Home / اسلام / عجمی رَوایات !!

عجمی رَوایات !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( الماٸدہ ، اٰیت 67 ))) 🌹
رسول کی تعلیمات اور عجمی رَوایات !! 🌹 ازقلم 📕اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیت و مفہومِ اٰیت ! 🌹
🌹 یٰایھاالرسول
بلغ ماانزل الیک من ربک
فان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ
یعصمک من الناس ان اللہ لا یھدی القوم الکٰفرین 67
اے ھمارے سفیرِ جہان ! آپ ھماری تنزیل کی تعلیم اور تبلیغ کا کام حسبِ سابق جاری رکھیں ، اگر آپ تنزیل کی یہ تعلیم مُسلسل جاری نہ رکھتے تو آپ کے لیۓ فریضہِ رسالت کی تکمیل اتنی آسان نہ ھوتی ، آپ نے یہ مُشکل کام اتنی سہُولت کے ساتھ اِس لیۓ اَنجام دے دیا ھے کہ آپ کے پروردِ گار نے آپ کو زمین کے تمام انسانوں کے درمیان ایک معصوم انسان بنایا ھے اور ہر تحقیق سے اِس اَمر کی بھی تصدیق ھو چکی ھے کہ جو لوگ آپ کا طرزِ تعلیم دیکھنے اور آپ کی صوتِ تبلیغ سُننے کے بعد بھی اللہ سے اپنی ھدایت نہیں چاہتے تو اللہ بھی اُن کو ھدایت کی توفیق نہیں دیتا !
🌹 تکمیلِ دین اور تفصیلِ تکمیلِ دین ! 🌹
سُورةالماٸدہ کی اٰیت تین میں اللہ تعالٰی نے اپنے دین کی تَکمیل کا یہ تاریخ ساز اعلان کیا تھا کہ آج کا دِن مُنکرینِ دین کے لیۓ ایک نا مُرادی و یاس کا دِن ھے لیکن تُمہارے لیۓ یہی دِن اُمید اور آس کا دِن ھے کیونکہ آج کے دن اللہ نے تُمہارے لیۓ اپنے دین کے قانونِ لازوال کا اِتمام کردیا ھے اور تُم پر اپنی رحمتوں کو بھی تمام کردیا ھے ، اللہ اپنٕے اِس قانون سے بیحد مُطمٸن ھے اور اِس قانون کے ماننے والوں سے بھی بیحد مسرور ھے ، یاد رکھو کہ تُم اللہ کے اِس عظیم دین کے حفاظتی اِحاطے میں آکر اللہ کے داٸرہِ پناہ میں آچکے ھو ، اِس لیۓ تُم ہمیشہ اللہ پر پُورا اعتماد کرنا اور ہمیشہ ہی اللہ پر پُورا پُورا بھروسا رَکھنا اور مُنکرینِ دین سے کبھی بھی نہ ڈرنا ، تَکمیلِ دین کے اِس اِعلان کا اَندازِ بیان بتاتا ھے کہ اللہ کے اِس عام خطاب کے مُخاطب عام اِہلِ اسلام تھے اور اَب سُورةالماٸدہ کی اٰیت 67 میں جو خاص خطاب کیا گیا ھے اُس خاص خطاب کے مُخاطب صرف اور صرف داعیِ اسلام سیدنا محمد علیہ السلام ہیں اور اللہ تعالٰی نے اپنے اِس عظیم خطاب میں اپنے عظیم رسول کے عظیم کام کی تعریف و توصیف کر کے آپ کی حوصلہ اَفزاٸ فرماٸ ھے !
🌹 مَن اَز بیگان گاں ہر گز نہ نالم ! 🌹
لیکن اللہ تعالٰی نے اپنے اِس عظیم الشان اعلان میں اپنے رسول کی جو تعریف و توصیف فرماٸ ھے وہ تعریف و توصیف اُن علماۓ مجوس کو پسند نہیں آٸ ھے جو اپنی یہُودیت مآب تفسیروں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ، لَپک لَپک کر اور بڑھ چِڑھ کر ایسی یہُودی روایات لانے کا اہتمام کرتے ہیں جن روایات کا مقصد توہینِ رسول اور توہینِ رسالت کے سوا کُچھ بھی نہیں ھوتا ، اِس لیۓ وہ اِس آیت کی تفسیر کے نام پر جو بہت سی مکروہ روایات لاۓ ہیں اُن میں کم و بیش وہ دس روایات مُفسر ابنِ کثیر نے اپنی تفسیر ابنِ کثیر کی زینت بناٸ ہیں جن کے نقل کرنے کی ہمیں ضرورت نہیں ھے اور اسی قبیل کی روایاتِ کاذبہ میں سے جو ایک روایت مُفسر ثناٶ اللہ امرتسری نے اپنی تفسیر مظہری کی تیسری جلد کے صفحہ 353 کی زینت بناٸ ھے وہ یہ ھے کہ ابنِ ابی حاتم ، ابنِ مردویہ اور ابنِ عساکر نے ابو سعید خُدری کے حوالے سے بیان کیا ھے کہ اٰیت یٰایھالرسول بلغ ماانزل الیک من ربک ، غدیر خَم کے موقعے پر علی ابنِ طالب کے حق میں نازل ھوٸ ھے اور ابنِ مردویہ ہی نے ابن مسعود کا یہ بیان بھی نقل کیا ھے کہ رسول اللہ کے زمانے میں ھم یہ اٰیت اِس طرح پڑھتے تھے ، یٰایھاالرسول بلغ ماانزل الیک من ربک ان علیا مولی المٶمین وان لم تفعل فما بلغت رسالة ، مَطلب ظاہر ھے کہ نبی اَکرم نے اٰیت کا یہ حصہ بیان نہیں کیا تھا جس کی ابنِ مسعود تلاوت کیا کرتے تھے اسی لیۓ آپ کو یہ زجر و توبیخ کی گٸ ، تفسیر مظہری کے مُفسر صوفی ثناٶ اللہ امرتسری نے اگرچہ اِس مردود روایت کی تردیدی بھی کی ھے لیکن سوال یہ ھے کہ اگر آپ کے دل میں بُغضِ رسول اور بُغضِ رسالت کا مرض نہیں ھے تو آپ نے یہ بُہتان بھری باطل روایت نقل ہی کیوں کی ھے ، جس نے کہا ھے ، سَچ ہی کہا ھے کہ :-
مَن اَز بیگان گاں ہر گز نہ نالم
کہ بامَن ہر چہ کرد آں آشنا کرد
🌹 آیت بالا کا مقصد اور مَنشا ! 🌹
حقیقت یہ ھے کہ اٰیت ھٰذا میں وارد ھونے والا حرفِ ” لَم “ حرفِ جزم ھے اور عربی کےمُسلمہ قواعد کے مطابق یہ حرفِ جزم ” لَم “ جب فعل مضارع پر آتا ھے تو مضارع کے ترجمہِ حال و مُستقبل کو مُٶثر بہ ماضی بنا دیتا ھے ، یعنی جب بھی فعل مضارع پر حرفِ ” لَم “ آ تا ھے تو یہ فعل اپنے معنی کے اعتبار سے مُتعلق بہ ماضی ھوجاتا ھے ، چناچہ ھم دیکھتے ہیں کہ قُرآنِ کریم اپنی کتابی ترتیب میں آنے والی دُوسری سُورت ، سُورةُالبقرہ کی اٰیت 23 میں جب مُنکرینِ قُرآن کو قُرآن کی ایک سُورت جیسی دُوسری سُورت لانے کا چیلنج کرتا ھے تو ساتھ ہی یہ بھی کہتا ھے کہ ” لم تفعلوا ولن تفعلوا “ کہ تُم اِس سے پہلے بھی ایسا کبھی نہیں کر سکے اور اِس کے بعد بھی ایسا کبھی نہیں کر سکو گے ، ایک توجہ کار انسان کو دونوں آیات کے اَلفاظ پر اِک ذراسی توجہ ڈالتے ہی فورا نظر آجاتا ھے کہ سورہِ البقرہ کی اٰیت 23 میں جو ” لم تفعلوا “ جمع کے صیغے کے ساتھ آیا ھے وہی ” لم تفعل “ سورةُالماٸدہ کی اِس اٰیت میں صیغہِ واحد کے ساتھ آیا ھے اور جس طرح سورةالبقرہ کی اٰیت 23 میں آنے والے اِس حرفِ ” لَم “ نے فعل مضارع کو مُٶثر بہ ماضی بنایا ھے اسی طرح سورةُالماٸدہ کی اٰیت 67 میں بھی اِس حرفِ ” لم “ نے فعل مضارع کو مُٶثر بہ ماضی بنا کر اِس اٰیت میں آنے والے کلام کو ذکرِ ماضی کی ایک تفصیلِ حال بنا یا ھے اور اِس تفصیلِ حال کا حاصل یہ ھے کہ اللہ نے سیدنا محمد علیہ السلام سے اپنا کوٸ حکمِ تنزیل چُھپانے پر کوٸ زجر و توبیخ نہیں کی بلکہ اللہ نے اپنے نبی کی اِس بات پر تعریف کی ھے کہ آپ نے اپنا کام انسانی بساط سے کہیں زیادہ بہتر طور پر اَنجام دیا ھے !
🌹 قُرآن کا قانونِ عصمتِ اَنبیا ٕ ! 🌹
اور قُرآنِ کریم کی اسی اٰیت میں اللہ تعالٰی نے اپنے رسول کو اپنے رسول کے اِس حُسنِ کار کردگی کا سبب بتاتے ھوۓ یہ ارشاد فرمایا ھے کہ ” واللہ یعصمک من الناس “ یعنی اللہ نے زمین کے سارے انسانوں کے درمیان آپ کو ایک معصوم ہستی بنایا ھے ، معصوم اُس ہستی کو کہتے ہیں جس کو اللہ اپنی حفاظت میں رکھ کر معصیتوں سے محفوظ کر دیتا ھے اور اٰیت ھٰذا کے مطابق اللہ تعالٰی نے آپ کو انسان کی شکل میں قریب آنے اور معصیت کی صورت میں قریب آنے والے دونوں دُشمنوں کے فتنہ و شر سے محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا ھے لیکن یہ بات بہر حال پیشِ نظر رہنی چاہیۓ کہ کسی ایک عظیم ہستی کی عظمت کا اِثبات کسی دُوسری عظیم ہستی کی عظمت کی نفی نہیں ھوتا بلکہ اِس کا مقصد صرف اِس اَمر کا اظہار کرنا ھوتا ھے کہ جس طرح ایک خاص زمانے میں اِس عظیم ہستی کی عظمت سے انسانوں کو آگاہ کیا جا رہا ھے اسی طرح پر دُوسرے خاص زمانوں میں دُوسری عظیم ہستیوں کی عظمت سے بھی انسانوں کو اسی طرح آگاہ کیا جاتا رہا ھے اور قُرآنِ کریم نے اپنے اِس اصول کو سورہِ جن کی اٰیت 27 میں اِس طرح بیان کیا ھے کہ اللہ تعالٰی اپنے جس برگزیدہ بندے کو اپنے کارِ رسالت کے لیۓ مُنتخب کر لیتا ھے تو پھر اُس کے آگے اور اُس کے پیچھے اپنے وہ پہرے دار لَشکری بھی لگا دیتا ھے جو ہر لَمحہ و ہر آن اللہ کے اُس برگزیدہ بندے کی جسمانی و رُوحانی حفاظت کرتے رہتے ہیں !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

One comment

  1. Avatar

    I very like this blog. Everything is cleared.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے