Home / کالم / میں ذرا خاک ہوں میرا تعارف کچھ نہیں!

میں ذرا خاک ہوں میرا تعارف کچھ نہیں!

ﺗﻌﺎﺭﻑ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﺩﯾﺐ کا
سوالات
کالم نگار محترمہ رقیہ نجیب اللہ صاحبہ

سوال 1۔ ﻧﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ اور ﮐﺲ ﻧﮯ آپ کا ﻧﺎﻡ ﺭﮐﮭﺎ تھا؟

جواب: میرا نام رقیہ ہے۔ والد صاحب نے میرا نام رکھا۔
_____________________________________________
سوال نمبر2- کیا آپ قلمی نام سے لکھتے ہیں اگر ہاں تو ﻗﻠﻤﯽ ﻧﺎﻡ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﯿﺎ؟

جواب: میں اپنے ذاتی نام سے لکھتی ہوں۔ قلمی نام سے نہیں لکھتی ہاں اپنے نام کے ہسبینڈ کا نام ملا کے لکھتی ہوں۔ رقیہ نجیب اللہ۔
____________________________________________
سوال نمبر 3- آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟

جواب: میں 1994 میں پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں پیدا ہوئی۔
_____________________________________________
سوال نمبر 4- ﻭﺍﻟﺪ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ کیا ہے؟ اور ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺧﺮﺍﺝ ﺗﺤﺴﯿﻦ پیش کرتے ہوئے کیا کہنا چاہیں گے؟

جواب: میرے والد کا نام مولانا عبد الحکیم ہے۔
میرے والد صاحب نے مجھے خود پڑھایا ہے قرآن پاک حفظ کروایا ہے کافی ساری دینی کتابیں خود پڑھائی ہیں میری بھت اچھی تربیت کی ہے میرے والدین نے۔
میرے ابو جی میرے استاد بھی ہیں میں اپنے ابو جی سے بھت محبت کرتی ہوں جب بھی میرے ہاتھ دعا کیلیے ہاتھ اٹھتے ہیں زبان پے خود بخود والدین کیلیے دعائیں نکلتی ہیں اللہ کرے میرے والدین کو کوئی دکھ تکلیف نا پہنچے اللہ صحت تندرستی عافیت والی زندگی دے اللہ میرے والدین کا سایہ تا دیر قائم رکھے۔ میرے والد صاحب الحمداللہ عالم بھی ہیں بھت نیک تھجد گزار ہیں زندگی میں کبھی ان کی تہجد قضا نہیں ہوئی۔ حضرت بنوری رح کے شاگرد بھی ہیں، آج کل کافی بیمار ہیں میرے ابو اور بیماری کی حالت میں سارا دن قرآن پڑھتے رہتے ہیں۔ میرے ابو کیلے دعا کر دیں اللہ ان کو صحت دیں۔
_____________________________________________

سوال نمبر 5- ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ادبی ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﺎ مختصر ﺗﻌﺎﺭﻑ کرادیں؟اپنے پسندیدہ استاد بارے چند سطور میں بیان کریں اور ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ
ﺧﺎﺹ ﻧﺼﯿﺤﺖ بتائیں جو زندگی میں ہمیشہ آپ کے کام آئی ہو؟

جواب: میرا ادبی استاد تو کوئی نہیں ہے بس خود شوق ہے لکھنے کا مطالعہ کرنے کا۔ ہاں مولانا انور غازی صاحب کی کتابیں جو صحافت کے حوالے سے ہیں، ان کا مطالعہ کرتی رہتی ہوں اور انہیں کے لیکچر بھی سنتی ہوں۔ اور وہ آنلائن صحافت کورس کرواتے ہیں ان شاءاللہ کورس کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے
اور میرے پسندیدہ استاد میرے والد محترم ہیں جنہوں نے مجھ پے بہت محنت کی ہے پڑھانے میں۔ میں انہیں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں
اور میرے والد صاحب کی خاص نصیحت یہ ہے نماز کی پابندی کرنا، اول وقت پے نماز پڑھتی رہنا،اور روزانہ تین پارے قرآن کی تلاوت کرنا، اور فضول گفتگو سے پرہیز کرنا، اور پوری زندگی اعمال صالحہ کرتی رہنا، اور پوری زندگی دین کی خدمت کرنا۔
_____________________________________________
سوال نمبر 6- آپ کی ﺗﻌﻠﯿﻢ کتنی ہے اور ﻣﺸﺎﻏﻞ کیا کیا ہیں اور پیشہ یا ذریعہ روزگار کیا ہے؟

جواب: میری دنیاوی تعلیم کچھ خاص نہیں ہے اور نا ہی شوق تھا دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کا۔ دینی تعلیم قرآن پاک حفظ کیا ہے۔ اور درس نظامی
اور میری مصروفیات، الحمداللہ اپنا مدرسہ ہے قرآن پاک اور کچھ دینی کتب پڑھاتی ہوں اب مدرسے میں عالمہ کا کورس رکھنے کا ارادہ ہے دعا کر دیں اللہ پاک آسانی والا معاملہ فرمائیں۔
_____________________________________________
سوال نمبر 7- ﺍﻋﻠﯽ ﮐﺎﺭﮐﺮﺩﮔﯽ کی بنیاد ﭘﺮ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻻ کوئی ﺍﯾﻮﺍﺭڈ , ﺳﻨﺪ یا ﺷﺎﺑﺎﺵ بارے چند خوشگوار باتیں اور تجربات بیان کری.

جواب: قلمدان راٹر کلب میں دو مقابلوں میں حصہ لیا تھا۔ پہلی بار 7 پوزیشن آئی تھی۔ دوسری بار 5 پوزیشن آئی اور سند بھی ملی وہاٹسپ پے۔
___________&_________________________________
سوال نمبر8- پسندیدہ ﻣﻮﺿﻮﻋﺎﺕ کونسے ہیں اور کیا کوئی ایسا موضوع ہےجس پر آپ لکھنا چاہتے ہو پر آج تک لکھ نا پائے ہوں اگر ہاں ایسی کونسی وجہ ہے کہ آپ نہیں لکھ پارہے؟ کسی ایک پسندیدہ موضوع باری قارئین کو مختصر الفاظ میں بتائیں.

جواب: اصلاحی تحریریں میری پسندیدہ موضوع ہیں۔ مثلا: پردہ، سنت کے مطابق شادیاں، جہیز کی لعنت سے چھٹکارا۔ اس کے علاوہ بھی کافی سارے موضوع ہیں جو لکھنا چاھتی ہوں اور ابھی تک لکھ نہیں پائی۔ ان شاءاللہ بھت جلد قلم اٹھاؤں گی۔
نا لکھنے کی وجہ کوئی خاص تو نہیں ہے بس مدرسے اور گھر کی مصروفیات کی وجہ سے لکھ نہیں پائی۔
قارئین سے یہ کہنا چاہوں گی معاشرے میں بڑھتی ہوئی بیحیائی اور بے پردگی پے بد نظری پے ضرور لکھیں۔
_____________________________________________

سوال نمبر 9.ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ /ﺳﮩﯿﻠﻮﮞ
ﺑﺎﺭﮮ تھوڑا سا بیان کریں؟ کیا ان میں آپ کا کوئی بچپن کا دوست ہے اگر ہے تو مختصر تعارف کرادیں۔

جواب: میری بچپن کی ایک سہیلی “ثنا امجد” جو میری بھت اچھی دوست تھیں ہم نے قرآن پاک شروع سے آخر تک ایک ساتھ حفظ مکمل کیا تھا۔ اس نے کافی عرصہ ہو گیا ہے مجھ سے کسی وجہ رابطہ ختم کر دیا تھا۔ اب بھی مجھے بھت یاد آتی ہے اس کی۔ اللہ کرے جہاں بھی ہو خوش ہو۔
اب موجودہ دوستوں میں، سب سے پہلے میرے ہسبینڈ بھت اچھے دوست ہیں،
اور میری دیورانی “ام محمد” میری بھت اچھی دوست ہیں۔ بھت پیاری عادتوں کی مالک ہے۔ اللہ ان کو خوش رکھے
_____________________________________________

سوال نمبر 10.ﺍﺯﺩﻭﺍﺟﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ کیا ہے؟ اگر شادی شدہ ہیں تو ﻣﯿﺎﮞ ﯾﺎ ﺑﯿﻮﯼ ﺑﺎﺭﮮ ایک
ﭘﯿﺮﺍﮔﺮﺍﻑ؟ ازدواجی زندگی کا کوئی خوشگوار و دلچسپ واقعہ اگر ہو تو قارئین کے ساتھ شیئر کریں؟

جواب: میری نظر میں شادی کے بعد کی زندگی بھی بھت اچھی زندگی ہے، اگر سسرال والے اچھا سلوک نا بھی کریں شوہر اچھا ہو تو زندگی بھت اچھی گزرتی ہے۔ میرے خیال سے لڑکیوں کو بڑا دل رکھنا چاہیے زندگی میں مشکل کے بعد آسانی ضرور آتی ہے۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔
میرے ہسبینڈ بھت اچھے بھت عظیم انسان ہیں۔ سادگی میں، اخلاق میں پیار محبت میں میرے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔ ہر مشکل وقت میرا بھت ساتھ دیتے ہیں، میری غلطی ہونے کے باوجود بھی میری فیور کرتے ہیں، جو کہ بعد میں کسی مناسب وقت میں بھت خوبصورت انداز میں میری اصلاح بھی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انکی کافی ساری باتیں ہیں، کافی ساری پیاری عادتیں ہیں جو لکھنے بیٹھوں تو پوری کتاب بن جائے۔ ازدواجی زندگی بھت خوبصورت زندگی ہے۔
____________________________________________

سوال نمبر11.ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺎﺕ ﮐﯿﺎ ﮨﯿں؟ اور ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ میں کیا کرنے کا ارادہ ہے؟

جواب: لکھنا، پڑھنا اور پڑھانا یہی مصروفیات ہیں،
مستقبل میں بھی یہی رہیں گی ان شاءاللہ۔ اور اگر اللہ نے اولاد کی نعمت سے نوازا تو انکی بھت اچھی تربیت کرنی ہے، مکلمل دینی ماحول دینا ہے نیک بنانا ہے۔ اللہ سے دعا کرتی ہو اللہ سنت کے مطابق زندگی گزارنے والا بنا دے۔
_____________________________________________
سوال نمبر12- ﺁﭖ ﮐﺘﻨﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮﯾﮟ ﻟﮑﮫ
ﭼﮑﯽ / ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮩﺎﮞ ﺷﺎئع ہوئی ہیں؟

جواب: میں نے زیادہ تحریریں تو نہیں لکھی کچھ تحریریں “عوامی تبصرہ نیوز میں شائع ہوئی تھی۔ باقی سب قلمدان ویب پے لگتی رہتی ہیں۔
_____________________________________________ سوال نمبر13- ﺁﭖ ﮐﯽ ﺩﺱ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺩﺱ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﻟﮑﮭﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﮯ نام کیا ہیں۔

جواب: میری پسندیدہ لکھاری جناب اشتیاق احمد (رح) ہیں۔ اور انور غازی صاحب، مفتی ابو لبابہ صاحب، مولانا زاہد الراشدی صاحب، مولانا الیاس گھمن صاحب کے کالم بھی بھت شوق سے پڑھتی ہوں اس کے علاوہ بھی کافی سارے علما کرام ہیں، خواتین میں، خواتین کے اسلام رسالے میں لکھتی ہیں، محترمہ ریحانہ تبسم فاضلی صاحبہ، اور ساجدہ غلام محمد صاحبہ، ساجدہ بتول صاحبہ، میری فرینڈ راحیلہ بنت مہر صاحبہ۔ یہ سب میری پسندیدہ لکھاری ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کافی ساری ہیں۔
کتابوں میں سب سے پہلے قرآن پاک، کافی ساری اصلاحی کتابیں ہیں جن میں خواتین کا اسلام میگزین، بہشتی زیور، خطبات فقیر، سیرت النبی قدم بقدم، صحافت ایسے سکھیں، انور غازی صاحب کی کتاب ہے، تحریر لکھنا سیکھیں، مفتی ابو لبابہ صاحب کی، تحفہ خواتین، غم نہ کیجیے، اس کے علاوہ بھی کافی ساری دینی کتب ہیں جو بھت پسند ہیں۔
_____________________________________________
سوال نمبر 14- پڑﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﮦ ﻧﺼﺤﯿﺖ کریں ﺟﺲ ﭘﺮ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻋﻤﻞ ﮨﻮﮞ ؟

جواب: اعمال صالحہ کی پابندی کریں، اور دین کی خدمت کریں، ہمیشہ کچھ لکھنے کیلیے جب بھی قلم اٹھائیں تو حق سچ لکھیں جھوٹ اور غیبت سے پرہیز کریں، نیک لوگوں سے محبت کریں، اللہ والوں کی مجلس میں بیٹھا کریں تاکہ آپ کی دنیا اور آخرت سنور جائے۔
_____________________________________________
سوال نمبر 15 – ادبی زندگی میں کوئی دلچسپ واقعہ پیش آیا ہو اگر تو قارئیں کے ساتھ شیئر کریں۔

جواب: فی الحال ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
______________________________________________
سوال نمبر 16- بطور ادیب آپ کو اپنی پہلی اشاعت میں کیا کیا مشکلات پیش آئیں؟ کیا آپ کی کوئی تحریر کسی ادارے یا پبلشر کی طرف سے ریجیکٹ ہوئی ہے؟

جواب: پہلی تحریر میں رموز اوقاف کی کافی غلطیاں نکلیں اور لفظی غلطیاں بھی بھت نکلیں جو بعد میں اپنی دوستوں کی اصلاح سے ٹھیک کر دی تھیں،
بھت کم تحریریں لکھی ہیں کوئی ریجیکٹ نہیں ہوئی۔ الحمداللہ،
جب میں نے لکھنے کا ارادا کیا تھا فیسںک پے میں نے ایک گروپ دیکھا تھا وہاں میں رابطہ کیا انہوں نے کہا ہم نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں آپ لکھنے کی کوشش کریں, انہوں نے میرا نمبر اپنے وہاٹسپ گروپ گروپ میں شامل کر دیا جب میں نے پہلی تحریر لکھی تو ان موصوف صاحب مجھے بھت باتیں سنائیں آپ کو لکھنا نہیں آتا انہوں نے اصلاح کرنے کے بجائے تنقید کرتے رہے، جب میں نے پوچھا کہ آپ مجھے میری غلطیاں بتائیں تو نے کہا خود تحریر پڑھو پتہ چل جائے گا، ان رویہ سب ممبروں کے ساتھ بدتمیزی والا تھا، میری کچھ دوستوں نے گروپ چھوڑ دیا تھا، میرا نمبر بھی انہوں نے خود ریموو کر دیا تھا، پھر میری دوست راحیلہ شاہ ، اور سعدیہ خان نے گروپ بنایا انہوں نے مجھے کہا آپ لکھنا شروع کریں ہم آپ کو سکھائیں گے، میں نے ایک تحریر لکھنے کے بعد ایک سال تک کچھ نہیں لکھا نہ ہی لکھنے کو دل کرتا تھا، بہر ان پیاری پیاری دوستوں کے اصرار سے میں نے لکھنا شروع کیا میری اچھے طریقے سے اصلاح کرتی رہیں، آج مجھے جتنا بھی لکھنا آتا ہے سب انہیں دوستوں کی وجہ ہے، ان کے نام ضرور لکھوں گی ، جن میں راحیلہ شاہ، سعدیہ خان، صائمہ نور، آمنہ زینب یہ میری بھت اچھی دوستیں ہیں، ان دوستوں کی وجہ سے آج مجھے لکھنا آیا ہے، اللہ ان سب کو خوش رکھے،
_____________________________________________میں آخر میں بابر الیاس بھائی کا بھت بھت شکریہ ادا کرنا چاہوں گی انہوں نے قلمدان رائٹر کلب گروپ بنایا ہماری تحریروں کو جگہ دی ہے خاص طور پے مقابلوں کیلیے جو تحریریں لکھواتے ہیں اس سے بھت فایدہ ہوتا یے، معلومات میں اضافہ ہوتا ہے، لکھنے کا شوق بھی پیدا ہوتا ہے، امید ہے کہ ہمیشہ ایسے لکھواتے رہیں گے نئے نئے موضوعات کے ساتھ۔ ان شاءاللہ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ آمین ثم آمین
_____________________________________________
نوٹ!!
قلمدان ڈاٹ نیٹ خواہش سے تکمیل تک
کسی بھی فورم پر لکھنے والے میری قوم کا سرمایہ ہیں انکا تعارف عام لوگوں تک ہو تاکہ جنکی سوچ ہے کہ قلم پکڑ مفکر و ادیب بننا آسان ہے انکو معلوم تو ہو کہ لکھنے والے کن راستوں کن پتھروں سے ٹھوکر کھا کر یہاں تک کا سفر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں…
ﻣﻨﺠﺎﻧﺐ
بابرالیاس
چیف ایڈیٹر
قلمدان ڈاٹ نیٹ

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے