Home / اسلام / اہلِ کتاب اور عقیدہِ تو حید و رسالت !!

اہلِ کتاب اور عقیدہِ تو حید و رسالت !!

🌹#العلمAlilm 🌹 علمُ الکتاب 🌹
الماٸدہ ، اٰیات 59 تا 63 🌹
اہلِ کتاب اور عقیدہِ تو حید و رسالت !! 🌹
ازقلم 📕اخترکاشمیری
🌹 علم الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 قل یٰاھل الکتٰب ھل
تنقمون منا الا ان اٰمنا باللہ وماانزل
الینا وماانزل من قبل وان اکثرکم فٰسقون 59
قل ھل أنبٸکم بشر من ذٰلک مثوبة عنداللہ من لعنہ اللہ
وغضب علیہ وجعل منھم القردة والخنازیر وعبدالطاغوت اولٰٸک
شر مکانا واضل عن سوا ٕ السبیل 60 واذا جاٶکم قالوااٰمناوقد دخلوابالکفر
وھم قدخرجوابہ واللہ اعلم بماکانوایکتمون 61 وترٰی کثیرا منھم یسارعون فی الاثم
والعدوان واکلھم السحت لبٸس ماکانوایعملون 62 لولاینھٰھم الربٰنیون والاحبار عن قولھم الاثم
واکلھم السحت لبٸس ماکانوایصنعون 63
اے ھمارے مُعلّمِ کتاب ! آپ اِن اہلِ کتاب سے یہ سوال بھی پُوچھ لیں کہ کیا تُم صرف اِس بناپر ھمارے دُشمن بن چکے ھو کہ ھم اللہ تعالٰی پر اور اُس کی اُس وحی پر ایمان لاۓ ہیں جو ھمارے زمانے میں ھمارے رسول پر نازل ھوٸ ھے اور ھم اُس وحی پر بھی ایمان لاۓ ہیں جو ھم سے پہلے زمانوں کے پہلے رسولوں پر نازل ھوٸ ھے یا پھر تُم اپنی ذات میں بہت بدکردار ھونے کی وجہ سے ھمارے دُشمن بنے ھوۓ ھو اور اے ھمارے مُعلّمِ کتاب ! آپ اِن اہلِ کتاب سے یہ سوال بھی پُوچھ لیں کہ تُم لوگ جو ہر وقت اہلِ ایمان کو بُرا کہتے رہتے ھو تو پھر کیوں نہ میں تُم کو تُمہاری بَدگوٸ کا یہ مَشغلہ جاری رکھنے کے لیۓ اُن بُرے لوگوں کے بارے میں بھی کُچھ بتادوں جن کو اللہ تعالٰی نے طاغُوت کی پُوجا کرنے کی بنا پر اپنی سخت نارضی کے بعد دُھتکار اور پِھٹکار کر بندر و خنزیر کی طرح ذلیل وخوار بنادیا تھا ، کیونکہ اللہ کے نزدیک تو وہی بَدترین لوگ ھوتے ہیں جو تصدیق کے راستے کے بجاۓ تکذیب کے راستے پر گام زَن ھو جاتے ہیں اور اِن لوگوں کا حال یہ ھے کہ جب یہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے کہتے ہیں کہ ھم ایمان کی اُسی دولت کو اُٹھاۓ ھوۓ ہیں جو آپ نے ھم کو دی ھے لیکن دَرحقیقت جس وقت یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو اُس وقت بھی یہ اپنے کفر کا وہی بوجھ اُٹھاۓ ھوۓ ھوتے ہیں جس وقت یہ آپ کے پاس آتے ہیں اور جس وقت یہ آپ کی مَجلس سے واپس جاتے ہیں تو اُس وقت بھی یہ کفر کا وہی بوجھ اُٹھاۓ ھوۓ ھوتے ہیں جس کو یہ آپ سے چُھپاتے ہیں لیکن اللہ تعالٰی تو اِن کے اُس قَلبی کُفر کو بخوبی جانتا ھے جس قَلبی کُفر کو وہ آپ سے چُھپانے کی کوشش کرتے ہیں ، اگر آپ اِن کے حال اور اَحوال پر نظر ڈالیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ اِن میں سے اکثر لوگ آپ کو سرکشی کی طرف بڑھتے ھوۓ ، بدکاری کی طرف بھاگتے ھوۓ ، حرام کمانے کی طرف لَپکتے ھوۓ اور حرام کھانے کی طرف دوڑتے ھوۓ نظر آٸیں گے ، کیا ہی اَچھا ھوتا کہ اِن لوگوں کو اِن کے عالم و عابد لوگ ہی جُھوٹ کہنے اور حرام کھانے کی اُس بُری عادت سے بچا لیتے جس میں یہ لوگ بہت بُری طرح مُبتلا ھو چکے ہیں !
🌹 سات اٰیات کا ایک سات جہات مضمون !🌹
سُوةُالماٸدہ کی اٰیت 57 سے لے کر اٰیت 63 تک کی اِن سات اٰیات کا یہ سات جہات مضمون اہلِ کتاب کے اُن حیلوں اور اُن بہانوں کی تفصیلات پر مُشتمل ھے جو حیلے اور جو بہانے وہ سیدنا محمد علیہ السلام کی بعثت سے پہلے زمانے میں بھی مُسلسل کرتے رھے تھے اور آپ کی بعثت کے زمانے بھی مُتواتر کر ر ھے تھے ، گزشتہ دو اٰیات میں ھم نے اِس مضمون کے اُس مرکزی عنوان کی طرف اشارہ کیا تھا جو توحید بالرسالت اور رسالت بالتوحید کا ایک سرنامہ تھا ، جہاں تک اِن سات اٰیات کے مقصدی مفہوم کا تعلق ھے تو وہ مفہوم ھم اٰیات کے زیرِ متن مقصدی معنی میں بیان کر چکے ہیں اور اُس اِجمال کی تفصیل یہ ھے کہ بنی اسراٸیل کا پہلا طبقہ جو مُوسٰی علیہ السلام پر ایمان لانے کا دعوے دار تھا وہ عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتا تھا اور بنی اسراٸیل کا دُوسرا طبقہ جو عیسٰی علیہ السلام پر ایمان لانے کا دعوے دار تھا وہ عیسٰی علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتا تھا لیکن یہ دونوں مُعتقدات بنی اسراٸیل کی اِن دونوں جماعتوں کے وہ خود ساختہ مُعتقدات تھے جن کا توراتِ مُوسُی اور انجیلِ مسیح سے کوٸ تعلق نہیں تھا اور بنی اسراٸیل کے یہ دونوں اسراٸیلی طبقے جب اہلِ توحد کے رُو بہ رُو ھوتے تھے اپنے توحید پرست ھونے کے حق میں اپنی کتابوں کا حوالہ دیتے تھے اور جب مُشرکین سے دُو بہ دُو ھوتے تھے تو اُن کا مشرکانہ اظہارِ خیال ہی اُن کے مشرک ھونے کی دلیل اور اپیل بَن جا تا تھا اور بنی اسراٸیل کے یہ دونوں طبقے اپنی اِس دو عملی کے باعث ایک ہی وقت میں مُوحد بھی کہلانا چاہتے تھے اور ایک ہی وقت میں وہ مشرک بھی رہنا چاہتے تھے ، اُن کے خیال کے مطابق اُن کی یہ مذہبی کتابیں اُن کے مُوحد ھونے کا ثبوت فراہم کرتی تھیں تو اُن کے مُشرکانہ خیالات اُن کے مُشرک ھونے کا ثبوت فراہم کرتے تھے اور وہ گزشتہ کٸ صدیوں سے اپنا یہ دوغلہ اعتقاد حافظ شیرازی کے اِس خیال کے عین مطابق پُورے اعتماد کے ساتھ چلاتے اور نِبھاتے چلے آرھے تھے کہ :-
حافظا گر وصل خواہی صُلح کُن در خاص و عام
با مُسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام
🌹 اِہلِ کتاب اور دلیلِ اہلِ کتاب 🌹
مُکالمہ چونکہ ہر زمانے کی طرح عھدِ نبوی میں بھی قوموں کے درمیان نظریاتی اِختلاف کو ختم کرنے یا کم اَز کم ، کم کرنے کا ایک مُٶثر طریقہ سمجھا جاتا تھا اور اِس سے اختلافات کسی نہ کسی حد تک محدود بھی ھوجایا کرتے تھے اِس لیۓ تعالٰی نے سیدنا محمد علیہ السلام کو حکم دیا کہ آپ اپنے پاس آنے والے اَفراد سے فلاں فلاں عقلی سوال پوچھیں تا کہ اِن کو اپنے خیالات پر نظرِ ثانی کرنے اور قُرآن کے بارے میں غور کرنے کا موقع بھی مل جاۓ اور اِن پر دینِ حق کی حُجت بھی قاٸم ھو جاۓ ، چنانچہ سیدنا محمد علیہ السلام نے اللہ کا یہ حکم آتے ہی اہل کتاب کے ساتھ اُس تاریخی مُکالمے کا آغاز کیا جس کا اللہ تعالٰی نے پہلے اٰیت 59 اور اٰیت 60 میں ذکر کیا ھے اور پھر اٰیت 61 اور اٰیت 62 میں اِس کا یہ نتیجہ بھی سُنا دیا ھے کہ یہ لوگ جس طرح پہلے زمانے میں بندروں کی سی فتنہ پروری اور خنازیر کی سی غلیظ حرکات کیا کرتے تھے آج بھی یہ لوگ وہی حرکات کر رھے ہیں ، آپ کی مجلس میں آتے ہیں تو ایمان کے دعوے کے ساتھ آتے ہیں اور آپ کی مَجلس سے واپس جاتے ہیں تو اپنے کُفر کا وہی بوجھ اُٹھاۓ ھوۓ جاتے ہیں جو اپنے ساتھ لے کر وہ آتے ہیں ، اِن لوگوں کے بندر و خنزیر کی اِن عادات کے ساتھ منافقانہ طور پر مُسلمانوں کے ساتھ ملنے جُلنے اور مَجلسِ نبوی میں آنے جانے سے معلوم ھوتا ھے کہ بندر و خنازیر کے حوالے سے اِن لوگوں کی جن حرکات کا ذکر کیا گیا ھے اُن سے اِن کی شکلوں کا مَسخ ھونا مراد نہیں جیساکہ مفسرینِ عجم نے سمجھا ھے اور لوگوں کو سمجھایا ھے بلکہ یہ تو ہر زبان کے اہلِ زبان کا ایک اُسلوبِ کلام ھے جس کے تحت وہ کسی خاص فرد یا کسی خاص قوم کو کسی خاص حوالے سے لُومڑ ، گھڑیال ، خرگوش ، ہرن ، باز ، خنزیر ، بُلبُل ، ہُد ہُد اور بندر وغیرہ کے نام سے پکارتے ہیں اور بعد ازاں یہی نام اُن کے ٹُوٹَم بن کر رہ جاتے ہیں !
🌹 عُلماۓ یہُود اور علماۓ مجُوس !
اِس سلسلہِ کلام میں اللہ تعالٰی نے اَفرادِ بنی اسراٸیل کے جُھوٹ بولنے اور مالِ حرام کا کھانے کا ذکر کر کے اِس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ھے کہ جو افراد اور جو اَقوام جھوٹ بولنے اور مالِ حرام کھانے کے عادی ھوجاتے ہیں اُن کے دین میں وہی بگاڑ پیدا ھو جاتا ھے جو بگاڑ جُھوٹ بولنے اور حرام کھانے کے بعد بنی اسراٸیل میں پیدا ھوا تھا اور اِس سلسلہِ کلام کے آخر میں اللہ تعالٰی نے علماۓ یہُود کے اصلاحِ اُمت کے کاموں سے الگ ھو جانے کا ذکر کر کے اِس بات کی طرف بھی توجہ دلاٸ ھے کذب و دروغ اور حرام خوری کا یہ مرض سب سے پہلے کسی قوم کے ذھنی طور پر ناکارہ و آوارہ ھونے والے مُصلحینِ قوم میں پیدا ھوتا ھے اور اُن کے بعد اُن کی اُس قوم میں پیدا ھوتا ھے جس میں رہتے ہیں ، اِس لیۓ اِس آیت کے اِس حکم میں علماۓ یہُود کے واسطے سے اُن علماۓ مجوس کا کردار بھی متعین ھو گیا ھے جنہوں نے علماۓ یہُود کی طرح مُختلف حیلوں اور بہانوں سے جُھوٹ اور حرام خوری کو فروغ دیا ھے ، مُفسر بیضاوی نے علماۓ مجوس کو تحفظ دینے کے لیۓ عربی قواعد کا سہارا لیتے ھوۓ تحریر کیا ھے کہ حرفِ ” لو “ جب فعل ماضی پر آتا ھے تو اُس کا مقصد مخاطب کو زجر و توبیخ کرنا ھوتا ھے اور جب حرفِ ” لو “ فعل مضارع پر وارد ھوتا ھے تو اُس کا مقصد اُن کو اُن کے فراضِ منصبی کی طرف متوجہ کرنا ھوتا ھے لیکن اٰیت ھٰذا میں جو فعل مضارع وارد ھوا ھے اُس سے پہلے ایک بہت بڑا ” لا “ بھی کھڑا ھے جو مُفسر بیضاوی کی چشمِ بیضا کو نظر نہیں آیا اور دُوسری حقیقت یہ ھے کہ یہاں پر جو فعل مضارع وارد ھوا ھے وہ غاٸب کے صیغے کے ساتھ وارد ھوا ھے اور اِس سے پہلے جو حرفِ ” لو “ آیا ھے وہ تکمیلِ تمنا کے لیۓ آیا ھے جس کا مَنشا اِس اَمر کا اظہار ھے کہ کاش وہ لوگ یہ مُثبت کام کر لیتے تو اُس کا یہ مُثبت نتیجہ بر آمد ھوجا تا ، بہر کیف اِن سات آیات میں حرفِ آخر اور حکمِ آخر کے طور پر اللہ تعالٰی کا جو واضح پیغام سامنے آیا ھے وہ یہ ھے کہ زمان و مکان میں محمد علیہ السلام کی رسالت قاٸم ھونے کے بعد توحید اور دینِ توحید کا وہی حوالہ مُعتبر ھوگا جس میں محمد علیہ اسلام کی رسالت کا حوالہ موجود ھوگا اور آپ کی رسالت کے حوالے کے بغیر توحید اور دینِ توحید کا کوٸ حوالہ مُعتبر نہیں ھوگا !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے