Home / اسلام / قُرآن کے اُصول و اَجزاۓ اُصول

قُرآن کے اُصول و اَجزاۓ اُصول

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( الماٸدہ ، اٰیت 101 تا 105 ))) 🌹
قُرآن کے اُصول و اَجزاۓ اُصول !! 🌹
ازقلم🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 یٰایھاالذین اٰمنوا
لاتسٸلوا عن اشیا ٕ ان تبدلکم
تسٶکم وان تسٸلوا عنھا حین ینزل
القرآن تبدلکم عفااللہ عنھا واللہ غفور
رحیم 101 قدسالھا قوم من قبلکم ثم اصبحوا
بھاکٰفرین 102 ماجعل اللہ من بحیرة ولاساٸبة ولا
وصیلة ولاحام ولٰکن الذین یفترون علی اللہ الکذب واکثر
ھم لایعقلون 103 واذاقیل لھم تعالواالٰی ماانزل اللہ والی الرسول
قالواحسبنا ماوجدنا علیہ اٰبا ٸنا اولم کان اٰباٸھم لایعلمون شیٸا ولا یھتدون
104 یٰایھاالذین اٰمنوا علیکم انفسکم لایضرکم من اضل اذااھتدیتم ال اللہ مرجعکم
جمیعافینبٸکم بما کنتم تعملون 105
اے اَمن و اَمان اور سکون و اطمینان کے آرزُومند لوگو ! نزُولِ قُرآن کے اِس زمانے میں اُن مساٸل و معاملات کے بارے میں کھود کرید نہ کیا کرو جن کا تُم پر ظاہر نہ ھونا ہی اُن کے ظاہر ھونے سے زیادہ بہتر ھے ، اِس سے پہلے تُم نے جو پُوچھا ھے تو اللہ نے اُس کو درگزر کردیا ھے کیونکہ اللہ کی ذات اپنے بندوں کے لیۓ ایک خطا پوش اور رحم پرور ذات ھے ، تُم سے پہلے بھی ایک قوم نے سرے شام ہی ایسے کُچھ سوالات کیۓ تھے اور جواب ملنے کے بعد آنے والی صُبح کی پہلی کرن پُھوٹتے ہی ہر وعدے سے مُنحرف ھوگۓ تھے اور اِن کی اسی کثرت سوالی نے اِن میں بحیرہ ، ساٸبہ ، وصیلہ اور حام کے اُن تصورات نے جگہ بنالی تھی جن کی خُدا نے اِن کو تعلیم نہیں دی تھی لیکن اِن کے اکثر لوگ اپنی بے عقلی کی وجہ سے اِن چار چوپاۓ پیروں کو بھی خُدا کی ذات سے ہی منسوب کیا کرتے تھے ، اِن کی موجودہ نَسل کا حال یہ ھے کہ جب اِن کو تنزیل اور رسولِ حاملِ تنزیل کی طرف بلایا جاتا ھے تو یہ کہتے ہیں ھماری ھدایت کے لیۓ ھمارے بڑوں کا طرزِ کُہن ہی کافی ھے ، چاھے اِن کے بڑے ھدایت کے بارے میں کُچھ جانتے ھوں یا نہ جانتے ھوں ، سو اے اَمن و اَمان اور سکون و اطمینان کے آرزُومند لوگو ! چونکہ تُم ھدایت پر ھو ، اِس لیۓ یقین رکھوکہ کہ یہ محرُومِ دلیل و دانش لوگ تُمہارا کُچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے اور جہاں تک اِن کے خودساختہ نظریات کا تعلق ھے تو جس یومِ انکشاف کے موقعے پر تُم سب لوگ اللہ کے دربار میں پُہنچ جاٶ گے تو اُس یومِ انکشاف کے موقعے پر تُم سب پر اِن کے اعمالِ کار کا بودہ پَن مُنکشف ھو جاۓ گا !
🌹 اَعمالِ مُثبت و مَنفی کا اُصولِ مُطق ! 🌹
مَنقُولہ پانچ اٰیات میں سے پہلی اٰیت میں اللہ تعالٰی نے نزُِولِ وحی کے زمانے میں سوالات کی جو مُمانعت کی ھے اُس مُمانعت کی شانِ نزول بیان کرتے ھوۓ عُلماۓ مجوس نے سیدنا محمد اور اَصحابِ محمد کی سیرتوں پر داغ دَھبے لگانے کے لیۓ جو روایات جمع کی ہیں اُن روایات میں انس بن مالک کے حوالے سے نقل کی گٸ بخاری کی وہ مشہورِ زمانہ روایت بھی شامل ھے جس کے مطابق ایک شخص نے اللہ کے رسول سے اپنے معروف اور جانے پہچانے باپ کے بجاۓ اپنے غیر معروف اور اَنجانے باپ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے اُس کا نام بتادیا اور عُلماۓ عجم کے عجمی فہم و فراست کے مطابق یہی واقعہ ھے جو اِس اٰیت کے نزول کا باعث بنا ھے لیکن حقیقت یہ ھے کہ نزولِ قُرآن کے زمانے میں سوالات کی اللہ نے جو مُمانعت کی ھے اُس کی پہلی وجہ یہ ھے کہ گزشتہ سلسلہِ کلام کی آخری اٰیت میں قُرآن نے پُرعیب چیز کے پُرعیب ھونے ، بے عیب چیز کے بے عیب ھونے ، مُثبت چیز کے مُثبت ھونے ، مَنفی چیز کے مَنفی ھونے ، عملِ خیر کے عملِ خیر ھونے اور عملِ شر کےعملِ شر ھونے کے بارے میں جو مُجمل اُصول بیان کیا تھا ، موجودہ اٰیت میں اُس مُجمل اصول کا یہ مُفصل کا ضابطہ بیان کیا جارہا ھے کہ قُرآن انسانی اعمال کے بارے میں اور انسانی استعمال میں آنے والی اَشیا کے بارے میں صرف وہ بُنیادی اُصول بیان کرتا ھے جو مُستقل اور غیر مُتبدل اصول ھوتے ہیں ، جہاں تک اِن غیر مُتبدل اصولوں کی اِن مُتبدل ضمنی تفصیلات کا تعلق ھے جو اپنے بدلتے وقت اور بدلے ھوۓ حالات کے تحت بدلتی رہتی ہیں تو اُن ضمنی تفصیلات کو قُرآن نے انسان کی عقل و بصیرت اور اِس کی فکری و نظری ترجیحات پر چھوڑ دیا ھے تاکہ انسان اپنے فطری وِجدان اور طبعی رُجحان کے مطابق اپنے فیصلے آپ کرنے کی صلاحیت حاصل کرے اور کرتا ر ھے ، اگر عھدِ نزولِ قُرآن کے لوگ قُرآن کے زمانہِ تنزیل میں سوالات کریں گے تو قدرت نے جو فیصلے انسانی بصیرت پر چھوڑے ھوۓ ہیں وہ فیصلے بھی ایسے مُستقل اور ناقابلِ تغیر ضابطے بن کر انسان پر لاگُو ھو جاٸیں گے جن پر کسی زمانے کا کوٸ انسان بھی عمل نہیں کرسکے گا اور ایسا ھونا آج کے انسان کی وہی غلطی ھوگی جو ماضی کے انسان ماضی میں کر چکے ہیں اور اِس کے نتاٸج و عواقب کو بھی بُھگت چکے ہیں ، لہُذا عھدِ نزولِ قُرآن میں ایسے سوالات سے مکمل اجتناب کیا جاۓ جو ایک موجود سہولت کے خاتمے کا اور پھر ایک نٸ غیر موجود مُشکل کے آغاز کا باعث بن جاٸیں !
🌹 قُرآن کا بیان کیا ھوا سوال اور جواب ! 🌹
اٰیت ھٰذا میں کی گٸ اِس مُمانعت کی دُوسری وجہ جو خود قُرآن نے بیان کی ھے وہ یہ ھے کہ تُمہارے اُن چار روایتی پیروں بحیرہ و ساٸبہ اور وصیلہ و حام کی خُدا کی نظر میں کوٸ اَصلیت اور کوٸ حیثیت نہیں ھے جن کے تُم نام لیوا ھو اور جن کو تُم نے اپنے جُھوٹے نفس کی جُھوٹی حاجت رواٸ اور جُھوٹی مُشکل کشاٸ کا ذریعہ بنا رکھا ھے ، اِس اَمر کی تفصیل یہ ھے کہ بحیرہ مُشرکین عرب کی وہ پیرنی اُونٹنی ھوتی تھی جو پانچ بار پانچ بچے پیدا کرنے کے بعد چَھٹا نَر بچہ پیدا کرتی تھی اور مُشرکینِ عرب اُس کے اِس عظیم کارنامے پر اُس کو اپنی پیرنی بنا کر آوارگی کے لیۓ آزاد چھوڑ دیتے تھے ، ساٸبہ مُشرکینِ عرب کی وہ پیرنی اُونٹی ھوتی تھی جو دس بچے جنتی تھی اور ہر بار مادہ بچے جنتی تھی ، مُشرکینِ عرب اُس مادہ ماں کو دس مادہ بچے پیدا کرنے کے بعد اپنی پیرنی تسلیم کر لیتے تھے ، وصیلہ مُشرکینِ عرب کی وہ بکری پیرنی ھوتی تھی جو پہلا بچہ نَر جنتی تھی تو اُس کو مُشرکینِ عرب اپنے خُداوں کے نام پر ذبح کرکے کھا جاتے تھے ، اگر وہ پہلا بچہ مادہ پیدا کرتی تھی تو اُس کو رَکھ لیتے تھے لیکن اگر وہ بکری نر اور مادہ دو بچوں کو جنم دیتی تو اُس کو خُداوں کے نام پر چَرنے کے لیۓ آزاد کر دیتے تھے اور حام اُن کا وہ اُونٹ پیرِ بزرگ ھوتا تھا جس کا پوتا پیر جب سواری کے قابل ھو جا تا تھا تو اُس کے دادے پیر کو آزاد کردیا جاتا تھا ، مُشرکینِ عرب کے یہ چار چار پیروں والے وہ چار پیر تھے جن کی بزرگی کے بارے میں وہ اپنے وقت کے نبی سے سوال کیا کرتے تھے اور چونکہ اِن چوپاۓ پیروں کا مُسلمانوں میں بھی چرچا ھوچکا تھا اور غالبا مُسلمان بھی اپنے اِن کے حوالے سے یا کسی دُوسرے حوالے سے کبھی نہ کبھی اپنے فطری تجسس کے تحت کوٸ سوال کرتے ھوں گے ، اِس لیۓ اِن مُسلمانوں کو بھی بر بناۓ احتیاط یہ حُکم دیا گیا کہ سوال کرنا اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوٸ اَمرِ ممنوع نہیں ھے لیکن جب تک وحی کا سلسلہ جاری ھے اُس وقت تک وہ وحی کی سماعت ہی کیا کریں اور وحی کا یہ سلسلہ چونکہ وصالِ نبوی تک جاری رہا ھے اِس لیۓ ذخیرہ حدیث کی وہ ساری روایات اُن کے سفید جُھوٹ کا ایک سیاہ پلندہ ہیں جن میں راویانِ حدیث کو سوال کرتے اور نبی اکرم کو جواب دیتے ھوۓ ظاہر کیا گیا ھے اور مُشرکینِ عرب کے اِن چار چوپاۓ پیروں کے ذکر کے بعد والی اٰیت میں یہ بھی بتا دیا گیا ھے کہ جب اِن سوال کرنے والے لوگوں کو وَحیِ ھدایت کی طرف بلایا جاتا ھے وہ کہتے ہیں کہ ھمارے لیۓ اِن چوپاٸیوں کو پیر و مُشد بنانے کی وہی ھدایت کافی ھے جو ھمارے بزرگ ہمیں دے کر آں جہانی ھوۓ ہیں ، قُرآنی مَتن کی یہ وہ بُرھانی شہادت ھے جو اِس بات کا سراغ دیتی ھے کہ نزولِ قُرآن کے زمانے کا اَصل سوال کسی کی جاٸز یا ناجاٸز ولدیت کے بارے میں نہیں تھا اور نہ اللہ کا نبی نجومیوں اور رَمّالوں کی طرح اَفرادِ اُمت کو خوش خبریاں سُنا کر خوش یا بد خبریاں سُنا کر خفا کیا کرتا تھا جیساکہ عُلماۓ مجوس نے بیان کیا ھے بلکہ اَصل سوال وہ ھے جس سوال کا ذکر کیۓ بغیر ہی قُرآن نے وہ مُعتبر جواب دے دیا ھے جو قُرآن کی اِس اٰیت میں روزِ روشن کی طرح موجود ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے