Home / کالم / مولانا منظور احمد چنیوٹی رح

مولانا منظور احمد چنیوٹی رح

یہ ہیں مولانا منظور احمد چنیوٹی رح…….!!!!
ترتیب ؤ انتخاب
امداد اللہ طیب
📕📕📕📕📕📕
امجد عثمانی/نیوز روم

پیر مہر علی شاہ رح نے سچ فرمایا کہ ختم نبوت کے لئے کام والے خوش نصیب کی پشت پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک ہوتا ہے……

جنت مکیں مرشد شیخ عبد الحفیظ مکی رح پھر یاد آئے….غالبا یہ 2014 کی ایوان اقبال ختم نبوت کانفرنس سے ایک روز پہلے کی شام تھی…..سبزہ زار لاہور کی خانقاہ میں حضرت شیخ کے قدموں میں بیٹھے ان کی نصائح سے مستفیض ہورہے تھے ….معتدل اور معتبر جناب ڈاکٹر احمد علی سراج…. عزیز دوست حافظ ظہیر اعوان اور جناب مفتی شاہد بھی شریک محفل تھے…..

چائے کادور ختم ہوا … اجازت چاہی تو حضرت کہنے لگے …..بیٹھیں….سمندر پار سے آپ کے ہم نام مہمان اور ختم نبوت کے محقق آرہے ہیں….ان سے ملتے جائیے…..تھوڑی دیر بعد ایک دراز قد…سرخ و سپید اور وضع قطع سے عربی صاحب اندر داخل ہوئے….مکی صاحب اپنے بیڈ سے اٹھ کر ان سے بڑے تپاک سے ملے….اور بولے یہ ہیں امجد سقلاوی صاحب جن کا ابھی ذکر ہورتھا …اردن سے ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لائے ہیں….اھلا و سہلا…..پھر ہم سب کا فردا فردا تعارف کرایا……ہم نام اور پھر صحافی کا سن کر ما شا اللہ ما شا اللہ کہتے ہوئے خلوص بھرا معانقہ کیا…ہلکی پھلکی گفتگو ہوئی….ڈاکٹر صاحب ہمارے مترجم تھے….مہمان ذی وقار نے جلدی جلدی چائے پی اور کہا مجھے فوری چنیوٹ پہنچنا ہے…..باقی باتیں کل ہونگی….مکی صاحب نے بتایا کہ وہ مولانا منظور احمد چنیوٹی رح کی قبر پر حاضری دینا چاہتے ہیں…..ہم حضرت سے اجازت لیکر واپس جبکہ امجد سقلاوی ڈاکٹر صاحب کی معیت میں اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے……لیکن ہمارا تجسس بڑھا کہ ایک بندہ اردن سے آتا ہے…اور سامان میزبان کے پاس رکھتے ہی رات کے سفر کی پروا کئے بغیر سیدھا مولانا چنیوٹی کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے روانہ ہو جاتا ہے…کہانی کیا ہے؟؟؟؟…اگلے روز حضرت مکی صاحب کی زیر صدارت ختم نبوت کانفرنس کے مہمان خصوصی بھی جناب امجد سقلاوی تھے….اس کانفرنس میں ایک بڑے مربی نذیر احمد نے قادیانیت سے اظہار برات کیا…. امجد سقلاوی نے انہیں کلمہ پڑھایا…….ایک سال پہلے اسی ایوان اقبال میں مکی صاحب کی موجودگی میں قادیانی سربراہ مرزا مسرور کے رضاعی بھتیجے حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے….کیا ایمان افروز ماحول تھا…ایوان اقبال اللہ اکبر اور ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا….ان دنوں میں خبریں میں تھا….نیوز ڈیسک کا بندہ ہونے کے باوجود میں نے اس واقعہ کو اس اینگل سے رپورٹ کرلیا کہ مرزا مسرور کے بھتیجے کا قبول اسلام بہر کیف بڑی خبر تھی……ایگزیکٹو ایڈیٹر جناب عظیم نذیر نے چیف ایڈیٹر جناب ضیا شاہد اور ایڈیٹر امتنان شاہد کو دکھائی تو انہوں نے فار آل سٹیشن اپروول دیدی…یوں یہ خبر کراچی تا خیبر صرف خبریں کے چھ ایڈیشنز میں شائع ہوئی ……….یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ان نو مسلموں کو حضور ختم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی چوکھٹ پر لانے کا کریڈٹ جناب قاری رفیق کو جاتا ہے….کمال درویش آدمی ہیں ہر سال کسی نہ کسی راہ بھٹکے بندے کی انگلی پکڑے سیدھے راستے پر ڈال کر پھر آگے چل پڑتے ہیں…..

خیر اگلے دن ہم نے پھر خانقاہ جا کر جناب امجد سقلاوی کو پکڑ لیا…. کافی فرینک گپ شپ ہوئی….ہم نے سر دست دل کی بات سامنے رکھ دی کہ مولانا چنیوٹی سے شناسائی کیسے ہوئی…اور..اتنی عقیدت کیوں؟؟؟…..اردن کے دلکش مہمان نے بھی دل کھول کے سامنے رکھ دیا….کہنے لگے پیشے کے اعتبار سے فیشن ڈیزائنر ہوں…..بد قسمتی کہہ لیجئے کہ ایک فلسطینی دوست کے ہتھے چڑھا اور” قادیانی جال” میں پھنس گیا.. ….چلتے چلتے اسرائیل کے شہر حیفا میں” ارتدادی مرکز” پہنچ گیا…..”روبوٹ نما مربی “برین واشنگ کے لئےسرگرم ہوگئے…..کئی ماہ “قصے کہانیاں” سن سن کے عاجز اگیا…..میں سوال کرنے والا آدمی ہوں …..امام مہدی کے بارے میں بنیادی سوال اٹھائے تو آئیں بائیں شروع ہو گئی….میں بھانپ گیا کہ “دلدل” میں پھنس گیا ہوں…..وہاں سے واپس بھاگ نکلنے میں تو کامیاب ہو گیا لیکن سوال اپنی جگہ تھے…عجیب شش و پنج میں تھا کہ روشنی کی ایک کرن دکھائی دی…..پاکستانی عالم دین مولانا منظور احمد چنیوٹی کی کتاب کا عربی ترجمہ ملا….اوراق الٹتا گیا اور سوالوں کے جواب ملتے گئے…..واللہ !مولانا چنیوٹی نے میرا ایمان بچالیا….وہ میرے محسن ہیں….ان کا حق تھا کہ ان کے دیس آنے کے بعد سب سے پہلے ان کی قبر پر حاضری دیتا تو اس لئے کل شب میں لاہور پہنچتے ہی چنیوٹ چلاگیا….اللہ ان کی قبر کو منور کرے …وہ صرف میرے ہی نہیں امت کے محسن ہیں…..میں نے یہ سفر ہی ان کو خراج عقیدت پیش کرنے لئے کیا ….واللہ میں سرخرو ہو گیا…..!!
واقعی مولانا چنیوٹی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے….انسپائریشن دیکھیئے کہ آج امجد سقلاوی اپنے ملک میں تن تنہا ختم نبوت کے لئے دن رات ایک ہوئے ہیں….یوں کہہ لیجئیے کہ وہ اردن کے مولانا منظور چنیوٹی بن چکے ہیں…..
میں نے پچھلے سال سرگودھا کی گول مسجد میں ختم نبوت کانفرنس کے علمائے کرام اور پرجوش شرکا سے یہ واقعہ شئیر کر کے استفسار کیا کہ کیا وجہ ہے ہم اپنے اتنے بڑے بڑے اکابر کو ایسے بھول جاتے ہیں کہ جیسے کوئی تھا ہی نہیں…..لیکن اردن کا قدردان دیکھئے کہ اپنے محسن پر کیسے عقیدت کے پھول نچھاور کر نے ان کی قبر پر پہنچا……نا جانے ہم کیوں اپنی روح پرور محافل ….مجالس اور تقاریب میں ایک “ناقابل ذکر بندے “کا ذکر کرنے کے بجائے ختم نبوت کے پہرے دار اپنے ان خوش قسمت بزرگوں کا تذکرہ نہیں کرتے؟؟؟؟ قدر سے یاد آیا کہ مجھے برسوں کویت میں مقیم رہنے والے دوست نے بتایا ڈاکٹر احمد سراج نے ربوہ نام تبدیلی کی خوشی میں مسجد الغانم میں مولانا چنیوٹی کو سونے سے مزین صدیق اکبر رض ایوارڈ سے نوازا. تھا …واقعی یہ لوگ سونے میں تولے جانے کے قابل ہیں….یہ نہیں بلکہ ڈاکٹر سراج نے بہت پہلے جب چناب نگر ربوہ تھا اور مسلم کالونی نئی نئی بنی تھی تو مولانا چنیوٹی کی خواہش کے احترام میں وہاں ختم نبوت ہال بھی تعمیر کرا کے دیا…..قدر سے یاد آیا کہ ڈاکٹر سعید صاحب اپنی گفتگو میں اکثر سر تسلیم خم کرتے ہیں کہ میں تو مولانا مکی رح کے جوتے کے برابر نہیں….سوچتا ہوں کیا ہمارے یہ دونوں بزرگ امارت اور سیکرٹری جنرل شپ کے لئے بہترین انتخاب نہیں کہ با ادب با مراد …..آئیے اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں کہ ہم ادب کے کس مقام پر کھڑے ہیں….؟؟؟؟
خیر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مولانا چنیوٹی ختم نبوت کے لئے اسی طرح زندگی وقف کئے ہوئے تھے…..؟؟؟؟ ……میں بطور صحافی اس کی گواہی دیتا ہوں کہ سو فیصد ایسا ہی ہے….وہ گود سے گور تک اس عظیم کاز کے لئے اللہ کے منتخب بندوں میں سے ایک تھے…..میری مولانا چنیوٹی سے پہلی ملاقات 1998میں شکرگڑھ کی جامعہ رشیدیہ کے پروگرام میں ہوئی….میں اس جلسہ کا سٹیج سیکرٹری تھا…..وہ اس وقت رکن پنجاب اسمبلی تھے….پروگرام کے منتظم جناب قاری سعید الرحمان مبشر کہنے لگے کہ چنیوٹی صاحب نے فرمایا ہے کہ اپنے شہر کے ایم پی اے مولانا غیاث الدین کو دعوت دیں اور انہیں کہنا کہ ہر صورت آنا ہے لیکن وہ تو بریلوی ہیں …..لگتا نہیں وہ آئینگے …. نوے کی دہائی میں مسلکی نفرت کی نحوست سے شکرگڑھ کا ماحول واقعی گھٹن زدہ تھا …..پھر بھی ہم نے مولانا غیاث الدین کو دعوت دیدی…..اور “نتیجے “کا انتظار کرنے لگے…..پروگرام کی شب مولانا غیاث الدین نے نا صرف سب سے پہلے پہنچ کر سب کو حیران کر دیا بلکہ اپنے مسلک کے کچھ لوگوں کی مخالفت کے باوجود اس زمانے میں بھی اتحاد بین المسلمین کا پیغام دیا….مولانا چنیوٹی پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا اور اپنے سپاس نامے میں کہا کہ میں اپنے سیاسی رفیق کو اپنے شہر آمد پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں….مولانا چنیوٹی اور مولانا غیاث الدین سے یہ میرا پہلا تعارف تھا …..ختم نبوت محاذ پر دونوں کو ایک پیج پر دیکھ کر دونوں سے عقیدت ہو گئی جو دن بدن بڑھتی گئی کہ ختم نبوت کا جو چوکیدار …ہمارا وہ امام یے……حسن اتفاق دیکھئے کہ 85میں دونوں پہلی بار رکن پنجاب اسمبلی بنے.. 98 میں اسی ایوان میں ربوہ نام کی تبدیلی کے لئے دونوں یک جان دو قالب ہو کر لڑے اور فتح یاب ہوئے…مزید اتفاق دیکھئے کہ مولانا چنیوٹی کی وفات کے بعد مولانا غیاث الدین ان کے فرزند ارجمند مولانا الیاس چنیوٹی کے ساتھ 2013کے بعد 2018کی پنجاب اسمبلی میں بھی موجود ہیں اور دونوں اس پارلیمانی محاذ پر ختم نبوت کے پہریدار ہیں…..امید ہے کہ شکرگڑھ سے ہمارے پیارے” سائنس دان” صحافی دوست انجنئیر منظور کو” ہر جگہ مولانا غیاث الدین کے تذکرے” کی” سائنس” اب با آسانی سمجھ آ جائے گی…..

مولانا چنیوٹی سے میری دوسری ملاقات تحصیل پسرور کے گائوں بھلور میں ہوئی… “چڑھتے سورج کی دھرتی”پر میرے پہلے دوست “قبلہ” حافظ ابرار صدیقی بھی تھے… ہم نے ان سے شکرگڑھ کے” گرین ویلج” بصرہ جالا میں ختم نبوت سیمینا ر کے لئے وقت لے لیا…..شومئی قسمت کہ وہ اپنے سیکرٹری کی کنفیوژن کے باعث نہ پہنچے …..سیمینار کا وقت صبح پہلے پہر کا تھا….سیکرٹری صاحب نے عشا کےبعد کا لکھا ہوا تھا….انتظار کر تے کرتے پروگرام کا وقت ختم ہوگیا….عصر کے وقت رابطہ ہوا تو مولانا چنیوٹی کہنے لگے آج چناب نگر کے نام کیلئے وزیر مال سے ملاقات تھی…میں تو ایزی تھا کہ عشا کے بعد کا پروگرام ہے…کہتے ہیں تو ابھی نکل آتا ہوں….ہم نے کہا اب کیا کرنا ہے….لوگ گھروں کو لوٹ گئے…پھر ہمارے جذبات تھے اور ان کی بردباری….. کوئی خاص شناسائی نہ قریبی تعلق…..پھر بھی ہم نے “چڑھائی” کردی….خطوط کا زمانہ تھا……اسی شام ایک انتہائی جذباتی لیٹر لکھ مارا…..آداب کے ساتھ بھرپور احتجاج ریکارڈ کرادیا……..پتہ نہیں کس شاعر نے اپنے محبوب کے لئے شعر گھڑا تھا…ہم نے وہ مولانا کی نذر کردیا
تمہارے آنے پر……. اتنا اہتمام ہوا
نا جانے کتنے جذبوں کا قتل عام ہوا
چند دن گذرے کہ مولانا چنیوٹی کے لیٹر پیڈ پر جوابی خط موصول ہوا….اس کا خلاصہ یوں ہے : عزیزی القدر….!آپ کا محبت و عقیدت نامہ ملا جو دراصل گلہ اور شکوہ نامہ ہے……میں نے آپ کا مکتوب اپنے ان احباب کو پڑھایا ہے جو مجھے ہر صورت وعدہ ایفائی کے طعنے دیتے ہیں کہ جلسہ والوں کے جذبات کا کس طرح” قتل عام “ہوتا ہے….ہمارے ہاں پروگرام بعد نماز عشا ہی لکھا ہے….یہ غلطی لکھنے والے ہمارے ڈرائیور کی ہے یا لکھا نے والے کی..اس کا مجھے علم نہیں…لہذا با امر مجبوری حاضری نہ ہو سکی….اس وضاحت کیساتھ انتہائی ندامت کے معذرت خواہ ہوں….چاہیں تو عید کے بعد قرضہ چکادونگا اور نارووال کے لئےختم نبوت کے سلسلہ میں ہر خدمت کے لئے تیار ہوں..
مولانا چنیوٹی سو فیصد ختم نبوت کے لئے وقف تھے…کیا یہ خط میری گواہی پر مہر تصدیق ثبت کرنے کے لئے کافی نہیں؟؟مولانا چنیوٹی کی کاز سے کٹمنٹ کی ایک اور شہادت بھی پڑھ لیجئے….انٹرنیشنل ختم نبوت کے نائب امیر جناب افتخار اللہ شاکر بتاتے ہیں کہ ظفرووال سے ملحقہ ان کے گائوں کے ختم نبوت کورس میں مولانا چنیوٹی مسلسل 22سال تشریف لائے …مولانا شاکر نے ہر سال ختم نبوت کی محفل سجا کر واقعی اپنی جنم بھومی اونچہ کلاں کا سر بہت اونچا کر دیا ہے..

مولانا چنیوٹی فقیر ختم نبوت تھے….اس درویش نے قریہ قریہ ….شہر شہر …..ملک ملک…شرق سے غرب…شمال سے جنوب ختم نبوت کی صدا لگائی کہ لوگو! حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں ہیں….آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا…کہتے ہیں مولانا چنیوٹی فجی کے جزیرے پہنچے… چھڑی پانی میں رکھی اور نگاہیں آسمان کی طرف کر کے کہا اے اللہ گواہ رہنا کہ اس سے آگے بھی دنیا ہوتی تو میں وہاں تک بھی منکرین ختم نبوت کا تعاقب کرتا…..
…..بلاشبہ مولانا چنیوٹی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شاباش حاصل تھی کہ وہ اکیلے ہی صدیوں کا کام کر گئے…..

اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

مدینے والے آقا کا یہ اعجاز ہے کہ ختم نبوت کا گلستان صدیوں سے مہک رہا ہے اور قیامت تک زمانوں کو معطر کرتارہے گا…..امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاریؒ کے انتقال کے بعد سرظفراللہ نے تقریر کرتے ہوئے کہاتھا :کہاں ہے عطاءاللہ شاہ بخاری ؟؟؟؟شورش کاشمیریؒ نے “ہفت روزہ چٹان” کے صفحہ اول پر شاہ جیؒ کے صاحبزادے مولانا سید ابو ذر بخاریؒ کی تصویر شائع کی اور جواب دیتے ہو ئے نیچے لکھا:ظفراللہ خان پوچھتا ہے:عطاءاللہ شاہ کہاں ہے….؟یہ ہیں سید عطاءاللہ شاہ بخاری…!!!

ہو سکتا ہے آج بھی “ممنوع گروہ”اپنی جبلت سے مجبورحقارت انگیز لہجے میں یہی سوال کرتا ہو کہاں ہے مولوی منظور چنیوٹی……؟؟؟میں شورش ہوں نہ میرے پاس کوئی چٹان ایسا اخبار…. عام سا صحافی ہوں اور میرے پاس ٹوٹے پھوٹے الفاظ پر مشتمل یہ مختصر سا کالم ہی ہے ….منبر سے ایوان تک جناب الیاس چنیوٹی کی للکار دیکھ کر فخر سے لکھ سکتا ہوں کہ دیکھ لیں “یہ ہیں مولانا منظور احمد چنیوٹی”….!!!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے