Home / کالم / کورونا وائرس، میڈیا کا کردار اور ہماری ذمہ داری…

کورونا وائرس، میڈیا کا کردار اور ہماری ذمہ داری…

بسم اللہ الرحمن الرحیم.
فضالہ وصیف.
30 May 2020

کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے. انسانیت اپنی تاریخ کے اک اور سخت ترین آزمائشی دور سے گزر رہی ہے. دنیا بھر میں،روزانہ کی تعداد میں، ہزاروں لوگ اس وبا کے باعث اپنی جانوں سے دستبردار ہورہے ہیں. معیشتیں مد و جزر کا شکار ہے. کاروبار ٹھپ ہوچکے ہیں. وطن عزیز، اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی ان حالات میں، کئی اور قدرتی. سیاسی اور معاشی وباؤں سمیت اس وائرس سے بھی نبرد آزما ہے.

جیو نیوز کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں میں 96 افراد اس بیماری سے ہار لقمۂ اجل بن گئے. 2363 نئے کیسز رپورٹ ہوئے. جبکہ مجموعی طور پہ اموات کی تعداد 1379 ہوگئی ہے. نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 65065 تک پہنچ چکی ہے. غریب آدمی کو بھوک کا وائرس مار رہا ہے. جبکہ جگہ جگہ ہجوم کرنے اور بازاروں،بینکوں،منڈیوں، امدادی جگہوں پہ رش اور احتیاطی تدابیر سے مجرمانہ غفلت برتنے کے باعث یہ وائرس بڑھتا جارہا ہے.

اسکی دو وجوہات ہیں. عوام ابھی تک اس مخمصے سے باہر نکل نہیں پائی ہے کہ آیا یہ وبا ہے یا کوئی سازش؟ اور یہ سوچ بے بنیاد بھی نہیں. اس سوچ کے پس پشت کئی سارے محرکات ہیں…
ملک بھر میں اکثر علاقوں سے یہ خبریں موصول ہوئی ہیں کہ کسی بھی مرض سے مرنے والے کو زبردستی اس وائرس کا شکار بتلایا جارہا ہے. اور جہاں دال نہیں گلتی وہاں پیسوں کی آفر بھی کی جارہی ہے.
بیرون ملک سے آنے والے مسافروں میں کئی لوگ قرنطینہ شفٹ کردئیے گئے جبکہ اکثر بڑے طبقے کے لوگ یونہی نکل کر اپنے گھر پہنچ گئے.
تفتان سے منتقل ہونے والے لوگوں کو یونہی ملک بھر میں پھیلنے دیا گیا اور ڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود کسی انکوائری اور کمیشن کا نام و نشان تک نہیں ملا.
ملک بھر میں مدارس کو بند کردیا گیا. اجتماعات پہ پابندی لگ گئی. تبلیغی جماعت کو لحظہ لحظہ میڈیا پہ گھسیٹا گیا اور مورد الزام ٹھرایا گیا. مساجد میں ایس او پیز پہ مکمل عملدر آمد کے باوجود، میڈیا تو میڈیا صدر پاکستان جناب عارف علوی بذات خود مساجد کا جائزہ لینے کے لئے پہنچ گئے. جبکہ دوسری جانب بازار،بینک،منڈی،دوکانوں، ناکوں اور امدادی جگہوں پہ ہجوم کا کوئ نوٹس نہیں لیا گیا. دوسری جانب سندھ حکومت نے وفاقی حکومت اور علمائے کرام کے متفقہ بیس نکاتی اعلامیے کے باوجود مساجد میں پابندیاں عائد کیں. مگر 21 رمضان المبارک کو اہل تشیع کے نکالے گئے جلوسوں کی سرپرستی بھی کی.
ہمیشہ سے سخت سے سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ کرنے والی سندھ حکومت کی اپنی پارٹی کے رہنما جناب نبیل گبول صاحب نے
اے آر وائے نیوز کے پروگرام
” اعتراض ہے” میں انکشاف کیا کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ساری دنیا کے ساتھ معاہدہ ہے کہ کورونا سے مرنے والے کے لواحقین کو تین ہزار ڈالر دئیے جائنگے. لہذا کسی بھی مرض میں جان کی بازی ہارنے والے کو کورونا میں ڈکلئیر کیا جارہا ہے.

ملک کے معروف موٹیویٹر، ٹرینر، مقرر اور ادیب ڈاکٹر عارف صدیقی کا کہنا ہے کہ کہ اس وائرس کو کبھی چین کی سازش، کبھی قدرتی وبا کہنا وہ خیالات اور طفل تسلیاں ہیں جن میں مین اسٹریم میڈیا ہمیں الجھا رہا ہے. الومیناتی کے روتھ چائیلڈ خاندان کی ملکیت ” دی اکانومسٹ” (26 مارچ 2020) رسالے کا سرورق چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کہ یہ سارا گورکھ دھندا الومیناتی کا ہے. جو دنیا پہ اپنی بالادستی قائم کر کے گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کر رہا ہے اور دنیا کو تیزی سے
ون ورلڈ گورنمنٹ کی طرف دھکیل رہا ہے. جس میں ایک ہی عالمی آمرانہ طرز کی حکومت ہوگی. جو جب چاہے، جو چاہے، کرسکے گی.
سر ورق پہ نظر آنے والا ایک غیر مرئی ہاتھ، جسکے ہاتھ میں رسی ہے اور اس نے انسان کے گلے میں یوں پٹہ ڈالا ہوا ہے جیسے قدیم زمانے میں غلاموں کے گلے میں ڈالا جاتا تھا اور اس غلام نے آگے ایک کتے کے گلے میں پٹہ ڈالا ہوا ہے. گویا دیدہ دلیری کے ساتھ کہا جارہا ہے کہ سب کچھ ہمارے ہاتھ میں ہے.

رسالے کے اہم ترین آرٹیکل کا عنوان ہے…
(Every thing’s under control… The state in the time of Covid 19)

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ساری دنیا موت کے دہانے پہ ہے. سپر پاورز کی قوت اور معیشت کا پہیہ جام ہوکر رہ گیا ہے. انسانیت بلبلا رہی ہے، عالمی ادارہ صحت عاجز ہو کر رہ گیا ہے. ایسے میں کونسی قوت ہے جو ابھی بھی چین کی بانسری بجا رہی ہے؟؟؟
کونسی قوت ہے جو everything’s under control ہونے کا دعوی کر رہی ہے؟؟؟

اگر یہ وبا ہے تو پھر ایسے لوگوں اور رسالوں کا خاطر خواہ جواب کیوں نہیں دیا جارہا؟ انکے پروپیگنڈوں کا سدباب کیوں نہیں کیا جارہا؟ اگر ساری دنیا اس وائرس سے متاثر ہے تو اس عالمی میگزین کا رد کیوں ابھی تک سامنے نہیں آیا؟

اور اگر یہ وبا نہیں ہے تو پھر حقیقت کیوں نہیں بتائی جارہی؟ میڈیاں سنسنی پھیلانے، ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کا سبب کیوں بن رہا ہے. لوگوں کو خوف و ہراس کی صوتحال سے کیوں دوچار کیا جارہا ہے؟ یا پھر یہ بھی منصوبے کا حصہ ہے؟ کہ آبادی ” بچے دو ہی اچھے” اور “پولیو کے قطروں” سے کنٹرول نہیں ہوسکی تو ڈائیریکٹ آپریشن کا قیام عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے؟

ملک پاکستان کا آزاد اور خود مختار شہری ہونے کے باعث اپنے ذہن میں میں ابھرنے والے ان تمام سوالات کے جوابات جاننا میرا حق ہے. اور مجھے مکمل یقین ہے کہ اگر تو یہ وبا ہے تو اس کا پھیلنا خدائے لم یزل کے حکم کے مرہونِ منت ہے. اور اس کا زوال بھی فقط حکم ربانی کا محتاج ہے. موت اور زندگی صرف اس محیی اور ممیت ذات کے قبضۂ قدرت میں ہے.

ہماری ذمہ داری ان حالات میں احتیاط کے تمام تر تقاضوں پہ عمل کرتے ہوئے رجوع الی اللہ کرنا ہے. اور گناہوں سے تائب ہوکر خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم کی شریعت محمدیہ کے سائے میں زندگی بسر کرنا ہے.

اور اگر،
یہ وبا نہیں بلکہ چال ہے. تو سب سے بہترین چال کی تدبیر کرنے والی ذات صرف اور صرف
اللہ وحدہ لاشریک کی ہے. فرمانِ الہی ہے؛
(3) سورۃ آل عمران (مدنی، آیات 200)
وَمَكَـرُوْا وَمَكَـرَ اللّـٰهُ ۖ وَاللّـٰهُ خَيْـرُ الْمَاكِرِيْنَ (54)
اور انہوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر فرمائی، اور اللہ بہترین خفیہ تدبیر کرنے والوں میں سے ہے۔

ختم شد.

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے