Home / کالم / معتدل و مصفّفی سوچ”

معتدل و مصفّفی سوچ”

تحریر:
حافظ عمیرحنفی

انسانی فطرت ہے کہ وہ پیدائشی طور پر چیزوں کی معلومات اور ان کے حقائق تک پہنچنے کی لا محدود سعییں کرتا ہے بہت مشکل ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنی کوششوں میں کامیاب اور بامراد ہوجائے عمومی طور پر بغیر کسی نتیجہ تک پہنچے وہ اپنی ایک محدود سوچ کے مطابق نظریہ و ذہن بنا لیتا ہے وہ اسی پر کاربند ہوجاتا ہے بالآخر وہ اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنی ذہنیت و سوچ کو عقل کل سمجھتا ہے اور زعم یہی ہوتا ہے کہ دوسرے بھی اس سوچ کے حامل ہونگے
ہر انسان اپنی سی ایک سوچ لیے ہوئے ہے اور کنواں کے مینڈک کی طرح اسی کو کل جہاں سمجھتا ہے اور خواہش یہ رکھتا ہے کہ میں اپنی سوچ کو کیسے کسی پر بھی مسلط کردوں! اسی سے ایک اور بات جو ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر پائی جاتی ہے وہ منفی سوچ و ذہن ہے جب انسان اپنی محدود سوچ تک سوچنا شروع کردیتا ہے تو اس کو کائنات کی ہر چیز الٹ نظر آتی ہے پھر عقل کو امام بنا کر ہر چیز کو ناقص اور اپنی محدود سوچ کو کامل سمجھ بیٹھتا ہے اور یہی ہماری تباہی کےلیے کافی ہے!

ہمارے معاشرے میں چند چیزوں کے متعلق بہت غلط نظریہ پیش کیا جاتا ہے جو جتنا سوچتا ہے وہ اتنا ہی بیان کردیتا ہے! اور اپنی رائے کو اقوامِ عالم کی رائے گمان کرتا ہے ایسی ذہنیت کے کئی لوگ آپ سے ملیں گے جب آپ ان کے نظریات کو و سوچ کو پڑھیں گے تو عقل دنگ رہ جائے گی! ان کا ٹارگٹ یہ ہوتا ہے کہ لفظ “ملاں” کی آڑ میں دین اسلام پر اعتراضات کیے جائیں
وہ نعرہ یہ لگا رہے ہوتے ہیں کہ ہم ” انسانیت شناس” ہیں در حقیقت پس پردہ وہ مقاصد ہوتے ہیں جن سے ایک سادہ لوح نوجوان بہت جلد متاثر ہوکر دین محمدی سے دور اور انسانیت کو ہی بھول ہوجائے! ہمیں اختلاف اس بات سے نہیں کہ آپ ” انسانیت” کا نعرہ نہ لگائیں لیکن اس کی آڑ میں وہ سوالات و اعتراضات کرنا اور اس ذات تک پہنچ جانا جو خلاق عالم ہیں جن تک ہمارا یہ چھوٹا دماغ پہنچ بھی نہیں سکتا! یہ سراسر غلط ہے!

متعدل و مصفی سوچ وہ ہے جو اس طرح کے تعصب سے آزاد ہوتی ہے جس میں یہ ” ملا و مسٹر” والی تفریق نہیں ہوتی یا نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے دراصل یہ ہماری بنائی ہوئی تقسیم و تعریفات ہیں جو ہم دوسروں پر مسلط کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں اصل اطاعت یہ ہے کہ جہاں دین اسلام یا شریعت محمدیہ نے اس کی تحقیق میں پرھنے اور کھنگالنے سے روک دیا وہیں رکا جائے! ایک سوال جو ہمارے معاشرے میں کثرت سے ہوتا ہے وہ یہ کہ” اس بگاڑ و تفرقہ بازی” کا اصل ذمہ دار کون ہے! تو اس بات کو سمجھنے کے لیے کچھ پس منظر میں جانا ضروری ہے یہ تو یقینی بات ہے کہ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے اب والدین پر منحصر ہے وہ اس کو جس مطابق ڈھال دیں جدت کے اس دور میں والدین اپنی اولاد پر وہ خاص توجہ نہیں دے پاتے جو ان کی اصل زمہ داری ہوتی ہے گھر میں میاں بیوی کی آپس میں مذہب و سیاست ودیگر موضوعات پر ہونے والی بحث اس بچے کی ساکھ کمزور کررہی ہوتی ہے ابھی کچا ذہن ہوتا ہے کہ والدین کی بحث سے سوالات ذہن؛ میں جنم لینے لگتے ہیں پھر بدنصیبی یہ کہ ویسی ہی صحبت یاراں نصیب ہوجاتی ہے پھر (آئی تھنک) کے فارمولے کے مطابق وہاں کچھ ذہن بدلنا شروع ہوجاتا ہے وہیں سے کچھ سوالات جنم لیتے ہیں وہی دوست ہی یہ بتاتے ہیں کہ آپ ” ملاں” کے خلاف بغاوت کا اعلان کرو پھر اسی آڑ میں معاذاللہ دین اسلام کے متعلق بھی غلط ذہن بنتا جاتا ہے!

بات سیکولرازم لوگوں کی پسندیدگی تک آجاتی ہے پھر انسان کو اپنی سوچ کامل محسوس ہونے لگتی ہے جہری طور پر اپنے گناہوں کا اظہار کررہا ہوتا ہے معلوم نہیں ہوتا ہے کہ میں ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوا ہوں یہ بات بھی ذہن سے فروگذاشت ہوجاتی ہے کہ مجھے اس کائنات میں بھیجنے کا مقصد کیا تھا! پھر مذاہب و مسالک پر اعتراضات آسان تر لگتے ہیں پھر ہر وقت ایک ہی فکر سوار رہتی ہے کیسے ان ملاؤں کو روئے زمین سے ختم کردوں! اسلاف و اولیاء اللہ پر اعتراضات تو معمول بن جاتا ہے بعض لوگوں کی تو صبح و شام بھی اس غم میں ہوتی ہے! لیکن اس کے برعکس ایک شخص وہ ہے جو گہرا مطالعہ رکھنے کے باوجود وہ اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھے ہوئے ہے وہ اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ وہ دین اسلام یا اہل قرآن لوگوں پر اعتراضات کرسکے وہ خاموش زندگی گزاراتا ہے وہ ایک مستقل سکون میں ہوتا ہے

مذاہب و مسالک اور دین اسلام کی بحث میں جتنا ہم لوگ متعصب ہوجاتے ہیں اگرچہ یہ بھی علم نہ ہو کہ لوٹا کس سمت سے اٹھانا ہوتا ہے! وہ لوگ بھی معترض بنے ہوتے ہیں جنہیں اپنے گھریلو ذمہ داریاں بھی بھول جاتی ہیں! اس کے بعد ہمارے اس ملک عزیز پاکستان میں ایک بحث جو ہر زبان زد عام ہے وہ سیاسی نظریہ کا ہونا ہے دیکھنے میں یوں ہی آتا ہے کوئی عمران خان صاحب کے دفاع میں باقی تمام پارٹیوں کو انسانیت سے گرا ہوا سمجھتا ہے جو لوگ نواز شریف صاحب کی حمایت میں ہوتے ہیں وہ اس کو شیر وطن باقی سب کو غدار وطن کا سرٹیفکیٹ دے رہے ہوتے ہیں اسی طرح جو بلاول بھٹو زرداری صاحب کے چاہنے والے ہوتے ہیں وہ دیگر کو انسان ماننے سے انکاری ہوتے ہیں بعض وہ ہوتے ہیں جو مولانا فضل الرحمن مدظلہ کی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہوتے ہیں اور باقی سب کو اسلام دشمن کا لقب دے رہے ہوتے ہیں…. میرے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہ سب سیاسی نابالغ ہوتے ہیں ان کو اختلاف رائے کا بھی علم نہیں ہوتا یہ نہیں جانتے ناقد کو برداشت کیسے کرنا ہوتا ہے! ہوتا یہی ہے ہم کسی ایک پارٹی یا اس کے لیڈر کے لیے حشرات الارض بن کر زمین پر رینگ رہے ہوتے ہیں اور دوسروں کی مثبت چیز منفی دکھائی دے رہی ہوتی ہے وہ شارٹ ویڈیو کلپس، پوسٹس یا دلائل دیے جا رہے ہوتے ہیں جو مد مقابل یا حریف کے خلاف یا اس کی تذلیل کا باعث ہوں! کبھی بھی ان کے قابل تحسین عمل کو سراہا نہیں جاتا اس کا اچھا عمل برداشت سے باہر ہوتاہے

خلاصہ یہ ہوا کہ ہم اپنی محدود سی سوچ رکھتے ہیں جو در حقیقت تربیت یا صحبت کی وجہ سے بن چکی ہوتی ہے پھر اسی کو لیکر معاشرے میں کتنے لوگوں سے دوریاں کرجاتے ہیں حالانکہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے کچھ ملنے والا نہیں ہے! پھر سوال یہ ہوتا ہے معتدل اور مصفی سوچ کس کی ہے سکون کی زندگی کس انسان کی ہے؟ وہ شخص جو دین اسلام اور شریعت محمدیہ کے تمام تر احکامات کو دل و جان سے مانتا ہے اور ہر قسم کے تعصب سے پاک ہے! نیوٹرل رہتا ہے مثبت سوچ و رویہ کا مالک ہے ہر معاملے میں فہم سے کام لینا جانتا ہے ایک عام سادہ زندگی جس میں دین اسلام کی پیروی اور اپنی مصروفیات داخل ہوتی ہیں انہیں میں لگا ہوتا ہے تو یہ پاکیزہ زندگی ہے!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے