Home / اسلام / عیسٰی مسیح کی مَحشرِ رَفتہ !

عیسٰی مسیح کی مَحشرِ رَفتہ !

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
الماٸدة ، اٰیت 116 تا 120🌹
عیسٰی مسیح کی مَحشرِ رَفتہ !! 🌹
ازقلم 🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی تفسیر آن لاٸن ھے جس سےروزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹واذ قال اللہ
یٰعیسٰی ابن مریم أانت
قلت للناس اتخذونی وامی
اٰلٰھین من دون اللہ قال سبحٰنک
مایکون لی ان اقول مالیس لی بحق ان
کنت قلتہ فقد علمتہ تعلم مافی نفسی ولا
اعلم مافی نفسک انک علام الغیوب 116 ماقلت
لھم الا ماامرتنی بہ ان اعبدوااللہ ربی و ربکم وکنت
علیھم شھیدا مادمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب
علیھم وانت علٰی کل شٸ شھید 117 ان تعذبھم فانھم عبادک
وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم 118 قال اللہ ھٰذا یوم ینفع
الصٰدقین صدقھم لھم جنٰت تجری من تحتھاالانھٰر خٰلدین فیھاابدا رضی
اللہ عنھم ورضوا عنہ ذٰلک الفوزالعظیم 119 للہ ملک السمٰوٰت والارض ومافیھن
وھو علٰی کل شٸ شھید !
اے عیسٰی ابنِ مریم ! اِک ذرا یاد تو کرو کہ وہ کیسا یادگار لَمحہ تھا جب اللہ نے تُم سے یہ سوال کیا تھا کہ کیا تُم نے ہی اپنی اُمت سے یہ کہا تھا کہ تُم اللہ کو چھوڑ کر مُجھے اور میری ماں کو اپنا اِلٰہ بنالو ، عیسٰی ابنِ مریم نے یہ جواب دیا اور عرض کیا کہ تیری ذات تو اِس خیال سے کہیں زیادہ بلند تر ذات ھے کہ تیری ذات کے ساتھ کسی اور کو شریکِ ذکر کیا جاۓ ، مُجھے بَھلا یہ کب زیب دیتا تھا کہ میں لوگوں سے کوٸ ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مُجھے حق نہیں تھا ، اگر میں نے اِن لوگوں سے یہ بات کہی ھوٸ ھوتی تو میری کہی ھوٸ یہ بات بھی یقینا تیرے علم میں ھوتی کیونکہ تُو میرے نفس سے گزرنے والے ہر ایک خیال کو جانتا ھے اور میں اُن حقیقتوں کے بارے میں کُچھ بھی نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہیں ، سَو اے میرے پالَنہار ! میں نے تو اِن لوگوں سے وہی سب کُچھ کہا تھا جس کے کہنے کا تُو نے مُجھے علم و اِختیار دیا تھا اور تیرے اُس علم و حُکم کے مطابق میری تعلیم کا حاصل یہ تھا کہ تُم سب لوگ اُس اللہ کی بندگی کا اقرار اور اظہار کرو جو میرا اور تُمہارا پالَنہار اور پرورش کار ھے اور پھر میں جب تک اِن لوگوں کے درمیان موجود رہا تو اِن کے اعمال کا شاھد رہا اور جب تُونے مُجھے موت دے دی تو اُس کے بعد تُو ہی اِن کے اعمال کا شاھد رہا ھے اور تُو ہر ایک بات سے باخبر ھے ، سَو اگر تُو اِن کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تُو اِن کو معاف کر دے تو تَب بھی تُو اپنی حکمت و ارداے کا مالک و مُختار ھے ، اللہ نے اپنے بندے کا یہ جواب سُن کر کہا کہ آج سَچے انسانوں کو ملنے والے اُس سَچے بدلے کا وہ سَچا دن ھے جس کا نتیجہ میری وہ حسین جَنات ہیں جن کی زمینوں کے نیچے اِن زمینوں کو سیراب کرنے والا وہ خود کار نہری نظام ھے جو ہمہ وقت اِن کو بالیدگی دیتا ھے اور جس سے سیراب ھو کر اِن جنتوں کی یہ زمینیں ہمہ وقت میرے اِن پسندیدہ بندوں کے لیۓ روزی پیدا کرتی ہیں ، میرے یہ اہلِ صدق و صفا بندے ہمیشہ ہی میری اِن جنتوں میں رہیں گے ، کیونکہ یہ سب اللہ سے خوش رھے ہیں اور اللہ بھی اِن سے خوش ھوا ھے اور یہی اِن کی عظیم الشان کامیابی ھے ، یاد رکھو کہ اَرض وسما دونوں اللہ کی ملکیتی جاگیر ہیں اور اِن کے درمیان بھی جو کُچھ ھے وہ سب کا سب بھی اللہ کی ہی ملکیت ھے اور اللہ اپنی زیرِ ملکیت چیزوں میں سے ہر ایک چیز کے بارے میں پُوری طرح آگاہ ھے !
🌹 اِنسان اور زمان و مکان ! 🌹
اِنسان ماضی و حال اور مُستقبل کے زمان و مکان کے درمیان زندگی کی جس مَربُوط زنجیر Unbroken chain کے مقامِ حال پر کھڑا ھے اُس مقام سے جب وہ اپنے ماضی کی طرف دیکھتا ھے تو اُسے زیادہ سے زیادہ اپنے وجود ، اپنے والدین کے وجود یا پھر اپنے والدین کے والدین کے دوتین وجود ہی نظر آتے ہیں ، کیونکہ زندگی کی اِن دو تین جَلتی بُجھتی شمعوں سے آگے ایک گہری تاریکی ھے اور اِس تاریکی میں کسی کو کُچھ بھی نظر نہیں آسکتا اور اسی طرح جب انسان زندگی کی اِس زنجیر کی دُوسری طرف اپنے وجود ، اپنی اَولاد کے وجود یاپھر اپنی اَولاد کی اَولاد کے وجود پر نگاہ ڈالتا ھے تو اپنے حال کے اِس مُستقبل کی طرف بھی اُسے ایک گھمبیر تاریکی کے سوا کُچھ اور نظر نہیں آتا ، اِس لیۓ انسانی فطرت کی مُتجسس نگاہ ہمیشہ ماضی و مُستقبل کی اِن بند دیواروں یا اِن تاریک دروازوں پر لگی رہتی ھے تاکہ وہ ماضی و مُستقبل کی تاریکی میں دیکھ کر یہ جان سکے کہ اِس کے ماضی کے سینے میں کیا کیا ڈُوب رہا ھے اور اِس کے مُستقبل کے سفینے سے کیا کیا اُبھر رہا ھے ، انسان اور انسان کی فطرت کا خالق چونکہ انسان کے اِس تجسس کو جانتا ھے ، اِس لیۓ اُس نے زمان و مکان میں جو قُرآن بھیجا ھے اُس کو اِس طرح ڈیزاٸن Design کیا ھے کہ جو انسان اِس کتابِ زمانہ پر غور کرے ، اُسے ماضی میں ڈُوبی زندگی کے خَط و خال نظر آٸیں اور مُستقبل سے اُبھرتی ھوٸ زندگی کے خط و خال بھی دکھاٸ دیں ، یہی وجہ ھے کہ انسان جب ماضی و مُستقبل کی اِن تاریکیوں کو قُرآن کی دُور بین سے دیکھتا ھے تو اُسے ماضی میں بھی ایک ڈُوبی اور ڈُوبتی ھوٸ زندگی دکھاٸ دیتی ھے اور مُستقبل میں بھی ایک اُبھرتی اور اَنگڑاٸ لیتی ھوٸ زندگی نظر آتی ھے اور قُرآن زندگی کے اِن تین زمان و مکان کو اللہ کے خالق و مالک اور اُس کے واحد و لاشریک ھونے پر دلیل بنا کر انسان کو اِس اَمر کا یقین دلاتا ھے کہ جس اللہ نے تمہیں ماضی و حال اور مُستقبل کے تینوں زمان و مکان پر پھیلی ھوٸ یہ تین زندگیاں دی ہیں وہی اللہ تُمہارا خالق و مالک اور پالَنہار ھے ، قُرآنِ کریم نے ماضی و حال اور مُستقبل میں زندگی کی اِس لَہر کے اُبھرنے بڑھنے اور سمٹنے مٹنے کی جو تاریخ رَقم کی ھے اُس کے مطابق انسان کی حیاتِ رَفتہ اِس کی حیاتِ اَسفل ھے ، حیاتِ موجود اِس کی حیاتِ اَدنٰی ھے اور حیاتِ موعُود اِس کی حیاتِ اعلٰی ھے !
🌹 اہلِ توحید و اہلِ تَثلیث کی فکری ہَم آہنگی ! 🌹
قُرآنِ کریم نے اٰیاتِ بالا میں جس مَحشرِرَفتہ کا جو منظر نامہ پیش کیا ھے اُس میں کم و بیش 30 مقامات پر ماضی کے 30 صیغے استعمال کیۓ ہیں اِس لیۓ اِس محشر کے مَحشرِ رَفتہ ھونے میں کسی کو ایک بال برابر بھی شُبہ نہیں ھو سکتا لیکن چونکہ کلیسا کے اَربابِ کلیسا یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یسوع مسیح مرنے کے بعد زندہ ھو کر آسمان پر تشریف لے جاچکے ہیں اور چونکہ مُفسرینِ عجم نے بھی اِہلِ کلیسا کے ساتھ مَذہبی” صیغہ “ کیا ھوا ھے اِس لیۓ مُفسرینِ عجم بھی اِن آیات میں استعمال ھونے والے ماضی کے صیغوں کو پہلے تو کسی قاعدے اور قانون کے بغیر مُستقبل کے صیغے بناتے ہیں اور پھر اِس مَحشرِ رَفتہ کو مُستقبل کی مَحشرِ خیال قرار دیتے ہیں تاکہ وہ غلطی سے کہیں اہلِ تَثلیث کی اِس رضاکارانہ غلامی سے آزاد ھو کر مُسلمان نہ ھو جاٸیں ، حالانکہ اگر اٰیاتِ بالا میں بیان کی گٸ یہ مَحشر ماضی کے بجاۓ مُستقبل کی مَحشر ھوتی تو اِن اٰیات میں سیدنا مسیح کا جواب یہ ھوتا کہ میں مرنے سے پہلے اِن سب لوگوں کو دُنیا میں مُسلمان چھوڑ کر آیا تھا کیونکہ اِن مسیحی و مجوسی لوگوں کے خیال کے مطابق مُستقبل کی یہ مُجوزہ مَحشرِ اُس وقت برپا ھوگی جب سیدنا عیسٰی مسیح دُوسری بار دُنیا میں تشریف لا کر دُنیا کے سب لوگوں کو مُسلمان بنا چکے ھوں گے لیکن قُرآنِ کریم کی اٰیاتِ بالا اِن کے اِس مسیحی و مجوسی خیال کی تاٸید نہیں کرتیں بلکہ مُکمل تردید کرتی ہیں !

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے