Home / کالم / میرے گلاب

میرے گلاب

تحریر
ایم عاصم بوٹا
چیف ایڈیٹر
ماہنامہ اوج ڈاٸجسٹ
عنوان
میرے گلاب
راٸٹر سلیم اختر مرحوم
سر سلیم اختر مرحوم آپ کی ادبی خدمات اور آپ کی شخصیت کو میرا سلام
دنیا فانی
کبھی کبھی زندگی کی تلخیاں ہمیں اس موڑ پہ لے آتی ہیں کہ زیست کے لمحوں میں ہر چیز میسر ہوتی ہے مگر ایک خیال ہمارے وجود میں ہلچل پیدا کر دیتا ہے ہماری حالت ایک ماں سے بچھٹرے معصوم بچے کی سی ہوجاتی ہے ماضی کے در کھل جاتے ہیں خیالات کو دل ودماغ سے جھٹکنا چاہتے ہیں پھر جھٹک نہیں پاۓ سنگ سنگ گزرے لمحوں کی یادیں حالات واقعیات ایک فلم کی طرح دماغ کی پردہ سکرین پر چلنےلگ جاتے ہیں نہ چاہتے ہوۓ بھی ہم اپنے ماضی میں کھو جاتے ہیں یہ کل ہی کی تو بات لگتی ہے نومبر 2019 جب شام کے ٹاٸم آسمان پر گہرے سیاہ بادلوں کا راج تھا میں ادب کے فروغ کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا بیٹھے بیٹھاۓ قابل احترام ادب کی دنیا میں جانی پہچانی شخصیت رولپنڈی کے درخشندا ستارے سلیم اختر صاحب سے محو گفتگو ہو چکا تھا ڈاٸجسٹ نکالنے کا اردہ ڈرتے ڈرتے ظاہر کیا کیونکہ وہ بزرگ راٸٹر اور میرے بہت سینٸر تھے اجکل تو جیسے چھ ماہ ہو جاۓ لکھتے ہوۓ وہ کہتا مجھ سے بڑا راٸٹر کوٸی نہیں سینٸر جوٸینر کی تمیز بھول جاتے ہیں مگر بارہ سال تک مختلف ڈاٸجسٹوں میں ایک سو سے زیادہ تحریریں لکھنے کے باوجود سلیم اختر صاحب سے ڈرے اور دھمیے لہجے میں اپنے مقاصد کو الفاظوں کا رنگ دے کر بیان کرنے کی کوشش کر رہا تھا چند لمحوں میں میں اپنی بات مکمل کر چکا تھا سلیم اختر صاحب جو کہ چالیس سال سے ادب کی دنیا سے منسلک تھے چھ سو سے زیادہ سٹوریاں افسانے اور ناول کے مصنف تھے سادہ طبعیت دھمیے لہجے کے مالک شفیق اور محبت کرنے والے انسان تھے میری بات غور سے سننے کے بعد اپنے لبوں کو حرکت دیتے ہوۓ بندہ ناچیز سے مخاطب ہوۓ عاصم بھاٸی آپ کے اردے پختہ محسوس ہوتےہیں یہ ادب سے منسلک چند لوگ بہت بے ادبے ہیں آپ کو گرانے کی کوشش کریں گٸے ہمت نہ ہارنا میری دعا اور قلمی تعاون آپ کے ساتھ رہے گا انکا شکریہ ادا کرتے ہوۓ کال کٹ کر دی کچھ ماہ بعد انہوں نے کال کی انکی کال کا آنا میرے لیے باعث فخر تھا بات ہوٸی انہوں نے اپنی طبعیت کی ناسازی کا بتاتے ہوۓ میرے گلاب سٹوری بھجنے کا بھی بتا دیا کہ سٹوری بھج رہا ہوں خیر عافیت پوچھنے کے بعد کال کا سلسلہ ختم ہوا چند لمحوں بعد ای میل پہ انکی تحریرمجھے مل چکی تھی جسکا عنوان تھا میرے گلاب سٹوری ڈاٸجسٹ میں تیاری کے مراحل میں تھی کہ ایک دن اچانک انکے بیٹے جومیرا ہم نام ہے عاصم کی کال موصول ہوٸی جسے جسے وہ بات کررہا تھے میرے ہوش حواس گم ہو رہے تھے عاصم نے روتے ہوٸے بتایا کہ میرے ابو سلیم اختر صاحب وفات پاہ گۓ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ اپنے کانوں کی سماعت پر یقین نہیں آ رہا تھا مگر حقیقت تھی جھٹلا نہیں سکتے تھے أب انکا خیال آتے ہی نگاہیں احترام سے جھک جاتی ہیں آنکھوں سے آنسوٶں کا ایک سیلاب بھی آمڈ آتا ہے جون کے اوج ڈاٸجسٹ میں انکی تحریر حاضر خدمت ہے آپ سب سے التماس ہے سیلم اختر مرحوم کے لیے دعا ضرور کرنا اللہ تعالی انکو جنت الفردوس میں جگہ دیں دعا گوہ

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

One comment

  1. Avatar

    I very like this blog. Everything is cleared.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے