Home / بین الاقوامی / طیارے کا کریش

طیارے کا کریش

ذرا سوچیں:
تحریر:
ریا ض حسین
(جوائنٹ فورسز پبلک سکول چیچہ وطنی)
پی کے۳۰۳۸ طیارے کا کریش ہونا
ماہ رمضان کا مہینہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا مہینہ ہر مسلمان کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ماہ رمضان کے اختتام پر اللہ کریم اپنے حبیب خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے عید (خوشی) بطور انعام عطا فرماتا ہے، جس کا ہر مسلمان کو انتظار ہوتا ہے اور سارا ماہ رمضان عید کی تیاری کی نسبت سے اپنی اپنی معاشی حالات کے مطابق سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سال کورونا کی وجہ سے پورے پاکستان میں لاک ڈاؤن رہا اور ملکی معشیت کے ساتھ ساتھ ایک عام آدمی بھی معاشی طور پر بہت زیادہ متاثر ہوا۔عید کی خوشیوں کو دبالا کرنے کے لیے لاک ڈاؤن تقریباً کھول دیا گیا لوگوں میں اپنے بچوں کی خوشی کے لیے عید کی تیاریاں زوروشور سے شروع ہو گئیں۔ ان خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لیے لوگوں کی آمدو رفت شروع ہوتی ہے۔جو لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے گھروں سے دور تھے اب انہوں نے اپنے اپنے گھروں کی طرف سفر شروع کیا۔ اسی دوران ۲۲ مئی کو لاہور ائیر پورٹ سے کراچی کے لیے پی آئی اے فلائٹ پی کے ۳۰۳۸ کے ذریعے کراچی روانہ ہوئی،آنکھوں میں خوشیوں کے خواب سجھائے، ماں، باپ، بہن اور بھائیوں کے لیے شاپنگ کیے، سرپرائز دینے والے، اپنے بیوی بچوں کو ملنے والے اس بد قسمت طیارے میں سوار تھے۔ شایدہی کوئی ایسا مسافر ہو جس کی آنکھوں میں خواب نہ ہوں گے، ان مسافروں میں پی ایم اے سے پاس آؤٹ ہونے والا سیکنڈ لیفٹینٹ، پاک فضائیہ سے سکاڈرن لیڈر جس کی ابھی دو ماہ پہلے شادی ہوئی تھی اپنی مسز زاہد ہ کو چند دن کے لیے چھوڑ کر خود کراچی آرہا تھا، ائیر ہوسٹس جو اس طیارہ کے لیے تیار تھی اس کی جگہ کسی اور ائیر ہوسٹس کو شیڈول میں لایا گیا، کوئی اپنے والد کو ملنے کے بعد واپس گھر آرہا تھا، یعنی کے ہر شخص، ہر فیملی خوش گپیوں میں مصروف تھی، خوشی کی انتہا نہ تھی کہ اب خواب کی تکمیل ہونا باقی تھی کہ جہاز کراچی پہنچ جاتا ہے اور اعلان ہوتا ہے کہ ہم چند ہی منٹ بعد لینڈ کرنے والے ہیں، اپنا اپنا سیٹ بیلٹ باندھ لیں، تمام مسافر لمحہ بھر سے اپنے خوابوں سے باہر نکلے، ہوشیار ہو کر بیٹھ گئے کہ اب لینڈ کرنے کے فوراً اپنے اپنے گھروں کی راہ لیں گے۔ شاید قدرت کو ایسا منظور نہ تھا، کسی کی بدنظریں ان کی خوشیوں کو نگل گئی، شاید کسی کی بددعا لے ڈوبی، خیر اللہ تعالیٰ کی ذات بہتر جانتی ہے کہ کیا منظور تھا، ۰۵۱ مسافروں کی جگہ ۰۹ مسافر بٹھائے گئے تھے کیونکہ کورونا SOPپر عمل بھی ضروری تھا۔ اس طیارے کا عملہ ۷ کریوز پر مشتمل تھا۔ جہاز رن وے پر ٹچ ڈاؤن کرتا ہے لیکن اسے چند جھٹکے لگتے ہیں، جہاز کا پائلٹ جہاز کو ایک دفعہ ٹیک آف کرواتے ہوئے ہوا میں چلا جاتا ہے۔ جہاز اپنے لینڈنگ سرکٹ میں تقریباً دس سے پندرہ منٹ رہتا ہے، پھر اناؤنسمنٹ ہوتی ہے کہ جہاز اب پھر محفوظ سمجھتے ہوئے لینڈ کرنے جار ہا ہے۔ لیکن اس وقت مسافروں کے چہرے پر خوشی کے تاثرات بالکل غائب ہو چکے تھے، چہرے اترے ہوئے تھے شاید رب کریم نے ان کی موت کا پروانہ بھیج دیا تھا۔ تمام مسافر اللہ کے حضور گڑ گڑا کا رو رو کر دعائیں مانگنے لگے، اللہ اکبر کی صدائیں، کوئی درود شریف تو کوئی دوسری دعائیں پڑھنا شروع گئے، پائلٹ کنٹرول روم سے رابطہ کرتا ہے کہ سر انجن ھیو لاسٹ، دونوں رن وے کلیئر کر دیئے گئے تھے جہاں مناسب لگے لینڈ کر جاؤ لیکن یہ انسانی تدبیر تھی اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا، مسافر اپنی منزل اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے تھے لیکن صرف ایک منٹ دوری پر بدقسمت طیارہ سول آبادی کو اپنی لپیٹ میں لیے کریش ہو جاتا ہے،ایک کہرام مچ جاتا ہے، خوشیاں راس نہ آئیں ادھورے خواب لیے اس دُنیا فانی سے کوچ کر گئے، کسی کا سرپرائز، کسی کا اپنی بیٹی کے لیے قیمتی گفٹ، کسی سے سالوں بعد ملنے کی امید، کسی کو کسی کا انتظار، یہ سب ایک ہی لمحہ میں ختم ہو جاتا ہے، خوشیاں غمی میں تبدیل ہو گئیں، پورے ملک کی فضا افسردہ ہوگئی، اللہ تعالیٰ ان سب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے اور لواحقین کو صبر جمیل دے آمین، پوری قوم ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ اب طیارہ کی انکوائری سے پتہ چلے گا کہ یہ ایک بڑا حادثہ کیسے پیش آیا۔ اس طیارے میں بچ جانے والے مسافر زبیر کی گفتگو سے کئی سوال بھی پیدا ہو نگے کہ پہلی دفعہ طیارہ جب لینڈ کر رہا تھا تو اس وقت ویلی لینڈ کیوں نہ کروایا گیا، دوبارہ سے لینڈنگ رن وے سے پہلے ہی کیسے طیارہ بلڈنگ کے ساتھ ٹکرا گیا جبکہ ان طیاروں میں گلائیڈنگ کی اہلیت ہوتی ہے، کیا ایک سینئر پائلٹ ہونے کے باوجود شاید اپنے حواس پر قابو نہ رکھ سکا کہ لینڈنگ گیئرز نہ کھلنے اور طیارے کے دونوں انجن کا آگ پکڑنا، پائلٹ کو صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنے اور گلائیڈ کرتے ہوئے رن وے پر ویلی لینڈنگ کیوں نہ کر پایا، جبکہ پی آئی اے کے چیئرمین ارشد ملک صاحب کے بقول جہاز بالکل ٹھیک تھا، زندہ بچ جانے والا مسافر بھی یہی کہتا ہے کہ طیارہ بالکل بہتر انداز میں فلائی کرتے ہوئے کراچی تک پہنچا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی حادثاتی موت سے بچائے اور تمام متعلقہ لوگوں کو خوش دلی اور پیشہ وارانہ اہلیت کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اور اللہ کریم ایسے حادثوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

One comment

  1. Avatar

    I very like this blog. Everything is cleared.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے