Home / اسلام / اللہ کا دَستِ قُدرت اور اللہ کا قَبضہِ قُدرت !!

اللہ کا دَستِ قُدرت اور اللہ کا قَبضہِ قُدرت !!

🌹 #العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
الماٸدہ ، اٰیت 64 🌹
اللہ کا دَستِ قُدرت اور اللہ کا قَبضہِ قُدرت !! 🌹 ازقلم 📕اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ افراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیت و مفہومِ اٰیت ! 🌹
وقالت الیھود
یداللہ مغلولة غلّت
ایدیھم ولعنوابماقالوابل
یدٰہ مبسوطتٰن ینفق کیف یشا ٕ
ولیزیدن کثیر منھم ماانزل الیک من
ربک طغیانا وکفرا والقینا بینھم العداوة
والبغضا ٕ الٰی یوم القیٰمة کلما اوقدواناراللحرب
اطفھااللہ ویسعون فی الارض فسادا واللہ لایحب
المفسدین 64
یہُودیوں نے اللہ کے دَستِ قُدرت کو مُحدُود کہا ھے ، کیونک اللہ کے اِن دُھتکارے اور پِھٹکارے ھوۓ لوگوں کا وہ داٸرہِ فہم و اِدراک محدُود ھے جس سے اُنہوں نےاللہ کے دَستِ قُدرت اور قَبضہِ قُدرت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ھے ، اللہ تو اپنے لامحدُود ، دستِ قُدرت اور اپنے لامحدُود علم و ارادے کے تحت جس کو جتنا چاہتا ھے اِتنا عطافرماتا ھے لیکن یہُود کی اِس ذھنی و رُوحانی تکلیف کا اَصل سبب ھماری وحی کی وہ نُورانی تجلی ھے جس نے آپ کے دِل میں نُور اور اُن کے دِل میں فتُور ڈال دیا ھے اور اُن کے دِل کے اسی فتُور نے اِن کی عداوت و سرکشی میں اضافہ کیا ھے اور ھم نے بھی اِن لوگوں کے اِس بُغضِ باطن کو اِن کے باطن میں اُس دِن تک مُقید کر دیا ھے جس دن یہ اپنی موجودہ پستی سے اُٹھ کر ھماری مطلوبہ بلندی تک نہیں پُہنچ جاٸیں گے ، یہ فتنہ پرور اور فساد کار لوگ زمین میں اپنے فتنے کی آگ ہمیشہ جلاتے رہتے ہیں اور ھم اِن کے فساد کی آگ ہمیشہ بُجھاتے رہتے ہیں ، اِن کا مقصدِ حیات زمین میں فساد پھیلانا ھے اور اللہ کی مشیت اہلِ زمین کو اِن کے فساد سے بچانا ھے کیونکہ اللہ فساد اور اہلِ فساد کو پسند نہیں کرتا !
🌹 ہاتھ ھے اللہ کا بندہِ مومن کا ہاتھ ! 🌹
اٰیتِ بالا اپنی فکری وُسعت کے اعتبار سے ایک کثیرالمفہوم اور ایک کثیرالمقاصد اٰیت ھے لیکن ھم اِس کے جن دو نمایاں پہلوٶں پر بات کر سکیں گے اُن میں سے پہلا پہلُو اِس اٰیت کا وہ دو لفظی مرکب ھے جس کا پہلا مُفرد جُملہ ” یَد “ اور دُوسرا مُفرد جُملہ اسمِ اللہ ھے اور اِن دونوں مُفردات کا مُرکب ” ید اللہ “ ھے جس کا معروف و مُستعمل معنٰی اللہ کا ہاتھ ھے ، قُرآنِ کریم میں سُورةُالماٸدہ کی اِس اٰیت سے پہلے اللہ کے لیۓ ” ید “ کا یہی لفظ سُورہِ اٰلِ عمران کی اٰیا ت 26 و 73 میں آیا ھے اور سورةالماٸدہ کی اِس اٰیت کے بعد سورہِ مٶمنون کی اٰیت 88 ، سُورہِ یٰس کی اٰیت 83 ، سُورةالفتح کی اٰیت 10 اور سُورةالمُلک کی اٰیت 1 میں بھی کے لیۓ ہاتھ کا یہی لفظ آیا ھے ، ہاتھ کے بارے میں پہلی حقیقت یہ ھے کہ ہاتھ کا یہ لفظ جب بھی پڑھنے یا سُننے میں آتا ھے تو اُس کے پڑھنے اور سُننے سے انسانی جسم اور انسانی ہاتھ کا خیال ایک ساتھ ہی ذھن میں آتا ھے کیونکہ انسان نے انسانی جسم اور انسانی ہاتھ کو ہمیشہ ہی ایک ساتھ دیکھا ھے اور ہاتھ کے بارے میں دُوسری حقیقت یہ ھے کہ انسانی ہاتھ کا جب خیال ذھن میں آتا ھے تو کسی حیوان کا پَنجہ یا چُنگل ذھن میں نہیں آتا ھے اور انسانی فہم و اِدراک کا یہی مُنفرد زاویہ اِس بات کی بھی دلیل ھے کہ ہاتھ سے مراد ہمیشہ صرف انسانی ہاتھ ہی ھوتا ھے اور ہاتھ کے حوالے سے تیسری بات یہ ھے کہ انسان کے تجربے اور مشاھدے کے لحاظ سے انسانی ہاتھ ہمیشہ ہی انسان کی جسمانی قوت کا ایک مظہر رہا ھے ، اِس لیۓ نتیجے کے اعتبار سے ہاتھ سے مراد مُجرد ہاتھ نہیں بلکہ ہاتھ سے مُراد انسان کو وہ قوت ھے جو انسانی ہاتھ سے وجود میں آتی ھے اور انسانی اَعمال و اَفعال کو ایک بامقصد اَنجام تک پُہنچاتی ھے اور ہاتھ کے بارے میں چوتھی حقیقت یہ ھے کہ انسانی نگاہ میں چونکہ ہمیشہ سے اپنا جسم رہا ھے اور جسم کے ساتھ ایک لازمہِ جسم کے طور پر ہاتھ بھی موجود رہا ھے اِس لیۓ انسان جب اللہ کے ہاتھ کا ذکر کہیں پر پڑھتا یا کسی سے سُنتا ھے تو قُدرتی طور پر اُس کے ذھن میں اللہ کے لیۓ بھی اُس جسم کا خیال آتا ھے جس کے ساتھ اُس کے لازمہِ جسم کے طور پر دو ہاتھ بھی موجود ھوتے ہیں لیکن اللہ تعالٰی چونکہ جسم سے ایک بلند تر ذات ھے اِس لیۓ علمی طور پر جب کبھی بھی اور جہاں کہیں بھی یہ لفظ اللہ کے نام کے ساتھ آتا ھے تو اِس سے مراد اللہ کا جسمانی ہاتھ نہیں ھوتا بلکہ اِس سے اللہ کی وہ قُوت اور طاقت مُراد ھوتی ھے جو خود تو جسم کے لیۓ لازم ھوتی لیکن کوٸ جسم اُس کے لیۓ ہرگز لازم نہیں ھوتا ، انسانی ہاتھ کی یہ قوت انسانی جسموں کی ایک پوشیدہ قوت ھے جو انسانی جسموں میں اللہ کی طرف سے آٸ ھے اور اِس غرض سے آٸ ھے تاکہ انسان اِس قوت کے ساتھ زندہ رھے اور اِس یقین کے ساتھ زندہ ر ھے کہ میں اپنے اُس خالق کی عطا کی ھوٸ اُس قوت کا مُحتاج ھوں جو اُس نے میرے اِس دیدہ ہاتھ میں دی ھے اور میرے ہاتھ کی یہ قوت اُس کے اُس نادیدہ ہاتھ کی قوت ھے جو جسم سے بے نیاز ھے ، علامہ اقبال نے بھی یہ کہہ کر شاید اسی حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش کی ھے کہ :-
ہاتھ ھے اللہ کا بندہِ مومن کا ہاتھ
🌹 اللہ کے ہاتھ کے بارے میں قُرآن کا فیصلہ ! 🌹
ھماری اِس مُختصر سی گزارش سے ہر شخص اِس بات کا اندازہ کرسکتا ھے کہ مجوسی علماۓ عقاٸد نے اپنے مُردہ عقاٸد اور اپنے مُردہ ذھنوں کی مُردہ ذھنی کے ساتھ اللہ کے ہاتھ کے بارے میں جو طولانی بحث و مباحثے کیۓ ہیں اُن مُباحثوں کی حیثیت اُن کے مُردہ عقاٸد کے ویران قبرستانوں سے زیادہ کُچھ بھی نہیں ھے ، قُرآنِ کریم نے تو اُن کی اِن فکری آوارگیوں کی کوٸ گنجاٸش ہی نہیں رہنے دی کیونکہ اللہ تعالٰی نے اپنے رسول کو سورةالماٸدہ کی اسی آیت کے دُوسرے حصے میں یہ بتادیا ھے کہ اللہ کے ہاتھ کے بارے میں ہرزہ سراٸ کرنے والے یہودیوں کا معاملہ روزی روٹی میں کمی کا معاملہ نہیں ھے کہ اُنہوں نے بُھوک اور اَفلاس سے تنگ آکر اہلِ ایمان کے سامنے اللہ کے کو تاہ دست ھونے کا رونا رویا ھو بلکہ اُن کے ذھنی روگ اور اُن کے رونے دھونے کا سبب آپ پر نازل ھونے والی وہ وحی اور اُس وحی کی وہ وسعت ھے جو اِن کے تنگ دلوں اور تنگ دماغوں میں نہیں سما سکتی اور وہ اِس بات پر تلملا رھے ہیں کہ اللہ کے اِس دَستِ جُود و عطا سے ھم کیوں محروم ھوۓ ہیں اور اللہ کی اِس عظیم وحی کی یہ عظیم نعمت محمد علیہ السلام کے حصے میں کیوں آگٸ ھے ، اللہ کے اِس ارشاد سے یہ بات قطعی اور یقینی طور پر سمجھ آجاتی ھے کہ اٰیت ھٰذا میں یہود کے جس واویلے کا ذکر ھوا ھے اُس سے خود یہُود کی مراد اللہ کے وہ ہاتھ نہیں ہیں جن ہاتھوں سے کوٸ چیز پکڑ کر کسی دُوسرے ہاتھ میں دی جاتی ھے کُجا یہ کہ مُسلمان اِس بارے میں یہ مباحثے کریں کہ اللہ کے ہاتھ کیا ہیں اور کیسے ہیں ، اَمرِ واقعہ یہ ھے کہ اللہ کے ہاتھ سے مراد اللہ وہ بیکراں قوت و طاقت اور عظمت و شان ھے جس قوت و و طاقت اور عظمت و شان سے اللہ نے سیدنا محمد علیہ السلام پر وہ نُورانی وحی نازل کی ھے جس نُورانی وحی کے نُور نے قُرآن دُشمنوں کے تاریک دلوں سوا ساری کاٸنات کو اپنے نُور سے مُنور کردیا ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے