Home / کالم / آنلائن نظام تعلیم۔اصل مسئلہ کیا ہے؟

آنلائن نظام تعلیم۔اصل مسئلہ کیا ہے؟

تحریر :
مدثر مقبول انجم
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور

کانا ہیراڈا جاپان کے جزیرے ہوکیڈو (Hokkaido Island) کے ایک پسماندہ علاقے میں رہنے والی لڑکی کا نام ہے۔ کامی شراکتی (Kami Shirakati) ریلوے اسٹیشن کے قریب اس لڑکی کا قصبہ تقریبا چالیس نفوس پر مشتمل ہے۔ جاپان ریلوے اس اسٹیشن کو مسافر نہ ہونے کی وجہ سے بند کرنے کا سوچ رہی تھی لیکن جیسے ہی ریلوے حکام کو علم ہوا کہ کانا روز سکول آنے جانے کے لیے ٹرین کا استعمال کرتی ہے تو ریلوے حکام نے نا صرف روٹ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا بلکہ ٹرین کے آنے جانے کے اوقات کار بھی طالبہ کے اسکول کے اوقات کار کے مطابق کر دیے گئے ۔ اور پھر تین سال تک ٹرین اسی طالبہ کے لئے چلائی جاتی رہی ۔ جیسے ہی کانا نے اس اسکول سے اپنی تعلیم مکمل کی وہ ریلوے اسٹیشن بند کر دیا گیا۔
یہ ایک چھوٹی سی نظیر ہے ترقی یافتہ قوموں کے رویہ اور ترجیحات کی ۔
آئیے اب اس مثال کو مد نظر رکھتے ہوئے تقابلی جائزہ لیں ہیں ہم اپنی ترجیحات کا ۔ اور جاننے کی کوشش کریں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارا سفر تیز تر ہونے کے باوجود ترقی کی رفتار اتنی سست ہے۔

آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا
منزل کٹھن یہی ہے قوموں کی زندگی میں

قوموں کی زندگی میں زوال غلط فیصلوں سے نہیں بلکہ ڈٹ کر ان کے حق میں صفائیاں پیش کرنے سے آتا ہے ۔ یہ صورت حال اگر ٹیلی ویژن کی سکرین پر بیٹھے کسی سیاستدان کی ہو تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ، اگر کوئی نام نہاد تجزیہ نگار یا ٹی وی اینکر قوم کو چند ٹکوں کی خاطر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رہا ہو تو بھی باعث تعجب نہیں۔ لیکن اگر یہی رویہ ہو ملک کے سب سے با شعور ، باسلیقہ اور سب سے زیادہ پڑھے لکھے طبقے کا تو بات نہ صرف حیران کن ہے بلکہ خطرناک حد تک پریشان کن بھی ہے اور کسی بھی سمجھ بوجھ رکھنے والے انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ آخر بطور قوم ہم اتنے آرام پرست، کاہل اور اخلاقی پستی کا شکار کیوں ہو چکے ہیں ۔

نوجوان جن سے سے کسی بھی قوم کا حال و مستقبل وابستہ ہوتا ہے جن کے قوت بازو میں قوم کی تقدیر کا راز پنہاں ہوتا ہے اپنے فرائض سے دستبردار ہو جائیں اور اس دستبرداری کے دلائل پیش کرنے میں لگ جائیں تو انتظار کرنا چاہیے اس وقت کا جب کوئی چنگیز خان آن پہنچے اور کھوپڑیوں کے مینار سے وحشت کی انمٹ نقوش چھوڑ جائے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کرونا نے نظام زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے معیشت گھٹنوں کے بل بیٹھی ہے آمد و رفت کے ذرائع محدود سے محدود تر کر دیے گئے گئے۔ بازار بند کھیلوں کے میدان ویران تعلیمی ادارے سنسان اور تفریح گاہیں کسی دشت کا منظر پیش کرتی نظر آتی ہیں۔ ویسے تو پوری دنیا میں ہی صورتحال ابتر ہے لیکن اگر پاکستان میں نظام صحت اور تعلیم پر نظر دوڑائی جائے تو ہماری ترقی کی قلعی کھل کے سامنے آجاتی ہے۔ ہمارے پاس ماسک بنانے تک کی صنعت موجود نہیں، ہینڈ سینیٹائزر ، وینٹیلیٹر اور چھوٹی سے چھوٹی چھوٹی چیز بھی دوسرے ممالک سے منگوانے پر مجبور ہیں ۔ ہم شاید ایٹم بم بنا کر خود کو ترقی یافتہ سمجھ بیٹھے ہیں اور یہ بھول گئے ہیں کہ یہ دنیا ایٹم بم سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ دنیا کا نظام مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے ۔ دنیا کا جنگی جنون اب نیوکلئیر وار سے نکل کربائیومیڈیکل وار میں تبدیل ہو چکا ہے جس کا ہمیں ابھی بھی اندازہ تک نہیں ہے ۔ ہر شعبہ زندگی زوال کا شکار ہے۔ صحت کا حال تو دیکھ ہی چکے ہیں مواصلات کے نظام میں بھی ہم نے مطلوبہ ترقی نہیں کی اور دنیا سے کوسوں دور ہیں ۔ ہم 5G وار کا بری سے شکار ہونے جا رہے ہیں۔ ڈیفنس، صحت ، ٹیکنالوجی ، مواصلات اور دیگر تمام شعبوں میں تنزلی کی محض ایک ہی وجہ ہے اور وہ تعلیم ۔
اگر ہم نظام تعلیم کو بہتر بنا لیں تو یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ہمارے سارے شعبے بہتر سے بہترین ہو جائیں گے۔ ہم خود کفیل ہو جائیں گے اور قوموں کی صف میں باوقار طریقے سے کھڑے ہونے لگیں گے۔ کرونا کے پیش نظرجب سے ہمارے تعلیمی ادارے بند ہوئے تب سے ہائر ایجوکیشن کمیشن جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ مل کر فاصلاتی نظام تعلیم کو فعال بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ جیسے ہی حکومت کی طرف سے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلباء کو اگلے درجے میں ترقی دی گئی ہے تب سےجامعات میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کی طرف سے بغیر امتحانات کے پاس کئے جانے کا شور برپا ہے۔ آئے روز احتجاج ، وائس چانسلرز کونئے نئے القابات اور طرح طرح کے ہربے استعمال کئے جا رہے ہیں ۔سوشل میڈیا پر اٹھائی جانے والی آوازوں میں سب سے بلند آواز انٹرنیٹ کی عدم دستیابی ،انٹرنیٹ پیکجز کا مہنگے ہونا اور یونیورسٹی کے طلباء وطالبات کے ساتھ امتیازی سلوک ہے ۔
امدم بر سرِ مطلب!
بعض علاقوں میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی ایک ایسا مسئلہ ہے جسکا سد باب ہونا چاہئے ۔ میرے خیال میں اس وقت ترقی یافتہ ممالک کے پاس خطرناک ہتھیار انٹرنیٹ ہے جس کی مدد سے ہر جنگ جیتی جاسکتی ہے۔دن رات سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والی قوم کا حال اب یہ ہے کہ ہم اسی انٹرنیٹ کے مثبت استعمال سےایسے گریزاں ہیں جیسے شجر ممنوع قرار دے دیا گیا ہو۔
ہمارے طلباء کی عدم دلچسپی کے ساتھ ساتھ اس میں ہماری حکومت بھی برابر کی شریک ہے ۔ترقی کی اس نئے دور میں بھی ہمارے پاس انٹرنیٹ کی عدم دستیابی حکومت وقت کی بہت بری ناکامی ہے۔ بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سرے سے موجود ہی نہیں جیسے کہ فاٹا، گلگت اور بلوچستان کے بیشتر علاقے ہیں جہاں کے محنتی نوجوان علم کی پیاس بجھانے پنجاب کے تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہو جانے کے بعد بھی بنیادی حقوق کا نا ملنا ہماری تعلیمی میدان میں عدم دلچسپی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت یے۔ جن علاقوں میں انٹرنیٹ دستیاب ہے وہاں طلبہ و طالبات مہنگے انٹرنیٹ پیکجز کا رونا رونے میں مصروف ہیں۔انٹرنیٹ پیکجز کا رونا اسمارٹ فون کی عدم دستیابی اور امتحانات کے بغیر اگلی کلاسوں میں ترقی یہ سارے وہ عوامل ہیں جو اس بات کا یقین دلانا رہے ہیں کہ ہم کام چور قوم ہیں۔

یونیورسٹی میں ہوتے ہوئے ہر طالب علم سو سے ڈیڑھ سو روپے روزانہ خرچ کرتا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ وہ یونیورسٹی میں رہائش اور فیس کے اخراجات کی مد میں ادا کر رہا یا روزانہ کے سفر کی صورت میں کرتا ہے۔ غرض یہ کہ غریب سے غریب طالب علم بھی کم سے کم ماہانہ تین سے چار ہزار روپے خرچ کرتا ہے۔
مقام حیرت ہے کہ اب آرام و سکون سے گھر بیٹھ کر بیس تیس روپے اپنی تعلیم پر خرچ کرنا ہم پر کس قدر گراں گزر رہا ہے۔ اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اصل میں ہماری ترجیحات کیا ہیں ۔ لیکن اصولی طور پر حکومت کو بھی چاہیے کہ تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کریں۔

اس سلسلے میں ہمیں نائیجیریا جیسے ملک سے ہی سیکھ لینا چاہئے جس نے تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے اساتذہ اور طلباء و طالبات کو ہر ممکن سہولت فراہم کی ۔حتی٘ کے طلباء کے لیے زیرو ڈیٹا چارجز پیکجز متعارف کروائے ۔کیوں نہ ہم بھی سب سے پہلے اس مسئلے کا سد باب کریں موبائل کمپنیوں اور پی ٹی سی ایل کو اپنی سروس معیاری بنانے کے احکامات جاری کریں اور ان علاقوں میں بھی انٹرنیٹ کی دستیابی کو یقینی بنائیں جہاں کے طلباء پہلے ہی محرومیوں کا شکار ہیں۔ اور ساتھ طلباء کے لیے ریلیف پیکجز بھی متعارف کروائیں تاکہ ہمارے محنتی طلبہ کے لیے تعلیم سے بھاگنے کے تمام حربوں کا قلع قمع ہو سکے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرتے ہوئے تعلیم کو سب سے مقدم رکھے اور ہمارے نوجوان اپنے رویے میں مثبت تبدیلی لاکر اپنے فرائض منصبی کو پہچانیں اور حصول تعلیم سے اپنے حصے کی شمع جلانے کر وطن کی دن دگنی رات چوگنی ترقی میں ہراول دستے کا کردار ادا کریں۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے