Home / کالم / موت کی یاد

موت کی یاد

بعنوان “”موت کی یاد , نیکیوں کی راغب اور گناہوں میں مانع””

از قلم✍
نعیم اختر ربانی

انسان فطرتاً عجلت پسند ہے۔ جیساکہ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ” انسان عجلت سے بنایا گیا ہے” ہر کام میں تیزی اور عجلت اس کے خمیر میں داخل ہے اور ایسے کاموں اور چیزوں کی طرف اس کی توجہ اور رغبت زیادہ ہوتی ہے جو ظاہری دلکشی ، جاذبیت ، حسن اور لذتوں سے لبریز ہوں۔ ان میں عشرت کا سامان وافر ہو۔ ان میں سہل پسندی اور آسانی کا عنصر ہو۔ اور ایسے اعمال اور اشیاء سے اس کا جی کتراتا ہے جو مشکل اور ناممکن ہوں۔ جن میں مشقت پائی جاتی ہو۔ جن میں ظاہری کشش کے تمام اسباب مفقود ہوں۔ جن کے حصول کے بعد بھی ان کے فوائد باطنی اور مخفی ہوں۔ مگر خداوندِ عالم کی قدرت بھی انوکھی ہے کہ اس فطرتی جذبے اور عنصر کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی ایسی اشیاء پیدا کیں کہ جن کے استعمال سے اس جذبے میں سکوت پیدا ہوتا ہے۔ اس کے اکسانے اور شہہ دینے کے عمل میں کمی آتی ہے اور اس کے جوشیلے پن میں نرمی پیدا ہوتی ہے۔
ان اعمال اور اشیاء میں سے ایک ” موت کو یاد کرنے کا عمل ہے”۔ فرمانِ نبوی صلعم ہے کہ ” لذتوں کو ختم کرنے والی ( موت) کو یاد کیا کرو” یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس جہانِ فانی سے ہر ایک نے کوچ کر جانا ہے۔ یہاں ہر کوئی مخصوص مدت تک قیام پذیر ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کب ، کہاں سے اور کس حال میں لوٹ کر جانا ہے؟ اپنی گوناگوں مصروفیات میں مگن لوگ انہیں مصروفیات میں ہی رخصت ہو جاتے ہیں۔ اپنے پسندیدہ اور ناپسندیدہ کاموں کی تکمیل کے دوران ہی وفات پا جاتے ہیں۔ اس مدت کا کوئی وقت اور ترتیب ہمارے ہاں مقرر نہیں۔
یقیناً موت کی سختیاں بھی قابلِ ذکر ہیں۔ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی روح بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئی تو رب العالمین نے سوال کیا کہ” آپ نے موت کو کیسا پایا؟ ” انہوں نے فرمایا کہ ” ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے قصاب زندہ بکری کی کھال اتار رہا ہو” اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں منقول ہے کہ جب ان کا انتقال ہوا تو اللہ رب العزت نے سوال کیا کہ “میرے خلیل! آپ نے موت کو کیسا پایا؟ آپ نے جواب دیا کہ” جیسے گرم سیخ کو گیلی اون میں ڈال کر کھینچا جائے” تب اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ” ہم نے آپ کے لیے موت کو آسان کر دیا ” یہ وہ شخصیت تھیں کہ جن کے لیے آگ کو بھی گلزار بنا دیا گیا تھا۔ جو معصوم عن الخطاء تھے۔ جن کے فضائل کی اس قدر لمبی فہرست ہے کہ بیان سے باہر مگر موت کی شدت اور حدت سے ان کی ذات بھی بچ نہ سکی۔
تین مصیبتیں ایسی ہیں کہ جن کا موت کے وقت ہر انسان کو مشاہدہ ہوتا ہے۔ پہلی نزع کی تکلیف ہے۔ حضرت عمر فاروق رض نے حضرت کعب رض سے موت کی شدت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ” امیر المومنین! موت ایسی ٹہنی کی طرح ہے جس میں بہت زیادہ کانٹے ہوں۔ وہ انسان کے جسم میں داخل ہو گئی ہو۔ اور اس کے تمام کانٹے ہر رگ میں گھس گئے ہوں۔ پھر ایک آدمی اسے انتہائی سختی سے اس طرح کھینچے کہ کچھ باہر آ جائے اور کچھ اندر رہ جائے” ۔ دوسری مصیبت “ملک الموت کی صورت کا مشاہدہ ” ہے۔ امام غزالی کا قول ہے کہ ” انبیاء کرام علیہم السلام نے موت کے تذکرے میں صرف نزع کی تکلیف کو بیان کیا ہے۔ اس خوف اور دہشت کا ذکر نہیں کیا جو ملک الموت کی صورت دیکھنے والے پر طاری ہوتی ہے۔ اگر کوئی ملک الموت کی صورت خواب میں دیکھ لے تو اس کی بقیہ زندگی اجیرن ہو جائے چہ جائیکہ اسے موت کی سختی کے وقت ہیبت ناک شکل میں دیکھے”۔ تیسری مصیبت ” اپنے ٹھکانے کا نظارہ” ہے۔ نبی کریم صلعم نے ارشاد فرمایا کہ” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک دنیا سے نہیں نکلتا جب تک کہ وہ اپنا ٹھکانہ جنت ہے یا جہنم دیکھ نہ لے”۔
اگر کوئی صاحبِ فکر موت کی سختیوں کو مدنظر رکھے۔ ان سختیوں سے بچاؤ کی تدابیر سوچے۔ اپنے اعمال کا جائزہ لے اور غور و تدبر کے ساتھ اپنی زندگی کی قیمتی ساعتوں کو راہِ خدا میں نیک اعمال کرتے کرتے گزارے تو اس شخص کا دل دنیا کی گہما گہمی اور ظاہری دلکشی سے اچاٹ ہو جائے گا۔ ہمہ وقت اس کی نگاہوں میں خوف الہٰی چھلکے گا۔ موت کی ناقابلِ برداشت سختیوں کا تصور اس کی زندگی کو قابلِ رشک بنا دے گا اور وہ نیک ، صالح اور عابد بن کر جہانِ فانی سے رخصت ہو گا۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے