Home / کالم / پرائیویٹ سکول سے او پی ڈی کا سفر

پرائیویٹ سکول سے او پی ڈی کا سفر

ذرا سوچیں:
تحریر:
ریا ض حسین
(جوائنٹ فورسز پبلک سکول چیچہ وطنی)

میرا دوست کسی سے ملنے کے لیے نکلا تو میں بھی اس کے ساتھ تھا، وہاں کچھ اور بھی لوگ بیٹھے تھے لیکن یہ ساتھ عام پرائیویٹ سکول کے اونرز تھے، اس ملاقات کا حال کچھ یوں بیان کرتا ہوں کہ دسمبر 2019 چائنامیں نمودار ہونے والا کورونا مارچ 2020میں سفر طے کرتا ہوا پاکستان پہنچتا ہے، اور ایمرجنسی میں ۳۱مارچ کو لاک ڈاؤن حکم جاری ہوتا ہے اور سرکاری و پرائیویٹ سکول بند کر دیئے جاتے ہیں، اس فیصلے کی حکمت کو حکومت وقت کی بہتر سمجھتی ہے۔ سکول دوبارہ اوپن ہونے کی امید لیے بیٹھے تھے لیکن مئی کے پہلے ہفتہ میں وہ امید دم توڑ گئی، سوشل میڈیا پر بحث و مباحثہ ہوتا ہے، پرائیویٹ سکولز کی طرف عدالت عظمی ٰ تک بات پہنچتی ہے لیکن بے سود ثابت ہو تی ہے۔یکم جون کی بجائے ۵۱جولائی تک کورونا لاک ڈاؤن کا دورانیہ بڑھا دیا جاتا ہے۔ والدین کی طرف سے فیس کا وصول ہونا ناممکن ہو گیا، سکول عمارت مالکان کرایہ کا تقاضا کرنے لگے، معاشی بدحالی کا سفر شروع ہوتا ہے، مالکان کرایہ وصول کرنے پر بضد، والدین فیسیں نہ دینے پر بضد، عام سکول اونر چکی کے دو پلڑوں کے درمیان پسنا شروع ہو جاتا ہے، کچھ سکول برائے فروخت کے اشتہار کے ساتھ نمایاں ہونے لگے تو کچھ مجبور ہو کرسکول کو ہمیشہ کے لیے ترک کرنے فیصلہ لینے لگے، حکومت کی طرف سے ان کے لیے کوئی ریلیف نہیں، ہاں البتہ وکلاء کے لیے ضرور سوچاجانے لگا کہ ان کی مالی امداد کی جائے، کیونکہ اشرافیہ اور ڈنڈا بڑی چیز ہے۔ طویل گفتگو میں والدین کی طرف سے فیس نہ دینا اور حکومت کی طرف سے رعایت کی بجائے الٹا ۰۲ فیصد فلیٹ ڈسکاؤنٹ کا اعلان، عید کی خوشیاں، میں ان کو بیچارگی اور ناامید ی کی ایسی باتیں کرتے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پھر آپس میں کوئی اور دوسرا کام کرنے کا پلان کرتے ہیں، جس میں فاسٹ فوڈقسم کی ریڑھی، ٹھیلا، سبزی منڈی میں سبزی کی دکان، فوٹو اسٹیٹ میشن، اسٹیشنری وغیرہ وغیرہ موضوع پر بات چلی لیکن کچھ فائنل نہ کر سکے، پھر ایک اور آئیڈیا ڈسکس ہوا کہ کیوں نہ پوش علاقہ میں مکان کرایہ پر لے کر چند ڈاکٹر ز سے طے کرنے کے سیکنڈ ٹائم OPD کی طرز پر کام شروع کیا جائے۔ یہ ٹاپک کافی دلچسپ اور کارآمد نظر آیا، پلان تیار کیا، کس طرح اسے مینج کرنا ہو گا، پھر فارمیسی بھی ہو گی جس کے لیے کی ڈگر ی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے، ان میں سے ایک کا اور دوست اسی طرز کا کام کرتا ہے جو اچھی خوشحال زندگی گزار رہا ہے اور اچھا روپیہ کماتا ہے، فائنل ہونے لگا اس کے لیے کتنی انوسمنٹ ہونی چاہیے اور اس کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے گا، خیرجب تفصیل سے اس کا جائزہ لیا گیا کہ حقیقت میں روپیہ کما کیسے ہو گا؟ وہ کہنے لگا کہ میرا دوست جو یہ کام کرتا ہے، اس کے مطابق ڈاکٹرز کے ساتھ ڈیل ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ میڈکل لیب ٹیسٹ کروائیں جائیں گے کیونکہ مریض ڈاکٹر کی بات سے انکار نہیں کرتا، مریض کو پہلے فرسٹ ایڈ کے طور پر دوائی دی جاتی ہے اور ساتھ میں کہا جاتا ہے کہ یہ ٹیسٹ کرواؤ، جورپورٹ آئے اس کے مطابق دوائی شروع کریں گے، اس طرح چار، چھ ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں، مریض کو ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو، مریض امیر ہو غریب ہو اس کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اس طرح ڈاکٹر کی دو مرتبہ فیس اور باقی لیب ٹیسٹ زندہ باد، ٹیسٹ کی بات پر گفتگو دم توڑ نے لگی کہ ہم استاد ہیں، معاشرہ کی بہتری اور خلافِ معاشرہ روش کا سبق نہیں دیتے تو پھر ہم اتنا ظلم کیسے کر یں گے، یہ تو سیدھا انسانی قتل ہوا، میں تو ایسا نہیں کر سکتا جس میں کسی کی بھلائی کی بجائے اس کی مجبوری کو اپنا روز گار بنایا جائے۔ سوچ میں پڑ گئے، سارے خواب چکنا چور ہو گئے، اب مزید بے بسی اور ناامید سے ان کے چہرے لٹک گئے کیونکہ کورونا کی وجہ لاک ڈاؤن میں اضافہ خاص طور پر پرائیویٹ سکول اور سرکاری سکول کھلنے کی کوئی توقع نہیں، سرکاری ٹیچر تو پریشان نہیں کیونکہ اسے اپنی تنخواہ سے غرض ہے جو وقت پر مل رہی ہے۔ لیکن اسے قوم کے مستقبل سے شاید دلچسپی نہیں، لیکن پرائیویٹ سکول اونر کو قوم کے مستقبل کی پریشانی کے ساتھ اپنی سفید پوشی کی دم توڑتی ہوئی امید بھی ختم ہوتی نظر آر ہی ہے، ایک طویل بیٹھک کے بعد ان دوستوں کا پارٹ ٹائم یاکوئی اور روز گار سکول سے او پی ڈی تک سفر کرتا ہوا دم توڑ گیا اور پھر سے حکومت کی طرف لاک ڈاؤن کے کھلنے کی امید لگا ئے ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ قارئین میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ عام پرائیویٹ سکول کوئی مافیا نہیں، جیسے تیسے کر کے ایک عام آدمی کے بچوں کو بہتر تعلیم دینے میں کوشاں ہے، محترم والدین آپ نے بچے پڑھانے تو ہیں کیونکہ نہ ایسے سکول مالکان کو فیس بروقت دی جائے، ایسا نہ ہو یہ پڑھا لکھا طبقہ بھی کل ایک دیہاڑی دار اور ضرورت مند وں کی لائین میں نظر آئیں اور آپ کے بچے تعلیم سے محروم ہو جائیں۔ آئیے عہد کریں کہ ان کو ہم نا امید نہیں ہونے دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایک دوسرے کا سہارا بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے