Home / اسلام / اہلِ کتاب اور نااہلِ کتاب !! 🌹

اہلِ کتاب اور نااہلِ کتاب !! 🌹

🌹#العلمAlilm 🌹 علمُ الکتاب 🌹
((((( الماٸدہ ، اٰیت 77 ))))) 🌹
اہلِ کتاب اور نااہلِ کتاب !! 🌹
ازقلم📕 اخترکاشمیری
🌹 علم الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیت و مفہومِ اٰیت ! 🌹
🌹 قل یٰاھل الکتٰب
لا تغلوافی دینکم غیرالحق
ولاتتبعوا اھوا ٕ قوم قد ضلوامن قبل
واضلواکثیرا وضلواعن سوا ٕ السبیل 77
اے ھمارے سفیرِ جہان ! آپ اہلِ کتاب کے نام اپنا یہ فرمان جاری کردیں کہ وہ اللہ کے مُتوازن دین کو اپنی مُبالغہ آمیز تعبیرات کے ذریعے غیر مُتوازن دین بناکر خود کو اُن پہلے گُم راہ لوگوں کے ساتھ شامل نہ کریں جو دین کی ایسی ہی لایعنی تعبیرات کر کے پہلے خود گُم راہ ھوۓ اور پھر دُوسرے لوگوں کو بھی گُم راہ کرنے کا باعث بنے ، یہاں تک کہ گُم راہ کرنے والے سارے لوگ اور گُم راہ ھونے والے سارے لوگ بھی اجتماعی گُم راہی کا شکار ھو کر دین سے بُہت دُور چلے گۓ !
🌹 دینِ بلُوغ اور دینِ مُبالغہ ! 🌹
اٰیتِ ھٰذا میں اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کے اِس فرمانِ عام کے ذریعے اہلِ کتاب کو دینِ حق میں ناحق اضافوں سے اجتناب کا جو حکم دیا ھے اِس سے قبل سورةُالنسا ٕ کی اٰیت 171 میں بھی اللہ نے اپنے ایک براہِ راست خطاب میں اہلِ کتاب کو یہی حُکم دیا ھے جس کا اِس مقام پر اُس نے اپنے نبی اور اپنے رسول کی زبان سے اِعادہ و تکرار کیا ھے تاکہ سُننے والوں کو اِس دُوسرے دُھرے حکم کے بعد وہ پہلا حکم بھی یاد آجاۓ اور اُن پر اِس حُکمِ مکرر کی اَہمیت پہلے سے زیادہ بہتر طور پر واضح ھو جاۓ ، اللہ تعالٰی نے اہلِ کتاب کو پہلے بذاتِ خود اور بعد ازاں اپنے نبی کی زبان سے جس عمل سے احتراز کا حکم دیا ھے اُس عمل کا نام” غُلوّ “ ھے اور جو شخص اِس غُلوّ کا اِرتکاب کرتا ھے وہ انسانی معاشرے میں اپنے نظریات کے حوالے سے ایک ایسا مُتشدد طبع اور غالی صفت انسان بن کر سامنے آتا ھے جو ہر وقت اور ہر مقام پر اپنی اِس عادتِ بَد کے تحت اپنی ذات کو ایک بے وُقعت ذات اور اپنی بات کو ایک بے حقیقت بات بنادیتا ھے اور اپنی اِس عادتِ بَد کے ساتھ وہ اور تو جو چاھے بن جاۓ لیکن وہ دین کے ایک داعی و مُبلغ کے طور دین کی کوٸ خدمت بجالانے کے قابل نہیں ھوتا کیونکہ دین کے اُس داعی کے حوالے سے دین کا جو تصور سامنے آتا ھے وہ انسانی فطرت کے لیۓ ناقابلِ قبُول ھوتا ھے اسی لیۓ اللہ تعالٰی نے غُلوّ کے اِس عمل کی سختی کے ساتھ مُمانعت کی ھے ، علمِ لُغت اور علماۓ لُغت کے نزدیک غُلوّ کا ایک لُغوی معنٰی تیر کو دَست و کمان کے زور سے دُور تک پُہنچانا ھوتا ھے اور اِس کا ایک معنٰی اپنی بات کو اپنی زبان اور اپنے بیان کے زور سے دُوسروں کے دل میں بٹھانا بھی ھوتا ھے ، اسی طرح غُلوّ کا ایک معنٰی اپنی قابلِ فروخت اَشیا ٕکی قیمت کو بڑھاچڑھا کر بتانا اور بیچنا ھوتا ھے اور اِسی غلُوّ کا ایک معنٰی اپنے قابلِ فروغ نظریات کی حقیقت کو اصل سے بڑھا چڑھا کر دُوسروں کو سُنانا اور پھر اپنے اِس دروغ کے ذریعے اُن کو اپنے اِن نظریات کے زیرِ اثر لانا ھوتا ھے ، اسی طرح غُلوّ کا ایک معنٰی درخت کا شاخ دار ھونا اور اِس کا ایک معنٰی گوشت کا چربی دار ھونا بھی ھوتا ھے اور اسی طرح غُلوّ کا ایک معنٰی ہانڈی کا وہ اُبال ھوتا ھے جو ہانڈی کے کناروں کو جَلا دیتا ھے اور اِس کا ایک معنٰی انسانی فکر و نظر کا وہ جَنجال ھوتا ھے جو انسان کے دین و ایمان کے لیۓ ایک وبال ھوتا ھے ، اِنسانی اَعمال کے اِس مآل کا نتیجہ یہ ھوتا ھے کہ انسان جب اپنے تیر کو اُس کی مناسب حَد سے زیادہ دُور تک پُہنچانے کی کوشش کرتا ھے تو وہ تیرِ ھوا کے زور سے اپنے ہَدف کے بجاۓ کہیں اور جا پُہنچتا ھے اور جب انسان ایک سچی بات میں جُھوٹ کی ملاوٹ کرتا ھے تو اُس کا سچ بھی جُھوٹ میں شامل ھو کر ایک جُھوٹ بن جاتا ھے ، اسی طرح جب ایک درخت زیادہ شاخ دار ھو جاتا ھے تو اُس کا پَھل اُس کے پَتوں میں چُھپ کر ایک عام ضرورت مند کی انسان کی دَسترس سے دُور ھو جاتا ھے اور اسی طرح جو گوشت بہت زیادہ چربی دار ھوجاتا ھے تو وہ گوشت بھی انسانی جسم میں جا کر انسانی جسم کے لیۓ نفسانی و رُوحانی فساد کا باعث بن جاتا ھے اور اسی طرح جب ہانڈی کا اُبال ضرورت سے زیادہ ھو جا تا ھے وہ اپنے ہی کناروں کو جلا کر ہانڈی کو بیکار کر دیتا ھے اور بالکُل اسی طرح جب ایک انسان اپنے اَعمال کو ھوش و حواس کے بجاۓ وحشیانہ جوش و جذبات سے اَنجام دیتا ھے تو وہ توازن کے بجاۓ عدمِ توازن کا شکار ھو جاتا ھے ، قُرآنِ کریم نے غُلوّ کے اِس عملِ بَد سے اجتناب کے حق میں یہ تاریخی دلیل دی ھے کہ گزشتہ اَقوام اسی عملِ غُلوّ کے باعث عدم توازن کا شکار ھو کر ایک فکری و نظری موت کا شکار ھوتی رہی ہیں اور دُوسرے انسانوں کو بھی اسی فکری و نظری موت سے ہَمکنار بناتی رہی ہیں ، نتیجہِ کلام یہ ھوا کہ اگر انسان فطری اِرتقا کے تدریجی عمل سے گزرکر حَدِ کمال کو پُہنچتا ھے تو یہ اِس کا بلُوغ کہلاتا ھے اور انسان کا دین بھی ارتقاۓ وقت کے فطری عمل سے گزر کر حَدِ کمال تک پُہنچتا ھے تو کارِ اِبلاغ قرار پاتا ھے لیکن ہر وہ شٸ جو ارتقاۓ حیات و ارتقاۓ وقت کے فطری دورانیۓ سے گزرے بغیر اَنجام پزیر ھوتی ھے وہ اسی غُلوّ کے زُمرے میں آتی ھے جس سے اللہ نے منع کیا ھے ، مرضِ غُلوّ کا پہلا راستہ کسی بڑے انسان کی غیر ضروری تعظیم ھوتا ھے اور دُوسرا ذریعہ دین کی وہ غیر فکری اور غیر فطری تعلیم ھوتا ھے جس کی بُنیاد میں وہ غُلوّ یا مُبالغہ ھوتا ھے جو اپنے نتاٸج و عواقب کے اعتبار سے ایک ایسا خطرناک مرض ھوتا ھے جو غُلوّ کے مریض کو اُس وقت بھی محسوس نہیں ھوتا جب چشمِ بینا رکھنے والا ہر ایک شخص اُس کو فرقہ پرست اور غالی کہہ رہا ھوتا ھے !
🌹 اہلِ کتاب اور نا اہلِ کتاب ! 🌹
انسان جب مرضِ غُلوّ کا شکار ھو کر غالی ھو جاتا ھے تو وہ اپنے عقاٸد و نظریات کو دُوسروں کے سامنے مُبالغے اور غُلوّ کے ساتھ پیش کرتا ھے جس کی وجہ سے پہلے تو ایک وقت تک اُس کے وہ عقاٸد و نظریات حقیقت اور اَفسانے کے ایک ملے جُلے قالب میں جمع ھو کر زندہ رہتے ہیں لیکن ایک وقت کے بعد انسان کے وہ عقاٸد و نظریات اُس اَفسانے کے تاریک سمُندر میں اُتر کر فنا ھوجاتے ہیں اور اُس اَفسانے کے اُس سمندر پر اُس کا وہ چمکتا ھوا جھاگ رہ جاتا ھے جس کی جُھوٹی چمک کو دیکھ کر ہی گُم راہ اہلِ عقاٸد کے یہ گُم راہ قافلے ہمیشہ خوش ھوتے رہتے ہیں کہ وہ مزعومہ نظریات کو پھیلا رھے ہیں حالانکہ وہ اپنی ذات اور اپنے نظریات کو مٹا رھے ھوتے ہیں ، ھم جن مُردہ اہلِ عقاٸد کے مُردہ عقاٸد و نظریات کی جو حقیقت بیان کر رھے ہیں اُس حقیقت کو سمجھنے کے لیۓ ہمیں کہیں دُور جانے کی ضرورت نہیں ھے کیونکہ یہ حقیقت اللہ تعالٰی نے اِس اٰیت کے متن میں خود ہی بیان کر دی ھے کیونکہ ھم یہ بات جانتے ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ گزشتہ کٸ صدیوں سے ھم جن لوگوں کو اہلِ کتاب کہتے چلے آ رھے ہیں اُن سے ھماری مُراد یھُود یا نصارٰی ہیں لیکن کیا ھم نے اِس بات پر بھی کبھی کُچھ غور کیا ھے کہ یھُود و نصارٰی کے اپنے دین میں غُلوّ کرنے سے اللہ کو ایسی کیا خاص دِل چسپی ھے کہ اُس نے ایک بار بذاتِ خود اہلِ کتاب کو دین میں غُلوّ کرنے سے منع کیا ھے اور دُوسری بار اپنے رسول کے توسط سے اُن کو اِس کام سے اِجتناب کی تلقین کی ھے اور ہمیں نہ تو خود اللہ نے اِس بُرے کام سے رُکنے کا کوٸ حکم دیا ھے اور نہ ہی اپنے رسول کے توسط سے ہمیں اِس عمل سے اِجتناب کی کوٸ تعلیم دی ھے ، یھُود و نصارٰی سے اللہ کے اِس لگاٶ اور اہلِ اسلام کے ساتھ عدمِ لگاٶ کی کوٸ تو قابلِ فہم وجہ ھونی چاہیۓ جو موجود نہیں ھے اور اِس وجہ کے موجود نہ ھونے کا مطلب صرف اور صرف یہ ھے کہ اِس اٰیت کا وہ مفہوم بہر حال نہیں ھے جوصدیوں سے اِس اُمت کے اَحبار و رُہبان اِس اُمت کو سمجھاتے چلے آرھے ہیں بلکہ اُن کی اِس تفہیم اور تعلیم کے بر عکس زمینی حقیقت یہ ھے کہ جو لوگ ھمارے ہَم وطن ھوتے ہیں ھم اُن کو اہلِ وطن کہتے ہیں ، جو لوگ ھمارے گھر میں رہتے ہیں ھم اُن کو اہلِ خانہ کہتے ہیں ، جو لوگ کسی زبان میں ماہر ھوتے ہیں ھم اُن کو اہلِ زبان کہتے ہیں ، جو لوگ کسی کام کے ماہر ھوتے ہیں ھم اُن کو اہلِ حرفہ کہتے ہیں ، جو لوگ کسی زبان میں شاعری کرتے ہیں ھم اُن کو اہلِ سُخن کہتے ہیں لیکن ھم اللہ کی آخری کتاب کے آخری وارث ھونے کے باوصف بھی خود کو بھی اہلِ کتاب کہنے کے بجاۓ صرف اُن لوگوں کو اہلِ کتاب کہتے ہیں جن کے پاس سرے سے کوٸ کتاب ہی موجود نہیں ھے ، اِس اُمت کے ساتھ یہ سب کُچھ جو ھوا ھے وہ اِس سبب سے ھوا ھے کہ اِس اُمت کے اَحبار و رُہبان نے اسلام کی پہلی صدی کے نصف اَوّل میں ہی اُمتِ مُسلمہ کے اہلِ کتاب ھونے کے اِس اعزاز کو اِس سے چھین کر اِس کی ایک جماعت کو اہلِ تشیع اور ایک جماعت کو اہلِ تسنن بنا دیا تھا ، پھر اسلام کی پہلی صدی کے پہلے نصف کے اسی دُوسرے حصے میں اُمت کی ایک جماعت کو اہلِ فقہ اور ایک جماعت کو اہلِ حدیث بنادیا گیا تھا جس کے بعد اِس اُمت میں اہلِ تسنن بھی ہمیشہ موجود ر ھے ہیں ، اہلِ تشیع بھی ہمیشہ موجود رھے ہیں ، اہلِ فقہ بھی مُستقل طور پر موجود ر ھے ہیں ، اہلِ حدیث بھی مُستقل طور پر موجود رھے ہیں ، اہلِ تصوف بھی ہمہ وقت موجود رھے ہیں اور اہلِ سلُوک و اہلِ طریقت بھی ہمہ وقت موجود ر ھے ہیں لیکن اِس اُمت میں اہلِ کتاب کبھی بھی موجود نہیں ر ھے ہیں اور نہ ہی اُن کو موجود رہنے دیا گیا ھے ، حالانکہ اللہ نے اِس اٰیت میں غُلوّ سے مُمانعت کا جو خطاب فرمایا ھے اُس خطاب کی مخاطب یہی اُمت ھے جس کے پاس قُرآن کی صورت میں اللہ کی یہ کتاب موجود ھے اور اللہ کے رسول کے خطاب کی مخاطب بھی یہی عظیم اُمت ھے جس عظیم اُمت کو اُس عظیم نبی نے اپنے اُوپر نازل ھونے والی اِس عظیم کتاب کا وارث بنایا ھے لیکن گزشتہ کٸ صدیوں سے اِس اُمت کی کتاب بخاری و مُسلم ھے یا ترمذی و ابُو داٶد ھے اور یا پھر نَساٸ اور ابنِ ماجہ ھے لیکن قُرآن اِس اُمت کی کتاب نہیں ھے اور یہ سب کُچھ نتیجہ ھے اُس غُلوّ کا جس غُلوّ سے اللہ نے ہمیں اجتناب کا حکم دیا ھے لیکن ھمارے عجمی مَکتب کے عجمی مُعلم ہمیں مُسلسل یہی افسانہ سناتے چلے آ رھے ہیں کہ اللہ اور اُس کے رسول کے اِس خطاب کے مُخاطب یھُود و نصارٰی ہیں ، مُسلمان اِس خطاب کے مُخاطب نہیں ہیں کیونکہ مُسلمان اہلِ کتاب نہیں بلکہ نااہلِ کتاب ہیں !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے