Home / کالم / سرمایہ دارانہ مارکیٹ

سرمایہ دارانہ مارکیٹ

* تحریر ؤ تحقیق
✒️ *محمد یونس قادری*
ــــــــــــــــــ
_*سرمایہ کیا ہے؟*_
سرمایہ میں اور دولت میں فرق ہے، سرمایہ کا تعلق آزادی سے ہے جب کہ دولت کا تعلق جائز اور ناجائز، حرام و حلال سے ہے، *سرمایہ نفس کی وہ خواہش ہے کہ سرمایہ زیادہ سے زیادہ حاصل ہو، سرمایہ در اصل بڑھوتری برائے بڑھوتری ہے، یہ تکاثر ہے، سرمایہ نفس کی خواہش کہ دنیا کا حریص ہو اور اس کے حصول کےلئے آپس میں حسد کرے* سرمایہ آزادی کا دوسرا نام ہے، سرمائے میں آزادی کا مطلب ہے کہ حلال و حرام اور جائزہ و ناجائز کی تمیز نہ رکھی جائے، آزادی کن کو حاصل ہوتی ہے ان کو جن کے پاس سرمایہ زیادہ ہو، جب آپ آزادی کے حصول کےلئے کوشاں ہوتے ہیں تو آپ اپنی خواہشات کی اتباع اس دنیا میں کرنا چاہتے ہیں اور اس کے حصول کےلئے عملی طور پر جس خواہش کےلئے کار فرما ہوتے ہیں اور جس مقصد کےلئے انفرادی اور اجتماعی زندگی کو پروان چڑھاتے ہیں وہ سرمائے کا حصول ہے، سرمایے کی خواہش کے بغیر آزادی کی خواہش ناممکن ہے، اس لئے مغربی تصور آزادی کی عملی تعبیر سرمایے کی خواہش ہے، ایک آزاد شخص یا گروہ جس چیز کا طالب ہوتا ہے وہ سرمایہ ہے اس کی زندگی کا مقصد سرمایہ ہی ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے ہی وہ آزادی کو ممکن بنا سکتا ہے۔
_*سرمائے اور دولت میں فرق*_
سرمایہ جیسا کہ دیکھا گیا ہے کہ خواہش کا نام ہے یہ وہ خواہش ہے جو خود اپنی تلاش میں سرگرداں ہوتی ہے، وہ سرمایہ جو کہ متشکل ہو کسی بھی اجزاء میں وہ دولت بن جاتی ہے، یہ دولت جو کہ سرمایے کی بڑھوتری کے نتیجے میں حاصل ہوگی یہ حرام دولت اور سودی دولت ہوگی، اس کے بر عکس اگر حلال طریقہ اور ذرائع سے حاصل ہو  تو وہ دولت حلال دولت ہوگی۔
_*مارکیٹ کیا ہے؟*_
مارکیٹ وہ جگہ ہے جہاں پر سرمایے کے طلب گار آزادی کے حصول کےلئے اکٹھے ہوتے ہیں اسی لئے مارکیٹ کا تعلق سرمایے سے ہے، اس کی خصوصیت میں ہم تفصیل سے دیکھیں گے کہ مارکیٹ پورے معاشرے کو کس طرح اپنے تابع کر لیتی ہے؟ مارکیٹ کا تعلق اس خاص قسم کے معاشرے سے ہے اور اس میں نشو و نما پانے والے اداروں سے ہے۔
_*مارکیٹ اور بازار میں فرق*_
ہم جس اصطلاح کو عام طور پر مارکیٹ کے مماثل سمجھتے ہیں وہ بازار ہے، بازار اور مارکیٹ میں بنیادی فرق ہے، بازار کا تعلق سرمایہ داری سے نہیں ہے بلکہ ما قبل سرمایہ داری بھی اس کا وجود تھا *بازار وہ ادارہ ہے جس کا تعلق مخصوص تہذیب، اخلاقیات اور مذاہب سے ہے، بازار معاشروں کی تعمیر نہیں کرتا بلکہ بازار پہلے سے قائم معاشرتی قدروں کے تابع ہوتا ہے، بازار مارکیٹ کے مقابلے میں معاشروں کا ایک بہت قلیل حصہ ہوتا ہے* جبکہ مارکیٹ پورے معاشرے کے اندر غالب قدر ہوتی ہے اور وہ ہی معاشرتی قدروں کو متعین کرتی ہے *اسلامی معاشروں میں بازار ہوتے ہیں، جن میں حرام و حلال کی تمیز ہوتی ہے، اسلامی مارکیٹ کبھی نہیں ہو سکتی کیونکہ مارکیٹ کے معیارات سرمایہ داری سے متعلق ہیں، اسلامی مارکیٹ ایک غلط عقیدہ ہے* اب ہم مارکیٹ کے خواص کا جائزہ لیں گے کہ مارکیٹ کن خاص رویوں کو پروان چڑھاتی ہے؟
_*مارکیٹ کی خصوصیت*_
◼️مارکیٹ کا غلبہ:
مارکیٹ پورے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے مارکیٹ جہاں پر آزادی کو فروغ حاصل ہوتا ہے وہ اس کے رجحان کو پورے معاشرے پر غالب کر دیتی ہے اور معاشرتی قدریں کسی اور بنیاد پر نہیں طے ہوتیں بلکہ وہ مارکیٹ کے نافذ کردہ اقدار پر استوار ہوتی ہیں، مارکیٹ بر خلاف بازار کے صرف معاشی ادارتی صف بندی نہیں کرتی بلکہ معاشرے کے ہر پہلو کو اپنے تابع کر لیتی ہے *ایک مذہبی معاشرہ جس کی بنیاد محبت اور بھائی چارہ پر استوار ہوتی ہے، مارکیٹ ان اقدار کی جگہ غرض، حرص و حسد کو پروان چڑھاتی ہے* ان بنیادوں پر جو معاشرہ استوار ہوتا ہے اس کو *سول معاشرہ (Civil Society)* کہتے ہیں، مارکیٹ جس معاشرے کو جنم دیتی ہے وہ سول معاشرہ ہوتا ہے *سول معاشرے میں پورا معاشرہ در اصل مارکیٹ بن جاتا ہے جہاں پر تعلقات کی بنیاد معاہدوں پر رکھی جاتی ہے، ایسے معاشرے میں خاندانی رشتے ناتے ٹوٹ جاتے ہیں اس لئے کہ خاندان کی بنیاد غرض اور معاہدہ نہیں ہوتی بلکہ اس کی بنیاد محبت و ایثار ہوتی ہے، ماں باپ، بہن بھائی، بیوی، شوہر یہ تمام رشتے جب غرض کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں تو خاندانی نظام تباہ ہو جاتا ہے* جیسا کہ مغربی ممالک میں ہو رہا ہے اور ہر اس ملک میں ہوتا ہے جہاں سرمایہ داری کو فروغ ملتا ہے۔
◼️مارکیٹ میں ہر خواہش مساوی اور جائز ہوتی ہے مگر ترتیب سے نہیں ہوتی:
مارکیٹ میں آزادی کے فروغ کا مطلب یہ ہوا کہ آپ آزاد ہیں جو چاہنا چاہیں چاہ سکیں، اس طرح مارکیٹ میں ہر شخص مساوی ہے وہ چاہے نماز پڑھے یا شراب پیے یا بیچے، دونوں عمل اس لئے جائز ہیں کہ انہیں آپ نے آزادانہ خواہش کی اتباع کرتے ہوئے کیا ہے *جب ہر خواہش جائز اور مساوی ہوئی تو  پھر کسی خواہش کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے، آپ خواہشات کی کوئی بھی ترتیب رکھ سکتے ہیں، مگر عملی طور پر آپ ہر اس خواہش کو اولیت دیتے ہیں جو کہ سرمائے کے ارتکاز میں معاون و مددگار ہو* مثلاً آپ اپنا تمام وقت تفریحات میں نہیں گزار سکتے کہ اس کی بنیاد پر آپ کو سرمایے میں بڑھوتری کے مواقع کم ملیں گے اس لئے آپ پابند ہیں کہ آپ کاروبار دفتر اور تعلیم پر بھی اپنا وقت صرف کریں *مارکیٹ میں آپ سرمایے کے غلام ہو کر اس خواہش کو کرنے کے پابند ہیں جو کہ آپ کے سرمائے میں اضافہ کرے*
◼️مارکیٹ نجی ملکیت کو ختم کر دیتی ہے:
سرمایہ داری یہ دھوکہ دیتی ہے کہ وہ نجی ملکیت کو پروان چڑھاتی ہے، یہ تصور ایک دھوکہ اور فریب ہے، نجکاری اور نجی ملکیت میں فرق ہے، اس فرق کو واضح کرنے کےلئے ضروری ہے کہ مارکیٹ کے اداروں کا جائزہ لیا جائے جو کہ نجکاری کے عمل کو پروان چڑھاتے ہیں، سرمایہ داری ایک فنانشل مارکیٹ کو پروان چڑھاتی ہے کارپوریشن اس فنانشل مارکیٹ کی روح رواں ہوتی ہے، سرمایہ داری میں جب بھی کوئی شے یا خدمت مارکیٹ میں آتی ہیں توہ وہ کارپوریشن کے تحت پیدا وار یا خدمات انجام دیتا ہے، کارپوریشن کے بغیر مارکیٹ تک رسائی نہیں ہوتی، کارپوریشن میں یا تو ملازمین ہوتے ہیں یا اس کے شیئر ہولڈرز، شیئر ہولڈرز وہ ہوتے ہیں جو اس کمپنی کے مالک تصور کیے جاتے ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے کہ جو بھی اسٹاک مارکیٹ سے اس کمپنی کے شیئرز خرید لے وہ شیئر ہولڈر کہلائے گا، ان کے علاوہ ملازمین میں ایک مینیجر اور دوسرے دیگر عملہ یا مزدور شامل ہیں اس کارپوریشن کو چلانے کی تمام ذمہ داری مینیجرز پر ہوتی ہے، و ہی دیگر ملازمین رکھتے اور نکالتے ہیں اور وہی فیصلہ کرتے ہیں، شیئر ہولڈر کا کمپنی کے معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، زیادہ تر بے چارے شیئر ہولڈرز کو کمپنی کے بارے میں بھی علم نہیں ہوتا کہ یہ کہاں ہے اور کام کیسے انجام دیتی ہے؟ مینیجرز جو تمام کمپنی کو چلانے کا مجاز ہوتا ہے وہ فیصلے ان بنیادوں پر کرتا ہے کہ کمپنی کے منافع/ سرمایے میں اضافہ ہو، اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر وہ بھی ملازمت سے بر خاست کر دیا جاتا ہے، شیئر ہولڈرز، مینیجرز اور مزدور تمام کے تمام اسی جستجو میں ہوتے ہیں کہ سرمایے کو کس طرح بڑھائیں؟ حلال اور حرام کی تمیز کے بغیر اصل مقصد کارپوریشن کے منافع محض کو بڑھانا ہوتا ہے، اس طرح ملکیت نہ تو شیئر ہولڈرز کی ہوئی نہ ہی مینیجرز کی اور نہ ہی مزدوروں کی تو پھر مارکیٹ میں ملکیت کس کی ہوتی ہے؟ در اصل مارکیٹ میں ہر شخص ایک ہی کا غلام، بندہ ہوتا وہ سرمایہ ہے اسی لئے ملکیت بھی سرمایے کی ہوئی، کارپوریشن جو کہ سرمائے کی ایجنٹ ہوتی ہے، وہ ایک نئی قسم کی شخصیت کو قائم کرتی ہے جس کو *شخص قانونی (Corporate Porsonality)* کہتے ہیں، *یہ ایسا شخص قانونی ہے جو قلاش تو ہو سکتا ہے مر نہیں سکتا* ذاتی ملکیت میں کسی شخص کی ملکیت ہوتی ہے وہ اگر مر جائے تو ملکیت تقسیم ہو جاتی ہے، سرمایہ دارانہ تصور ملکیت میں یہ ناممکن ہے، اس طرح ذاتی ملکیت کا خاتمہ کارپوریشن کے ذریعہ ہوتا ہے۔
◼️مارکیٹ میں ہر شخص مزدور بن جاتا ہے:
جب ملکیت ختم ہو جاتی ہے تو پھر ہر شخص ملازم بن جاتا ہے اور کارپوریشن میں ہر شخص ملازم ہوتا ہے یعنی ہر شخص اجرت کمانے والا بن جاتا ہے، سرمایہ داری میں ہر شخص مزدور بن جاتا ہے اور اپنی خدمات کو بیچتا ہے جس کے عوض اس کو اجرت ملتی ہے جب سب لوگ مزدور بن گئے تو وہ غلام بن گئے اس کے جس نے اس کے وقت کو خریدا، وہ اس وقت کے اندر آپ سے جو چاہے کروائے آپ اس کے پابند ہیں۔
◼️اصل بازار سود اور سٹے کا بازار ہوتا ہے:
مارکیٹ دو طرح کی ہوتی ہے ایک فنانشل مارکیٹ اور دوسری اشیاء کی مارکیٹ، فنانشل مارکیٹ وہ مارکیٹ ہے جہاں سود اور سٹہ کے بل بوتے پر زر اور اسٹاک کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور اشیاء کی مارکیٹ میں اشیاء کی خرید و فروخت ہوتی ہے، مارکیٹ میں فوقیت چونکہ سرمایے کی بڑھوتری کو حاصل ہوتی ہے اس لئے سرمایہ خود اپنی تلاش میں سرگرداں فنانشل مارکیٹ کو اپنا محور اور مرکز بناتا ہے، اس لئے کہ زر اور اسٹاک دونوں ہر لمحے بغیر پیدا وار کے عمل میں شریک ہوئے تیزی سے سود اور سٹہ کی بنیاد پر بڑھتے ہیں، پیدا وار جو کہ سرمایہ دار کی مجبوری ہوتی ہے اس کےلئے بھی اس کو سودی قرضے اور اسٹاک مارکیٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے، جتنا مارکیٹ کا رجحان غالب ہوگا اتنا ہی سود اور سٹہ کا بازار پیدا واری عمل پر غالب آجائے گا اور فنانشل مارکیٹ کی فوقیت پیدا واری مارکیٹ کے اوپر ہوتی جائے گی، جیسا کہ کسی بھی ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں دیکھ سکتے ہیں، فنانشل مارکیٹ پیدا وار کی مارکیٹ سے کئی گنا بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔
◼️سود اور سٹے کے بازار کا غلبہ:
جب فنانشل مارکیٹ کا غلبہ ہوگا تو اس کا مطلب ہی یہ ہوگا کہ سود اور سٹے کے تحت ہی مارکیٹ میں قدر طے ہوگی، فنانشل مارکیٹ جو کہ زر اور سرمایے کی مارکیٹ کا مرکب ہے، زر کی مارکیٹ میں زر کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور زر کی قدر و قیمت سود ہوتی ہے اور سرمائے کی مارکیٹ میں شیئرز کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور یہ خرید و فروخت سٹہ کی بنیاد پر ہوتی ہے، اس طرح سود اور سٹہ کا غلبہ پورے معاشرے پر ہوتا ہے کہ مارکیٹ کا رجحان پورے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے، سرمایہ داری میں ہر شے کی قدر قیمت سے متعین ہوتی ہے وہ شے زیادہ قابل قدر ہوگی جس کی زیادہ قیمت ہوگی، شے کسی بھی جگہ ہو اس کی قدر فنانشل مارکیٹ میں طے ہوگی اور اس طرح ہر شے کی قدر سود اور سٹے کی بنیاد پر متعین ہوتی ہے، یہ تو مارکیٹ کے چند خواص تھے اب ہم ماکیٹ کی تاریخ کو دو ادوار میں بانٹ کر دیکھتے ہیں ایک دور کو *فورڈ ازم* اور دوسرے دور کو *پس فورڈ ازم* کہتے ہیں۔
_*فورڈ ازم کا دور 1933 سے 1980 تک کا دور*_
یہ سرمایہ کاری کا ابتدائی دور ہے یہ دور دونوں جنگ عظیم اور یورپ کے اندر عظیم کساد بازاری ۱۹۳۰ کے بعد کا دور ہے، اس دور کا عروج ۱۹۴۵ جنگ عظیم دوئم کے بعد ہوا، سرمایہ داری جیسا کہ ہم نے دیکھا اس کا تعلق مغربی ثقافت سے ہے، مغربی ثقافت کے عروج کے ساتھ ہی سرمایہ داری کو عروج حاصل ہوا، اس سے پہلے نہ ہی مارکیٹ کا تصور تھا اور نہ ہی سول معاشرہ تھا، تاریخ کے اس مطالعہ میں ہم دیکھیں گے کہ کس طرح سرمایہ داری اپنے اندر سے پھوٹنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی ساخت میں تبدیلیاں کرتی ہے، اس کے علاوہ یہاں پر یہ بھی دیکھیں گے کہ سرمایہ داری خود جن اقدار کے اوپر پرورش پاتی ہے ان اقدار کو امر بیل کی طرح خود اپنے ہاتھوں برباد کرکے نئے ادارے اور اقدار قائم کرتی ہے، اس طرح سرمایہ داری خود اپنی بربادی (Self distruction) کا سامان کرتی ہے اور پس فورڈ ازم اس کی شکست اور بربادی کا ہی دور ہے، فورڈ ازم کے دور میں اس کو جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا تھا وہ اشتراکیت تھا اور اشتراکیت میں بھی مزدور اجتماعیت سے اس کو اصل خطرہ تھا، جیسا کہ ہم نے اوپر دیکھا کہ سرمایہ داری ہی کی وجہ سے مزدور اجتماعیت پیدا ہوئی، اشتراکیت جو کہ مغربی ثقافت سے ہی نکلنے والا شجر تھا، وہ اس بات کا قائل تھا کہ آزادی کا حصول اس وقت ممکن ہے جب مزدوروں کو کارپوریشن کے منافع میں برابر کا حصہ ملے، وہ سرمایہ دار کو مزدورں کے حق میں ڈاکہ ڈالنے والا تصور کرتا ہے، جس کی تفصیل آگے ملاحظہ کریں گے، اس دور میں عیسائی اجتماعیت کی جگہ جن دو اجتماعیتوں کو سرمایہ داری نے مارکیٹ کے فروغ کےلئے استعمال کیا ایک مزدور اجتماعیت اور دوسری قومی اجتماعیت (Nationalism) تھی۔
_*پس فورڈ ازم 1980 کے بعد کا دور*_
پس فورڈ ازم کا دور سرمائے کی مکمل آزادی کا دور ہے، اس دور کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے اپنی قائم کردہ دو اجتماعیتوں کو خود اپنے ہاتھوں ختم کر دیا، ایک مزدور اجتماعیت جو کسی نہ کسی صورت میں سوشل ڈیموکریٹ کی صورت میں موجود تھی وہ مکمل ختم ہو گئی اور دوسرا بریٹن وڈ سسٹم نا کام ہو گیا اور سرمایہ ریاست کے تابع ہونے کے بجائے ریاست سرمائے کے تابع ہو گئی۔
_*مزدور اجتماعیت*_
یورپ میں سوشلزم کے بڑھتے ہوئے اثرات کو زائل کرنے کےلئے جو اجتماعیت قائم ہوئی اس کو *سوشل ڈیمو کریٹ* کہتے ہیں، یہ ایک سیاسی صف بندی تھی جو مزدوروں کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہو گئی کہ سرمایہ داری تمہارے لئے خطرہ نہیں ہے، تم سرمایہ داری میں رہتے ہوئے اجتماعی سودے بازی کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہو، اس طرح اس تحریک کے نتیجے میں مزدور نے اپنی بقاء سرمایہ داری میں جانی اور سرمایہ داری میں شمولیت کے نتیجے میں مزدور اجتماعیتیں سیاسی طور پر کمزور ہو گئیں، سرمایہ داری نے اس دور میں اپنا دوسرا حلیف بنایا جوکہ ریاست تھی اس دور میں ریاست کی ذمہ داری تھی کہ وہ سرمایے کی پشت پناہ ہو، سرمایہ کی بڑھوتری برطانیہ، جرمنی، جاپان کے اندر ہوتی اور سرمایہ جاپانی، برطانوی سرمایہ کہلاتا، سرمایے کے پیچھے ایک سرمایہ دارانہ ریاست ہوتی جو کہ سرمایہ کا دفاع کرتی، فورڈ ازم کے دور میں مزدور اجتماعیتیں سوشل ڈیموکریٹ کی وجہ سے باقی رہیں بس ان کی حیثیت تبدیل ہو گئی ان کی حکومت میں شرکت کے نتیجے میں مزدور انقلابی عمل سے دور ہو گئے اور وہ مکمل طور پر سرمایہ داری میں شریک ہو گئے ایسی حکمت عملی کے نتیجے میں اشتراکیت کو مغرب میں شکست ہوئی، اشتراکیت مزدور اجتماعیتوں کو متحرک ہونے اور قربانی دینے پر آمادہ نہ کر سکی اس لئے یہ تحریکیں پر امن اور بے جان ہو کر رہ گئیں، ریاست کی سطح پر جو نظام قائم تھا اس کو برٹین ووڈ نظام کہتے ہیں، اس میں مالیاتی نظام کو چلانے کےلئے ایک بین الاقوامی ادارہ قائم کیا گیا جس کو *آئی ایم ایف* کہتے ہیں اس ادارہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ ممبر ممالک کو اس مالیاتی نظام کے تابع کریں جس کے نتیجے میں سرمایہ ان ممالک میں پروان چڑھ سکے، مگر جب سرمایہ ریاست میں پروان چڑھنے لگا تو پھر وہ آزاد نہ رہا اور وہ مقید ہو گیا ریاست کی چار دیواری میں، ریاست اس سرمائے کو ایسے استعمال کرتی جس سے ریاست کو فائدہ ہو نہ کہ سرمایہ محض میں اضافہ ہو، سرمایہ چونکہ کسی کا پابند نہیں ہے تو ۱۹۸۰ تک ریاست اور مزدوروں کے ساتھ مجبوری کے تحت رہا مگر یہ مجبوری سوشل ازم اور قوم پرستی کی کمزوری کے نتیجے میں رفع ہو گئی اور ۱۹۸۰ کے بعد کا پس فورڈ ازم دور اس کی مکمل آزادی کا دور ہے۔
_*مزدور اجتماعیت کا خاتمہ*_
مزدور اجتماعیت جو کہ اجتماعی سودے بازی کے ذریعہ اپنا حق سرمایہ دار سے لیتی تھی، اس پس فورڈ ازم کے دور میں وہ اس سرمایہ دارانہ نظام میں شامل ہو گئی اور اجتماعی سودے بازی کی جگہ ہر مزدور انفرادی طور پر اپنی اپنی اجرت کمپنی میں طے کرنے لگا جس کو مکمل معیاری مینجمنٹ یا انسانی ذرائع کی مینجمنٹ کہتے ہیں، اس میں ہر کمپنی خود اپنے مزدور کو منظم کرتی ہے، مزدور بذات خود سرمایہ بن جاتا ہے، اسے آپ انسانی سرمایہ کہتے ہیں انسانی سرمایہ کا مطلب یہ ہے کہ مشین اور زمین کی طرح انسان بھی سرمایہ ہے، ان نظریات کی پذیرائی کے نتیجے میں مزدور اپنے آپ کو سرمایے میں ضم کر لیتا ہے اور ہر شخص کا ذاتی فائدہ اس میں ہوتا ہے کہ سرمائے میں اضافہ ہوتا رہے دونوں مزدور اور آجر سرمایے کے خادم اور غلام بن جاتے ہیں اور اس طرح اجتماعی سودے بازی اور اجتماعی حقوق وغیرہ بالکل لا حاصل ہو جاتے ہیں، مارکیٹ  ریاست کی سطح سے بلند ہو جاتی ہے اور کارپوریشن کے اثرات ریاستی پالیسیوں پر بڑھتے جاتے ہیں، نجکاری کے نام پر سرمایے کی حاکمیت ہر ادارے پر قائم ہو جاتی ہے، ریاست ان منصوبوں کی توثیق کرتی ہے جس سے سرمائے میں اضافہ ممکن ہو تمام ریاستیں ما سوائے ریاست ہائے متحدہ امریکا کے سرمائے کی باج گزار اور محکوم ریاستیں بن جاتی ہیں، یہ دور ایک طرح ریاستوں کی کمزوری کا دور ہے سرمایے کی آخری اجتماعیت ریاست کے کمزور ہونے کے ساتھ سرمایہ کوئی دوسری ایسی اجتماعیت قائم کرنے سے قاصر رہی جس کے ذریعہ وہ اپنا دفاع  کر سکے، کار پوریشن جو کہ خود اجتماعیت کو ختم کرتی ہیں سرمائے کے دفاع سے قاصر ہیں، اس لئے سرمایہ داری اپنے آپ کو خود تباہی سے دو چار کر رہی ہے، ان تاریخی حقائق سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنے آپ کو سرمایے (مارکیٹ) کے سپرد کر دیا تو پھر ہم بھی سرمایے کے مطیع اور بندے بن جائیں گے اور تباہی و بربادی ہمارا مقدر بن جائے گی، اس لئے ہمیں کوشش کرنی ہوگی کہ ہم مارکیٹ کی جگہ اسلامی بازار کو فروغ دیں، زر اور اسٹاک کی مارکیٹ سے ناتا توڑ کر اپنے لئے ایک جداگانہ مالیاتی نظام کو کھڑا کریں جو کہ مکمل طور پر اسلامی تعلیمات کے زیر اثر ہو
ـــــــــــــــــــ
*تفہیم مغرب فورم*

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے