Home / اسلام / اہلِ کتاب کا عقیدہ توحید اور تثلیث !! 🌹

اہلِ کتاب کا عقیدہ توحید اور تثلیث !! 🌹

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
الماٸدہ ، اٰیت 70 تا 74 🌹
اہلِ کتاب کا عقیدہ توحید اور تثلیث !! 🌹
ازقلم🌺 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی آن لاٸن تفسیر ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !!🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 لقد اخذنا
میثاق بنی اسراٸیل
وارسلناالیھم رسلا کلما جا ٕ
ھم رسول بمالا تھوٰی انفسھم فریقا
کذبوا وفریقا یقتلون 70 وحسبوا الا تکون فتنة
فعمواوصمواکثیر منھم واللہ بصیر بمایعملون 71 لقد
کفرالذین قالوا ان اللہ ھوالمسیح ابن مریم وقال المسیح یٰبنی
اسراٸیل اعبدوااللہ ربی و ربکم انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ
الجنة وماوٰہ النار وماللظٰلمین من انصار 72 لقد کفرالذین قالوا ان اللہ ثالث
ثلٰثة ومامن الٰہ الا الٰہ واحد وان لم ینتھواعمایقولون لیمسن الذین کفروامنھم عذاب
الیم 73 افلایتوبون الی اللہ و یستغفرونہ واللہ غفور رحیم 74
ھم نے بنی اسراٸیل سے ایک پُختہ تر عھد لیا اور اُن کی طرف پے دَرپے اپنے نماٸندے بہیجے مگر جب بھی اِن کے پاس ھمارا کوٸ نماٸندہ اِن کی خواہشات کے خلاف کوٸ پیغام لے کر آیا تو اِن میں سے کسی نے اُس کو جُھوٹا کہا اور کسی نے اُس کو اِس خیال سے قتل کیا کہ اُس کا یہ اَقدام کسی فساد کا باعث نہیں ھو گا اِس لیۓ اُن میں سے ہر گروہ اَندھا اور بہرا بن کر اِس کام میں مُبتلا ھوا لیکن اللہ نے اِس اجتماعی جُرم کے باوجود بھی اُن کو حق کی طرف واپس آنے کا موقع دیا لیکن وہ لوگ اپنے اِس اَندھے پَن اور بہرے پَن میں بڑھتے ہی چلے گۓ اور اللہ ایک مُدت تک اُن کے اِن اَعمالِ بَد کو دیکھتا رہا ، بِلاشُبہ اُن لوگوں نے اللہ کا انکار کیا ھے جنہوں نے یہ کہا ھے کہ مریم کا بیٹا مسیح ہی اللہ ھے حالانکہ اِس سے قبل مسیح ابنِ مریم خود کو اُن کو یہ تعلیم دے چکا تھا کہ تُم سب نے اسی اللہ کی بندگی کرنی ھے جو میرا پروردگار ھے اور تُمہارا بھی پرورش کار ھے ، تُم میں سے جو بھی کسی کو اللہ کا شریک بناۓ گا اُس کے لیۓ جنت کی راہ بند کر دی جاۓ گی اور جہنم کی راہ کھول دی جاۓ گی اور جزا و سزا کے اِس فیصلے کے بعد اُن کو کسی کی کوٸ مدد بھی مُیسر نہیں آۓ گی ، بِلاشُبہ اُن لوگوں نے بھی اللہ کا انکار کیا ھے جنہوں نے یہ کہا ھے کہ اللہ تین میں سے ایک ھے حالانکہ اللہ صرف ایک ھے اور اُس ایک کے ساتھ کوٸ اور اللہ ہر گز نہیں ھے ، اگر اِن لوگوں نے اپنے اِس اعتقاد سے رجوع نہ کیا تو پھر اِن کو ایک دَردبھری سزا دی جاۓ گی ، تو پھر کیا یہ لوگ اَب بھی اپنے اِس غیر عقلی اور غیر منطقی اعتقاد سے توبہ نہیں کریں گے ، اللہ تو ہر وقت توبہ کرنے والوں کی توبہ کو قبول کرتا ھے اور اپنے بیکراں رحم و کرم کے باعث اپنے بندوں کی خطاپوشی کرتا ھے !
🌹 بنی اسراٸیل کے ساتھ 24 خُداٸ میثاق ! 🌹
یہ بنی اسراٸیل کے اپنے اپنے زمانے کے اپنے اپنے نبی کے ذریعے اللہ کے ساتھ کیۓ گۓ اُن ہی 24 میثاق میں سے ایک میثاق کا ذکر ھے جن کا قُرآن نے سرةُالبقرہ کی اٰیت 27 ، 63 ، 74 ، 83 ، 93 ، سُورہِ اٰلِ عمران کی اٰیت 81 ، 187 ، سورةُالنسا ٕ کی اٰیت 21 ، 90 ، 92 ، 154 ، 155 ، سُورةُالماٸدہ کی اٰیت 7 ، 12 ، 13 ، 14 ، 70 ، سورةُالاَعراف کی اٰیت 169 ، سورةُالاَنفال کی اٰیت 72 ، سورةُالرعد کی اٰیت 20 ، 25 ، سورةُالاَحزاب کی اٰیت 7 ، 8 اور سورةُالحدید کی اٰیت 8 میں ذکر کیا ھے ، بنی اسراٸیل کا طبقہِ اُولٰی وہ ھے جو عھدِ مُوسٰی میں گزارا ھے اور طبقہِ ثانیہ وہ ھے جو عھدِ عیسٰی میں موجود رہا ھے ، اِن نبیوں کی دو اُمتوں کے ساتھ اللہ کے کُل 24 میثاق یا 24 معاھدے قرار پاۓ تھے ، اگر اِن دونوں نبیوں کی دونوں اُمتوں کے ساتھ برابر برابر میثاق قرار پاۓ ھوں تو ہر اُمت کے ساتھ کیۓ گۓ میثاق کی تعداد 12 ھوگی لیکن بنی اسراٸیل کے پہلے طبقے کی مُدتِ حیات زیادہ ھے اِس لیۓ اِن میں سے زیادہ تر میثاق کا تعلق اُسی پہلے طبقے سے رہا ھو گا اور کم تر میثاق کا تعلق دُوسرے طبقے سے ھوگا تاہم اِس سے تفصیل سے یہ بات یقینی طور پر سمجھ آجاتی ھے کہ یہ دونوں اُمتیں بہر حال اُن سارے میثاق کی پابند تھیں جن کا قُرآن نے ذکر کیا ھے اور نبوت کی تعلیمِ عام کے حوالے سے موجودہ اُمت بھی اِن سارے میثاق و مواعید کی پابند ھے جن کا قُرآن نے ذکر کیا ھے اور اِن مواعید کو توڑنے کی اِس اُمت کو بھی وہی سزا ملے گی جس سزا کا قُرآن نے گزشتہ دو اُمتوں کے حوالے سے ذکر کیا ھے !
🌹 عُلماۓ کلیسا کا عقیدہِ توحید ! 🌹
عقیدہِ تو حید ہی اَدیانِ عالَم کا وہ بُنیادی عقیدہ ھے جس کی جُملہ اَنبیا و رُسل نے تعلیم دی ھے اور جُملہ اَنبیا و رُسل کی طرح مُوسٰی علیہ السلام اور عیسٰی علیہ السلام نے بھی تعلیم دی ھے لیکن قُرآنِ کریم نے آیات بالا میں اِس اَمر کی نشان دَہی کی ھے کہ عیسٰی علیہ السلام کی اُمت میں سے ایک جماعت نے عقیدہ توحید کا تو اقرار کیا ھے لیکن اُس نے توحید کا یہ عقیدہ اللہ کے بارے میں اختیار نہیں کیا بلکہ اللہ کے اُس عظیم ھادی عیسٰی مسیح کے بارے میں اختیار کیا ھے جس کو اللہ نے زمین پر اپنی وحدانیت کا اقرار کرانے کے لیۓ مبعوث کیا تھا اور اِن لوگوں نے اللہ کی توحید کا اقرار کرنے کے بجاۓ یہ عقیدہ اختیار کر لیا تھا کہ اللہ یقینا وحدہ لا شریک ھے لیکن یہ اللہ وحدہ لاشریک خود عیسٰی مسیح ھے ، عیسٰی مسیح کے سواکوٸ اور اللہ نہیں ھے اور ظاہر ھے کہ اُلوہیتِ مسیح کا یہ عقیدہ علماۓ کلیسا کا وہ خانہ زاد عقیدہ ھے جس کا عیسٰی علیہ اسلام کی تعلیمات سے کوٸ تعلق نہیں ھے !
🌹 عُلماۓ کلیسا کا عقیدہِ تَثلیث ! 🌹
قُرآن کی اٰیاتِ بالا میں عُلماۓ کلیسا کا دُوسرا عقیدہ یہ بتایا گیا ھے کہ اللہ تعالٰی تو یقینا ایک ھے لیکن وہ بذاتِ خود ایک نہیں ھے بلکہ تین میں کا تیسرا ایک ھے اور اِس تیسرے کی تشریح یہ کی جاتی ھے کہ اللہ عیسٰی مسیح کا باپ ھے اور جس طرح باپ اللہ ھے اسی طرح اُس کا بیٹا بھی اللہ ھے اور چونکہ اِس بیٹے نے مریم کے پیٹ میں پرورش پاٸ ھے اور مریم کے پیٹ سے پیدا ھوا ھے ، اِس لیۓ مریم بھی اپنی ذات میں اللہ ھے ، یعنی ہر ایک اللہ اپنی اپنی ذات میں واحد بھی ھے اور ہر واحد کا مجموعہ ایک تثلیث بھی ھے اسلیۓ اِسی توحید میں تثلیث ھے اور اسی تثلیث میں توحید ھے لیکن توحید بالتثلیث کا یہ ایک ایسا پیچیدہ عُقدہ یا عقیدہ ھے کہ کلیسا کے ایک عالم نے جب اپنے تین شاگردوں سے تثلیث کی اِس تفہیم کے بارے میں سوال کیا تو ایک نے کہا کہ ایک خدا وہ ھے جو آسمان میں ھے ، دُوسرا وہ ھے جو کنواری مریم کے پیٹ سے پیدا ھوا ھے اور تیسرا وہ ھے جو دُوسرے خُدا پر تیس سال کی عُمر میں ایک کبوتر کی شکل میں نازل ھوا تھا ، اِس تیسرے سے اُس کی مُراد رُوح القدس تھا جس کے بارے میں انجیل متی کے باب 3 کی آیت 13 میں لکھا ھے کہ وہ عیسٰی مسیح پر تیس سال کی عمر میں کبوتر کی شکل میں نازل ھوا تھا ، پادری نے دُوسرے شاگرد سے یہی سوال کیا تو وہ بولا کہ خدا تین تھے جن میں سے ایک کو سُولی دے دی گٸ ھے اور اَب صرف دو بچے ھوۓ ہیں ، پادری صاحب نے اِن دونوں کے جوابات سے مایوس ھو کر تیسرے شاگرد سے پُوچھا تو اُس نے کہا کہ میری سمجھ کے مطابق ” ایک تین ھے اور تین ایک ھے جن میں سے ایک کو سُولی دی گٸ تو وہ مرگیا اور دُوسرے دو اُس کے ساتھ مُتحد الجسم ھونے کے باعث مر گۓ اور اَب کوٸ خدا بھی موجود نہیں ھے ، اِس لیۓ علماۓ کلیسا کہتے ہیں کہ ھمارا عقیدہ تو یہی ھے لیکن ھم اپنے اِس عقیدے کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور سمجھانے سے بھی عاجز ہیں !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے