Home / اسلام / اِبتداۓ حیات و اِنتہاۓ حیات !!

اِبتداۓ حیات و اِنتہاۓ حیات !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
(((( الماٸدة ، اٰیت 109 )))) 🌹
اِبتداۓ حیات و اِنتہاۓ حیات !! 🌹
ازقلم📕خترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیت و مفہومِ اٰیت ! 🌹
🌹 یوم
یجمع اللہ
الرسل فیقول
ماذا اجبتم قالوا
لا علملنا انک انت
علام الغیوب 109
اللہ اپنے رسولوں کو جمع کرتا رہتا ھے اور پُوچھتا رہتا ھے کہ میری وحدانیت کے بارے میں تُمہاری اُمتوں نے تُم کو کیا جواب دیا ھے اور وہ اللہ کے اِس سوال کا جواب دیتے ھوۓ کہتے رہتے ہیں کہ ھم تو اِس ایک بات کے سوا اور کُچھ بھی نہیں جانتے کہ تیرے عالَم کے دیدہ و نادیدہ اسرار و رمُوز کے بارے میں تیرا علمِ ذات ہر ایک مخلُوق کے علم پر غالب ھے !
🌹 حیاتِ عالَم کے دیدہ و نادیدہ زمان و مکان ! 🌹
اُسلوبِ کلام کے اعتبار سے اٰیتِ بالا کے دو حصے ہیں اور اِن دو حصوں میں سے پہلا حصہ اللہ کے اُس سوال پر مُشتمل ھے جو اللہ اپنے رسولوں سے کرتا ھے اور دُوسرا حصہ اُس جواب پر مُشتمل ھے جو جواب اللہ کے یہ رسول اللہ کو دیتے ہیں لیکن اِس سوال و جواب کا قابلِ غور پہلُو یہ ھے کہ اِس میں کیۓ جانے والے سوال کا زمان و مکان دیۓ جانے والے جواب کے زمان و مکان سے یَکسر مُختلف ھے اور دیۓ جانے والے جواب کا زمان و مکان بھی کیۓ جانے والے سوال کے زمان و مکان سے یَکسر مُختف ھے اِس لیۓ روایتی مُفسرین نے اِس سوال و جواب کو مُستقبل کے اُس یومِ مَحشر سے جوڑ دیا ھے جس یومِ محشر نے مُستقبل میں کبھی آنا ھے اور ھم نے اِس کا جو مفہوم بیان کیا ھے اُس مفہوم میں ھم نے حالِ مُسلسل کی رعایت سے اٰیت کے دُوسرے حصے میں جواب دیۓ جانے والے جواب کو بھی اُس حال مُسلسل سے مُنسلک کر دیا ھے جس حالِ مُسلسل میں اللہ نے آغازِ تکلَم کیا ھے اور جس حالِ مُسلسل میں اللہ نے اپنے رسولوں سے اپنے سوال کا جواب حاصل کیا ھے ، ھم نے تفہیم کا یہ راستہ اِس لیۓ اختیار کیا ھے کہ ھمارے نزدیک قُرآنِ کریم کی مُتعد اٰیات کے مطابق اللہ کی کاٸنات میں اللہ کے نظامِ قضا و قدر کے مطابق انسان کی حیات و موت اور جزا و سزا کاسلسلہ بھی ہمیشہ سے جاری اور مَحشر و معاد کا سلسلہ بھی ہمیشہ سے جاری ھے جس کے تحت زمان و مکان میں الساعات بھی آتی رہتی ہیں اور انبیا و رُسل سے سوال و جواب بھی ھوتے رہتے ہیں لیکن اٰیت کا ظاہری رُخ بہر حال وہی ھے جو اللہ کے سوال کو زمان و مکان کے زمانہِ حال میں ظاہر کرتا ھے اور اُس کے رسولوں کے جواب کو زمان و مکان کے زمانہِ ماضی میں ظاہر کر رھا ھے اِس لیۓ جب قُرآن کا ایک عام قاری قُرآن کے اِس خاص مضمون پر نگاہ ڈالتا ھے تو وہ نہ چاہتے ھوۓ بھی یہ سوچنے پر مجبور ھو جاتا ھے کہ آخر یہ نامُمکن اَمر کس طرح مُمکن ھو گیا ھے کہ اللہ نے اپنے رسولوں سے جو سوال حال میں کیا ھے اُس کے رسولوں نے اُس کا جواب حال سے ماضی میں جا کر دیا ھے !
🌹 اِنسان اور اِنسان کے بدلتے ھوۓ زمان و مکان ! 🌹
ماضی و حال اور مُستقبل کے حوالے سے انسان کے دماغ میں یہ سوال اور یہ خیال اِس لیۓ آتا ھے کہ انسان ماضی کے بدلتے ھوۓ زمان و مکان سے حال کے بدلتے ھوۓ زمان و مکان میں آرہا ھے اور حال کے بدلتے ھوۓ زمان و مکان سے مُستقبل کے بدلتے ھوۓ زمان و مکان میں جا رہا ھے ، اِس کی حیاتِ رفتہ کے جو زمان و مکان ھمارے فکر و خیال سے اَوجھل ہیں وہ تو خیر اِوجھل ہیں لیکن اِس کے جو زمان و مکان ھمارے فکر و خیال میں ایک حقیقتِ ثابتہ کے طور پر موجود ہیں اُن کے مطابق انسان کا ایک زمان و مکان وہ ھوتا ھے جب وہ ایک نادیدہ ذرے کی صورت اختیار کر کے باپ کے خُونِ رَگِ جاں میں آتا ھے اور کٸ برس تک اُس کےخُونِ جان میں ایک نادیدہ جان بن کر رہتا ھے ، اِس کا دُوسرا زمان و مکان وہ ھوتا ھے جب وہ ایک جنین کی طرح رحمِ مادر میں رہ کر پروان چڑھتا ھے اور اِس کا ایک تیسرا زمان و مکان وہ ھوتا ھے جب وہ ماں کی مُشفق آغوش میں آتا اور پرورش پاتا ھے اور جوان ھونے کے بعد اپنے ہر زمان و مکان کو یَکسر بُھول جاتا ھے ، اِس چھوٹی مثال کے بعد اِس بڑی مثال پر غور و فکر کر لینے میں بھی کوٸ حرج نہیں ھے کہ قُرآنِ کریم میں اللہ تعالٰی نے سیدنا محمد علیہ السلام کو 332 بار حُکمِ قُل دیا ھے اور تین بار اِقرأ کا حُکم دیا ھے اور زبان و بیان کے قاعدے کے مطابق اللہ جب اپنے نبی سے لفظِ قُل کہتا ھے تو اُس کا مطلب اُس لفظ کا تلفظ کرنے کا حُکم دینا ھوتا ھے جو لَفظ اللہ تعالٰی اُس کو اپنے اِس حُکمِ قُل کے بعد بتاتا ھے اور جب اللہ تعالٰی اپنے نبی کو اپنا کوٸ تحریری کلام دکھاکر اِقرأ کہتا ھے تو اِس کا مطلب اُس دکھاۓ گۓ نوشتے کی عبارت کو پڑھنے کا حُکم دینا ھوتا ھے جس کی معروف مثال سیدنا محمد علیہ السلام پر نازل ھونے والی وہ پہلی وحی ھے جس میں اللہ نے آپ کے سامنے اَزل کا ایک نوشتہِ تحریر اِقرأ پیش کیا تھا اور اِس کو پڑھنے کا حُکم دیا تھا ، ہر چند کہ یہ نوشتہ آپ نے اپنے گزشت زمان و مکان میں دیکھا بَھالا اور پڑھا ھوا تھا اور اسی لیۓ آپ کو اِس موقعے پر اِس کے پڑھنے کا حُکم دیا گیا تھا لیکن چونکہ آپ کے موجودہ زمان و مکان میں آپ کے صحیفہِ شعُور پر موجودہ زمان و مکان کے نۓ نقوش نقش ھو چکے تھے اِس لیۓ ابتدا میں آپ کو اِس کے پڑھنے میں ایک لَمحاتی سا تردد بھی ھوا لیکن پھر جیسے ہی آپ کی نگاہ میں گزرے ھوۓ زمان و مکان کا گزرا ھوا تعلیمی منظر و نظارا اُبھرا تو آپ نے اُس نوشتے کو فورا پڑھ بھی لیا اور یاد بھی کرلیا ، انسان جب زمان و مکان کے اِس سفرِ ارتقا ٕ میں کے دوران ماضی سے حال میں آتا ھے تو عھدِ گزشتہ کے تمام اَحوال بُھول جاتا ھے جیسا کہ اٰیتِ بالا کے دُوسرے حصے میں انسان کی بُھول کا ذکر ھوا ھے لیکن اللہ تعالٰی جو زمان و مکان کا خالق ھے وہ زمان و مکان کی اِس قید سے بہر حال آزاد ھے اِس لیۓ اُس پر ماضی و حال اور مُستقبل کا ہر لَمحہ و لَحظہ وہی لَمحہِ حال ھے جس کا اللہ تعالٰی نے اٰیتِ بالا کے پہلے حصے میں ذکر کیا ھے !
🌹 اٰیتِ ھٰذا اور اٰیتِ ھٰذا کا موضوعِ سُخن ! 🌹
اٰیت ھٰذا کا موضوعِ سُخن انسان کا وہ آغاز و اَنجام ھے جس کے تحت انسان زمین پر کارِ عمل کی اَنجام دَہی کے لیۓ آتا ھے اور ایک مقررہ وقت کے بعد جواب دَہی کے لیۓ زمین سے واپس چلا جاتا ھے ،انسان کے زمین پر آنے جانے کے اسی سفر کے پہلے مقام کا نام دُنیا اور دُوسرے مقام کا نام عُقبٰی ھے اور اِس سُورت کی آنے والی گیارہ اٰیات انسان کے آغاز و اَنجام کے اسی موضوع کے اسی مضمون کو بیان کرنے والی وہ اٰیات ہیں جن کا سرنامہ اٰیتِ بالا ھے ، قُرآن کے جس قاری کو اِس اٰیت کا یہ متن اور یہ مفہوم یاد رھے گا اُس کے لیۓ آنے والی اٰیات میں آنے والے انسان کے آغاز و اَنجام کے اِس مضمون کو سمجھنا بہت آسان ھو جاۓ گا !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے