Home / کالم / روزہ اور عید کی روح۔۔۔؟*

روزہ اور عید کی روح۔۔۔؟*

*انتخاب ؤ ترتیب
رانا اسد منہاس جڑنوالا

رمضان المبارک اپنی تمام تر برکات کے ساتھ آیااور بابرکت اور پرنور گھڑیوں کے بعد رخصت ہونے لگا۔یہ ماہ مقدس یہ حق رکھتا ہے کہ مسلمان اس کے رخصت ہونے پررنجیدہ و افسردہ ہوں۔ہمارے روزوں،نمازوں،صدقات و دیگر عبادات کا تعلق ایمان سے ہے اگر ایمان نہیں تو یہ ساری عبادات رسمی ہیں۔یہ ماہ مقدس ہمارے پاس ایک مہمان کی حیثیت سے آیا تھا۔اب خود ہی سوچ لیجیے کہ ہم نے اس مہمان کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟کیا ہم نے رمضان کے ساتھ ویسا سلوک کیا جیسا کسی مہمان کے ساتھ کرنا چاہیے؟کیا ہم نے ماہ رمضان کا حق ادا کیا؟کیا ہم اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے اللہ تعالی کے حضور سجدہ ریز ہوئے؟کیا ہم نے اللہ سے رحمت،بخشش اور جہنم کی آزادی کا سوال کیا؟کیا ہم رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں قیام کر کے لیلتہ القدر کی برکات کو حاصل کر سکے؟ اگر یہ سب کیا تو ٹھیک ورنہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔۔۔ کیوں کہ اللہ کے نبی کی حدیث ہے حضورﷺنے فرمایا کہ اللہ کی لعنت ہو اس شخص پر جس کی زندگی میں ماہ رمضان آئے اور وہ اس میں اپنے گناہوں کو بخشوا نا لے۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس ماہ مقدس میں اپنے رب کو راضی کر لیا اور رمضان المبارک کی بابرکت گھڑیوں سے فائدہ اٹھایا۔ان کے لیے اللہ کی طرف سے خوشخبریاں ہیں۔عید کے دن اللہ کے فرشتے ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہونگے۔حقیقت میں وہی لوگ کامیاب ہوئے۔اس کے برعکس بدقسمت ہیں وہ لوگ جو نیکیوں کے موسم بہار میں بھی اپنے رب کو راضی نہ کر سکے اور اس ماہ پرنور کی برکات سے محروم رہے۔ا ب شاید کے یہ مبارک گھڑیاں دوبارہ ہماری زندگی میں لوٹ کر آئیں یا نہ آئیں۔کتنے ہی وہ لوگ تھے جو گزشتہ رمضان المبارک میں ہم میں موجود تھے مگر اس رمضان میں وہ شہر خاموشاں کی زینت بن چکے ہیں۔ رمضان المبارک کے بعد اللہ تعالی نے مومنین کو عید کی خوشی سے نوازا ہے۔عید مسلمانوں کے لیے خوشی کا تہوار ہے۔عید کا لفظ عود سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں لوٹ کر آنا،بار بار آنا،اس کو عید اس لیے کہتے ہیں کہ یہ دن بار بار لوٹ کر آتا ہے۔حدیث مبارکہ میں آتا ہے،حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو اہل مدینہ کے دو دن تھے جس میں وہ کھیلتے تھے،جو دور جاہلیت سے چلے آ رہے تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہارے پاس آیا اور تمہارے دو دن تھے،جن میں جاہلیت کے دور میں تم کھیل تماشے کرتے تھے۔اللہ نے ان دونوں دنوں کے بدل میں تمہیں اس سے بہتر دو دن دیے ہیں۔ ایک قربانی کا دن اور دوسرا عید الفطر کا دن۔(ابو داؤد 1134،نسائی 3/179 مسند احمد 3/103)۔عید الفطر کا دن ہمیں کھانے پینے اور سیر تفریح کے ساتھ ساتھ معاشرے کے مفلس،نادار اور غربت کی چکی میں پسے ہوئے افراد کی حوصلہ افزائی کا بھی حکم دیتا ہے۔صدقتہ الفطر اس بات کی واضح اور مستحکم دلیل ہے۔تا کہ مستحقین بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔چونکہ بندہ مومن کا ہر لمحہ ہی بندگی ہے نا کہ عیش پرستی اور آوارگی،عید کا تہوار ہمیں اچھا کھانے،پینے،اچھا پہننے اور سیر و تفریح کا موقع فراہم کرتا ہے۔مگر اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ ہم خوشی کی آڑ میں حدوداللہ کے تقدس کو پامال کریں۔ہمارے ہاں عید کا چاند نظر آتے ہی عجیب سی صورتحال بن جاتی ہے۔مخلوط شاپنگ،سینماؤں کی آباد کاری،فحش پروگراموں کی ترویج اور فضول خرچی کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔جو کہ بالکل اسلام کے منافی کام ہیں۔یہ مسلمانوں کے کرنے کے کام نہیں ہیں بلکہ مسلمان تو اس خوشی کے موقع پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ماہ صیام میں ہمیں توبہ کی توفیق کے بعد عید کی خوشیاں عطا کی۔یہ شرف صرف مذہب اسلام کو ہی حاصل ہے جو اپنے پیروکاروں کو ہر لمحہ و ہر گھڑی خدا کی بندگی کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اسی صورتحال کا نقشہ کسی شاعر نے یوں کھینچا ہے ظفر آدمی اس کو نہ جانئے گا خواہ کتنا ہو صاحب فہم و ذکا جسے عیش میں یادخدا نہ رہی جسے عیش میں خوف خدا نہ رہا عید کے دن تکبیرات کہنا،نماز کی ادائیگی کے لیے کھلے میدان (عید گاہ) کا رخ کرنا،نماز عید کے لیے جانے سے پہلے کچھ کھانا (رسول اللہ ﷺ طاق کھجوریں کھاتے تھے)،نماز کی ادائیگی کے بعد راستہ بدل کر گھر آنا،صدقتہ الفطر نماز عید سے پہلے ادا کرنا اور عورتوں کا بھی دعا میں شامل ہونا مسنون اعمال ہیں۔ہمیں ان کا ضرور اہتمام کرنا چاہیے۔تحفے تحائف کا تبادلہ،عزیزوٍٍٍ اقارب کو ملنا،دعوتیں اور ملاقاتیں اس تہوار کی خوبصورتی ہیں۔اللہ ہمیں عید کی خوشیوں کا حقدار بنائے (آمین)۔قارئین کرام ہمیں عید کی خوشیوں میں اپنے مفلس بھائیوں کے ساتھ اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں،اگر جسم کا ایک حصہ متاثر ہو تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔پوری امت مسلمہ اس وقت زوال کا شکار ہے۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کو تختہ مشق بنایا جا رہا ہے۔ کشمیر،فلسطین،برما،عراق اور شام میں مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔عید ہمیں اتحاد و اتفاق اور یگانگت کا سبق دیتی ہے۔لہذا ہمیں اپنی دعاؤں میں ان مظلوم مسلمان بھائیوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔اس کے ساتھ ہمیں اپنے وطن عزیز کی خیر و برکت اور استحکام کے لیے دعائیں مانگنی چاہیے۔اللہ پاک ہمارے اس پاک وطن کو تمام تر اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے۔اللہ تعالی اس وطن کی حفاظت پہ معمور پاک فوج کے جوانوں کی حفاظت فرمائے (آمین یاربعٰلمین)

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے