Home / کالم / عقیدے کی جنگ

عقیدے کی جنگ

📖 *ہماری مغرب سے جنگ صرف اور صرف ایمان اور عقیدے کی جنگ*
انتخاب گروپ
✒️ *سید خالد جامعی مدظلہ*
ـــــــــ ــــــــــ ــــــــــ
گیارہ ستمبر کے بعد امریکی ریاست کا سب سے بڑا مسئلہ طالبان کا خاتمہ اور دہشت گردی تھی، آج سب سے بڑا مسئلہ طالبان سے مذاکرات اور افغانستان میں آئینی، جمہوری اور قانونی ریاست کا قیام ہے، کل تک طالبان دہشت گرد تھے، پوری دنیا دہشت گردی کے خلاف جنگ کر رہی تھی، بش نے کہا دنیا فیصلہ کرے وہ کس کے ساتھ ہے امریکہ کے ساتھ ہے یا دہشت گردوں کے ساتھ ہے، تیسرا راستہ کوئی نہیں؟ پھر اچانک طالبان کو اوبامہ نے دہشت گردی کی فہرست سے نکال دیا، دلیل یہ دی گئی کہ طالبان قومی آزادی کی جدو جہد کر رہے ہیں ان کا کوئی عالمی ایجنڈا نہیں، پہلے بش نے کہا تھا کہ طالبان دہشت گرد ہیں ان سے بات نہیں ہوگی آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، اب اچانک طالبان اچھے ہوگئے *اس لئے کہ انہوں نے آئینی، قانونی، دستوری، جمہوری اور بنیادی حقوق کے ایجنڈے کو قبول کر لیا ہے* دوحہ قطر میں طالبان نے کہہ دیا کہ *امریکہ سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہے، عورت تعلیم حاصل کرے یا نوکری کرے وہ آزاد ہے بس اسلامی احکامات کے تحت آزادی ملے گی، طالبان کا یہ بیانیہ بدلا تو امریکہ کا بیانیہ بھی بدل گیا* سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ کو شکست دینے کے بعد جدیدیت اور اس کے اداروں کو قبول کر کے مذاکرات کی میز پر ہی شکست کھانا تھا تو جنگ کی کیا ضرورت تھی؟ *گیارہ ستمبر کے بعد بش اور امریکہ نے طالبان سے نہ دستور کا مطالبہ کیا تھا، نہ آئین کا، نہ جمہوریت کا، نہ عورت کے حقوق کا، نہ مساوات کا، نہ تعلیم کا، نہ نوکری کا، نہ بنیادی حقوق کا اور نہ الیکشن کا صرف اسامہ بن لادن کا مطالبہ کیا تھا* تو وہ اسامہ کو حوالے کر دیتے کم از کم دوسرے مطالبات سے تو بچ جاتے مگر *طالبان کا جہاد میدان جنگ میں تو کامیاب و کامران ہوگیا مگر مذاکرات کی میز پر نا کام ہوگیا* امریکہ جو جدید سائنس و ٹیکنالوجی کا امام ہے *وہ دنیا کے بیشتر ممالک کی حربی و انسانی مدد کے ساتھ اور جدید ترین اسلحہ سے لیس ہو کر افغانستان کے بے سر و ساماں اور جدید ٹیکنالوجی سے نا بلد اور نا آشنا مگر دہقانی، ایمانی اور روحانی طور پر مضبوط ترین مجاہدین پر حملہ آور ہوا اور اپنی ٹیکنالوجی کے زعم کے ساتھ میدان جنگ میں ذلیل و رسوا ہوگیا دنیا نے پھر ایک مرتبہ ایمان و یقین کو غلبہ حاصل ہوتے دیکھا* انہوں نے عہد حاضر کے بڑے بڑے مسلم دانشوروں کے اس مفروضے کو (جو سو سال سے اس کو مسلسل اور مستقل لکھ اور بیان کر رہے تھے) غلط ثابت کر دیا کہ *سائنس و ٹیکنالوجی کے بغیر غلبہ ناممکن ہے، مسلمان سائنس میں پیچھے رہ گئے ہیں اس لئے وہ پوری دنیا سے پیچھے ہیں اور اسی لئے وہ محکوم بھی ہیں لیکن میدان جنگ میں سائنس و ٹیکنالوجی سے نا بلد طالبان کے ہاتھوں ہار ہوا اور ان کو ذلیل کر دیا* وہی امریکہ جب مذاکرات کی میز پر آتا ہے *تو جیتے ہوئے طالبان کو اپنی ہر بات اور اپنے ہر نظریے کو منوا لیتا ہے، طالبان عالمی سے قومی اور اسلامی سے افغانی ہوگئے* قومی، جمہوری اور انسانی حقوق پر مبنی ریاست ان کا ہدف ہے، Adorno نے یہی کہا ہے کہ *جدیدیت کا کمال یہ ہے کہ اس کا فکر و فلسفہ انسانی شعور کا حصہ بن جاتا ہے* ہم اسی لئے مسلسل ایک ہی بات لکھ اور بیان کر رہے ہیں کہ *مغرب سے ہماری جنگ نہ ہی ترقی کی ہے، نہ سائنس کی ہے، نہ ٹیکنالوجی کی ہے اور نہ اسباب کی ہے، ہماری مغرب سے جنگ صرف اور صرف ایمان اور عقیدے کی جنگ ہے، ہم جب بھی ہاریں گے تو ایمان اور عقیدے میں کمزوری کی وجہ سے ہاریں گے اور جب ہم نے کفار کو شکست دی ہے وہ اسباب کی وجہ سے نہیں ایمان اور عقیدے کی مضبوطی کی وجہ سے دی ہے* اس امت کا اصل مسئلہ ایمان کی کمزوری ہے *طالبان وہ عظیم قوم ہے کہ جس نے تین عالمی، سائنسی، ٹیکنالوجیل طاقتوں (برطانیہ، روس اور امریکہ) کو شکست دے کر ثابت کر دیا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کی ایمان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں مگر مغرب سے عقیدے اور ایمان کی جنگ مذاکرات کی میز پر ہار گئے، انہوں نے مغرب کے تمام عقیدے دانستہ یا غیر دانستہ قبول کر لئے یہ خوش گمانی کی جا سکتی ہے کہ شاید یہ محض حکمت عملی ہو لیکن اس خوش فہمی کو قبول کرنا بہت مشکل ہے اللہ خیر کرے* (آمین)
ـــــــــ
*تفہیم مغرب فورم* سے مستفید ہونے کےلئے درج ذیل لنک پر کلک کیجئے!
https://chat.whatsapp.com/Dxr4XY4Cco5AxVULPVYr0T

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

One comment

  1. Avatar

    I very like this blog. Everything is cleared.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے