Home / پاکستان / اللہ معاف فرماۓ!

اللہ معاف فرماۓ!

تحریر
سجاد حسین

ذاکر نائیک آپکو یاد ہونگے ، ایک زمانے میں عالمی شہرت یافتہ تھے ۔ اسلام کا دیگر مذاہبِ عالم سے تقابل انکا خاص موضوع تھا ، یاداشت اچھی تو تو مناظرے بھی بہت کئے اور انہی مناظروں نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ۔ شہرت نے انکے ساتھ وہی کیا جو یہ عام طور پر کرتی ہے ۔ ذاکر نائیک نے فقہ و فتاوی کی باقاعدہ تعلیم نہ ہونے کے باوجود خود کو اس علم کا ماہر سمجھ لیا ، ساتھ ہی اپنی گفتگو میں نوجوانوں کو مائل و مرعوب کرنے کیلئے سائنسی حوالوں کو قرآن سے ثابت کرنے کیلئے آیات کی من مانی تشریح کرنا شروع کر دی ۔ یہاں تک سب چل ہی رہا تھا بلکہ سادہ لوح عوام کی ایک بڑی تعداد انکو پھر بھی فولو کر رہی تھی ۔
پھر ذاکر نائیک نے علمی تکبر میں یزید کو رضی اللہ کہہ دیا ، کربلا کو سیاسی جنگ کہہ دیا ۔ اس کے بعد سے ذاکر نائیک کا زوال شروع ہوا حتی کہ انکے اپنے ملک پر ان پر پابندی لگا دی ، تنظیم بند کر دی ۔ وہی ذاکر نائیک جو چند سال پہلے تک عالم و محقق و مناظر مشہور تھے ، آج ملکوں ملکوں در بدر ہیں ۔

پھر آئیے مفتی منیب الرحمان کیطرف ۔ روئیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین تھے ، انکی روئیت کو کوئی سنجیدہ لیتا ہو یا نہ ہو بہرحال عوامی حلقوں میں انکی بحیثیت دینی سکالر ایک عزت تھی ۔ انہیں ایک غیر سیاسی و غیر متنازعہ مولوی کے طور پر دیکھا جاتا تھا ۔ پھر انہوں نے یزید کے حوالے سے ایک بات کر دی ، کہا کہ یزید نے امام حسین ع کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا ۔ اور ایک طرح سے یزید کو امام حسین ع کی شہادت سے بری الذمہ قرار دے دیا ۔ سالہا سال کی بنی عزت خاک میں مل گئی ۔ اب انہیں نہ پہلے جیسا مقام حاصل ہے ، نہ مرتبہ ، نہ ہی عزت ۔

آخر میں آتے ہیں اشرف جلالی پر ۔ مولوی اشرف جلالی اہلسنت و بریلوی جماعت کے محقق و عالم کے طور پر مشہور تھا ۔ توحید کے موضوع پر اسکا سیمینار کافی پذیرائی حاصل کرتا تھا ۔ تحریک لبیک میں خادم رضوی سے اختلاف کے بعد اور اپنا سیٹ اپ الگ کرنے کے بعد بھی اپنا تحقیقی و علمی مقام برقرار رکھا ہوا تھا ۔ پھر اشرف جلالی نے وہ کہا جس کے بعد مذمت و ملامت اسکا مقدر بن چکی ہے ۔ پہلے جو ایک دینی محقق تھا ، وہ اب ایک گستاخ و دشمنِ اہلیبیت مشہور ہو چکا ہے ۔ دوسرے فرقوں نے بھی اور اسکے اپنے فرقے نے اس سے دوری اختیار کر لی اور اس پر کھلے عام تنقید و لعن طعن ہو رہی ہے ۔

دوستو ، میں نے ان چند اور ان جیسی بے تحاشا مثالوں سے ایک ہی بات سیکھی ہے ۔ خُدا اپنے بارے میں اختلافات ، مناظرے ، بیانات برداشت کر لیتا ہے ، لیکن جہاں بات اہلیبیت ع کی آ جائے ، اس رب کا طریقہ سیدھا ہے ۔ جو جو اہل بیت ع سے ٹکرایا ، خدا نے اسکو ذلیل و خوار کر کے رکھ دیا ۔ کوئی اہلیبیت ع سے دشمنی و بغض کا اظہار کر کے قابلِ عز و شرف رہتا ہی نہیں ۔ انسانی تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسا واقعہ نہیں جہاں کوئی اہلیبیت رسول سے ٹکرایا ہو اور ذلت اسکا مقدر نہ بنی ہو ۔

اشرف جلالی نے بغض میں ، یا فرقہ واریت کے جنون میں ، یا جہالت میں بریلویت سے ناصبیت کا سفر طے کر لیا ۔ اس نے کچھ اور نہیں، سیدھا ذاتِ جنابِ سیدہ کونین سلام علیھا کے بارے میں بات کی ۔ شاید خدا اپنے دشمنوں کو معاف کر دیتا ہو ، شاید خدا اہلیبیت ع کے دشمنوں کو معاف کر دیتا ہو ، لیکن فاطمہ زہرا سلام علیھا کی ناراضگی خدا کی ناراضگی ہے ، اسکے رسول کی ناراضگی ہے ، اہلیبیت ع کی ناراضگی ہے ۔ اور زہرا ع کی ناراضگی کا نتیجہ رسوائی ہے ۔

اشرف جلالی کو دنیا و آخرت کی پستی ، ذلت ، بدنامی اور ناکامی مبارک ہو

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے