Home / اسلام / اِجتماعی نظامِ حیات

اِجتماعی نظامِ حیات

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتب 🌹
الماٸدہ ، اٰیت 110 تا 115🌹
اِجتماعی نظامِ حیات و اِجتماعی اِنتظامِ حیات !! 🌹
ازقلم 📕 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
واذ اوحیت الی
الحواریین ان اٰمنوا بی
و برسولی قالوااٰمنا واشھد باننا
مسلمون 111 اذ قال الحواریون یٰعیسٰی
ابن مریم ھل یستطیع ربک ان ینزل علینا ماٸدة
من السما ٕ قال اتقوا اللہ ان کنتم مٶمنین 112 قالوا
نرید ان ناکل منھا وتطمٸن قلوبنا ونعلم ان قد صدقتنا ونکون
علیھا من الشٰھدین 113 قال عیسٰی ابن مریم اللّٰھم ربنا انزل علینا
ماٸدة من السما ٕ تکون لنا عیدا لاولنا واٰخرنا و اٰیة منک وارزقنا وانت خیر
الرٰزقین 114 قال اللہ انی منزلھا علیکم فمن یکفر بعد منکم فانی اعذبہ عذابا لا
اعذبہ احدا من العٰلمین 115
اور قابلِ ذکر بات یہ ھے کہ جب بنی اسراٸیل کی اکثریت عیسٰی ابنِ مریم کی مُخالفت پر کمر بستہ ھو گٸ تو مَیں نے اُن کی ایک اَقلیت کو حُکم دیا کہ وہ مُجھ پر ایمان لاۓ اور میرے رسول پر بھی ایمان لے آۓ ، اُس جماعت کے اَفراد بولے کہ ھم تُجھ پر ایمان لاۓ ہیں اور تیرے رسول پر بھی ایمان لے آۓ ہیں ، اَب تُو خود اِس بات پر گواہ بن جا کہ ھم مُسلمان ھو چکے ہیں ، جب یہ لوگ مُسلمان ھو گۓ تو کہنے لگے کہ کیا اللہ کے لیۓ یہ مُمکن ھے کہ وہ ھمارے لیۓ پکا پکایا ھوا کھانا ایک سَجے سجاۓ ھوۓ دَسترخوان پر چُن کر آسمان سے زمین پر اُتار دے ، ابنِ مریم نے کہا کہ اگر تُم واقعی اللہ پر ایمان لاچکے ھو تو پھر ایسا مطالبہ کیوں کرتے ھوۓ اللہ سے ڈرو ، اِس تنبیہہ پر وہ بولے کہ ھمارے اِس مطالبے کا مقصد صرف یہ ھے کہ ھم روزی رسانی کے اِس آسان ذریعے سے فیض یاب ھو کر اِس بات کے لیۓ اپنے دل کو مُطمٸن کر لیں اور ہمیں دِل کے یقین کے ساتھ اِس بات کا یقین آجاۓ کہ آپ ھم کو اللہ کا پیغام دینے میں سَچے ہیں اور ھم صدقِ دِل سے آپ کے پیغام کی تصدیق کریں ، اِبنِ مریم نے اِن لوگوں کا یہ مطالبہ سُن کر اللہ سے یہ اِستدعا کی کہ ھمارے پالنہار ! ھماری روزی رسانی کے لیۓ آسمان سے ایک ایسا سجاسجایا دَسترخوان اُتار دے جو ھمارے پہلے ایمان لاۓ ھوۓ لوگوں اور بعد میں ایمان لانے والے لوگوں کے لیۓ ایک مُسرت و خوشی کا سامان بن جاۓ ، ھماری ہر تحقیق سے اِس اَمر کی تصدیق کرتی ھے کہ تُو ہی جہان کا ایسا روزی رساں ھے جو اِس طرح پر بھی اپنی مخلوق کے لیۓ روزی کا اہتمام کر سکتا ھے ، اللہ نے ارشاد فرمایا کہ ھم تُمہارے اِس مطالبے کو اِس شرط کے ساتھ شرفِ پزیراٸ دے سکتے ہیں کہ اگر اِس کے بعد تُم نے اللہ کے اِس قانون کے خلاف عمل کیا تو تُم کو وہ سزا دی جاۓ گی جو اِس سے پہلے میں نے دُنیا کی کسی اور قوم کو کبھی بھی نہیں دی !
🌹 رَحمان کا نظامِ حیات اور انسان کی نَفسانی خواہشات ! 🌹
انسان اپنے ہزاروں سال کے تجربے اور مشاھدے کی بنا پر ہزاروں سال سے یہ بات جانتا ھے کہ وہ کاٸنات کے جس نظام میں رہتا ھے اُس نظام میں رہنے والی ہر جاندار مخلوق کا رزق اُس کی محنت کے ساتھ مشروط ھے ، جو انسان زمین کے طُول و عرض میں بَھاگ دوڑ کر جتنی محنت کرتا ھے وہ زمین سے اُتنا ہی رزق حاصل کرتا ھے جتنی وہ محنت کرتا ھے لیکن نظامِ کاٸنات کے اِس تجربے اور مُشاھدے کے باوجود بھی اِنسان کی نفسیاتی کیفیت ہمیشہ سے ایسی ہی رہی ھے کہ یہ نامُمکن کا مطالبہ کرتا ھے اور مُمکن و مُیسر پر راضی بھی ھو جاتا ھے ، اٰیاتِ بالا میں ابنِ مریم کے جس مطالبے کا ذکر کیا گیا ھے اُس کی عملی صورت بھی یہی رہی ھے کہ وہ اپنے اِس نامُمکن مُطالبے کے بعد مُمکن اور مُیسر پر اپنی فطرت کے عین مطابق اسی طرح راضی ھو گۓ تھے جس طرح ہر زمین اور ہر زمانے کا انسان راضی ھوتا رہا ھے اور راضی ھوتا ھے ، اِس لیۓ اِس واقعے کے بیان سے بھی قُرآن کا مُدعا اِس واقعہ کا وہ وقتی اور ظاہری پہلو نہیں ھے جو نظر آتا ھے اور بیان کیا جاتا ھے بلکہ قُرآن کا مُدعا انسان کی وہ نفسیاتی کیفیت ھے جس کیفیت کے مطابق وہ نامُمکن سے بات چلاتا ھے اور مُمکن پر آکر راضی ھو جاتا ھے !
🌹 انسانی نفسیات اور رُموزِ اٰیات ! 🌹
ھم اِس سُورت کے آغاز میں یہ بات تحریر کر چکے ہیں کہ ” ماٸدة “ کا لُغوی معنٰی سجا ھوا وہ دَسترخوان ھے جس پر کھانا کسی اور نے پکا کر سجانا ھوتا ھے اور کھانے کے لیۓ کسی اور نے آنا ھوتا ھے ، یہ ایک کلامِ تلمیح ھے اور کلامِ تلمیح سے مُراد وہ معروف تاریخی کلام ھوتا ھے جس کی طرف حاضر کلام کے اُس پڑھنے والے کو متوجہ کرنا مقصود ھوتا ھے جس کا حاضر کلام کے ساتھ کوٸ تاریخی رَبط و تعلق موجود ھوتا ھے ، چونکہ اُس وقت مَکے سے ہجرت کر کے مدینے میں آنٕے اور مدینے میں آکر اہلِ مدینہ کی بے مثال مہمان داری سے لُطف اَندوز ھونے والے والے لوگوں کا بھی اِس تلمیحی کلام سے ایک تمثیلی تعلق بنتا تھا ، اِس لیۓ اِس خاص حوالے سے اِس کلامِ تلمیح کے مُخاطب سیدنا محمد علیہ السلام اور آپ کے وہ اَصحاب تھے جن کو اُن کے اہلِ وطن نے ایک طویل جبر و ستم کے بعد وطن سے جلا وطن کردیا گیا تھا اور یہ جلا وطن لوگ جب مہاجر بن کر مدینے پُہنچے تھے تو اہلِ مدینہ نے اِن کے لیۓ ایک ایسا دسترخوان سجادیا تھا جس پر اِن کی ضرورت کی ہر چیز موجود تھی ، مکے کے مہاجرین کے لیۓ مدینے کے اَنصار کا یہ ایسا ایثار تھا جو چشمِ فَلک اور چشمِ مَلک نے اِس سے پہلے بھی کبھی نہیں دیکھا تھا اور اِس کے بعد بھی کبھی نہیں دیکھا گیا اور اَب اِس تلمیحِ ” الماٸدة “ کے ذریعے اللہ تعالٰی نے مدینے میں قاٸم ھونے والی اُس پہلی اسلامی حکومت کو یہ پیغام دیا ھے کہ دُنیا میں جب کبھی اور جہاں کہیں بھی انسان کے لیۓ کوٸ انسانی ریاست قاٸم ھوتی ھے تو اُس ریاست میں اہلِ ریاست کا اپنی فطری نفسیات کے مطابق سب سے پہلا مطالبہ محنت و مشقت کے بغیر روزی کا حصول ھوتا ھے ، اِس لیۓ زمین پر قاٸم ھونے والی اِس اِسلامی حکومت کا پہلا فرض یہ ھے کہ وہ اِہلِ ریاست کا یہ مطابہ پُورا کرے کیونکہ ریاست جن لوگوں پر اَپنا حقِ ریاست قاٸم کرتی ھے اُن لوگوں کو جاٸز طریقے سے روزی حاصل کرنے کے لیۓ جاٸز روز گار مُہیا کرنا اُس ریاست کی ریاستی ذمہ دار ھوتی ھے ، جس ریاست کا نظم چلانے والے لوگ اہلِ ریاست کے اِس مطالبے کے مطابق اہلِ ریاست کے اِس معیار پر پُورے نہیں اُترتے وہ نظامِ ریاست چلانے کے حق دار نہیں ھوتے اور اہلِ ریاست کو یہ حق حاصل ھوتا ھے کہ وہ اِس ریاست کی اِس حکومت کو ختم کر کے ایک ایسی حکومت قاٸم کرنے کے لیۓ عملی جدو جُھد کریں جو زمین پر اللہ کے اجتماعی نظامِ حیات کے لیۓ ایک اجتماعی اور فلاحی نظام قاٸم کرنے کی اہل ھو !
🌹 اسلامی ریاست کے اِسلامی حقوق اور فراٸض ! 🌹
ھم اِس سُورت کے آغاز میں یہ بات بھی تحریر کر چکے ہیں کہ یہ سُورت مدینے میں اسلامی حکومت قاٸم ھونے کے بعد نازل ھوٸ ھے ، اِس لیۓ اِس سُورت کے اِس خطاب کی اَوّلیں مُخابط تو مدینے کی وہی ایک حکومت ھے جو پہلی اسلامی حکومت ھے لیکن اللہ کے اِس خطاب کی دُوسری مُخاطب ہر وہ حکومت ھے جس کی اِس اسلامی حکومت کی جانشین حکومت کے طور پر اسلام کے نام پر دُنیا کے کسی بھی حصے میں اور کسی بھی زمانے میں کوٸ حکومت قاٸم ھوتی ھے اور کسی بھی مُسلمان جماعت کے ذریعے قاٸم ھوتی ھے ، دُوسری بات جو سُورةُالماٸدة کی اِن اٰیاتِ تلمیحات کے ذریعے اللہ نے مدینے کی اسلامی حکومت کو بتاٸ ھے وہ یہ ھے کہ مکے میں شروع کی جانے والی جن دینی اَقدار کے نتیجے مدینے میں اللہ نے تمہیں یہ غلبہ و اختیار دیا ھے اِس اقتدار و اختیار کے ملنے کے بعد اَب تُمہارا سَجے سَجاۓ دسترخوان پر بیٹھ کر کھانے کا دور گزر گیا ھے ، اَب سَجے سَجاۓ دسترخوان پر کھانے کا وقت نہیں ھے بلکہ برسوں کے وہ سارے بَھرے بُھرے دسترخوان اُن اَفرادِ اُمت تک پُہنچانے کا وقت ھے جو صدیوں سے اِس نظام انصاف کے منظر رھے ہیں ، اِس لیۓ کہ اَب تُم زمین کے ایک ستم زدہ محکوم و مقہور مُہاجر نہیں ھو بلکہ اِس مُلک کے بااختیار حاکم ھو اور تُمہارا کام اپنی خدمت نہیں کرانا ھے بلکہ دُوسرے انسانوں کی خدمت کرنا ھے اور اِن انسانوں میں وہ انسان بھی شامل ہیں جو تُمہارے اِس مُلک میں غیر مُسلم ذمی ہیں اور وہ مُشرک لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے تُم کو مَکے سے دَھکے دے کر نکالا تھا ، اِس لیۓ اَب تُم نے اسلامی حکومت کا وہ انسانی دستر خوان سجانا ھے جس پر ہر رنگ اور ہر نَسل کے انسان نے بیٹھ کر کھانا ، کھانا ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے