Home / اسلام / خاص ھے ترکیب میں قومِ رَسُولِ ہاشمی !!

خاص ھے ترکیب میں قومِ رَسُولِ ہاشمی !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
الماٸدہ ، اٰیات 49 ، 50 🌹
خاص ھے ترکیب میں قومِ رَسُولِ ہاشمی !! 🌹 ازقلم 📕اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 وان احکم بینھم
بماانزل اللہ ولاتتبع اھواٸھم
واحذرھم ان یفتنوک عن بعض ماانزل
اللہ الیک فان تولوافاعلم انمایرید اللہ ان یصیبھم
ببعض ذنوبھم وان کثیر من الناس لفٰسقون 149 افحکم الجاھلیة
یبغون ومن احسن من اللہ الاالقوم حکمالقوم یوقنون 150
اے ھمارے سفیرِ جہان ! آپ اہلِ جہان کے سارے فیصلے قُرآن کے اُسی قانون کے مطابق کریں جو اللہ نے آپ پر نازل کیا ھے اور اِس بات کا خیال رکھیں کہ کوٸ شخص آپ کو اپنی خواہش و خوشی کی خاطر اِس قانُونِ نازلہ کے بارے میں کسی آزماٸش میں نہ ڈال دے ، اَب جو لوگ اِس قانُونِ نازلہ سے انحراف کرکے خود کو اللہ کی گرفت میں لاٸیں گے تو وہ اللہ کی گرفت میں ضرور آٸیں گے کیونکہ اِن میں سے بیشتر لوگ چاہتے ہیں کہ وہ علم و دلیل کے اِس راستے کو چھوڑ کر جاہلیت کے اسی راستے پر چلیں جس پر نزولِ قُرآن سے پہلے چلتے تھے لیکن جو لوگ اللہ پر ایمان اور یقین رکھتے ہیں وہ اِس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ خالق کا فیصلہ مخلوق کے لیۓ ساری مخلوق کے مخلوق کے فیصلے سے بہتر فیصلہ ھوتا ھے !
🌹 رَبطِ اٰیات و رَبطِ مضامینِ اٰیات ! 🌹
مُحولہ بالا دونوں اٰیات کا مضمون گزشتہ اٰیت کے اُس مضمون کا تکملہ ھے جس میں اللہ تعالٰی نے سیدنا محمد علیہ السلام سے یہ کہا تھا کہ ھم اپنی” الکتاب “ سے تیری لَوحِ دل پر اپنی وہ کتابِ حیات ثبت کردی ھے جس میں ھم نے سارے جہان کے لیۓ اپنے سارے فرمان جمع کردیۓ ہیں اور اِس کتاب کو ھم نے جُملہ زمان و مکان کے جُملہ اَحکامِ جہان کا مُفسر و محافظ بھی بنادیا ھے ، اِس لیۓ انسانی معاشرت و معاملات کے سارے فیصلے ھماری اسی کتابِ نازلہ کے مطابق کیۓ جاٸیں اور جو لوگ اِس کتابِ حق کے اَحکام کے بجاۓ اپنے اَوہام کے مطابق فیصلے کرانا چاہیں تو اُن کی خواہشات کے مطابق فیصلے نہ کیۓ جاٸیں ، ھم نے ہر انسانی نسل کے لیۓ قانون کی ایک راہِ عمل مقرر کردی ھے جس پر طوعا و کرھا اُس نے چلنا ہی چلنا ھے اور ھماری مَنشا کے عین مطابق چلنا ھے اور اَب موجودہ اٰیت میں اللہ تعالٰی نے گزشتہ اٰیت کے اُسی مضمون کو آگے بڑھایا ھے اور سیدنا محمد علیہ السلام کو یہ بتایا ھے کہ آپ اہلِ جہان کے سارے فیصلے اُسی قُرآن کے مطابق کیا کریں جو اللہ نے آپ پر نازلہ کیا ھے اور مُنکرینِ قُرآن دورِ جہالت کے جو حوالے دیں اُن کو علم و دلیل کے ساتھ رَد کریں تاکہ انسانوں میں علم و دلیل کا بیانیہ فروغ پاۓ اور جہالت کا بیانیہ نیست و نابُود ھو جاۓ !
🌹 عھدِ جہالت کے رَواج اور شریعت کی منہاج ! 🌹
گزشتہ اٰیت میں اللہ تعالٰی نے انسانی تاریخ کی اِس حقیقت سے پردہ اُٹھایا تھا کہ زمین پر ہر زمانے میں ہر قوم کے فکری سفر کے لیۓ ایک شریعتِ نازلہ ھوا کرتی تھی جس پر ہر قوم نے چلنا ھوتا تھا اور ہر قوم کے لیۓ ایک منہاج تھی جس کی روشنی سے اُس نے اپنی راہِ سفر کا جاٸزہ لینا ھوتا تھا کہ اُس کا دینی و رُوحانی سفر اُسی درست سمت میں جارہا ھے جس پر اُس نے جانا ھے لیکن پھر یوں ھوا کہ ہر زمین اور ہر زمانے کی ہر قوم نے اپنے اپنے وقت پر اپنی اپنی شریعت کو ترک کیا اور اپنی اپنی منہاج کو توڑدیا اور جب شریعت چھوڑنے اور منہاجِ شریعت توڑنے کے بعد اِن قوموں کے پاس کُچھ بھی نہ بَچا تو اِن قوموں نے اپنے اپنے آباٶ اَجداد کے سُنے سُناۓ دین کی اتباع شروع کردی اور جس وقت قُرآن نازل ھوا تو اُس وقت اِس کے سامنے سب سے بڑا بُت انسانی قومیت کا یہی بُت تھا جس کی پُوجا پاٹ کے لیۓ انسان کے واحد دلیل اپنی نسلی عصبیت تھی جس کو چھوڑنے کے لیۓ کوٸ قوم اور کوٸ قبیلہ تیار نہیں تھا کیونکہ اُن نسل پرست ، قوم پرست ، مُردہ پرست ، بُت پرستوں ، پیر پرست اور پروہت پرست لوگوں کے نزدیک باپ دادا کے دین سے انکار کرنا اپنی ولدیت سے انکار کرنے کے متراد تھا اور مدینے چونکہ میں اِسلامی حکومت کے قیام بعد یہُود و نصارٰی اور دُوسرے نسل پرست قباٸل کے معاملات بھی اسلامی عدالت میں آتے رہتے تھے اِس لیۓ یہ لوگ قُرآنی احکام سُن کر نہ چاہنے کے باوجود بھی کبھی کبھی اپنے باپ کا یا اپنے باپ کے باپ کا حوالہ دے کر روانی روانی میں ہی کہہ دیتے تھے کہ میں نے اپنے باپ سے اِس بارے میں یہ سُنا ھے اور میرے باپ نے اپنے باپ سے یہ یہ سنا ھے ، یہی وہ صورتِ حال تھی جب اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کو یہ حکم دیا تھا کہ قُرآن نازل ھونے کے بعد لوگوں کے آباٸ دین کے سُنے سُناۓ حوالے ختم ھو چکے ہیں ، کیونکہ قُرآن زمین سے وھم و گمان کے اِن معبودانِ باطلہ کو توڑ کر علم و عرفان اور دلیل و بُرھان کو نافذ کرنے کے لیۓ آیا ھے ، اِس لیۓ جو لوگ علم و دلیل کا فیصلہ قبول کریں ، اُن کو قابلِ اعتماد شہری تصور کیا جاۓ اور جو لوگ علم و دلیل کے مقابلے میں باپ دادا سے سُنے سُناۓ دین کے حوالے دیں اُن کی اصلاح و تربیت کا کام جاری رکھا جاۓ اور عدالتی فیصلے جاری کرتے وقت اِن میں سے کسی کے ساتھ بھی نظریہ ضرورت کے تحت کسی قسم کی کوٸ رُو رعایت نہ برتی جاۓ اور ہر شخص کو کُھلے اَلفاظ میں سمجھا دیا جاۓ کہ اللہ نے اپنی آخری شریعت اور آخری منہاج کا آخری صحیفہ قُرآن نازل کردیا ھے اور اَب ہر انسان نے خود بھی اسی کی اتباع کرنی ھے اور دُوسرے انسانوں کو بھی اسی کی اتباع کی تلقین کرنی ھے !
🌹 مُشرکینِ قدیم کا دینِ جدید ! 🌹
عھدِ نبوی اور عھدِ خلافاۓ ثلاثہ کے بعد جب یہُودی و نصرانی اور دُوسرے عجمی و ایرانی فتنے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلامی تحریک میں شامل ھوۓ تو سب سے پہلے انہوں نے خلیفہِ ثالث سیدنا عثمان بن عفان کو شھید کر کے اپنا راستہ صاف کیا اور اِس کے بعد انہوں نے مُشرکینِ عرب کے آباٸ دین کی اُس تحریک کو وہیں سے شروع کیا جہاں پر فتحِ مکہ کے بعد وہ ختم ھوٸ تھی اور اَب انہوں نے جو نیا ایرانی اسلام متعارف کرانا شروع کیا تو اُس کی بُنیاد بھی مُشرکینِ عرب کا وہی نعرہ بنایا گیا کہ میں نے یہ بات اپنے باپ سے سُنی ھے اور میرے باپ نے بھی یہی بات اپنے باپ اور اُس کے فلاں فلاں دوستوں سے سُنی تھی ، مشرکین عرب اور مُشرکینِ عجم کی اِن سُنی سُناٸ باتوں یہی ایک فرق تھا کہ مُشرکینِ عرب جب کوٸ سُنی سُناٸ بات سُناتے تھے تو وہ اُس کے ابتداٸ حوالے کے طور پر اپنی کسی دیوی یا اپنے کسی دیوتا کا نام لیتے تھے لیکن ایران کے مشرکینِ عجم نے اِن سُنی سُناٸ اور ھواٸ باتوں سے جو نیا ھواٸ دین قاٸم کیا ھے اِس میں انہوں نے اپنی سُنی سُناٸ باتوں کا پہلا حوالہ سیدنا محمد علیہ السلام کی ذاتِ گرامی کو بنایا ھے اور مُسلمانوں کے درمیان بیٹھ کر مُسلمانوں کے لیۓ ایک نیا دین بنایا ھے ، یعنی قُرآن نے قُرآن کے مثل کلام لانے کو جو چیلنج کیا تھا اُس کے جواب میں انہوں نے وہ عربی کلام پیش کر دیا ھے جس کے اَلفاظ انہوں نے اُس عظیم نبی کے نام سے منسوب کیۓ ھوۓ ہیں جس نبی کے ساتھ ہر مُسلمان ساری کاٸنات سے زیادہ محبت کرتا ھے اور اسی بنا پر وہ مُشرکینِ ایران کی اِن عجمی روایات کو رَد کرنے کا حوصلہ نہیں کرتا !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

3 comments

  1. Avatar

    Thanks! And thanks for sharing your great posts every week!cialis au quebec

  2. Avatar

    Thanks so much for the post.Really thank you! Great.free assignment help

  3. Avatar

    Thank you ever so for you post.Much thanks again.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے