Home / اسلام / ذکرِ تورات و انجیل اور قُرآن !! 🌹

ذکرِ تورات و انجیل اور قُرآن !! 🌹

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
(((( الماٸدہ ، اٰیت 48 )))) 🌹
ذکرِ تورات و انجیل اور قُرآن !! 🌹
ازقلم 📕 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیت ! 🌹
🌹 وانزلنا
الیک الکتٰب بالحق
مصدقالمابین یدیہ من الکتٰب و
مھیمنا علیہ فاحکم بماانزل اللہ ولا تتبع
اھواٸھم عماجا ٕک من الحق لکل جعلنا منکم شرعة و
منھاجا ولو شا ٕ اللہ لجعلکم امة واحدة ولٰکن لیبلوکم فی مااٰتٰکم
فاستبق الخیرٰت الی اللہ مرجعکم جمیعا فینبٸکم بما کنتم تختلفون 48
اے ھمارے سفیرِ جہان ! ھم نے اپنی الکتاب سے تیری لَوحِ دِل پر اپنی وہ کتابِ حیات ثبت کردی ھے جس میں ھم نے سارے جہان کے لیۓ اپنے سارے فرمان جمع کر دیۓ ہیں اور اِس کتاب کو ھم نے جُملہ زمان و مکان کے جُملہ اَحکامِ جہان کا مُفسر و محافظ بھی بنا دیا ھے ، اِس لیۓ انسانی معاشرت و معاملات کے سارے فیصلے ھماری اسی کتابِ نازلہ کے مطابق کیۓ جاٸیں اور جو لوگ اِس کتابِ حق کے اَحکام کے بجاۓ اپنے اَوہام کے مطابق فیصلے کرانا چاہیں تو اُن کی خواہشات کے مطابق فیصلے نہ کیۓ جاٸیں ، ھم نے ہر انسانی نسل کے لیۓ قانون کی ایک راہِ عمل مقرر کردی ھے جس پر طوعا و کرھا اُس نے چلنا ہی چلنا ھے اور ھماری مشیت کے عین مطابق چلنا ھے ، اگر ھم چاہتے تو جہان کی ساری اقوام کو ایک قوم ، جہان کی ساری ملتوں کو ایک ملت اور جہان کی ساری اُمتوں کو ایک اُمت بنا کر ایک ہی طریقِ کار کا پابند بنادیتے لیکن ھم نے مُختلف انسانوں کو جو مختلف صلاحیتیں دی ہیں ھم اُن کو اُن کی اُن مُختلف صلاحیتوں کے مطابق مُختلف میدانوں میں چلانا چاہتے ہیں اور اُن کو اُن کی مُختلف صلاحیتوں کا آزماٸش کار بنانا چاہتے ہیں تاکہ ہر انسان سبقت فی الخیرات کے مقابلے میں سبقت بالخیرات حاصل کرسکے ، پھر جس دِن تُم لوگ اللہ کے پاس آٶ گے تو اُس دِن اللہ تُم کو سبقت بالخیرات کے نتاٸج سُناۓ گا اور تُم میں سے جو انسان جس انعام کا مُستحق ھو گا اُس کو وہ انعام دیا جاۓ گا !
🌹 رَبطِ اٰیات اَحکامِ اٰیات اور مطالبِ اٰیات ! 🌹
گزشتہ سے پیوستہ دو اٰیات میں کتابِ تورات کا اور اِن دو اٰیات کے بعد آنے والی دو اٰیات میں کتابِ انجیل کا ذکر کیا گیا تھا اور اَب اِن چار اٰیات کے بعد پانچویں اٰیت میں تیسری کتاب کے طور پر قُرآنِ کریم کا ذکر آیا ھے اور اِس میں اللہ تعالٰی نے یہ بتایا ھے کہ یہ کتابِ ھدایت بھی” الکتاب “ کی اُسی سنہری زنجیر کی ایک سنہری کڑی ھے جس ” الکتاب “ کی ایک کڑی تورات ھے اور ایک کڑی انجیل ھے ، یہ تین کتابیں نَسلِ ابراھیم میں پیدا ھونے والے اُن تین اَنبیا ٕ پر نازل ھوٸ ہیں جو معلوم تاریخ کے ایک معلوم زمانے سے تعلق رکھتے ہیں اِس لیۓ اِن تین اَنبیا پر نازل ھونے والی اِن تین کتابوں سے یہ نتیجہ اَخذ کرنا درست نہیں ھو گا کہ اِس سلسلہِ نبوت کے علاوہ دُنیا میں ھدایت کا کوٸ اورسلسلہ موجود نہیں رہا ھے کیونکہ قُرآنِ کریم نے ایک دُوسرے مقام پر ” ولکل قوم ھاد “ کہہ کر اِس بات کی تصدیق کی ھے دُنیا کی ہر قوم میں اللہ کا کوٸ نہ کوٸ ھادی آیا ھے اور اُس ھادی نے دُنیا کی ہر قوم میں اللہ کا یہ پیغام پُہنچایا ھے ، جو پیغام بنی اسراٸیل کی پہلی نَسل میں کتابِ تورات ، دُوسری پُشت میں کتابِ انجیل کے ذریعے اور انسانیت کی آخری اُمت میں کتابِ قُرآن کے ذریعے آیا ھے اور جس طرح اِن تین کتابوں کے ماننے والوں کے درمیان ھدایت کا ایک کا مربُوط رشتہ قاٸم ھے اسی طرح اِن تینوں اُمتوں کا بھی دُنیا کی دیگر اقوام کے ساتھ انسانیت کا ایسا ہی ایک مضبوط رشتہ قاٸم ھے اور اگر قاٸم نہیں ھے تو قاٸم ھو جاناچاہیۓ !!
🌹 سبقت بالخیرات اور انعام للخیرات ! 🌹
اٰیت ھٰذا ، حق ، شریعت ، منہاج ، سبقت فی الخیرات اور انعام للخیرات کی وسیع المعانی اصطلاحات کی حامل ھے اور اِن اصطلاحات سے جو گُونا گُوں اَحکام مُتبادر ھوتے ہیں اُن سب اَحکام پر تو اظہارِ خیال مُمکن نہیں ھے لیکن اٰیت میں وارد ھونے والا جو پہلا لفظ حق ھے تو اُس کا اِطلاق اُس قول پر ھوتا ھے جو کان میں اُترے تو زبان سے بے ساختہ طور پر کلمہِ تحسین اَدا ھو جاۓ اور جو عمل میں شامل ھو جاۓ تو رُوح و دِل کی تسکین کا باعث بن جاۓ ، اِس اٰیت میں آنے والا دُوسرا لفظ شرعة ھے جس سے شرع و شریعت اور شارع وغیرہ کی اصطلاحات نے جنم لیا ھے ، شرع و شریعة اور شارع کے الفاظ ہَم معنی ہیں اور شریعتہ اُس راستے کو کہتے ہیں جو پیاسے کو ٹَھنڈے اور میٹھے پانی کے گھاٹ تک لے جاۓ ، ابتداٸ زمانے کے سارے انسانی قباٸل صحرا نورد تھے اور باور کیا جاسکتا ھے کہ اُس زمانے میں صحرا نوردوں کو جب اِس آبِ حیات کی خبر دی جاتی ھوگی تو وہ خوشی سے نہال ھو جاتے ھوں گے لیکن اُس زمانے یا زمانے کے بعد کسی دُوسرے زمانے کے صحرانوردوں کو پانی کی ی خوش خبر دینے کا مقصد اُن کی تشنہ طلبی کو ہی تسکین دینا نہیں بلکہ اُن کے میں دِل پیدا ھونے والی ہر طلب کو تسکین دینا ھے ، اٰیت کا تیسرا لفظ منہاج ھے جس کا معنٰی روشنی ھے اور اِس مقام پر روشنی سے مراد وہ روشنی ھے جو تشنہ لَب انسان کو اُس آبِ حیات کا راستہ دکھاتی ھے جس کی روشنی میں وہ خراما خراماں چلتا ھوا اُس آبِ حیات تک پُہنچ جاتا ھے جس پر سکندر کی شاہی نہیں پُہنچ پاتی لیکن خضر کی فقیری پُہنچ جاتی ھے کیونکہ اِس چشمہِ حیات تک پُہنچنے کے لیۓ سبقت بالخیرات لازم ھے اور یہ وہی سبقت بالخیرات ھے جس کو سُورةُالبقرہ کی اٰیت 148 میں انسان کا قبلہ کہا گیا ھے اور اِس سبقت بالخیرات کا بدلہ انعام للخیرات ھے جس کا مطلب یہ ھے کہ نیکی ایک ایسا بیج ھے جو زندگی کی زمین میں ہمیشہ پَھلتا رہتا ھے اور نیکی کا پَھل ایک ایسا انعام ھے جو سفرِ زندگی کے ہر مقام انسان کو ہمیشہ ہی ملتا رہتا ھے !
🌹 اٰیت کا مرکزی مضمون اور مرکزی پیغام ! 🌹
اِس اٰیت میں اللہ تعالٰی نے سیدنا محمد علیہ السلام کو براہِ راست حکم دیا ھے کہ اگر کُچھ لوگ آپ سے اِس کتابِ نازلہ کے اَحکامِ نازلہ کے بر عکس کوٸ فیصلہ کرانا چاہیں تو اُن کی اِس خواہش سختی سے رَد کردیا جاۓ ، اِس اٰیت کا یہ مرکزی مضمون ھے لیکن یہ بات پیشِ نظر رھے کہ جب کسی انسان کو کسی کام سے منع کیا جاتا ھے تو اُس کا ہمیشہ یہ مطلب نہیں ھوتا کہ وہ انسان وہ کام کر ر ہا ھے یا وہ یہ کام کرنے کا ارادہ رکھتا ھے بلکہ کبھی کبھی اِس کے بالکُل بر عکس ھوتا ھے اور کہنے والا اُس کو یہ کہہ رہا ھوتا ھے کہ جس کام سے تُم اَب تک اجتناب کرتے چلے آرھے ھو اُس سے ہمیشہ اجتناب کرتے رہنا اور سیدنا محمد علیہ السلام سے تو کسی کی خواہش کے مطابق فیصلہ صادر کرنا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا لیکن یہ اَمر بھی ظاہر ھے کہ قُرآن آپ کی زندگی اور زمانے تک محدود رہنٕے والی کتاب نہیں تھی ، آپ کی حیات کے بعد اور آپ کے زمانہِ حیات کے بعد آپ کے جانشینوں ، اُن کے بعد اُن کے جانشینوں اور اُن کے بعد رہتی دُنیا تک رہتی دُنیا کے مکینوں نے بھی فیصلے کرنے تھے اور نبی علیہ السلام کے واسطے سے یہ پیغام اُن لوگوں کے لیۓ ھے اور اُن کو لوگوں کو ہی اِس پیغام میں اِس اَمر کی تاکید کی گٸ ھے کہ تُم جب کوٸ فیصلہ کرو تمہارا وہ فیصلہ اِس کتاب کے خلاف نہیں ھونا چاہیۓ کیونکہ جو لوگ قُرآنی اَحکام کے خلاف فیصلے کرتے ہیں وہ مُنکر ، مُفسد اور بَد کار لوگ ھوتے ہیں !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے