Home / اردو ادب / یادگار زمانہ لوگ *

یادگار زمانہ لوگ *

*آہ! خالد عبّاس بابر۔۔۔۔۔۔۔۔ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں۔۔۔۔*

تحریر :
اظہار احمد گلزار

فیصل آباد سے متعلق ، دنیاے ادب کے ممتاز شاعر ، ادیب اور درویش منش استاد پروفیسر خالد عبّاس بابر کی ادبی شخصیت ہماری تاریخ کے ان یگانہ روزگار صاحبان قلم میں شامل ہے جو ہماری قوم اور ہمارے وطن ، ہماری زبان اور ہمارے ادب کی شناخت کا لائق تعظیم و احترام اور معتبر حوالہ سمجھے جاتے ہیں ۔۔ایک زمانہ تک بطور پروفیسر انگریزی ، ان کے افکار اور علم سے آنے والے زمانوں میں بھی ان کے نام سے ہماری علم و ادب کی روایت کو دوام حاصل رہے گا ۔۔۔۔۔۔ وہ راقم ( اظہار احمد گلزار) کے زمانہ کالج میں گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں انگریزی ادبیات کے ایک زیرک ، محنتی ،سادہ ،زیرک اور سب سے بڑھ کر ایک جری استاد تھے۔ ۔۔الفاظ اور محاورات کی تو دو اساتذہ کو میں چلتی پھرتی یونی ورسیٹیاں کہتا تھا ۔۔اور اس میں معمولی بھی شک نہیں تھی ۔۔۔۔پروفیسر خالد عبّاس بابر اور پروفیسر چودھری محمّد صدیق ناگی ، یہ دونوں زیرک اور باکمال استاد اپنی مخصوص چال ،ڈھال ، گفتگو ، سادہ اور منکسر المزاج استاد فنون لطیفہ کے بہت رسیا تھے۔ ۔۔بات بات سے محاورے اور اشعار کا فیض چلتے پھرتے جاری رکھتے ۔۔۔۔آفاقی انسانی قدروں اور مجبور مظلوم طبقوں کے احساسات و جذبات ، خوابوں ، امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوۓ احترام آدمیت کا بہت خیال رکھتے اور گاؤں سے آنے والے سادہ طالب علموں سے زیادہ نرمی اور ہمدردی کرتے کہ یہ سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج میری گفتگو کا موضوع پروفیسر خالد عبّاس بابر کی آفاقی شاعری ہے ۔۔۔۔۔۔بعض لوگوں کو ان کی اس خوبی کا علم نہیں تھا ۔۔۔۔ خالد عبّاس بابر غزل اور نظم پر برابر دسترس رکھتے تھے ۔ان کی نظموں اور غزلوں میں جدت فکر ، مضامین کا تنوع اور نیا اسلوب ملتا ہے ۔۔۔۔۔۔خالد عبّاس بابر کا مجموعہ کلام ” تیشہ تخلیق “کےعنوان سے 1975 میں جمال پبلی کیشنز لائل پور سے چھپا ۔۔ان کی زیادہ تر نظمیں نثری ہیں۔ ۔۔ان کو زبان و بیان کے تمام وسائل پر قدرت حاصل ہے۔۔۔ان کی نظم کی سب سے بڑی خوبی لفظی تصویر کشی ہے ۔۔۔۔۔
خالد عبّاس بابر اب تک مختلف النوع ادبی ، ثقافتی اور تعلیمی مسائل پر انگریزی اور اردو مسن مختلف اخبارات اور رسائل میں اپنسے خیالات کا اظہار کرتے رہتے تھے ۔علاوہ یہ بات قابل داد ہے کہ انھوں نے شعر و سخن جیسے باریک اور مشکل فن کے لیے بھی وقت نکالا ۔۔انگریزی زبان کے با ذوق رفقا جانتے ہیں کہ ” پیام سحر “مجلہ گورنمنٹ کالج رحیم یار خان میں چھپنے والی طویل نظم “نغمہ روح ” کتنی خوبصورت تھی اور اس کی گونج ہر عہد میں سنائی دی ۔۔۔
” تیشہ تخلیق ” خالد عبّاس بابر صاحب کا پہلا شعری نقش ہے ۔۔اس مجموعہ کلام میں نظموں کے علاوہ غزلیں بھی ہیں ۔۔یہ سب بیس پچیس سال پہلے کی شعری کاوشیں ہیں ۔۔خالد عبّاس بابر بینادی طور پر ایک درویش منش اور صاحب ایمان شاعر تھے ۔۔وہ دوسروں سے اتنی محبّت کرتے تھے کہ راقم (اظہاراحمد گلزار) بطور ان۔ کا شاگرد ہوتے ہوۓ اس بات کا صحیح اظہار بھی نہیں کر سکتا ۔۔۔شعر گوئی کا ملکہ انھیں والدین سے وراثت میں ملا تھا ۔۔ان کے والد گرامی رحمت علی بہترین آرٹسٹ رہے ہیں ۔اور والدہ کو پنجابی کے ہزاروں اشعار زبانی یاد تھے ۔۔خالد عبّاس بابر کو شعر کہنے میں کہاں تک کامیابی حاصل ہوئی ، یہ تو اہل فن ہی بتا سکیں گے ۔
مختلف تقریبات اور مواقع پر احباب ان سے ان کے دبنگ لہجہ ان کا کلام سن کر محظوظ ہوتے رہتے تھے لیکن انھیں اپنے اس کلام کو شائع کرنے کا خیال کبھی نہ گزرا ۔۔اس لیے ان کا مسودہ ، سالہا سال تک بے ترتیبی میں دیگر فائلوں میں پڑا رہا ۔۔اس کو یکجا کرنا اور پھر اس کا انتخاب سب سے اہم کام تھا ،۔کچھ عرصہ کے لیے ان کا مجموعہ کلام کے اشاعتی پروگرام سے ٹاطہ تو ضرور منقطع۔ ہو گیا مگر ایم – اے سطح پر تنقیدی تدریس سے انھیں اپنے کلام کو جانچنے میں بے حد مدد ملی ۔۔۔وقت بہتا رہا ۔۔۔۔۔خالد عبّاس بابر اس مجموعہ میں ” اپنی بات ” میں لکھتے ہیں ۔
” آس لدھیانویکے توسط سے میری رسائی پاکستان کے معروف اور کہنہ مشق شاعر جناب حزیں لدھیانوی سے ہوئی جن سے میں نے ساکن اور متحرک الفاظ کی پہچان پر بہت کچھ سیکھا ۔۔ان کسے وقیع علم اور گوناگوں دیگر اوصاف کے پیش نظر میں نے ان کو آخر اپنا استاد مان لیا ۔””
خالد عبّاس بابر اپنے بیٹے جمال کو مخاطب کرتے ہوۓ کہتے ہیں ۔
میرے فرزند ! میری جان! مرے لخت جگر
میری امید کی قندیل ، میرے نور نظر
آرزو ہے کہ تو انسان کا ہو سچا رہبر
تو ہو تصویر عمل کا کامل پیکر
اپنی والدہ محترمہ کے لیے بڑی خوب صورت عقیدت رکھتے ہوۓ کہتے ہیں ۔۔
€ یہ شام و سحر تیرے دم سے ہیں روشن
تو ہو سامنے تو خدا رو برو ہے

نمونہ
۔۔€ میری تنہائیاں میری دم ساز ہیں
بحر کی وسعتیں میری ہم راز ہیں

🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے