Home / کالم / خاص ھے ترکیب میں قوم رسول ھاشمی

خاص ھے ترکیب میں قوم رسول ھاشمی

امت مسلمہ کا عروج و زوال اور سائنس کا کردار

(صاحب تحریر:
نامعلوم)
________________________

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ھے ترکیب میں قوم رسول ھاشمی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اَللّٰهُمَّ انْفَعْنِیْ بِمَا عَلَّمْتَنِیْ وَ عَلِّمْنِیْ مَا یَنْفَعُنِیْ وَ زِدْنِیْ عِلْمًا*
(سنن ابن ماجہ:3833)

اَللّٰهُمَّ اَلْھِمْنِیْ رُشْدِیْ وَاَعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ*
(سنن الترمذی:3483)

اللّٰھُمَّ اَرِنَاالْحَقَّ حَقًّاوَّارْزُقْنَااتِّبَاعَهُ وَاَرِنَاالْبَاطِلَ بَاطِلًاوَّارْزُقْنَااجْتِنَابَهُ*
(تفسیر ابن کثیر:ص452)

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْْرًا وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا وَّفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَّعَنْ یَّمِیْنِیْ نُوْرًا وَّعَنْ یَّسَارِیْ نُوْرًا وَّفَوْقِیْ نُوْرًا وَّتَحْتِیْ نُوْرًا وَّاَمَامِیْ نُوْرًا وَّخَلْفِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا وَّفِیْ لِسَانِیْ نُوْرًا وَّعَصَبِیْ نُوْرًا وَّلَحْمِیْ نُوْرًا وَّدَمِیْ نُوْرًا وَّشَعْرِیْ نُوْرًا وَّبَشَرِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ فِیْ نَفْسِیْ نُوْرًا وَّاَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا، اللّٰهُمَّ اَعْطِنِیْ نُوْرًا*
(مشکاة المصابیح:1195)

آج کی اس تحریر کا مقصد عصر حاضر کے چند بڑے مغالطوں یا ابہامات کا جائزہ لینا ھے جن کا ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی سے براہ راست تعلق ھے. انہی سے امت کا مستقبل وابسطہ ھے اور انہی کی بنیاد پر زوال امت کے اسباب کا تعین بھی ھوتا ھے.
سب سے پہلے ان مغالطوں کو نکات کے انداز میں بیان کروں گا. پھر ان کا خلاصہ اور جائزہ پیش کرنے کی کوشش کروں گا.

1) مسلمانوں کے زوال کا سبب اصلی سائنس میں پیچھے رہ جانا ھے
2) آج بھی مسلمان سائنس کے ذریعے دوبارہ عروج حاصل کر سکتے ھیں
3) مسلمانوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ موجودہ سائنس کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق چلائیں
4) جب مسلمان عروج پر تھے تو اس وقت سائنسی ترقی بھی مسلمانوں نے ہی کی. مغربی اقوام, مسلمان خطوں میں آ کر سائنسی علوم سیکھتی تھیں. مطلب یہ کہ سائنس کے اصل وارث مسلمان تھے.
5) مغرب نے سائنس کے ذریعے انسانی عمروں میں اضافہ کیا ھے. جسکا ثبوت یہ ھے کہ ہمارے ہاں اوسط عمر بمشکل 60 سال ھے جبکہ مغرب میں 110 سال تک ہو چکے ھیں.
6) آج مسلمان اتنے پسماندہ ھیں کہ یہ اپنی قمیض کا بٹن بھی خود نہیں بنا سکتے. مسلمان معاشرہ صرف اور صرف کنزیومر معاشرہ ھے.
7) سائنس کا تعلق صرف مادے کے ساتھ ھے. اس لئے اسلامی عقائد سے سائنس کو کوئی لینا دینا نہیں.
8) معترض اس بات کی تائید کرتا ھے کہ سوشل سائنس اسلام کی مخالف ھے. البتہ فزیکل یا میٹیریل سائنس عین مطلوب ھے

ان تمام نکات کا خلاصہ یہ ہے کہ سائنس فی نفسہ بری چیز نہیں ھے. آج یہ کافروں کے ہاتھوں میں ھے جسکی وجہ سے یہ دنیا کیلئے تباہ کن ثابت ھو رھی ھے. اگر مسلمان اس میدان میں آگے بڑھیں اور اس کا کنٹرول حاصل کریں تو یہ خیر ہی خیر ثابت ہو گی. اس طرح مسلمان سائنس کے ذریعے دنیا میں اپنا کھویا ھوا مقام دوبارہ بحال کر سکتے ہیں. اگر مسلمان سائنس کے میدان میں اپنی پوزیشن مضبوط رکھتے تو یقینا ہم کبھی مغلوب نہ ہوتے اور ہمیں یہ ذلت و رسوائی کے دن دیکھنے ہی نہ پڑتے.
__________________________

اس موقف کو سمجھنے اور پرکھنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے دین اسلام کے چند بنیادی تصورات اور اسکے ابتدائی تاریخ پر نظر دوڑانا ہو گی. تو آئیے شروع یہیں سے کرتے ہیں.

اسلام کی رو سے حیات انسانی جسم اور روح سے مرکب ھے. جسم فانی ھے. مٹی سے بنا ھے. مٹی میں ہی واپس جانا ھے. مٹی سے ہی اسکی نشو و نما ہوتی ھے. یہ بیمار ہوتا ھے تو علاج بھی مٹی یا مٹی میں مدفون اشیاء سے ہوتا ھے.
روح لافانی ھے. عالم ارواح/بالا میں پہلے سے موجود ھے. اسکی حقیقت “امر ربی” ھے. اس سے زیادہ ہم آگاہ نہیں ھے. ماں کے پیٹ میں خدا کے حکم سے روح اور جسم کا اتصال ہوتا ھے. پھر ایک وقت مقررہ تک یہ روح اس جسم کو اپنا مسکن بنائے رکھتی ھے. جسم کی ساری اھمیت, صلاحیتیں یا قدر و قیمت اسی روح کے سبب ھے. روح کے اخراج کے ساتھ ہی جسم اپنی ساری اہمیت کھو دیتا ھے اور واپس مٹی میں چلا جاتا ہے.
روح عالم دنیا سے عالم آخرت کی طرف منتقل ہو جاتی ھے. عالم دنیا میں جس طرح جسم کی نشوونما اور علاج کا پورا بندوبست وہیں سے ہوا ھے جس سے اسکی تخلیق ہوئی ھے اور جہاں اسے جانا ھے. مراد مٹی سے.
بالکل اسی طرح روح کی نشوونما اور علاج کا بندوبست بھی وھیں سے ہوا ھے جہاں سے یہ آئی ھے اور جہاں اس نے جانا ھے. مراد عالم بالا سے.
اس پوری تفصیل سے روح کی جسم پر بالادستی وا ضح ہوتی ھے.
سائنس اتنی عظیم حقیقت سے نا آشنا ھے. اور جو چیز اسکے دائرہ علم میں نہ آئے اسکا انکار سائنس کا بنیادی منہج ھے

موت انسانی زندگی کی سب سے بڑی سچائی ھے. روح اور جسم کی علیحدگی اس کی اصل حقیقت ھے. جو سائنس روح کو نہیں مانتی وہ موت کی اس حقیقت کو کیسے قبول کرے گی؟
موت اور آخرت اسلام کا بنیادی عقیدہ ھے جس کے بغیر کسی آدمی کا اسلام یا ایمان معتبر نہیں. اس عقیدے کا مغز یہ ھے کہ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ھے: (کل نفس ذائقہ الموت 21:35) موت کا وقت مقرر ھے: (اذا جاء اجلھم لا یستاخرون ساعہ ولا یستقدمون 10:49) (این ما تکونو یدرکم الموت و لو کنتم فی بروج مشیدہ 78 :4)
دنیا میں کس انسان نے کتنا عرصہ گذارنا ھے, یہ انسانی عمر ھے. جسکا علم اور اختیار صرف اللہ ہی کی ذات عالی کو حاصل ھے.
سائنس موت کو جسمانی یا مادی کمزوری یا نقص deficiency سمجھتی ھے. اور یہ دعوی کرتی ھے کہ وہ اپنے علم و تجربے کے ذریعے موت پر قابو پا لے گی. آج سے پچاس سال پہلے ایک امریکی سائنسدان نے دعوی کیا تھا کہ آنے والے سو ڈیرھ سو سالوں میں سائنس موت کو شکست دے دے گی. اس نے تجویز دی کہ مرنے والوں کو مرتے ھی نائٹروجن ٹریٹمنٹ کر کے کولڈ سٹوریج میں فریز کردیا جائے. تو بعد کے کسی دور میں سائنسی عمل سے یہ دوبارہ زندہ ہو جائیں گے. تب سے مغربی دنیا میں مردے سٹور کرنے کا عمل جاری ھے. یہ ھے سائنسی فکر.
اسی فکر سے مرعوب مسلمان بھی آج یہ دعوی کر رہے ھیں کہ مغرب میں سائنس کی قوت سے انسانی اوسط عمریں بڑھ کر 110 سال تک پہنچ گئی ھے. جبکہ مسلم دنیا کی اوسط عمریں بمشکل 60 سال ھے. یہ انکی سائنس پر ایمان اور قرآن و سنت سے واضح انحراف کی کھلی دلیل ھے. کیونکہ سائنس کا یہ دعوی اسلامی علمیت کےمطابق جہالت اور ضلالت کے سوا کچھ نہیں. حقیقت سے اسکا کوئی تعلق نہیں ھے. اس سے اندازہ کیا جا سکتا ھے کہ سائنس سے مرعوبیت کس طرح انسان کو ایمان جیسی قیمتی ترین متاع سے محروم کر دیتی ھے درانحالیکہ اسے احساس تک نہیں ہوتا.

اسلامی علمیت کی بنیاد علم وحی پر ھے. یہ قطعی, یقینی اور غیر متبدل علم ھے. اسلام کے مطابق حواس خمسہ سے حاصل ہونے والا علم یعنی سائنسی علم غیر قطعی, غیر یقینی اور ظنی علم ھے.
وحی چونکہ حواس خمسہ سے ماورا علم ھے جسکی وجہ سے سائنس اس علم کو تسلیم نہیں کرتی.
اب غور فرمائیں کہ اسلامی علمیت اور سائنسی علمیت میں اشتراک و اتحاد کی کیا صورت ہو سکتی ھے؟

اسلام, عقائد کی پوری تفصیل اپنے ماننے والوں کے سامنے پیش کرتا ھے جن کو مانے بغیر ایمان کا اعتبار ہی نہیں. ان تمام عقائد کا منبع علم وحی اور علم غیب ھے. جب وحی اور غیب سائنسی علمیت میں کوئی شے ہی نہیں تو ان دونوں مناہج میں موافقت کیسے ہو؟

ہر علم اور علم سے پھوٹا نظام زندگی اپنے ماننے والوں کے سامنے کامیابی و کامرانی کا ایک واضح تصور پیش کرتا ھے اور اس کے پیروکار اسی کامیابی کے حصول میں پوری زندگی کھپانے کو ہی حیات انسانی کی معراج سمجھتے ہیں.
اسلام کہتا ھے “فمن زحزح عن النار و ادخل جنت فقد فاز 185 :3”
سائنس کے مطابق دوزخ اور جنت اوہام کے سوا کچھ نہیں. وہ ایسی کسی کامیابی کو سرے سے تسلیم نہیں کرتی. اس کے نزدیک مادی کامیابی ہی حقیقی کامیابی ھے. اسی لئے ان دونوں مناہج کے ماننے والوں کی زندگیوں میں زمین و آسمان کا فرق پیدا ہوتا ھے.

ایک تصور یہ بھی ھے کہ سائنس کا کوئی عقیدہ یا ما بعد الطبعیات نہیں ہوتا. یہ انسانی مادی دریافتوں اور اختراعات کا نام ھے جن سے انسان فائدہ اٹھاتا ھے اور اس سے انسانی عقیدے اور ما بعد الطبعیات پر کوئی فرق نہیں آتا. جس طرح خدا بیزار مغرب نے سائنس میں محنت کی تو ان کے ذریعے خدا بیزاری اور الحاد کو فروغ ملا, اگر مسلمان اس میدان کو سنبھالیں تو اس سے اسلامی عقیدہ ہی فروغ پائے گا. کہتے ہیں کہ سائنس کے انکشافات سے انسان خدا کی کاریگری اور اسکی کاریگری کی باریکیوں تک رسائی حاصل کرتا ھے اور اللہ کو مانے بغیر رہ نہیں سکتا ھے. اس لئے سائنس اور سائنسی علوم عین مطلوب اور عین اسلامی ہیں. یہ نقطہء نظر نتیجہ ھے سائنس کے انسانی نسلوں/معاشروں پر پڑنے والے اثرات سے ناواقفیت کا.
سوال یہ ھے کہ جن سائنسی حقائق کو یہ حضرات بڑے فخر سے نقل کرتے ھیں ان حقائق کے دریافت کرنے والے عظیم سائنسدانوں کو خدا تک رسائی کیوں حاصل نہ ہوئی؟ آپ تو صرف انکے ناقل ہیں تو ناقل کی بات کی کیا حیثیت ھے؟ دوسری طرف جس وقت مسلمان سائنس کی امامت کر رھے تھے اور مسلمان سائنسدان دنیا کو سائنسی علوم سے روشناس کر رہے تھے تو عین اسی وقت مسلمان اپنے زوال کا سفر شروع کر چکے تھے اور مسلمانوں کا دین پر اور دینی علوم پر اعتماد متزلزل ھو چکا تھا. مزید تحقیق سے پتہ چلتا ھے وہ مسلم سائنسدان دنیا کو اسلام سے کیا متعارف کراتے انکی اپنی زندگیوں میں دین اسلام کی سرے سے وہ اھمیت ہی نہیں تھی جو اصل مطلوب ھے. اسی لئے مسلمان آئمہ, محدثین, فقہاء اور محقیقین نے کبھی ان سائنسدانوں کو اپنا امام نہیں مانا نہ اپنے اسلاف میں ان کو شامل کیا. اس سے یہ نتیجہ نکلتا ھے کہ سائنس کی اپنی ما بعد الطبعیات ھے. یہ انسان کے اندر مادے اور محسوس پر ایمان و یقین کو مضبوط کرتا ھے اور ان دیکھی ایمانیات کو متزلزل کرتی ھے. اسکے اثرات کو آج ھم اپنے معاشروں میں بھی واضح طور پر دیکھ سکتے ھیں.

دوسری طرف یہ جو دعوی ھے مسلمان دنیا کو سائنس سے روشناس کرا رہے تھے. مغربی لوگ مسلمان خطوں میں آکر تعلیم حاصل کرتے تھے. سائنس کی اصلی زبان عربی ھے. تو سوال یہ ھے اسی دور میں مسلمانوں کے زوال کا سفر کیوں شروع ہوا؟ مسلمانوں کی سائنس امت کو ترقی دینے میں ناکام کیوں ہوئی؟ کم ازکم امت کی بقا کو ہی ممکن بناتی. جو نہ ہو سکا. ھسپانیہ جو کبھی مسلمانوں کی سائنسی کامیابیوں کا مرکز تھا، آج وہاں مسلمانوں کا نام و نشان تک موجود نہیں.

سوچنے والی بات یہ ھے
امت مسلمہ کا پہلا عروج کیا سائنس کا نتیجہ تھا؟
صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم میں کوئی سائنسدان تھا؟
بغیر سائنس کے آدھی دنیا کی فتح, کیا سائنس کا نتیجہ تھا ؟
پہلی صدی ہجری جو اسلام کی حقیقی عروج کی صدی ھے, اس میں مسلمانوں میں سائنسدانوں کتنے پیدا ھوئے تھے ؟

بلکہ سچ یہ ھے کہ بغیر سائنس کے ھی مسلمان دنیا پر چھا گئے تھے اور اس دور کی سائنسی دنیا پر بھی غالب ھوئے تھے. یہ غلبہ، یہ عروج اور یہ عزت اللہ کے ان وعدوں کے عین مطابق تھا جسکو قرآن و سنت نے ہمارے سامنے بار بار رکھا ھے. امت کے ابتدائی لوگوں نے اللہ کے وعدوں پر اعتماد کیا تو اللہ نے اپنے وعدے سچے کر دکھائے. بعد والے اللہ کے وعدوں کے بجائے اسباب ھی کو اصل سمجھنے لگے اور دنیا میں اپنے عروج کی مادی وجوہات اور اسباب دریافت کرنے میں کھو گئے تو کیفیت یہ بنی کہ بقول اقبال “ثریا سے زمیں پر آسمان نے تم کو دے مارا”

آئیے ان خدائی وعدوں کو ایک نظر دیکھیں

ولا تہنوا ولا تحزنوا و انتم الاعلون ان کنتم مومنین (ال عمران 139)
“نہ دل شکستہ ھو نہ غم کھاو اور تم ھی غالب رھوگے اگر تم مومن ھو”

وعداللہ الذین آمنوا منکم و عملوا الصالحات لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم, ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لہم و لیبدلنھم من بعد خوفھم امنا
“اللہ نے وعدہ کیا ھے ان لوگوں سے جو ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں کہ ان کو (دنیا میں) لازما خلافت ملے گی…… الی آخر ” (سورہ نور 55)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت اسلام کے آغاز میں ھی فرما دیا کہ
قولوا لا الہ الا اللہ تملک العرب والعجم
“کہو لا الہ الا اللہ تم عرب و عجم کے مالک بن جاو گے ”

خندق کھودتے ھوئے اور بھاری چٹان پر ضربیں مارتے ھوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن, شام اور ایران کی فتوحات کی خوشخبری اس حال میں سنائی جس وقت کیفیت یہ تھی اذجاءوکم من فوقکم و من اسفل منکم و اذ زاقت الابصار و بلغت القلوب الحناجر و تظنون باللہ الظنونا “جب کہ دشمن تمہارے پاس اوپر سے اور نیچے سے چڑھ آئے اور جبکہ آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آئے ”
(الاحزاب 10)

اسی طرح اسباب زوال کے حوالے سے ایک روایت ملاحظہ فرمائیے.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا تم پر آئے گا کہ تمہارے دشمن تم پر ایسے ٹوٹ پڑیں گے جسطرح بھوکے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں. آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا اسوقت مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہو گی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں. پھر پوچھا کہ کیا اسباب کی قلت ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں. بلکہ تمھیں ایک بیماری لگ جائے گی. ” وھن ” پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھن کیا ھے ؟ فرمایا: “حب الدنیا و کراھیہ الموت” یعنی دنیا کی محبت اور موت سے نفرت. (1)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس ارشاد میں مادی اسباب کے سبب زوال ہونے کی صریح نفی کر رھے ھیں (استعمال اسباب کی نفی نہیں ھے. اس نکتے پر غور کریں) لیکن آج کے دانشوروں کو یہ ہضم نہیں ہو رہا. دوسری طرف جو اصل سببِ زوال بیان ہوا ھے یہ دانشور اسی کو عروج کا رستہ بتا رہے ھیں. ہر صاحب ایمان ان حضرات کے تناقص کو واضح طور پر محسوس کر سکتا ھے

ایک اور روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودی کاروبار اور ترک جہاد کو سبب ذلت فرمایا. اور واضح کیا کہ جب تک یہ اسباب دور نہ ہوں, ذلت بھی ختم نہیں ہو گی. (2)
عجیب بات ھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عروج و زوال کے اسباب کی صراحت ہو جانے کے باوجود نام نہاد متجددین, امت کو ہمیشہ سائنس کا ہی طعنہ دے رہے ھیں. اور عامہ الناس کو مس گائیڈ کر کے طاغوتی قوتوں کا کام آسان کر رہے ھیں. ان سے سوال یہ ھے کہ جب آپ حضرات کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات پر اعتماد ہی نہیں تو امت کی یہ خیر خواہی چہ معنی دارد؟

یہ بھی کچھ حضرات کہتے ھیں کہ سوشل سائنس کو تو ہم بھی غلط سمجھتے ھیں مگر طبعی اور میٹیریل سائنس تو عین مطلوب ھے. تو ان سے سوال یہ ھے آپ تو یہ فرما رہے ھیں کہ ہمیں سائنس کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر سائنس کو کنٹرول کرنا ھے. تو یہ بتایئے سائنس کی ڈرائیونگ سیٹ ھوتی کس کے پاس ھے؟ یقینا اس سیٹ پر تو سوشل سائنٹسٹ ہی بیٹھتے ہیں جس کو آپ غلط مان بھی رہے ھیں تو آپ یہاں کس کو بٹھانا چاہ رہے ھیں؟ لگتا ھے کہ ان حضرات کو سائنس کا بھی کچھ نہیں پتہ. بس صرف مرعوبیت ہی مرعوبیت ھے.

ایک سوال ان عالی دماغ حضرات سے یہ بھی ھے کہ گزشتہ کئی صدیوں سے پوری امت کی سیاسی قیادت انہی محبان سائنس کے ہاتھوں میں ھے. لیکن سائنس کے میدان میں ان کی کارکردگی کیا ھے؟ امریکہ کی کسی ایک یونیورسٹی کا مقابلہ پوری امت نہیں کر سکتی تو یہ کس کا کمال ھے؟ مرعوب اتنے ھیں کہ کہتے پھر رہے ھیں کہ مسلمان سوسائٹی صرف کنزیومر سوسائٹی ھے. ہم تو اپنی قمیض کا بٹن بھی خود نہیں بنا سکتے. تو صدیوں کی کاوشوں کا کیا حاصل ھے. یہ گلہ ان حضرات کو اپنے آپ سے کرنا چاہیے. (مرعوبیت انسان کو حالات کے درست تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم کرتی ھے. ورنہ اصلا دنیا کی ہر سوسائٹی کنزیومر سوسائٹی ہی ہوتی ھے. مثلا پاکستانی ٹیکسٹائل, لیدر, سپورٹس اور سرجیکل انڈسٹریز کی اصلی مارکیٹ یورپ اور امریکہ ھے. تو یہ مرعوب حضرات اپنی قمیض کا بٹن مغرب سے کیوں منگوا رہے ھیں یا انکو پتہ ہی نہیں.)

آخر میں گذارش یہ ھے کہ اسلام ایک مکمل دین ھے. یہ دنیا میں ایک طویل عرصہ تک امامت کے منصب جلیلہ پر فائز بھی رہا ھے. پیغمبر اسلام نے اپنے دست مبارک سے اس دین کو غالب کرکے دکھایا ھے. اس کے بعد انکے پیروکار مدت تک اس مشن پر کاربند رہے ھیں. وہ طریقہ آج محفوظ بھی ھے اور قابل عمل بھی ھے. اس کے ساتھ کامیابی کے خدائی وعدے بھی ھیں. امت مسلمہ کا المیہ یہ ھے کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج پر کاربند نہ رہی. اللہ کی نصرت جو کامیابی و کامرانی کا اصل سبب تھا اس کو حاصل کرنے والے فکر و عمل سے رفتہ رفتہ دور ہوتی گئی تو نصرت خداوندی اٹھ گئی. اب محرومی نصرت کے بعد دوبارہ اسباب نصرت پر توجہ کرنے کی بجائے خدا بیزار معاشروں سے روشنی حاصل کرنے کی کوشش کی حالانکہ وہاں جو روشنی نظر آ رہی تھی وہ امت مسلمہ کے لیے سراسر تاریکی تھی. بس آج من حیث الامت ہم تاریکیوں کو روشنی سمجھ کر تاریک راہوں پر اندھوں کی طرح ٹامک ٹوئیاں مار رہے ھے. نتیجہ کیا ھے “نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ”
ضرورت اس بات ھے کہ امت کے حقیقی خیر خواہ اشخاص, جماعتیں اور ادارے مل کر مرعوبیت کی اس ہلاکت انگیز بیماری کا ادراک کریں. مغرب کی اسلام کاری کی بجائے اس کو کلی رد کریں. اور اپنے اصل کی طرف لوٹ آئیں. مقدور بھر موجود اسباب کو استعمال کرنا عین مصلحت ھے لیکن انہی اسباب کو کامیابی کا اصل زینہ سمجھنا بالکل دوسری بات ھے. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقدور بھر اسباب کا استعمال فرمایا ھے. جیسے فرمان خداوندی ھے: واعدوا لھم مااستطعتم من قوہ ومن رباط الخیل, ترھبون بہ عدواللہ و عدوکم.
آج “ارھاب” کو تو امت مسلمہ کے یہ متجددین دنیا کا سب سے بڑا اور غلیظ ترین جرم سمجھتے ھیں. تو یہ مرعوب ذھنیت “اعداد” کی حقیقت کو کیا سمجھے. یہ تضاد اس امت کا اصل عارضہ ھے. قرآن کی رو سے اعداد یعنی مادی تیاری اور ارھاب یعنی اللہ اور مسلمانوں کے دشمنوں پر دھشت لازم و ملزوم ھے. آج اس کے تصور سے بھی عاری ھو کر بس سائنس اور مغرب کے قصیدے پڑھنا ہی ہمارے متجددین نے اپنا اصل وظیفہ سمجھا ھے اور گلہ امت سے یہ کر رہے ھیں کہ مسلمان سائنس میں پیچھے رہ گئے ھیں اس لئے غلام بن گئے ھیں. تو یہ متجددین کئی صدیوں سے امت کے سیاہ و سفید کے مالک ھیں, کس نے ان کے پاؤں باندھے ہوئے ھیں. جو تیر مارنا ھے وہ مار لیتے. بلکہ حقیقت یہ ھے یہ اپنا تیر مار چکے ھیں اور مرعوبیت کا گُہرِ نایاب آج اسی لئے بانٹ رہے ھیں. کیونکہ اسکا نتیجہ اس کے علاوہ کچھ نکلنا بھی نہیں تھا.

مسلمانو
اپنے اللہ اور نبی پر اعتماد کرو اور منہج نبوی پر چلنے کا عزم کرو. ان جدید مفکرین کے افکار سے بچو جو امت کو یہ سمجھاتے رھے کہ آج ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منہج میں تبدیلیاں کرنا پڑیں گی. انہوں نے ایسی جسارت کر کے بھی دیکھا ھے اور نتیجہ رسوائی کے سوا کچھ نہیں.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حب الدنیا, کراھیہ الموت, سودی لین دین اور ترک جہاد کو ذلت کے اسباب گردانے اور انہی اسباب کو استطاعت بھر دور کرکے اور اللہ پر توکل کرکے افغان طالبان نے تاریخ انسانی کی سب سے بڑی قوت کا بڑی کامیابی سے مقابلہ کیا اور دشمن ذلیل و نا مراد ہوئے. پھر بھی متجددین کے آنکھوں سے پردے نہ اتر سکے. اللہ ہی انکو ھدایت دے

آخر میں گذارش یہ ھے کہ اللہ کے وعدوں پہ یقین کیجئے (ان تنصرواللہ ینصرکم و یثبت اقدامکم) اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بیان کردہ اسبابِ ذلت کو دور کرنے کی کوشش کیجئے.

“یقیں محکم, عمل پیہم, محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں ”

“اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ھاشمی”

“وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر”

“کافر ہو تو شمشیر پہ کرتا ھے بھروسہ
مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ھے سپاہی”

بھائیو
ان تمام گزارشات سے یہ نتیجہ نہ نکالیئے جس طرح کچھ بھائیوں نے فیڈ بیک دی ھے کہ اس مضمون میں اسباب کی نفی ھے. مضمون کو دوبارہ دیکھئے. اسباب کی نفی بالکل نہیں ھے. مسلمان کو اپنی مومنانہ بصیرت سے جائز اور نا جائز اسباب کی تفریق کرنا چاھئے اور اپنے مقصد کیلئے جائز اسباب کو استعمال کرنا چاھئے.
احقر کے نزدیک اسباب یا سائنس عروج و زوال کا اصل سبب نہیں ھے. اصل اسباب کچھ اور ہیں جن پر تفصیلی بحث کی ھے. اسباب کا درجہ ثانوی ھے. المیہ یہ ہے کہ پچھلے ایک لمبے عرصے سے ہم اسباب و سائنس کو بنیادی سبب سمجھ کر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو اسی منہج پر استوار کر چکے ھیں. جسکا نتیجہ ہمارے سامنے ھے.

وما علینا الا البلاغ

_______________________________

(1) ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثَوْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ قَائِلٌ:‏‏‏‏ وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ وَلَيَنْزَعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ قَائِلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَهْنُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ .

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں «وہن» ڈال دے گا تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! «وہن» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے ۔

Sunnan e Abu Dawood#4297

Status: صحیح

(2) عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ، ‏‏‏‏‏‏سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ.

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم بیع عینہ کرنے لگو گے گائے بیلوں کے دم تھام لو گے، کھیتی باڑی میں مست و مگن رہنے لگو گے، اور جہاد کو چھوڑ دو گے، تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا، جس سے تم اس وقت تک نجات و چھٹکارا نہ پا سکو گے جب تک اپنے دین کی طرف لوٹ نہ آؤ گے ۔

Sunnan e Abu Dawood#3462

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے