Home / کالم / جمہوریت اور خلافت میں فرق*

جمہوریت اور خلافت میں فرق*

📚 *انتخاب و پیشکش
سید خالد جامعی صاحب
ـــــــــــــ ـــــــــــــ
ایک عام مسلمان خلافت و جمہوریت میں فرق کو زیادہ نہیں‌ جانتا، ان کےلئے اختصار کے ساتھ چند بنیادی نکات پیش کرتا ہوں‌ کہ جن کو پڑھ کر کوئی بھی جان سکے گا کہ ان دونوں‌ میں‌ اختلاف کی اصل نوعیت کیا ہے؟

*اول ــــ خلیفہ کے چناؤ میں‌ عام پبلک حصہ نہیں‌ لیتی، بلکہ با اثر لوگ یعنی علماء، اپنے اپنے علاقوں کے قائدین، قبائلی سردار، معاشرے کے با اثر افراد وغیرہ وغیرہ حصہ لیتے ہیں* (با اثر افراد کون ہوں‌ اور ان میں‌کیا صفات ہوں‌، ان پر قرآن وسنت سے رہنمائی لے کر فیصلہ کیا جا سکتا ہے، اگر نیت اور ارادے درست ہوں‌) *اور جب وہ خلیفہ کا انتخاب کر لیتے ہیں تو عام پبلک صرف بیعت کرتی ہے*
*جبکہ جمہوریت میں ان پڑھ، جاہل، ڈاکو، چور اور نیک لوگ سب شریک ہوتے ہیں‌ اور سب کا ووٹ‌ برابر ہے*

*دوم ـــ خلافت میں ملک کا قانون خود بہ خود قرآن وسنت قرار پاتا ہے، اللہ کے قانون کو لاگو ہونے کےلئے اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں‌ ہوتی اور نہ ہی وہ اسمبلی کے اراکان کے پاس (منظور) کرنے کا محتاج ہوتا ہے، مثلا اسلام میں سود حرام ہے، اب اس کو لاگو کرنے کرنے کےلئے اگر اسمبلی کا محتاج کر دیا جائے گا تو یہ اللہ کے فیصلے کی توہین ہے اور اسی کو شرک کہتے ہیں‌، جبکہ آج عملی طور پر جمہوریت میں یہی چیز ہو رہی ہے*

*سوم ـــ خلافت میں اکثریت کی رائے کو ہر وقت قبول نہیں‌ کیا جاتا اور نہ ہی اسے اُصول بنایا جاتا ہے بلکہ کسی فیصلے کی بنیاد دلیل پر ہوتی ہے، جبکہ جمہوریت میں‌ اول و اخر اکثریت کو ہی فیصلہ کن مانا جاتا ہے*

*چہارم ـــ جمہوریت میں انسان کو قانون بنانے کی اجازت ہوتی ہے اور اس پر عمل در آمد کس حد تک ہو، اس کا فیصلہ بھی اسمبلی کے ممبران کرتے ہیں‌، جبکہ خلافت میں انسان کوئی قانون نہیں بنا سکتا، کیونکہ قانون بنانا اللہ کا کام ہے جو قرآن وسنت کی شکل میں‌ ہمارے سامنے موجود ہے، ہاں اس کے نفاذ کےلئے عملی اقدامات تجویز کرنا یہ اہل شورٰ‌ی کی مدد سے کیا جاتا ہے اور اللہ کا قانون سب پر یکساں نافذ ہوتا ہے*

*پنجم ـــ اسلام میں جو ایک دفعہ خلیفہ بن جائے منتخب ہو یا غیر منتخب اس کا ہٹانا جائز نہیں الا یہ کہ وہ کفر کا ارتکاب کرے، ایک خلیفہ کی وفات کے بعد ہی دوسرا خلیفہ بن سکتا ہے، جبکہ جمہوریت میں تین یا پانچ سال بعد انتخابات ضروری ہیں، منتخب شدہ صدر یا وزیر اعظم کیسا ہی اچھا اور کامیاب کیوں نہ ہو الیکشن ضروری ہیں، اس طرح‌ اگر کوئی جماعت، اسلام نافذ‌ بھی کر دیتی ہے تو اگلے پانچ سال کےلئے کوئی سیکولر پارٹی بھی حکومت بنا سکتی ہے، بنگلہ دیش کی مثال آپ کے سامنے ہے کہ حسینہ واجد نے اللہ کی حاکمیت کو ختم کر دیا ہے اور ریاست کو سیکولر قرار دیا ہے*

*ششم ـــ جمہوریت میں مذہب سے آزادی ہے، ہر کوئی جو چاہے مذہب رکھے کوئی پابندی نہیں، جس طرح چاہے مذہب بدلے کوئی رکاوٹ نہیں، کوئی سزا نہیں اس لئے جمہوریت میں لوگ پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں، باطل کو مٹانا اسلا م کا فرض ہے اور یہی جہاد ہے، جو قیامت تک فرض ہے، جمہوریت میں باطل سے جہاد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جمہوریت جہاد کو ختم کرتی ہے*

*ہفتم ـــ اسلام میں عورت حاکم نہیں ہو سکتی، سربراہ مملکت ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جمہوریت میں عورت بھی سربراہ مملکت ہو سکتی ہے، کوئی پابندی نہیں*

*ہشتم ـــ اسلام میں طاقت کا سرچشمہ اللہ ہے، جمہورت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں*

*نہم ـــ اسلام میں نہ حزب اقتدار کا تصور ہے، نہ حزب اختلاف کا، اسلام پارٹیوں کے سخت خلاف ہے، خاص طور پر سیاسی پارٹیوں کی تو قطعاً اجازت نہیں، جمہوریت پارٹیاں بنانا سکھاتی ہے اور پارٹیوں کے بل بوتے پر چلتی ہے، پارٹیوں کے بغیر جمہوریت چل ہی نہیں سکتی، حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا ہونا لازمی ہے*

*دہم ـــ جمہوریت سرمایہ دارانہ نظام ہے، الیکشن میں‌حصہ لینے والی جماعت کو اربو‌ں‌ روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں‌ اور جو جتنا زیادہ پیسہ لگاتا ہے، کامیاب ہوتا ہے غریب، ایمان دار اور شریف بندے کی اس میں کوئی قدر نہیں، جبکہ خلافت میں ان سب دھندوں‌کی کوئی ضرورت نہیں‌ ہے*

_______
تفہیم مغرب فورم:
https://chat.whatsapp.com/Dxr4XY4Cco5AxVULPVYr0T

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے