Home / کالم / اینڈ آف ٹائم

اینڈ آف ٹائم

کتاب : اینڈ آف ٹائم
مصنف: ڈاکٹر شاہد مسعود
تبصرہ: فلک زاہد

“قریب آگیا لوکوں کے حساب کا وقت اور وہ ہیں غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں” (الانبیاء)

بطور مسلمان ہمارا یہ ایمان ہے کہ دنیا فانی ہے, عارضی ٹھکانہ ہے یہاں ہم محض چھوٹے سے امتحان کے لیے آئے ہیں تاکہ بڑے امتحان کی تیاری کر سکیں.بڑے امتحان سے مراد موت کے بعد ہماری تقدیر میں جنت یا دوزخ کا فیصلہ ہونا ہے.اب یہ ہم ہر منحصر ہے کہ ہم اپنے لیے کیا خریدتے ہیں.موت ایک اٹل اور تلخ حقیقت ہے جس سے دنیا کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا.آپ کو دنیا میں ایسے بے شمار لوگ ملیں گے جو قران کریم کا انکار کرتے ہیں اور انبیائے کرام کے منکر ہیں جو تسلیم ہی نہیں کرتے کہ سزا اور جزا کا کوئی نظام ہے اور دوزخ اور جنت کا بھی کوئی وجود ہے لیکن ان سب کے باوجود کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو موت سے انکار کرے.
موت تو ایک چھوٹی قیامت ہے ایک بڑی قیامت وہ ہے جب ہماری کائنات اور اس میں بسنے والی ہر چیز بشمول سورج, چاند ستارے سب فنا ہوجائیں گے یعنی وقت کا مکمل خاتمہ ہو جاۓ گا اور آخرت میں حساب کتاب کا وہ دن آئے گا جس پر ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اس دن اسکے اچھے برے اعمال اللہ کے حضور پیش کردئیے جائیں گے.وہ دن کب آئے گا اسکے بارے میں اللہ تعالیٰ کی ذات ہی بہتر جانتی ہے

“اور وہ کہتے ہیں کہ قیامت کب ہوگی تو کہہ دیجیے کہ عجب نہیں کہ قریب ہی آ لگی ہو” (بنی اسرائیل)

قیامت کا ذکر تمام انبیا کرام نے بیان فرمایا.تمام قوموں کے سامنے جہاں جہاں وہ آئے چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلی وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آنا تھا اس لیے آپ نے تفصیلاً اسکی نشانیاں بیان فرما دیں جو ہمیں احادیث سے ملتی ہیں.قرآن شریف میں زیادہ تر انکا ذکر ملتا ہے جو بالکل قیامت کے قریب ظاہر ہونگی لیکن احادیث میں قریب اور دور ہر زمانے کا بیان ہے.
آخرالزماں کی علامات اور نشانیوں پر جو کتاب مکمل ریسرچ اور مشاہدے کے بعد لکھی گئ ہے وہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی “اینڈ آف ٹائم” ہے جس پر مبنی اقساط ٹی-وی پر بھی نشر ہوچکی ہیں اور اب کتابی شکل میں مکمل ابواب کے ساتھ مارکیٹ میں موجود ہے.
قران شریف اور آقا علیہ السلام کی مستند احادیث کی روشنی میں ماضی, حال اور مستقبل کو سامنے رکھ کر تمام حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے کہ کونسی نشانیاں تاریخ میں پوری ہوگئی ہیں, حال میں کیا کچھ ہورہا ہے اور آنے والے وقت میں یعنی مستقبل میں کیا ہوگا یا ہوسکتا ہے.
تین بڑے مذاہب مسلمان, یہودی اور عیسائی حتیٰ کہ سائنس بھی اپنے اپنے عقیدے کے مطابق کہیں نہ کہیں یہ مانتی ہے کہ دنیا آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے اور بلاآخر ایک دن مکمل ختم ہوجائے گی.یعنی تفصیلات جدا جدا ہیں مگر آخرت کا تصور کسی نہ کسی صورت ضرور پایا جاتا ہے کہ ایک دن قیامت قائم ہوگی روز حساب آئے گا اور اعمال کی بنیاد پر سزا اور جزا کے فیصلے ہوں گے.
کتاب کی خوبصورتی یہی ہے کہ اس میں تمام اہم موضوعات کو نہایت خوبصورتی سے اجاگر کیا گیا ہے.چودہ سو سال پہلے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان کردہ احادیث سے آج کی جدید سائنس بھی غیر محسوس انداز سے متاثر نظر آتی ہے.کتاب مذہب اور سائنس کا بہترین امتراج ہے جس میں مختلف اور جلیل القدر کتابوں سے حوالے بھی دیے گئے ہیں.پیغمبروں کے قصے, ماضی میں رونما ہوجانے والے تاریخی قصے اور ماضی میں ہی تباہ و برباد ہوجانے والی بستیوں کے قصے نیز یہ کہ ماضی میں قربِ قیامت کی نشانیاں جو پوری ہوچکیں انکا ذکر تو ہے ہی اسکے علاوہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کتاب میں مستقبل میں پوری ہونے والی بڑی نشانیوں کا بھی نہایت ہمت اور جرات سے ذکر کیا ہے جن میں سے بڑی نشانی یعنی علامات کبریٰ میں سے اہم ترین حضرت امام مہدی کا ظہور ہے جنکا دور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد کے عرصے کے دوران ہی بیان ہوتا ہے.
خروجِ دجال, یاجوج ماجوج کا آزاد ہونا, روح کیا ہے, روح پہلے وجود میں آئی یا ہمارا جسم پہلے تخلیق کیا گیا, جادو کیا ہے, ستاروں کا علم کیا ہے, خواب کا آنا کیسا ہے, فری میسنز کون ہیں انکے مقاصد کیا ہیں اور وہ انہیں کس طرح انجام دیتے ہیں, غرض تمام اہم سوالات جو انسان کے ذہنوں میں اٹھ سکتے ہیں ان سب کے جوابات نہایت دلیل اور تفصیل کے ساتھ دیے گئے ہیں.کتاب میں علما کی رائے مختلف مسالک کے عقائد اور قران شریف کے بعد تینوں آسمانی کتابیں توریت, زبور, انجیل اور انکے ماننے والے یعنی یہودی اور عیسائی سب کا عقیدہ ایک مخصوص دائرے سے نکل کر مکمل ریسرچ کے ساتھ کھل کر تفصیلاً بیان کیا گیا ہے..
یہ کتاب یقیناً لائق توجہ ہے اور ماضی میں ہونے والے واقعات موجودہ حالات اور مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کو سمجھنے کے لیے یہ کتاب پڑھنا بہت اہم ہے جس میں کڑی سے کڑی جوڑی گئی ہے…آخرالزماں سے پہلے وہ بڑی جنگیں جنہیں آرمیگیڈن کہا جاتا ہے اور جس پر تنینوں بڑے مذاہب کا ایمان ہے کہ وہ ضرور ہوگی اور جس کے متعلق کئ امریکی صدور بھی اپنی تقاریر میں ذکر کرتے آئے ہیں وہ سب خونریز معرکے اور قتل و غارت جن کا ذکر ہمیں احادیث رسول اللہ سے ملتا ہے ان سب کے مطابق آج ہم کس دور میں کھڑے ہیں ہم پر کافی حد تک واضح ہوجائے گا.ہر گزرتا لمحہ ہمیں آتی موت سے قریب تو کر ہی رہا ہے تاہم قیامت کو بھی نزدیک لارہا ہے اور قیامت وہ دن ہوگا جس دن صور پھونکنے والے کو بھی موت آئے گی اور خود موت کو بھی موت آئے گی
“ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے”
چنانچہ آج کی دنیا کی مصیبتیں, فتنے, صعبتیں اور پریشانیاں ہمیں جس دور کی طرف لیکر جارہی ہیں وہاں اس حدیث سے رہنمائی کی اشد ضرورت ہے کہ دنیا میں مسافر کی طرح رہو جو عارضی طور پر کچھ دن کے لیے قیام کرتا ہے.ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم پر توبہ کا دروازہ ابھی بند نہیں ہوا کیونکہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا ہے جسکے بعد توبہ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا لہذا اللہ کا شکر ہے کہ ابھی ہمارے پاس کچھ سانسیں ہیں, مہلت ہے چند گھڑیاں ہیں نہیں معلوم کب روح کا رشتہ بدن سے ٹوٹ جائے چنانچہ ابھی بھی وقت ہے عبادات کا رب کی خوشنودی حاصل کرنے کا کیونکہ وقت کا خاتمہ تو بعد میں ہوگا اس سے پہلے ہمارا آپکا ہوجائے گا…
ہم کو یہ جان لینا چاہیے کہ انسان اور انسانیت کے لئے قائم یہ عارضی ٹھکانہ جو اللّه کی مرضی و منشا کے مطابق اس ذات عظیم کے ایک حکم پر وجود میں آیا تھا جلد اس ذات باری تعالی کے ایک حکم پر مٹ جاۓ گا.جو پہاڑ زمین کا توازن قائم رکھے ہوۓ ہیں یہ سب روئی کے گالوں کی طرح فضاوں میں اڑنے والے ہیں.یہ زمین جس پر ہم بسیرا کیے آج محفوظ ہیں اس کا سینہ پھٹ جاۓ گا اور ہر ذی نفس اس میں سما جاۓ گا.وہ وقت وہ زمانہ قریب ہے جس کا وعدہ انسان سے کیا گیا ہے جب ہر چیز ہر ترقی ہر جدت ہر روایت ایک حکم پر فنا کر دی جاۓ گی جب ایک آواز انسانوں کے دل پھاڑ دے گی جب مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو پھینک دیں گی جب انسان کے پاس اس کے تمام رشتوں سے افضل اسکی اپنی نجات ہوگی جب اعمال نامے ہاتھوں میں تھامے انسان ماں بہن باپ بھائی بیٹا جیسے رشتے بھی بھول کر بس اپنی نجات کی فکر میں ہوگا.عجب نفسا نفسی کا عالم ہوگا.
یہ کتاب انسان کو اس آنے والے کل کا پیغام دیتی ہے جس پر بطور مسلمان ہمارا یقین ہے کہ وہ صبح آ کر رہے گی.اس لئے ظاہری نمود کے دھوکوں کی جگہ ہم کو اس دن کی تیاری کرنی چاہیے ایسا نا ہو کہ وہ آواز گونج اٹھے جس کے بعد ہر دروازہ بند کر دیا جاۓ گا اور ہم آقا علیہ السلام کے امّتی میدان حشر میں شرمسار کھڑے ہوں . اس لئے اب بھی وقت ہے ہم دنیا کے ساتھ آخرت کی تیاری میں لگ جائیں تاکہ ہمارا آنے والا کل جو ہمیشہ رہنے والا ہے اس میں ہم کامیاب و سرخرو ہو سکیں…!!!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے