Home / اسلام / آبِ خیر کے کرشمے اور سیلابِ شَر کے فتنے !!

آبِ خیر کے کرشمے اور سیلابِ شَر کے فتنے !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
الماٸدہ ، 78 ، 79🌹
آبِ خیر کے کرشمے اور سیلابِ شَر کے فتنے !! 🌹 ازقلم 📕اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 لعن الذین
کفروا من بنی اسراٸیل
علٰی لسان داٶد وعیسٰی ابن مریم
ذٰلک بما عصوا وکانوایعتدون 78 کانوا لایتنا
ھون عن منکر فعلوہ لبٸس ماکانوایفعلون 79
بنی اسراٸیل کے جو لوگ خیر سے اِنکار کرنے اور شر پر اصرار کرنے کے عادی مُجرم بن چکے تھے ، اُن لوگوں کو اللہ نے داٶد کی زبان سے بھی دُھتکار دیا تھا اور عیسٰی ابنِ مریم کے ذریعے بھی اُن پر اللہ کی پِھٹکار پڑی تھی کیونکہ یہ اپنے اپنے زمان و مکان کے وہ بَدکار و بَد کردار لوگ تھے جنہوں نے ایک دُوسرے کی بَدکاری پر زبان بند کر لی تھی اور اِن سرکش لوگوں نے اللہ کے دین اور اپنے اَخلاقی آٸین کی جُملہ حدُود کو پامال کر دیا تھا !
🌹 انسانی تاریخ کے لَعنتی کر دار ! 🌹
اٰیاتِ بالا کی پہلی اٰیت کا جو پہلا لفظ ” لعن “ ھے وہ ھمارے معاشرے میں کثرت کے ساتھ استعمال ھونے والے لفظِ لعنت کا مُخفف ھے ، لعنت کا لُغوی معنٰی کسی شخص کا خیر سے دُور اور شر سے قریب ھونا ھوتا ھے اور اِس خاص استعمال کے خاص حوالے سے یہ لفظ ہر اُس شخص کے شخصی کردار کے لیۓ بطور خاص بولا جاتا ھے جس کو اُس کے خاص معاشرتی ماحول میں کبھی ڈانٹ ڈپٹ ، کبھی دُھتکار پِھٹکار ، کبھی بَختی و بَد نصیبی ، کبھی ذلت و رُسواٸ ، کبھی ملامت کی علامت اور کبھی سزا و سرزنش کا حق دار کا سمجھا جاتا ھے ، قُرآنِ کریم نے مُختلف مقامات پر اِن مُختلف مفاہیم کی اَداٸگی کے لیۓ لعنت کے اِس لفظ کو کم و بیش 53 بار استعمال کیا ھے اور ہر مقام پر انسان کے کسی ایسے بُرے وصف کی نشان دَہی کے لیۓ استعمال کیا ھے جو اِنسان نے خود اِختیار کیا ھے اور اٰیتِ ھٰذا کے اِس مقام پر لعنت کا یہ لفظ بنی اسراٸیل کے لیۓ اُس اصطلاح کے طور پر استعمال کیا گیا ھے جو غالبا داٶد و مسیح کے زمانے میں اِس قسم کے معاشرتی مجرموں کے لیۓ ایک رَاٸج معاشرتی اِصطلاحِ کے طور پر استعمال کی جاتی تھی !
🌹 خیر کے چَشمے اور شَر کے سَر چَشمے ! 🌹
اُردو زبان میں لعنت کا لفظ ہر بَدی اور ہر بُراٸ بلکہ ہر گالی کے لیۓ استعمال کیا جاتا ھے جو اِس کا درست استعمال نہیں ھے کیونکہ قُرآنِ کریم کے حوالے سے اِس لفظ کی ایک فلاسفی ھے جس فلاسفی کی بُنیاد یہ ھے کہ انسان کے ہر اَچھے اور ہر بُرے عمل کا آغاز ایک اَچھے یا ایک بُرے خیال سے ھوتا ھے اور یہ خیال ایک ایسا اُڑتا ھوا پرندہ ھے جس کو پکڑ کر تصور کے پنجرے میں ڈالنا اور پالنا انسان کے اپنے اختیار میں ھوتا ھے ، انسان جس اَچھے خیال کو کعبہِ دِل میں ڈالتا ھے وہ اَچھا خیال پہلے اُس کے تصور میں جگہ بناتا ھے اور پھر ایک وقت کے بعد اُس کے عمل میں ڈھل کر اُس کی سیرت و کردار کا ایک لازمی حصہ بن جاتا ھے اور انسان جس بُرے خیال کو اپنے مَن کے مَندر میں سجاتا ، سنبھالتا اور پالتا ھے وہ بُرا خیال بھی پہلے اُس کا تصور ، بعد ازاں اُس کی عادت اور سب سے آخر اُس کی عبادت بن جاتا ھے ، یہ بات اِس بات کی دلیل ھے کہ خیر کے سارے چشمے بھی انسانی نفس سے پُھوٹتے ہیں اور شر کےسارے سر چشمے بھی انسانی نفس سے ہی جاری ھوتے ہیں ، انسانی خیالات کے یہ طوفانی ریلے اُس سیلِ آب کی طرح ھوتے ہیں جس سے کُچھ لوگ بچنے کے لیۓ خود کو اِس سے طوفانی ریلے سے دُور ہَٹا لیتے ہیں اور کُچھ لوگ جن کو اپنے بچاٶ کے ساتھ ساتھ دُوسرے لوگوں کے بچاٶ کا بھی خیال ھوتا ھے تو وہ نیک دِل لوگ اِس سیلِ آب کے سامنے اپنی سیرت وبصیرت اور اپنے کردار و عمل کے بند باندھ کر اپنے بِچنے کا بھی انتظام کرتے ہیں اور دُوسرے انسانوں کو بچانے کا بھی اہتمام کرتے ہیں !
🌹 قُدرت کا قانُونِ جزا و سزا ! 🌹
جب تک جس انسانی معاشرے میں بُراٸ سے خود بچنے اور دُوسروں کو بچانے والے یہ دو قومی کردار موجود رہتے ہیں تب تک وہ انسانی معاشرہ قاٸم و داٸم رہتا ھے اور جب بُراٸ سے خود بچنے اور دُوسروں کو بچانے والے یہ دو نوں کردار جس معاشرے سے ناپید ھو جاتے ہیں تو پہلے وہ انسانی معاشرہ دُھتکار پِھٹکار ، بَدبختی و بَد نصیبی ، ذلت و رُسواٸ ، ملامت و سرزنش اور سب سے آخر میں سزا وعتاب کا حق دار ھو جاتا ھے ، اٰیاتِ بالا میں اِس بیمار معاشرے کی پہلی علامت یہ بتاٸ گٸ ھے کہ اِس کے اَفراد اپنی سرکشی اور اپنے فتنہ شَر میں بِلا خوف و خطر بڑھتے چلے جاتے ہیں اور دُوسری علامت یہ بتاٸ گٸ ھے کہ جب اِس باغی و بَد کردار معاشرے کے اَفراد بَد کرداری میں پُختہ ھو جاتے ہیں تو اُن کے کردار کی سیاہی اُن کو اتنا رُوسیاہ بنادیتی ھے کہ اُن کو ایک دُوسرے کے مُنہہ کی کالک نظر ہی نہیں آتی اور وہ ایک دُوسرے کو معصیت پر شرمندہ و ملامت کرنے کی صلاحیت سے محرُوم ھو جاتے ہیں ، بنی اسراٸیل کی تاریخ کا جو گوشہ قُرآن کی اِن آیات میں نظر آتا ھے اُس کو دیکھنے سے معلوم ھوتا ھے کہ جب اِس قوم پر اِس مبینہ بدکرداری کا پہلا اَندھا پَن آیا تو اللہ تعالٰی نے داٶد علیہ اسلام کو حکم دیا کہ وہ اِس قوم کے سر کردہ اَفراد کو اُن کی انسانی شرم و حیا کا اِحساس دلاٸیں اور جب اِس قوم پر دُوسری بار لعنت و بَد بختی کا دُوسرا اَندھا پَن اٰیا تو اللہ تعالٰی نے عیسٰی مسیح کو اِسی کام پر مامور کیا ، بِلا شُبہ اِن دونوں برگزیدہ ہستیوں نے شَر کے اِس سیلاب کے سامنے خیر کے بَند باندھنے کی پوری کوشش کی لیکن اِن دونوں زمانوں کی دونوں اَقوام کو راہِ ھدایت پر آنے کی توفیق نہیں ھوٸ تا آنکہ اللہ تعالٰی نے یہ کام سیدنا محمد علیہ السلام کے سپرد کردیا اور آپ کے کارِ نبوت کی بدولت چودہ سو سال کے مُختصر عرصے میں انسان کو کارِخیر کی ترغیب دینے اور اَعمالِ شَر سے روکنے والی ایک قوم تیار ھوچکی ھے جس کا قومی وجود دُنیا کے سینے پر دُوسرا سب سے بڑا وجود ھے !
🌹 کلامِ اور نتیجہِ کلام ! 🌹
قُرآنِ کریم نے تاریخ کا جو یہ ورق پیش کیا ھے اِس سے نتیجہِ کلام کے طور پر جو دو باتیں سامنے آتی ہیں اُن میں سے پہلی بات یہ ھے کہ زمین پر خیر و شر اور رَنج و اَلم کی صورت میں جو کُچھ بھی ظاہر ھوتا ھے وہ انسان کے اپنے اَعمال کا ایک قُدرتی نتیجہ یا رَدِ عمل ھوتا ھے اور دُوسری بات یہ سامنے آتی ھے کہ انسان اپنے دِل میں خیالِ خیر کو جگہ دیتا ھے تو خیالِ خیر اُس کی رُوح اور اِس کے دِل میں جگہ بنا کر بیٹھ جاتا ھے اور پھر خیر کا یہ خیال اُس کی ذات اور معاشرت پر رَحمت بن کر چھا جاتا ھے اور جب کوٸ انسان شر کو اپنے دِل میں بسا لیتا ھے تو شَر بھی ایک بیماری بن کر اُس کی رُوح و جسم اپنا قبضہ جمالیتا ھے اور پھر شر کا یہی مُتعدی مرض فَرد کی ذات میں پَھلنے پُھولنے کے بعد پُورے انسانی معاشرے پر آکاش بیل کی طرح چھا جاتا ھے اور اِس عمل کے بعد وہ انسانی معاشرہ ایک سُوکھے ھوۓ درخت کی طر ح زمین بوس ھو جاتا ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے