Home / کالم / ریاست ِ مدینہ کے دعویدار

ریاست ِ مدینہ کے دعویدار

ذرا سوچیں:
تحریر: ریا ض حسین

بحیثیت مسلمان ہم اسلامی معاشرہ کو ریاستِ مدینہ کی طرز پر دیکھنا چاہتے ہیں، میرے خواب، میری سوچ ریاستِ مدینہ کی ہو سکتی ہے اور ہونی بھی چاہیے، کیا میں نے ریاستِ مدینہ بنانے کی ہستی خاتم النبین سرکار دوعالم سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کو پڑھا، یعنی پڑھنے کی کوشش کی، ایسے غیر جانبدار علماء اور فقہاء کی محافل میں شرکت کی، کیا میں نے اسلامیات جو کورس میں پڑھائی جاتی ہے اس کو غور سے پڑھنے اور عمل کرنے کی کوشش کی، یقینا نہیں، ماسٹر ڈگری میں احادیث مبارکہ اور صحابہ کرام کی سیرت کو کس حد تک پڑھا اور سمجھا، سوائے اس کے کہ یہ چند سوالات مشہور ہیں ان کو یاد کر لیا جائے پاس ہو جائیں گے، ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ کیا میں نے اس حقیقت کو کبھی جاننے اور سمجھنے کی بھی کوشش کی۔ مکہ سے مسلمانوں کا ہجرت کرکے مدینہ منورہ آنا پھر وہاں پر مواخات مدینہ پر عمل پیرا ہونا، ریاست مدینہ کی بڑی مثال ہے جس میں سرمایہ داروں اور زمینداروں نے اپنا سرمایہ اور زمینوں میں سے مکہ سے آنے والے بھائیوں کو حصہ دیا۔ اسی طرح آپ ﷺ کے زیر سایہ بے شمار ایسی تبدیلیاں آئیں جس سے مسلم معاشرہ دنیا کا بہترین معاشرہ قیام عمل میں آیا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق ؓ جب اپنے کاروبار کی بات کرتے ہیں،کہ کون دیکھ بھال کرے گا تو حضرت عمر فاروق ؓ کہتے ہیں اگر آپ اپنے کاروبار کو دیکھو گے تو پھر رعایا کے معاملات کون دیکھے گا، کہنے لگے پھرمیرے گھریلوں اخراجات کیسے پورے ہوں گے، جواب ملا کہ بیت المال سے وظیفہ، تنخواہ مقرر کی جائے، اب تنخواہ مقرر کرنے کا معاملہ سامنے آتا ہے، قربان جاؤں حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر فرمایا میرا وظیفہ یا تنخواہ اتنی ہی مقرر کر دی جائے جتنی ایک مزدور کی ہے، فرمایا اس میں آپ کا گزارہ کیسے ہوگا؟ کہنے لگے جس طرح مزدور کا ہوتاہے، سوال کیا گیا کہ اگر آپ کا اس میں گزارہ نہ ہوا تو پھر، کیاخوب صورت جواب ملتا ہے پھر مزدور کی تنخواہ میں اضافہ کر دیا جائے، ایسے جواب نہیں دیا گیا جو میرے پیارے وطن پاکستان میں ہوتا ہے کہ ہمیں چیک پر دستخط کرتے ہوئے شرم آتی ہے، وزیر اعظم کہتا ہے کہ میرا اس میں گزارا نہیں ہوتا اضافہ فرمایا جائے، میرا سادہ اور معصومانہ سوال ہے، ریاست مدینہ کا نام لینے اور خواب دیکھنے سے پہلے ریاست مدینہ کن بنیادوں پر استوار ہوئی ان کا پہلے مطالعہ کرو، عمل کر کے دکھاؤ جب اس قابل ہو جاؤ تو پھر ریاست مدینہ کے لیے دن رات ایک کرو، خالی ریاست مدینہ کے دعوے سمجھ سے بالا تر ہیں، سابقہ حکمرانوں کی طرح ایک نیا جذبانی اور مسلم کا لفظ استعمال کرتے ہوئے عام سادہ لوح لوگوں کو ریاست مدینہ کہہ کر بیوقوف بنا نے کی کوشش کی، میرے وطن کے یہ سادے لوگ تو ایک عرصہ سے ریاست مدینہ چاہتے ہیں لیکن کوئی مائی کا لعل پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے میں کامیاب نہ ہوسکا، کیونکہ وقت کے حاکم کو ریاست مدینہ کے طرز شاید علم نہیں۔ ریاست مدینہ میں انصاف تھا، حقدار کو حق ملتا تھا، کسی کی زمینوں پر قبضہ مافیا براجمان نہ تھا، اقراء پروری نہ تھی، سفارش اور رشوت نہیں تھی، شراب، جواء خانوں اور طوائفوں کے لائسنس نہیں تھے، سرعام جعلی پولیس مقابلے نہ تھے، کسی کی تذلیل نہیں ہوا کرتی تھیں، جہاں تو ایک عاما سپاہی عورت کو دوستی نہ کرنے پر قتل کردیتا ہے، رات نہ گزارنے پر حوالات میں بند کر دیتا، یعنی اختیارات کا ناجائز استعمال نہ تھا، کسی کا استحصال نہ تھا، ریاست مدینہ رعایا کی ماں تھی، چلے ہیں ہم اسٹیج اور کاغذوں میں ریاست مدینہ بنانے، میری وزیر اعظم پاکستان سے درخواست ہے خداراہ ریاست مدینہ ایک پاک بستی کا نام ہے، اسے یوں رسوا نہ کرو۔ تیرے سے تو چند بیوریوکریٹس اور کاروباری مافیاقابو سے باہر ہیں، دعوے کر رہے ہیں ریاست مدینہ کے،،، میں بھی ان چند جذباتی لوگوں میں سے ہوں جس نے آپ کی پڑھی لکھی باتوں پر اعتبار کیا اور آج ساٹھ کا ہونے کے باوجود اپنا گھر، کاروبار نہ بنا سکا، اگر کوئی روزگار کا بندوبست کیا بھی تو آپ کے فیصلوں نے دیوار کے ساتھ لگا دیا۔۔ ریاست مدینہ میں ایسا نہیں تھا، میری تمام سیاستدانوں سے درخواست ہے پاکستانی عوام کی سادگی کو اتنا بے مقصد استعمال نہ کرو کہ روز محشر ان کے ہاتھ تمہارے گریبانوں پر ہوں اور تمہارے پاس کوئی جواب نہ ہو۔ریاست مدینہ بنانے کے لیے حکمرانوں کو سب سے پہلے قربانیاں دینا پڑے گی۔ اللہ تعالیٰ میرے ملک پاکستان کو صحیح معنوں میں ریاست مدینہ بنانے اور باکردار ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے