Home / کالم / بابا جی کی چوری

بابا جی کی چوری

روحانی سوچ/
نورالحسن انور قادری

پرانےوقتوں کی بات ہےچار چور چوری کے ارادے سے نکلے را ت بھر پھرتے رہے کچھ نہ ملا واپس جانے لگے تو ایک حویلی سے گدھے کی آواز آٰی ا ن نے سوچا خالی ہاتھ کیا جانا ہے یہ گدھا ہی لے چلتے ہیں ایک چور اندر داخل ہوا اس نے دروازہ کھولدیا یہ سب اندر داخل ہوگے
تو وہاں ایک بوڑھا سورہا تھا انہیں بہت غصہ آیا کہ اتنی بڑی حویلی اور اس میں صرف ایک بوڑھا اور گدھا ان نے مشورہ کیا کہ ہم بابا اٹھا کر لے جاتے ہیں ان نے چارپای سمیت بابے کو اٹھایا اور چلے گے
صبح دیر تک بابا جی گھر نہین پہنچے تو بیٹوں کو پریشانی ہوی دیکھا تو حویلی میں بابا موجود نہیں تلاش کیامگر نہ مل سکے چپ کرکے بیٹھ گے تو اہل محلہ نے بابے کے متعلق پوچھنا شروع کردیا کھوجی کا انتظام کیا اور چوروں کے گاوں پہنچ گے نمبردار کو صورت حال بتای نمبردار اپنے گاوں کے اچھے برے سب کو جانتا تھا اس نے چوروں کو طلب کیا چوروں نے ساری صورت حال بتای کہ یہ چار بیٹے جوان ہیں مگر بابے کو حویلی مین تنہا سولا رکھا ہے چوروں نے کہا ہم نے بابا نہیں دینا اسے ہم اپنے باپ کی طرح سمھجتے ہیں ۔۔۔۔
یہ بابے کی محبت میں نہیں لوگوں کے طعنوں کی وجہ سے آیے ہیں
اگر بابا چاہے دوسو روپے ہمیں دو بابا لے جاو اس دور میں دوسو روپیہ بہت بڑی دولت سمھجی جاتی تھی نمبردار بھی سمھجہ گیا اس نے کہا روپے لاو بابا لے جاو وہ گاوں واپس گے اور لوگوں کو صورت حال بتای لوگوں نے روپے اکھٹے کرکے دیدے یہ چوروں کے پاس پہنچے انہیں رقم دی چوروں نے بابا جی کو بلایا وہ دوسو بابا کو دیکر کہا یہ آپ کے ہیں انہیں اپنی ضرورت میں خرچ کرلینا ۔۔۔۔۔ باباجی نے شکریہ ادا کیا اور اپنے بیٹوں کیساتھ چلدئے ۔۔۔۔
ماں باپ بوڑھے ہو جائیں تو انہیں اس طرح تنہا نہیں چھوڑ دینا چاہے بڑھاپے میں انہیں زیادہ ضرورت ہوتی ہے یہ ہماری جنت ہیں اور ان سے بے وفائی دخول جھنم کا زریعہ ہے
‏یہ بہت بڑا المیہ ہے ہم بھی اسی سمت چلے جارہے ہیں جہاں آج یورپ کھڑا ہے جن کے ہاں کتوں کے لے تو گھر میں جگہ ہے مگر بوڑھے ماں باپ کے لئے نہیں ہمارا دین ہمیں ان مقدس ہستیوں کی خدمت کا صرف حکم ہی نہیں دیتا بلکہ ان کی رضا جنت کی ضمانت اور ان کی ناراضگی جھنم میںں داخلے کا ذریعہ بتاتا ہے ماں باپ کی خدمت ہم نہیں کرتےفادر ڈے ضرور منالیتے ہیں کیا سال میں ایکدن ہی فادر ڈے ہے کیا ہمارے ماں باپ نے سال میں ایکدن ہی ہمیں کھلایا پلایا کیا ان نے سال میں صرف ایکدن ہم سے محبت کی یقین آپ کا جواب نفی میں ہوگا جو باپ ایک لمحہ کے لے اپنی اولاد کو دکھی نہیں دیکھ سکتا جو سخت سردی میں سبز منڈی میں محنت مشقت کرکے اولاد کامستقل بنانے والا جو جھلسادینے والی دھوپ میں مزدوری کرنے والا جسنے نہ دن دیکھا نہ رات دیس سے پردیس چلا گیا کس کے لے جی ہاں آپ کہیں گے اولاد کے لے اور اولاد نے اس کے لے سال میں ایکدن رکھ دیا ہے فادر ڈے زرا سوچئے اور اپنے اس عظیم محسن کو نہ بھولئے یہ تو اتنے عظیم ہیں اگر نماز میں ان کے لے دعا نہ کریں نماز قبول نہیں ہوتی ہر نمازی پڑھ رہا ہوتا ہے رب اغفر لی ولوالدی وللمومنین اے اللہ مجھے اور میرے والدین اور تمام مومنوں کو معاف فرمادیں آئے انہییں اسی طرح خوش کریں جسطرح وہ ہمیں خوش کرتے تھے۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے