Home / کالم / ہمارے قومی المیے اور ان کا حل

ہمارے قومی المیے اور ان کا حل

تحریر:
حافظ عمیرحنفی

ہم من حیث القوم جس زبوں حالی کا شکار ہیں وہ یقیناً قابل تشویش ہے آئے روز جس طرح کے واقعات جنم لے رہے ہیں وہ ہماری تنزلی و پستی کا شرمناک منظر دنیا کے سامنے بھی پیش کررہے ہیں ہمارے قومی مسائل ایک طویل فہرست رکھتے ہیں جن کی مختلف اقسام ہیں ایک طرح کے وہ مسائل ہیں جو ہمارے حکمرانوں کے پیدا کردہ ہیں ایک قسم ان مسائل کی بھی ہے جو ہمیں وراثتی طور پر ملے ہیں زیادہ تر وہ مسائل ہیں جو ہمارے منفی رویوں اور غلط رہنمائی کیوجہ سے پیدا ہورہے ہیں ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب برائیوں کا الزام حاکم وقت کے سر تھونپ رہے ہوتے ہیں کیا کبھی اس بات پر غور کیا اس برائی میں برابر کے مجرم ہم بھی ہیں

ہمارے چند ایک بڑے مسائل ہیں جن میں تعلیم سے عدم دلچسپی ، غربت ، بے روزگاری ، جہالت ، کرپشن ، معاشی بدحالی ، ہمارے منفی رویے ، اخلاقی فقدان یہ سب وہ عناصر ہیں جو ہمیں تباہ و برباد کررہے ہیں درحقیقت ہم ایک ایسے گرداب میں پھنس چکے ہیں جس سے نکلنا ناممکن نہیں البتہ مشکل ضرور ہے ہماری معیشت آخری ہچکولے لے رہی ہے کرپشن زوروں پر ہے سیاسی منظر نامہ آلودہ ہوچکا ہے سب سے بڑا مسئلہ ہمارا غربت ہے پاکستان میں 80٪ فیصد لوگ غربت و بےروزگاری اور مفلسی کی زندگی بسر کررہے ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے کیا کبھی ہمارے ضمیر نے جھنجھوڑا کہ وہ بھی انسان ہیں ہم ان کو انسانیت سے جدا ایک قوم سمجھتے ہیں کسی بھی مفلس کو دیکھ کر ہمارے چہرے کے تیور بدل جاتے ہیں اگر انہی غرباء کی کفالت کی جائے ان کی بنیادی ضرورت تعلیم کو پورا کیا جائے تو بعد ازاں یہی بچے اور نوجوان اپنی معاشی صورت بہتر کرکے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکتے ہیں غریب کو غربت کے طوق سے نکالنے کیلئے یہ ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا پھر تعلیم کی طرف آئیں تو کچھ ایسی خرابیاں جو مسلسل اس محکمہ میں پائی جاتی ہیں ان کا خاتمہ ضروری ہے وہ ڈگریوں کا میرٹ کی بنیاد پر نہ ہونا ہے ہمارے ہاں کامیاب تعلق کامیاب جاب اور ڈگری کا سبب ہوتا ہے رشوت و سفارش تو معمول کی کارروائی بن گئی ہے جب تک اس سوچ و نظریہ کا خاتمہ نہیں ہوگا حقدار کو اس کا حق نہیں ملے گا تب تک ہم تعلیمی میدان میں اقوام عالم سے پیچھے ہی رہینگے

تیسرا المیہ جہالت ہے جو اپنے زوروں پر ہے قوانین سے انحرافی ہمارا مزاج بن چکا ہے آئے روز کے حادثات اس پر واضح دال ہیں علاوہ ازیں ہمارے لسانی علاقائی مسلکی اختلافات نے ہمیں مزید کھوکھلا کردیا ہے قتل و غارت روز مرہ کا معمول بن چکا ہے چھوٹی چھوٹی رنجشوں پر ، زمینی مسائل پر خاندان کے خاندان اجڑ جاتے ہیں ایک وکیل ڈاکٹر سے لڑ رہا ہوتا ہے ایک جاگیردار جب جیسے دل چاہے اپنے ستم و تشدد کا نشانہ غریبوں کو بنا رہا ہوتا ہے پیری کے نام پر کئی خاندان اجڑ رہے ہوتے ہیں علاقے کا حاکم خدا بنا بیٹھا ہے یہ ہمارا بہت بڑا المیہ ہے اس کے لیے ہمیں فقط شعور پیدا کرنا ہوگا جب تک ہم شعور سے نابلد رہیں گے یہ مسائل یونہی بڑھتے رہیں گے

چوتھا المیہ کرپشن ہے جب جس قوم سے سچ نکل جاتا ہے جب ہر کسی کو اپنے پیٹ بھرنے کی فکر دامن گیر ہوتی ہے جب قومی مفاد پس پشت چلا جاتا ہے جب اتنا بنانے کی فکر ہوجاتی ہے کہ سات نسلیں کھا سکیں تو پھر غریب بھوک سے مرتا ہے وہ فرعون نما مغرور و متکبر قارون بن جاتے ہے اسی کو کرپشن کہا جاتا ہے اس کا بھی حل احساس و خدا خوفی کا پیدا کرنا ہے اسی میں ہی ہماری معاشی بد حالی کو بدلنے کا حل موجود ہے

سب سے بڑا المیہ ہماری منفی سوچ و نظریہ ہے ہم چاہتے ہیں جیسے میرا نظریہ ہے سب اسی کے مطابق ہوجائیں لوگ اپنی عقل و فہم کے مطابق بول رہے ہوتے ہیں ہم اپنی سوچ کو دوسروں کی سوچ پر مسلط کررہے ہوتے ہیں اپنا نظریہ نہ ملنے پر راہیں جدا کرجاتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ جو ہم بول رہے ہیں وہی حق ہے جو میرا مشن ہے وہی سچ ہے جو اس کے علاوہ ہے وہ سب ناحق اور باطل ہے جب سب کو اپنی سوچ کے مطابق ڈھالنے کا سوچ لیتے ہیں تب ہمارے مسائل بننا شروع جاتے ہیں ہر پہلو کے دو رخ ہوتے ہیں مگر ہم تعصب کی بھیانک عینک لگا کر دیکھ رہے ہوتے ہیں
دوسروں کے عیوب پر خوردبین لگا رکھی ہوتی ہے ہر بات کو ہم منفی لے رہے ہوتے ہیں یہاں ہماری سوچ کا قصور ہے جس دن ہم مثبت ہوگئے اس دن ہمارے آدھے سے زیادہ مسائل حل ہوجائیں گے انشاءاللہ

آخری المیہ ہمارے اخلاقی فقدان کا ہے ابھی چند دن قبل کھڈیاں قصور میں ایک معصوم حافظ قرآن کا قتل ہوا فقط اس بناء پر ہوا کہ وہ غلط کاری اور و دوستی پر راضی نہ تھا اس واقعے کے بعد تو الفاظ ختم ، عقل مفلوج ، دماغ مفقود ، دل شکستہ اور ہاتھ پاؤں کام کرنا چھوڑ گئے ہیں جب ایسی خبر سنتے ہیں تو انسانیت شرمندہ ہوتی نظر آتی ہے اب تو لوگوں میں یوں لگتا ہے کہ جیسے غیرت کا جنازہ نکل چکا ہو حمیت کی میت تیار ہوچکی ہو ضمیر دفنا دیا گیا ہو
احساس کی قل خوانی ہوگئی ہو ایمان کی انگیٹھی مکمل سرد ہوچکی ہو نجانے کیوں یہ باتیں اثر نہیں کرتی! نجانے کیوں ہم مسائل کا سدباب نہیں کرپاتے! نجانے کیوں ہم بے حس و بےبس ہوگئے ہیں کیا یہ لوگ رب کو بھول گئے ہیں؟ کیا ان لوگوں کو خدا یاد نہیں ہے؟ کیا سینے میں دھڑکتا اور پھڑکتا دل نہیں ہے؟

قاتل دن دیہاڑے باپ کے سامنے بیٹے کو قتل کرجاتا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں بچیوں کی عصمتیں تاتار ہورہی ہیں کوئی پاسبان نہیں ہے ہزاروں نوجوان نشہ و غلط کاری میں تباہ ہوگئے کوئی پرسان حال نہیں لاکھوں بچوں کو جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنا کر ناکارہ کردیا گیا! میں کیسے نواز شریف عمران خان زرداری یا مولانا فضل الرحمن مدظلہ کی سیاست کا مقدمہ لڑوں! میں کیسے ان شخصیات کے دفاع میں لوگوں سے تلخ کلامیاں کروں! کیا ہمیں ان مباحث سے فرصت ملے گی ہاں اگر کبھی اس خواب غفلت سے بیدار ہوں اور ضمیر جھنجھوڑے! عقل سلیم کچھ ساتھ دے تو ہم ایک قوم بنانے نکلیں ایک پاکستان بچانے نکلیں ان مسائل(تعلیم سے عدم دلچسپی ، غربت ، بےروزگاری ، کرپشن ، جہالت ،معاشی بد حالی ، منفی رویے اور اخلاقی فقدان) کے سدباب کے لیے اٹھیں

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے