Home / اسلام / قُرآن اور رشتہِ مریم و ابنِ مریم !!

قُرآن اور رشتہِ مریم و ابنِ مریم !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
(((( اٰیت 110 )))) 🌹 سورہ المائدہ
قُرآن اور رشتہِ مریم و ابنِ مریم !! 🌹 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیت و مفہومِ اٰیت ! 🌹
🌹 اذ قاللہ
یٰعیسٰی ابن مریم
اذکر نعمتی علیک و علٰی
والدتک اذ ایدتک بروح القدس
تکلم الناس فی المھد و کھلا واذ
علمتک الکتٰب والحکمة والتورٰة ولانجیل
واذ تخلق من الطین کھیٸة الطیر باذنی و تنفخ
فیھا فتکون طیرا باذنی وتبرٸ الاکمہ والابرص باذنی
واذ تخرج الموتٰی باذنی واذ کففت بنی اسراٸیل عنک اذ
جٸتھم بالبینٰت فقال الذین کفروامنھم ان ھٰذا الا سحر مبین 110
اے ابنِ مریم ! تُم میرے اُس احسان کو بُھول نہ جانا جو میں نے تُم پر اور تُمہاری والدہ پر کیا تھا اور میں نے اپنے ایک مُقدس حُکم سے تُمہاری تاٸید و توثیق کی تھی ، میں نے تُمہارے بچپن اور بڑھاپے دونوں میں تُم کو تکلّم کی ایک قُوت عطا کی تھی ، میں نے تُم کو علمِ کتاب دیا تھا ، کتاب کی دانش دی تھی اور تُم کو تورات و انجیل کا رُوشناس بنایاتھا اور تُم میرے حُکم سے مِٹی کے بے جان پرندوں کی طرح مِٹی میں ملے مُردہ انسانوں کی جانوں اور رُوحوں کو پرواز کی طاقت دیتے تھے ، تُم میرے حُکم سے رُوحانی طور پر ایمان کے اَندھوں اور جسمانی طور پر شرک کے جذامیوں کو توحید کی دوا سے دَرست و تندرست بنا دیتے تھے اور جن لوگوں کی علمی و فکری اعتبار سے موت واقع ھو جاتی تھی تُم میرے حُکم سے اُن کو موت کے مُنہہ سے نکال کر زندگی زندگی کی طرف واپس لے آتے تھے !
🌹 تاریخِ مریم و ابنِ مریم کا نُقطہِ آغاز ! 🌹
اٰیتِ بالا مریم و ابنِ مریم کے سلسلہِ کلام کی آخری اٰیت ھے ، اِس لیۓ اِس اٰیت کو سمجھنے کے لیۓ سب سے پہلے اِس اٰیت کے سلسلہِ کلام کے اُس آغازِ کلام پر نظر ڈال لیجیۓ جو سُورہِ اٰلِ عمران کی اٰیت 35 اور 36 میں آیا ھے اور جس میں اللہ تعالٰی نے یہ ارشاد فرمایا ھے کہ ” انسانی تاریخ کا وہ ایک ناقابلِ فراموش لَمحہ تھا جب خاندانِ عمران کی ایک حاملہ خاتُون نے اپنے رَب سے استدعا کی تھی کہ میرے پروردگار ! میرے وجود میں جو بچہ پرورش پا رہا ھے مَیں اُس کو کارِ دُنیا سے آزاد کرکے تیری ذات کے لیۓ مُختص کرنے کی نیت کرتی ھوں اور تُو بھی اُس کو قبول فرمالے ، پھر جب اُس عورت نے اُس بچے کو اپنے جسم سے جُدا ھونے کے بعد دیکھا تو وہ حیران ھو کر بولی ، پروردگار ! یہ کیا ھوا کہ مَیں نے تو لَڑکے کے بجاۓ ایک لَڑکی کو جنم دیا ھے اور یہ بات تو صرف اللہ جانتا ھے کہ دَرحقیقت اُس نے کیا جنَم دیا ھے ، لَڑکا تو دیکھنے میں لَڑکی طرح ہر گز نہیں ھوتا ، بہر حال میں نے اُس کا نام مریم رَکھ دیا ھے اور مَیں اِس کو اور اِس کی نَسل کو شیطان کے شر سے بچانے کے لیۓ تیرے سپرد کرتی ھوں !
اٰیاتِ بالا قُرآن کی جس سُورت میں وارد ھوٸ ہیں اُس سُورت کا نام اٰلِ عمران ھے اور یہ نام اِس اَمر کی خبر دے رہا ھے کہ اِن اٰیات کا موضُوع مردِ عمران نہیں بلکہ نَسلِ عمران ھے اور نَسلِ عمران کے اِس تذکرے کا مقصد بھی نَسلِ انسانی کے اعمالِ کار اور اُس سے بننے والے اُس شجرِ عمرانیات کا شجرہِ نسب بیان کرنا نہیں ھے بلکہ اِس کا مقصد انسانی اُس جین Gene کا تعارف ھے جس سے انسانی تمدن و معاشرت کی شاخیں پَھلتی ، پُھولتی ، پھیلتی اور پروان چڑھتی ہیں ، اِن اٰیاتِ کے ترتیب وار ترجمے سے جو چار ترتیب وار باتیں سمجھ آتی ہیں وہ درجِ ذیل ہیں کہ :-
1 – میرے پروردگار ! میرے وجود میں جو بچہ پرورش پا رہا ھے مَیں اُس کو کارِدُنیا سے آزاد کر کے تیری ذات کے لیۓ مُختص کرتی ھوں ، تُو بھی اِس کو قبول فرما لے !
2 – پھر جب اُس عورت نے اِس بچے کو اپنے جسم سے جُدا ھونے کے بعد دیکھا تو وہ حیران ھو کر بولی ، اے میرے رَب ! یہ کیا ھوا ، میں نے تو لَڑکے بجاۓ ایک لَڑکی کو جنَم دیا ھے !
3 – اور یہ بات تو صرف اللہ جانتا ھے کہ دَرحقیقت اُس نے کیا جَنا ھے ، لڑکا تو دیکھنے میں لڑکی کی طرح ہرگز نہیں ھوتا !
4 – اور مِیں نے اِس کا نام مریم رکھ دیا ھے ، مَیں اِس کو اور اِس کی نسل کو شیطان کے شر سے بچانے کے لیۓ تیرے سپرد کرتی ھوں !
اِن دو اٰیات میں بیان کیۓ گۓ اِن چار مضامین میں سے پہلے ، دُوسرے اور چوتھے مضمون کے اَلفاظ تو اُمِ مریم کے اپنے اَلفاظ ہیں لیکن تیسرے مضمون کے اَلفاظ جو جُملہ معترضہ کے طور پر لاۓ گۓ ہیں وہ اللہ کے اَلفاظ ہیں اور اللہ کے اِن اَلفاظ میں یہ مُختلف بات کہی گٸ ھے کہ { یہ بات تو صرف اللہ ہی جانتا ھے کہ دَرحقیقت اُس نے کیا جَنا ھے ، لَڑکا تو دیکھنے میں لَڑکی کی طرح ہرگز نہیں ھوتا } اور اللہ تعالٰی کے اِن اَلفاظ کا مطلب اِس کے سوا کُچھ اور ھو ہی نہیں سکتا کہ اِس عورت نے دَرحقیقت ایک لَڑکا ہی جَنا ھے لیکن وہ دیکھنے میں لَڑکا نہیں ھے کیونکہ وہ لڑکا جس کی اُمِ مریم نے تمنا کی تھی وہ اِس لَڑکی کے وجود میں چُھپا ھوا ھے جس کو اُمِ مریم نے جنم دیا ھے اور اِس حقیقت کا اللہ نے اُمِ مریم سے بھی اِن اَلفاظ میں اقرار کرایا ھے کہ { میں اِس کو اور اِس کی نسل کو شیطان کے شر سے بچانے کے لیۓ تیرے سپرد کرتی ھوں } اُمِ مریم نے اُس عالَمِ اضطراب میں مریم کی نسل کا ذکر کر کے اُس کے لڑکے ھونے کا اعتراف کیا ھے کیونکہ نسل لَڑکی سے نہیں چلتی بلکہ لڑکے سے چلاکرتی ھے اور اُمِ مریم کے اِن اَلفاظ سے معلوم ھوتا ھے کہ اُن کو لَڑکی کا وجود دیکھنے کے باوجود بھی اُس پر لَڑکا ھونے کا گمان تھا جو بالکُل ایک صحیح گمان تھا ، یہ سب کس طرح مُمکن ھوا ھے اور کس طرح مُمکن ھوتا ھے اِس کے مُتعلق ھم اِن اٰیات کے مُتعلقہ مقام پر تاریخ کے مُستند اور جدید میڈیکل ساٸنس کے مُعتبر حوالوں سے خاصی سیر حاصل بحث کر چکے ہیں !
🌹 مریم و ابنِ مریم کا رشتہِ روح و جان ! 🌹
گزشتہ اٰیت کے ضمنی بحث میں ھم نے عرض کیا تھا کہ انسان کا ایک زمان و مکان وہ ھوتا ھے جب وہ جنین کی طرح رحمِ مادر میں رہ کر پروان چڑھتا ھے ، اِس بات کو مزید واضح کرنے کے لیۓ عرضِ مُکرر ھے کہ رحمِ مادر انسان کی وہ پہلی جنت ھے جہاں انسان جمادات و نباتات اور حشرات و حیوانات کے زمان و مکان کی ہزاروں ھواٶں ، ہزاروں فضاٶں اور ہزاروں گزرگاھوں سے گزر کر آتا ھے اور تمہیدِ حیات کے پہلے دور میں داخل ھوجاتا ھے اور انسان کی اِس تمہیدِ حیات کا آغاز ھوتے ہی اُس ہستی کی تکمیلِ حیات ھو جاتی ھے جو اِس جنین کو اپنے رحم میں رکھ کر پَروان چڑھاتی ھے ، رحمِ مادر میں بچے کی جو تمہیدِ حیات ھوتی ھے وہ اِس کا وہی دورِ کمال ھوتا ھے جس میں انسان کی اِس تمہیدِ حیات اور تکمیلِ حیات کا یہ خاموش اور پُر جوش رشتہ ہی اُس کے اُس عظیم الشان تمدن کی بُنیاد بنتا ھے جس کا نام انسانیت ھے ، انسانی زندگی کے اِس دورِ کمال میں قُدرت کا قانونِ فطرت انسان کی علمی و فکری رہنماٸ کرتا رہتا ھے تاکہ جب کبھی بھی انسان کے وجود پر کوٸ دورِ زوال آۓ تو وہ اپنے اِس کمالِ تربیت کی بدولت زوال کے ہر دور سے سلامتی کے ساتھ گزر جاۓ ، ماٸیں جن بچوں کو اپنا خُونَ جان پلاکر رحم میں پروان چڑھاتی ہیں وہ تمام بچے اپنی تمام ماٶں کی نظر میں دُنیا کے سب سے عظیم بچے ھوتے ہیں اور جو بچے اِن ماٶں کی زندگی سے زندگی کشید کر کے دُنیا میں آتے ہیں اُن کی نظر میں اپنی ماٸیں بھی دُنیا کی سب سے عظیم ماٸیں ھوتی ہیں ، اِس لیۓ یہ ساری ماٸیں اپنے بچوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ خوشخبریاں سُننا چاہتی ہیں اور اُن کے بچے بھی اپنی ماٶں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ خوشی کی خبریں سُننا چاہتے ہیں اِس لیۓ قُدرت ماٶں کو بچوں کے مُستقبل کے بارے میں اپنی ملکُوتی قُوتوں کے ذریعے ایسے اشارات دیتی رہتی ھے جس کو وہ سُننا چاہتی ہیں اور اُن کے اِن بچوں کو بھی قُدرت ماٶں کی محبت کے بارے میں اپنی ملکُوتی قُوتوں کے ذریعے ایسے اشارات دیتی رہتی ھے جن کو یہ بچے سُننا اور پھر سُن سمجھ کر اپنی رُوح اور اپنے دِل میں بساناچاہتے ہیں !
🌹 مریم و ابنِ مریم کو دی جانے والی بشارات ! 🌹
اور چونکہ مریم و ابنِ مریم کے درمیان محبت کا دُھرا رشتہ تھا اِس لیۓ سورةُالماٸدة کی اٰیتِ بالا میں اللہ تعالٰی نے ابنِ مریم کے سامنے ابنِ مریم کو دیۓ جانے والے اُن انعامات کا تذکرہ کیا ھے جن کو جان کر مریم و ابنِ مریم دونوں کا سر خوشی اور فخر سے بلند ھو جاۓ اور اِس سے پہلے اللہ تعالٰی سُورہِ اٰلِ عمران کی اٰیات 48 تا 51 میں ابنِ مریم کے مُستقبل کے بارے میں مریم کو وہ خوش خبری دیتے ھوۓ یہ ارشاد فرماچکا ھے کہ ” ابنِ مریم بنی اسراٸیل کی طرف مامُور کیا گیا میرا وہ مُعلّمِ وحی ھوگا جو بنی اسراٸیل کو میری کتاب کا علم پڑھاۓ گا ، اُن کو میری کتاب کی حکمت سکھاۓ گا اور اُن کو تورات و انجیل سے رُوشناس کراۓ گا اور میرا یہ نبی ، بنی اسراٸیل کو یہ بھی بتاۓ گا کہ میں تُمہارے لیۓ تُمہارے پروردگار کی طرف سے وہ پیغامِ زندگی لے کر آیا ھوں جس کے ذریعے میں اللہ کے حُکم سے زمین پر مِٹی کے بے جان پرندوں کی طرح مُردہ پڑے ھوۓ انسانی جسموں میں بھی ایک ایسی اُڑنے والی رُوح پُھونک دوں گا جو اُن کو فرشِ زمیں سے عرشِ بریں تک اُڑنے کے قابل بنادے گی ، میں اِس آسمانی علم کے ذریعے اللہ کے حُکم سے اَندھی رُوحوں کو درُست اور جَذامی جسموں کو تندرست کردوں گا اور میں تُم کو آگاہ کروں گا کہ تُم نے گھروں میں کیا رکھنا ھے اور کیا نہیں رکھنا یا کیا کھانا ھے اور کیا نہیں کھانا ، اگر تُم ایمان و اطمینان کے خواہش مند ھو تو اِس بات کا یقین کر لو کہ میرے اِس ایک پیغام ہی میں تُمہاری زندگی کے لیۓ زندگی کے سارے اَحکام موجود ہیں ، مزید براں یہ کہ میں کتابِ تورات کی اُن ساری باقیات کی بھی تصدیق کرتا ھوں جو میرے سامنے موجود ہیں تاہَم میں اُن چیزوں کا استعمال تُمہارے لیۓ رَوا کر دوں گا جن کو تُم نے ناروا جان کر ترک کردیا ھے ، میں تُمہارے لیۓ اللہ کا یہی حُکم لے کر آیاھوں کہ تُم سب اللہ کی پناہ میں آجاٶ اور میری فرماں برداری کو قبول کرلو ، اللہ ہی میرا اور تُمہارا پالَنہار ھے ، تُم اللہ کے داٸرہ عبدیت میں آٶ اور اِس یقین کے ساتھ آٶ کہ یہی وہ سیدھا راستہ ھے جو انسان کو سیدھا چلاتا ھے اور منزلِ مُراد تک لے جاتا ھے اور جہاں تک اٰیتِ بالا میں بیان کیۓ گۓ ابنِ مریم کے ہاتھوں سے ظاہر ھونے والے حیرت انگیز کمالات کا تعلق ھے وہ مُعجزات نہیں ہیں بلکہ اُن کے معصوم بچپن کے وہ معصوم واقعات ہیں جن کا مِٹی کے کھلونے بناتے وقت وہ اپنے ساتھ کھیلنے والے بچوں کے سامنے اسی طرح پر اظہار کیا کرتے تھے جس طرح اُس عمر میں سارے بچے ایک دُوسرے کے ساتھ اپنے کھلونوں کے بارے میں اس طرح کا عادتا ہمیشہ ہی اظہار کرتے رہتے ہیں اور جب وہ بچے بہت بڑے انسان بن جاتے ہیں تو اُن کے بزرگ اُن کو حیران کرنے کے لیۓ اکثر محبت و دِل چسپی کے ساتھ اُن کے بچپن کے یہی واقعات سناتے رہتے ہیں جن کو سُن کر وہ اللہ کا شُکر بجالاتے ہیں کہ وہ اللہ کی مہربانی کی بدولت کیا سے کیا بن چکے ہیں اور کہاں سے کہاں پُہنچ گۓ ہیں اور جن بچوں کو اُن کی بی اَماں یہ کہانی نہیں سناتیں تو کبھی کبھی قُدرت آپ ہی آپ اُن کو سنا دیتی ھے اور کبھی کبھی وہ خود بھی اپنے بچپن کے ایسے واقعات خیال میں لاتے ہیں اور دُوسروں کو بھی سناتے ہیں جس طرح کہ حضرتِ غالب نے اپنے بچپن کے اِس خیال کو اَلفاظ کا جامہ پہنایا ھے اور پھر اپنا یہ خیال ھم تک پُہنچایا ھے :-
فنا تعلیمِ دَرسِ بیخودی ھوں اُس زمانے سے
کہ مجنوں لام اَلِف لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے