Home / کالم / یوم تکبیر،

یوم تکبیر،

28 مئی، 1998ء
‘تحریر
ام حسان کراچی

معاشرے میں پرسکون زندگی گزارنے کے لئے اچھے پڑوسی کا ساتھ غنیمت ہوتا ہے،
اچھا پڑوسی نہ صرف اچھے برے وقت میں آپکا ساتھ دیتا ہے بلکہ آپکی غیر موجودگی میں آپکی عزت اور مال کا محافظ بھی ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ کہیں بھی رہائش اختیار کرنے سے پہلے وہاں ارد گرد رہائش پذیر لوگوں کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ زندگی کے شب و روز پرسکون گزر سکیں،
یہی صورت حال ملکی سطح پہ بھی ہوتی ہے کہ ہمارے ساتھ ملحق ممالک ہمارے پڑوسی ملک کہلاتے ہیں اور ہماری سلامتی کا دارومدار انھیں ممالک پہ ہوتا ہے،
قیام پاکستان کے وقت انگریزوں اور ہندوؤں کی ملی بھگت کی وجہ سے ہمارے ساتھ کافی ناانصافی ہوئ اور ہمیں بھارت جیسے کم ظرف اور سازشی دشمن کا پڑوس ملا،
قیام پاکستان سے اب تک پاکستان کو اپنے دفاع کے لئے بہت جدوجہد کرنی پڑی،
اور مجبوراً اسے ہتھیاروں کی دوڑ میں دوڑنا پڑا،
الحمد اللہ پاکستان کی فوج بہترین اور وطن کے جذبے سے سرشار فوج ہے اور فوج کو لڑنے کے لئے بہترین ہتھیار ہر دور کی ٹیکنالوجی کے مطابق فراہم کئے جاتے رہے،
میزائل،ٹینک،بکتر بند گاڑیاں غرض پاکستانی فوج ہر طرح کے اسلحے سے لیس ہے،
بھارت کے جارحانہ رویے کی وجہ سے پاکستانی سائنسدانوں نے بالآخر 28 مئی، 1998ء کو محسن پاکستان جناب ڈاکٹر عبد القدیر خان کی صلاحیتوں کی بدولت چاغی کے پہاڑوں میں ایٹم بم کا کامیاب تجربہ کرکے دشمن کو یہ بتا دیا کہ جہاں اس کی انتہا ہو گی وہیں سے ہم ابتدا کریں گے،
کیونکہ پاکستان ہر گز خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ نہیں چاہتا لیکن جب دشمن بزدل ہو اور چوروں جیسی روش بھی رکھتا ہو تو پھر اپنے دفاع کی خاطر دشمن سے ایک قدم آگے رہنا پڑتا ہے،
ہر سال 28 مئی ہم بطور یوم تکبیر مناتے ہیں اللہ بڑائ اور کبریائی کا اعتراف کرتے ہوئے اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کے احسان کو مانتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ان کی بدولت آج ہمارا دشمن صرف غرا سکتا ہے ہم پہ حملے کی جرأت نہیں کرسکتا،
ہم آج مطمئن ہیں کہ ہمارا دفاع فوجی ساز و سامان کے اعتبار سے محفوظ ہے،
جس دن ہمارے دشمن نے ہماری آزادی اور سالمیت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم اسکی آنکھیں نکال کر اسکی ہتھیلی پہ رکھ سکتے ہیں،الحمداللہ

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دشمن نے چوری چھپے غیر اعلانیہ جنگ مسلط کی تو ہماری بہادر افواج نے دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیئے،

یوم تکبیر ڈاکٹر عبد القدیر خان کی بدولت ممکن ہوا تھا جنھوں نے ساری دنیا کو ٹھکرا کر اپنے وطن میں رہنا اور اپنے وطن کی خدمت کو ترجیح دی تھی لیکن ہم نے اس عظیم انسان کے ساتھ کیا کیا؟؟
اس پہ نہ صرف سوچنا پڑے گا، بلکہ ازالہ بھی کرنا پڑے گا اور اگر ازالہ کرنے کا وقت گزر گیا تو یاد رکھئیے جو قومیں محسنوں سے برا سلوک کرتی ہیں تو تاریخ بھی انھیں یاد نہیں رکھتی،
ہمیں احسان فراموش قوم کے طور پر تاریخ میں زندہ رہنا ہے یا اپنے محسن کے احسان کا معترف ہوکر زندہ رہنا ہے،

ابھی بھی وقت ہے فیصلہ کر لیں اور اپنے محسن کی خبر لیں،

نابینا جنم لیتی ہیں اولادیں انکی،
جو قوم دیا کرتی ہے تاوان میں آنکھیں،

پاکستان زندہ باد،
پائندہ باد،

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے