Home / اسلام / توحید بالرسالت اور رسالت بالتوحید !!

توحید بالرسالت اور رسالت بالتوحید !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( الماٸدہ ، اٰیت 57 ، 58 ))) 🌹
توحید بالرسالت اور رسالت بالتوحید !!🌹
ازقلم
اخترکاشمیری
🌹 علم الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 یٰایھاالذین
اٰمنوالاتتخذواالذین
اتخذوادینکم ھزواولعبا
من الذین اوتواالکتٰب من
قبلکم والکفار اولیا ٕ واتقوااللہ
ان کنتم مٶمنین 57 واذانادیتم الی
الصلٰوة اتخذواھاھزواولعبا ذٰلک بانھم
قوم لایعقلون 58
اے اَمن و اَمان اور سکُون و اطمینان کے آرزُو مند لوگو ! تُم سے پہلے حاملینِ کتاب میں سے جن لوگوں نے تُمہارے دین کو کھیل تفریح کا مشغلہ بنایا ھوا ھے ، اُن کو اور دُوسرے مُنکرینِ دین کو اپنا سرپرست نہ بنانا ، اَمن چاہتے ھو تو اللہ کی اَمان میں رھنا ، تُم جب توحید ورسالت کی منادی کرتے ھو تو یہ کَم عقل مَسخرے اُس کے ساتھ مَسخراپن کرتے ہیں !
🌹 انسان کے فطری رشتے اور فکری رابطے ! 🌹
انسان کا انسان کے ساتھ پہلا تعلق انسان ھونے کا تعلق ھے جس نے اُس کو اُس عظیم عالَم کا ایک مُحترم فرد بنایا ھوا ھے جس کا نام عالَمِ انسانیت ھے ، انسان کا انسان کے ساتھ دُوسرا رشتہ نَسل اور نَسب کا رشتہ ھے جس نے اِس کو انسانی اجتماعیت میں باپ ، بیٹے ، بھاٸ اور شوہر کے رشتوں سے موسُوم کرکے نوعِ انسانی میں اِس کی خاندانی انفرادیت قاٸم کی ھے ، انسان کا انسان کے ساتھ تیسرا رشتہ دین و ایمان کا رشتہ ھے جس کے اَحکام یا اِحساس کے مطابق انسان ایک دُوسرے کے ساتھ دوستی و دُشمنی یا لاتعلقی کا فیصلہ کرتا ھے ، دین و ایمان کی اِس فکری تقسیم کے بعد اہلِ اسلام کا پہلے اہلِ کتاب کے ساتھ کتاب وہ مُعتبر رشتہ قاٸم ھو جاتا ھے جس کی بُنیاد وہ وحی ھے جس کا پہلا نُورانی ستون اللہ کی توحید اور دُوسرا نُورانی ستون سیدنا محمد علیہ السلام کی نبوت و رسالت ھے اور اٰیت بالا میں اللہ تعالٰی نے اسی نُکتے کی وضاحت اور صراحت کی ھے کہ جو اہلِ کتاب قُرآن کی تعظیم اور سیدنا محمد علیہ السلام کی تکریم کریں گے اُن کے ساتھ تُمہارا کتابی رشتہ قاٸم ھوجاۓ گا اور جو اہلِ کتاب قُرآن کی تعظیم اور سیدنا محمد علیہ السلام کی تکریم سے انکار کریں اُن کے ساتھ تُمہارا انسانی رشتہ تو قاٸم ر ھے گا لیکن دین اور دوستی کا قاٸم نہیں ھو سکے گا ، کیا ہی خُوب کہا ھے مولانا کوثر نیازی مرحوم نے کہ :-
بہت سادہ سا ھے اپنا اصولِ دوستی کوثر
جو اُن سے بے تعلق ھے ھمارا ھو نہیں سکتا
🌹 تعلق اور دوستی کا دینی معیار ! 🌹
اور ایک مومن و مُسلم کے رشتوں کا یہ معیار کُچھ اہلِ کتاب کے ساتھ ہی مُختص نہیں ھے بلکہ مومن کے نَسلی و نَسبی رشتے بھی اسی معیار کے مطابق جانچے اور پرکھے جاتے ہیں ، بندہِ مومن کے جس رشتے کا قُرآن کے اَحکام کے ساتھ اور سیدنا محمد علیہ السلام کے نام کے ساتھ تعلق قاٸم ھوتا ھے وہی اِس کا نَسلی و نَسبی رشتہ ھوتا ھے اور اِس کے جس رشتے کا قُرآن کے اَحکام کے ساتھ اور محمد علیہ السلام کے نام کے ساتھ کوٸ تعلق نہیں ھوتا اِس بندہِ مومن کا اُس رشتے کے ساتھ بھی کوٸ تعلق نہیں ھوتا ، اٰیتِ بالا میں اللہ تعالٰی نے اہلِ ایمان کو پہلے اور پہلے سے پہلے اہل کتاب کے بارے میں جو حکم دیا ھے ، قُرآنِ عظیم کی کتابی ترتیب میں اُس حکم کا پہلا مقام سُورةالنسا ٕ کی اٰیت 144 تھی جس میں اللہ تعالٰی نے یہ فرمایا تھا کہ ”اگر تُم آپ ہی اپنے اُوپر اللہ کی کوٸ سزا مُسلط کرنا نہیں چاہتے ھو تو پھر تُم اہلِ اطمینان سے اپنا تعلق کبھی نہ توڑنا اور اہلِ اِضطراب سے اپنا تعلق کبھی بھی نہ جوڑنا ، اِس حکم کا دُوسرا مقام سُورةُ الماٸدہ کی اٰیت 51 تھی جس میں یہ اِلٰہی فرمان جاری کیا گیا تھا کہ یہُود و نصارٰی کو اپنا مُربی و سرپرست ہر گز نہ بنانا کیونکہ یہ ایک دُوسرے کے فطری حلیف اور تُمہارے فطری حریف ہیں ، اِس حکم کا تیسرا مقام سورةالماٸدہ کی اٰیت 57 کا یہ مقام ھے جس میں یہ ارشاد فرمایا گیا ھے کہ تُم سے پہلے حاملینِ کتاب میں سے جن لوگوں نے قُرآن و صاحبِ قُرآن کا انکار کیا ھے اور تُمہارے دین کو ایک کھیل تماشا بنا دیا ھے اُن کو اور دُوسرے مُنکرینِ توحید و رسالت کو اپنا مُربی و سرپرست ہرگز نہ بناٶ ، اِس حکم کا چوتھا مقام سورةالتوبة کی اٰیت 23 ھے جس میں یہ بتایا گیا ھے کہ اگر تُمہارے آباواَجداد اور تُمہارے بھاٸ بند بھی کُفر کو ایمان پر اور اِضطراب کو اطمینان پر ترجیح دینے لگیں تو تُم اُن سے بغاوت کر کے اُن کی سرپرستی سے آزاد ھو جانا اور قُرآنِ کریم کی کتابی ترتیب میں اِس حکم کا آخری مقام سورة المُمتحنة کی پہلی اٰیت ھے جس میں اللہ نے یہ حکم دیا ھے کہ تُم میرے دُشمنوں اور اپنے دُشمنوں میں سے کسی کو بھی اپنا مُربی و سرپرست ہرگز نہ بنانا !
🌹 ایمان بالتوحید اور ایمان بالرسالت ! 🌹
جس طر ح کونویں کے مینڈک کی ساری کاٸنات وہ اَندھا کونواں ھوتا ھے جس میں وہ نَسل دَر نَسل رہتا ھے اور جس طرح ایک گورکَن کی ساری کاٸنات وہ قبرستان ھوتا ھے جس میں وہ عُمر بھر مُردے دَفناتا ھے ، اسی طرح ایران و ہندوستان اور عرب و عجم کا جاہل مُلا بھی عُمر بھر جہالت کی اُسی اَندھی کُٹیا میں رہتا ھے جہاں پر اُس کے کانوں میں اپنی مانوس آواز کے سوا کوٸ دُوسری آواز کبھی نہیں آتی ، چناچہ سلسلہِ کلام کی دُوسری اٰیت میں قُرآن نے توحید و رسالت کی جس زلزلہ آسا ندا کا ذکر کیا ھے جُہلاۓ مجوس نے اُس آواز کو اپنے محلّے کی مروجہ آذان بنا دیا ھے ، توحید و رسالت کی اِس آواز کا سب سے پہلے مُشرکینِ مکہ نے انکار کیا تھا اور اُس کے بعد علماۓ مجوس نے انکار کرکے اللہ کی توحید اور اُس کے نبی کی رسالت استخفاف کیا ھے ، مُشرکین مکہ و مُشرکینِ عرب اللہ کی توحید اور نبی کی رسالت کے ساتھ جو مَسخراپَن کیا کرتے تھے وہی مَسخراپَن علماۓ مجوس بھی جاری رکھے ھوۓ ہیں ، یاد رکھیں کہ قُرآن اللہ کی جس توحید کا ذکر کرتا ھے وہ محمد علیہ السلام کی رسالت کے ساتھ مُلحق ھے اور قُرآن محمد علیہ السلام کی جس رسالت کا ذکرکرتا ھے وہ اللہ کی توحید سے مُلحق ھے اور قُرآن اسلام کے اِن ہی دو بُنیادی عقاٸد کی شرح و تفسیر ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے