Home / کالم / نازک آبگینے”

نازک آبگینے”

“تحریر
ام حسان کراچی

اسلامی طرز معاشرت میں نکاح بہت اہمیت کا حامل ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نکاح ہی معاشرے کی بنیاد ہے،

کسی نے کیا خوب اور سچ کہا ہے کہ۔۔!!

“اینٹیں جڑتی ہیں تو مکان بنتا ہے اور دل جڑتے ہیں تو گھر بنتا ہے”

اس وقت ہمارے معاشرے میں مکان تو بن جاتا ہے لیکن گھر نہیں بن پاتا اور اگر گھر بن بھی جاتا ہے تو اس کی بنیاد مضبوط نہیں ہوتی اور معاشرے کے خود ساختہ اور نام نہاد رویوں کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے،
ہمارے ہاں شادی دو دلوں کا نہیں بلکہ دو خاندانوں کا بندھن ہوتی ہے اب اس بندھن کا سارا بوجھ نئے شادی شدہ جوڑے پر ہوتا ہے،
ہمارے معاشرے میں عام رویہ یہ ہے کہ لڑکی دینے والے بھی اس اہم اور ضروری فریضے کو لڑکے والوں پہ احسان سمجھتے ہیں اور دوسری طرف جنھیں رشتہ دیا جاتا ہے یعنی لڑکے والے۔۔۔وہ بھی اسے اپنی طرف سے لڑکی والوں پر احسان سمجھتے ہیں کہ ہم نے ان کی لڑکی کا رشتہ لیا ہے،
اس کام کو اگر دینی اور سماجی فریضہ سمجھ کر انجام دیا جائے تو شاید بہت سے مسائل پیدا ہی نہ ہوں،
اس اہم ترین فریضے کو انجام دینے میں حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کی شروع سے تربیت کی جائے تو اس کے دور رس نتائج حاصل ہونگے،
چاہے ہمارے گھر میں دس نوکر کام کر رہے ہوں تب بھی بچیوں کو گھر گر ہستی سکھانی چاہئیے،کھانا پکانا اور امور خانہ داری میں کسی قسم کا سمجھوتہ یا مصلحت نہیں برتنی چاہئیے،
بچیوں کو ہر طرح کے حالات اور ہر طرح کے رویوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے زندگی گزارنے کا فن آنا چاہئیے کیونکہ زندگی خوشی اور غم سے عبارت ہے،
دھوپ چھاؤں کا کھیل ہے،
اس لئے متوازن شخصیت ہی زندگی خوش اسلوبی سے بسر کر سکتی ہے،
اسی طرح لڑکوں کی تربیت پہ بھی خصوصی توجہ دینی چاہئیے،
رشتوں کی اہمیت اور رشتوں کا احترام سکھانا چاہئیے،
آج طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے رجحان کا بنیادی سبب یہی ہے کہ رشتوں کی اہمیت اور احترام ختم ہو گیا ہے،
جب بھی شادی شدہ زندگی میں بگاڑ آتا ہے اور معاملہ بیڈ روم سے نکل کر ڈرائنگ روم میں چلا جاتا ہے تو یہاں ہونا تو یہ چاہئیے کہ چاہے غلطی کسی کی بھی ہو دونوں طرف کے بڑوں کو صرف اور صرف صلح کی کوشش کرنی چاہیئے تاکہ کوئ بھی فریق اپنی انا اور عزت کا مسئلہ نہ بنائے،
لیکن اس کے برعکس ہمارے ہاں ہوتا کیا ہے؟؟
دو فریق بن جاتے ہیں،
ایک فریق لڑکی والے اور دوسرا فریق لڑکے والا ہوتا ہے اور ان دونوں کی اولین ترجیح مخالف فریق کو قصور وار ثابت کرنا ہوتا ہے،
یعنی وہ یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں کہ تالی ایک ہاتھ سے ہی بجی تھی،
لڑکی والوں کی نظر میں لڑکا قصور وار ہوتا ہے اور لڑکے والے لڑکی کو فساد کی جڑ سمجھتے ہیں،
اب اس طرح سے اگر معافی تلافی کے بعد صلح ہو بھی جاتی ہے تو بھی شادی شدہ جوڑے کے دلوں میں گرہ لگ چکی ہوتی ہے،
رشتے میں کھچاؤ آجاتا ہے اور یہ چیز پھر غیر محسوس طریقے سے زندگی کے ساتھ ساتھ چلتی ہے اور اکثر وجۂ تنازعہ بنتی ہے،
شادی شدہ زندگی میں اگر کبھی تیسرے فریق کی مداخلت ناگزیر ہو جائے تو دونوں طرف کے بزرگوں کو لڑکے اور لڑکی دونوں کو سمجھانا چاہئیے اور پھر بعد میں انفرادی طور پر دونوں کے والدین اپنے اپنے بچوں کو سمجھائیں تاکہ وہ آئندہ ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق اور محبت سے رہیں،
میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے راز دار ہوتے ہیں اور اگر دونوں میں سے کسی ایک سے کوئ غلطی ہو جائے تو ایک دوسرے کا لباس بن کر پردہ پوشی کرنی چاہئیے،
پنچائیت میں ایک دوسرے پہ انگلیاں اٹھانے سے رنجشیں جنم لیتی ہیں جو جنم جنم ساتھ چلتی ہیں،
عزت۔۔۔۔!! محبت سے بھی پہلے اور ضروری چیز ہے،
محبت۔۔۔۔۔!! کے بغیر تو زندگی گزر جاتی ہے لیکن عزت کے بغیر زندگی نہیں گزر سکتی،
ایک چھت کے نیچے رہتے ہوئے انسانی فطرت ہے کہ توتو میں میں ہو جاتی ہے ایسے میں معاملے کو باہم گفت و شنید سے رفع دفع کر دینا چاہیئے،
اور اگر معاملہ دونوں طرف کے بزرگوں کے پاس چلا جائے تو انھیں یہ سوچ لینا چاہئیے کہ تالی دونوں ہاتھوں نے مل کر بجائ ہے اس لئے دونوں ہاتھوں کو روکنا پڑے گا،
اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ کبھی کبھی تالی ایک ہاتھ سے بھی بج جاتی ہے ایسی صورت میں ایک طرف ہاتھ ہوتا ہے تو دوسری طرف کسی کا گال،
اور پھر صورت حال میں متاثرہ فریق ہمدردی کا مستحق ہوتا ہے،

شادی شدہ زندگی کے معاملات بہت نازک ہوتے ہیں،
اس لئے میاں بیوی دونوں کو بہت صبر اور برداشت کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے،
جہاں میاں بیوی کے درمیان صبر اور برداشت نہیں ہوتا وہاں پھر خاندان دست و گریباں ہوتے ہیں اور بات طلاق اور خلع تک پہنچ جاتی ہے،
اور حلال چیزوں میں طلاق کو ہمارے رب نے ناپسندیدہ چیز قرار دیا ہے،
سوچیں طلاق حلال بھی ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کو ناپسند بھی ہے اس لئے کہ اس سے خاندان کا شیرازہ بکھر جاتا ہے،
طلاق اور خلع کے نتیجے میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں،
معصوم بچے جیتے جی باپ کے سائے سے محروم ہو جاتے ہیں،
اس طرح زندگی گزرتی تو ہے لیکن زندگی جینے کا لطف چھن جاتا ہے،
زندگی جینا ایک خوشی ہے اور زندگی گزارنا ایک مجبوری،

محبت کے لئے دل ڈھونڈ کوئ ٹوٹنے والا،
یہ وہ مئے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں،

💕💕💕

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے