Home / کالم / انصاف کے تقاضے

انصاف کے تقاضے

ذرا سوچیں:
تحریر:
ریا ض حسین (جوائنٹ فورسز پبلک سکول)

اللہ رب العزت نے دُنیا بنائی تو اشرف المخلوقات انسان کو بنایا، اس کی تعلیم و تربیت کے لیے انبیاء کرام بھیجے، تعلیم و تربیت کے لیے بھیجے جانے والے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کو معبوث فرمایا اور پھر انبیاء کرام کاسلسلہ بند کر دیا گیا۔ مطلب یہ اللہ کریم نے انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے تک پہنچانے اور قائم رہنے تک کام مکمل کر دیا، اگر کہیں کوتاہی ہو تو اس کی رہنمائی کے لیے قرآن مجید فرقان حمید اور اسوہ حسنہ سے نواز دیا۔ قرآن مجید ایک جامعہ قانون، نسخہ کیمیا ہے جس میں انسان کی زندگی کے اصول وضع کر دیئے گئے تاکہ معاشرے میں بگاڑ نہ پیدا ہو، جس نے بھی قرآن مجید کے مطابق زندگی بسر کی اس نے فلاح پائی خواہ کوئی فرد، معاشرہ یا ملک ہو، قرآنی قوانین کو مزید تفصیل سے خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود عملی نمونہ پیش کرکے سمجھا دیا جو قیامت تک ہمارے لیے رہنمائی ہے۔ زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے معاملات سپہ سالاری، حکومتی نظام، قانونی، عدل و انصاف اور معاشرہ کی تشکیل مواخات مدینہ کو انتہائی موثر، احسن انداز میں رہنمائی فرمائی۔ جن قوموں نے اسوہ حسنہ سے رہنمائی حاصل کی وہ ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہونے لگے جو دُنیا اور عقلی دلائل میں پھنس گئے وہ ترقی کی منزلیں طے کرنے میں کوسوں دور ہیں۔میری تحریر ایک انتخاب ہے جسے میں قارئین کی نظر کر رہا ہوں۔ جسے پوری طرح پڑھنے کے بعد اپنا اپنا احتساب کرنا ہو گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔۔ ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران اسٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹا۔پولیس اریسٹ کرکے عدالت میں پیش کرتی ہے پھر جج اور لڑکے کے درمیان دلائل کا مکالمہ کچھ اس طرح شروع ہوتاہے۔۔۔ جج نے فرد ِ جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا ”تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟” ”بریڈ اور پنیر کا پیکٹ” لڑکے نے اعتراف کرلیا۔ ”کیوں؟” ”مجھے ضرورت تھی” لڑکے نے مختصر جواب دیا۔ ”خرید لیتے” ”پیسے نہیں تھے” ”گھر والوں سے لے لیتے” ”گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگار۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔” ”تم کچھ کام نہیں کرتے؟” ”کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔” ”تم کسی سے مدد مانگ لیتے” ”صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی” جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔ ”چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، مجھ سمیت۔ اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔” یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے۔ ”اس کے علاوہ میں اسٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ اسٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔” فیصلے کے آخری ریمارک یہ تھے: ”اسٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔” فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی، اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اور وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔ اللہ کریم میری قوم میں ایسا جذبہ اور انصاف پسندی ڈال دے کہ ہم عدل قائم کر سکیں۔ آمین
(”کفر” کے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے۔ اپنے شہریوں کو انصاف ہی نہیں عدل بھی فراہم کرتے ہیں)

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے