Home / کالم / سوچنا

سوچنا

تحریر
سجاد حسین

کل شاید پورے ملک میں عید الفطر ہو گی یہ پھر ایک روزہ اور پیر کی عید. کتنا خوشی کا سماں اور کتنی پر نور ساعتیں ہوتی تھیں نہ کوئی دکھ نہ تکلیف بس معصوم مسکراہٹیں اور کھلے ہوئے چہرے اور پھر اچانک کیا ہوا کہ رب ناراضگی کا اظہار کرنے لگ گیا چاہے وہ زلزلہ ہو سیلاب ہو ناگہانی اموات ہوں اور بالخصوص عید کے نزدیک ایسا کچھ ہو کہ نازک دل اور احساسات رکھنے والے خوش بھی نہ ہو سکیں
تمام روزے اکھ لیے نمازیں پڑھ لیں لیکن کیا رب کو راضی کر لیا کیا بچوں سے ذیادتیاں اور قتل رک گئے کیا عورت کو عزت اور احترام دے دیا کیا مرد کی عزت و توقیر بحال ہو گئی کیا خواجہ سرا جیسے مظلوم طبقے کو ان کے حقوق عزت کے ساتھ مل گئے کیا قانون اور انصاف کی بالا دستی قائم ہو گئی کیا طاقتور اور مظلوم کے درمیان جزا اور سزا کا نظام قائم ہو گیا کیا سب بھوکوں کا پیٹ بھر گیا کیا سب غریبوں کی بیٹیاں بیاہی گئیں بنا جہیز کے لالچ کے. کیا میرٹ پہ نوکریاں دی گئیں اور باقیوں کو کاروبار میں موقع دیا گیا.
اگر یہ سب ہو گیا تو آئیں ایک بار پھر غور کریں کہ ماتم کے درمیان خوشی منانے کی سزا کیوں دوبارہ مل گئی آپ کیلیے یہ حادثہ ہے لیکن کسی کی دنیا اجڑ گئی کسی کی آنکھوں کا نور چلا گیا کوئی یتیم ہو گیا تو کسی کا سائباں کھو گیا کیا پھر قیامت سے پہلے قیامت نہیں آ گئی

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

2 comments

  1. Avatar

    Thank you ever so for you post.Much thanks again.thailand viagra

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے