمود نے لکھا ہے کہ قرآن کریم میں جہاں بھی احمد کا لفظ آیا ہے۔ اس سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔اور میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔
اور ایمان کے یہ لٹیرے کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی کو لیتے ہیں۔جیسا کہ مرزا صاحب کے صاحبزادے بشیرالدین محمود نے اپنے رسالہ کلمة الفصل میں لکھا ہے۔
کہ اگر ہم بالفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم کا اسم مبارک اس لیے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔کیوں مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں جیسا کہ وہ(مرزا صاحب) خود فرماتا ہے۔
صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی وبین المصطفی فما عرفنی وما رائی
اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالی کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اورخاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔جیسا کہ آیت وآخرین منہم سے ظاہر ہے۔پس مسیح موعود (مرزا صاحب) خود محمدرسول اللہ ہے۔جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ہاں اگر محمدرسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔
دیکھیں کتنے بڑے دجل کے مرتکب ہو کر جعل سازی سے یہ لوگ کام لیتے ہیں۔

یہی ان کی بقا کا واحد ذریعہ یے۔ جس دن مرزائیت نے کھل کر اپنے عقیدے کی تعیین کر دی،اسی دن قادیانیت کا بت پاش پاش ہو جائے گا۔اسی لیے ہمارے علماء کہتے ہیں کہ قادیانیت پر اخلاقا اور قانونا لازمی ہے کہ وہ اپنے عقیدے کو واضح کرے،چور دروازے سے امت مسلمہ میں آنے کی کوشش نہ کرے۔۔۔۔۔
جعل سازی کا یہی وہ چور دروازہ ہے جس سے مرزائیت نے امت مسلمہ پر گہرے زخم کیے ہیں۔اور غریب مسلمانوں کے ایمان کو برباد کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔سب سے پہلے یہ ایمان کے یہ لٹیرے تحقیق،انسانیت کی داد رسی و غمخواری،اخلاقیات کے خوش نما نعروں کے نام سے دوستی کرتے ہیں۔
پروٹوکول دیتے ہیں۔آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اگر آپ پر کوئی دنیاوی طور پر مشکل وقت آئے تو اپنے مقصد کی بجاآوری کے لئے اس کو بھی دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔آہستہ آہستہ جب یہ اپنا اعتماد دل میں بٹھا لیتے ہیں تو پھر اپنا وار کرتے ہیں۔اس واردات سے وہی بچ سکتا ہے جو ان کے طریقہ واردات سے واقف ہو۔ورنہ عزت،شہرت،حوصلہ افزائی، پروٹوکول کا خواب انسان کو دینی اور دنیاوی طور پر تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔اس حوالے سے ہمیں ایسی سٹوریزاور واقعات ملتے ہیں۔جنہوں نے محض شہرت،دولت،کے لیے اپنے ایمان کا سودا کیا۔اور ایمان کے یہ لٹیرے ڈاکہ ڈالنے میں کامیاب ہوئے۔ ان جعل سازوں اور ایمان کے لٹیروں سے ہر دم تک چوکنا رہنے کی بہت ضرورت ہے۔آپ جب بھی کسی ایمان کے لٹیرے کو ایسا وار کرتے دیکھیں تو فورا علمائے کرام سے رہنمائی ضرور لیں۔اور دنیا کے حوالے سے ماہر فن سے رہنمائی لیں۔آپ کی دنیا بھی بچے گی اور ایمان بھی بچے گا۔معاشرے میں رہتے ہوئے ایسے لوگوں سے واسطہ پڑنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔لیکن بھولے پن یا دنیاوی مفادات کی خاطر ایسے لوگوں کے ہاتھوں شکار ہو جانا بڑے اچنبھے کی بات ہے۔آپ کے ایمان کی تار کو جب کبھی کوئی خطرہ محسوس ہو تو فورا جاگ جائیے۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند نہ کیجئے۔ ورنہ شکار ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے