Home / کالم / مقام سے غافل

مقام سے غافل

تحریر
بابرالیاس
چیف ایڈیٹر قلمدان ڈاٹ نیٹ

‏صحابہ رضی اللہ تعالی اہلِ زبان تھے نزولِ وحی کا مشاہدہ کرتے تھے، قرآن کریم اور اس کی تشریحات و توضیحات بلا واسطہ خود مہبطِ وحی ﷺ سے سننے کا شرف حاصل ہوا اس کے باوجود سب کا علمی مرتبہ یکساں نہیں تھا ہر ایک خود مجتہد اور مفتی گمان نہیں کرتا تھا بلکہ یہ مراتب بھی اجلہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص تھے
‏دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی باوجود معانئ قرآن و سنت جاننے کے باوجود مسائل کے حل کے لئے انہی اجلہ صحابہ رضی اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تھے، خلفائے راشدین رضی اللہ ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ ، عبادلہ اربعہ رضی اللہ وغیرہ حضرات ہی منصبِ اجتہاد و افتا پر فائز تھے.
یہ تو تھا اسلام کے اولین مخاطبین اور حاملین کا طرزِ عمل دوسری جانب ‏یہ نئی پود ہے جنہیں قرآن و حدیث پر عبور تو دور معلوم آیات و احادیث کے معانی جاننے کے لیے بھی کسی لغت کی محتاجی سے چھٹکارا نہیں…
لیکن اس کے باوجود انہیں اصرار ہے کہ ہر شخص قرآن مجید اور احادیث کریمہ سے بذات خود مسائل نکالنے کا مکلف اور ماذون ہے ایسوں کے نزدیک کسی بھی ایرے غیرے‏نتھو خیرے کی لکھی لغت سے دیکھ کر قرآن و حدیث کے معانی جاننے والا اور آیت و حدیث کے شان نزول، نسخ یا عدمِ نسخ ،محکم یا متشابہ ،ظاہر یا خفی، حقیقت یا مجاز جیسے سنجیدہ لوازمات سے واقفیت کے بعد اس سے مفہوم اور مسئلہ اخذ کرنے والا عالم ایک برابر ہیں گویا بازار سے دس روپے میں ملنے والا
‏”دس دن میں ڈاکٹر بنئے” نامی کتابچے کا قاری اور میڈیکل یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ڈاکٹر ایک برابر ہیں خرد کا نام جنوں رکھ دیا اور جنوں کا نام خرد.
اور ایک آدھ حدیث مبارکہ پڑھ کر فقہائے عظام اور ائمہ کرام پر زبانیں دراز کرنے والوں کے لیے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے واقعہ میں ‏نصیحت کا سامان ہے کہ
ایک بار عصر کی نماز سے پہلے آپ رضی اللہ تعالی مسجد میں أحباب کے ساتھ بیٹھے گفتگو میں مصروف تھے کہ ایک صاحب نے کہا جناب رضی اللہ تعالی نماز کا وقت ہو گیا، آپ رضی اللہ تعالی نے فرمایا ٹھہرو، کچھ دیر بعد وہ پھر آیا فرمایا ٹھہرو
کئی بار اس نے یہی کہا اور قضائے نماز کے حوالے سے تشویش کا اظہار بھی کیا تو
‏سیدنا علی رضی اللہ تعالی غصے میں آ گئے اور سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا: اب یہ دیہاتی ہمیں دینی احکام سکھائیں گے.
اور پھر آپ رضی اللہ تعالی نے وقتِ مناسب پر جماعت قائم کی.
آج کل بھی بہت سے دیہاتی فقہا و علما کو دین سکھانے کے درپے ہیں وہ تو اپنا بچاؤ جانتے ہیں خدا امت کی خیر فرمائے.
‏اپنے اور اپنی اولادوں کے دل و دماغ میں یہ حقیقت راسخ کر دیں کہ دین مکمل ہو چکا اور آئمہ و فقہا اصول دین کامل کر چکے، اجتہاد/قیاس کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے لیکن وہ بھی کڑی شرائط کے ساتھ لہذا قطعاً نئی نئی عجیب و غریب باتوں کے دھوکے میں نہ آئیں اور علماء کیساتھ جڑے رہیں۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے