Home / کالم / ہماری بے بسی

ہماری بے بسی

“ہماری بے بسی اور ضرورت نفاذ نظام شریعت”
تحریر
“محمد حذیفہ معاویہ تونسوی”

کرونا کی آڑ میں یہ کیا کھیل کھیلا جارہا ہے؟عقل حیرت میں ڈوبی ہوئی ہے۔
جب سے لاک ڈاون ہوا حکومت نے بازاروں، شاپنگ مالز، میڈیا اور سیاسی اجتماعات سے نظریں ہٹا کر مساجد، دینی حلقوں اور خاص طور پر جمعہ کے اجتماعات پر گاڑ لیں۔ پھر جب نرمی کی گئی تو صرف بازاروں کی حد تک ،مساجد اور جمعہ کے اجتماعات پر پھر بھی مسلسل پابندی اور سختی برقرار رہی۔ سوچنے کی بات تھی کہ جب بازار کھل سکتے ہیں تو فرض نمازوں اور ادائیگی جمعہ کے لیے مساجد کیوں نہیں؟؟اگر بات یہاں تک ہوتی تو ٹھیک تھا، لیکن بات تو اس سے بھی آگے بڑھ چکی ہے۔ ابھی چند پہلے21 رمضان المبارک،جمعہ کے دن اہل تشیع کو جلوس اور ماتم کی اجازت دی گئی،صرف اجازت ہی نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے ان کے لیے مکمل سکورٹی کا انتظام بھی کیاگیا تھا۔ اب پوچھنا یہ تھا کہ کیا اس جمعے کے دن کرونا سے معاہدہ کر لیا گیا تھا یا پھر کرونا رخصت پر تھا؟؟
کیا کرونا صرف نمازوں اور دینی اجتماعات کے لیے مضر ہے؟ کیا کرونا کا سیاسی جلسوں اور غیراسلامی اور غیر مذہبی حلقوں سے کوئی تعلق نہیں ؟؟

یاد رکھیں اس سے پہلے سندھ حکومت کی طرف سے ہر جمعے کے دن 12 بجے سے لے کر 3 بجے تک مکمل لاک ڈاون ہوتا تھا۔ اس پر سختی کا یہ عالم تھا کہ لاٹھی چارج سے بے دریغ نہیں کیا جاتا تھا۔ کئی آئمہ مساجد،علماءاور لوگوں کو گرفتاراور نذر بند کیا گیا،ان کا قصور صرف اتنا کہ وہ نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آتے تھے۔
لاہور میں ایک گھر کا دروازہ توڑ کر نماز پڑھنے والے 40 افرادکوحراست میں لے لیا گیا۔
اس کے برعکس ایک دوسرا طبقہ جس کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے،
انہیں جلوس اور ماتم کی اجازت دی دے جاتی ہے۔ اگر ہماری فرض نماز پر جہاں پر صرف 50 سے سو تک یا دوسو تک آدمی ہو سکتے ہیں ان پر پابندی لگ سکتی ہے تو غیر اسلامی جلوسوں اور ماتم پر کیوں نہیں لگائی گئی جہاں پر ہزاروں لوگ جمع تھے؟

میں مغربی سوچ کے مالک ان دانشوروں سے کہنا چاہتا ہوں جو مساجد میں نمازوں پر پابندی کے معاملے میں مشتعل ہو رہے تھے،ان کی خدمت میں دست بستہ عرض ہے کہ جناب رمضان المبارک میں روزہ کھانے پینے سے رکنے کا ہوتا ہے۔حق بات چھپانےاور خاموش رہنے کا نہیں۔ یہاں پر آپ کیوں خاموش ہیں؟؟اب تمہارے وہ کرونا کے نقصانات والے فلسفے کہاں گئے؟؟
کیا کرونا صرف، مساجد،مدارس،سکول،کالج، اور تعلیمی حلقوں کے لیے ہے؟؟ کیا تمہاری بھڑکیں صرف علماء غرباء اور مسلمانوں کے لیے ہیں ؟؟

افسوس تو یہ ہے کہ ایک ہی ملک میں دو قومی نظریے کا تصور پیش کر کے حکمران خود دینی حلقوں میں غصے اور اضطراب کی فضاء پیدا کر رہے ہیں۔ حکمرانوں کی مجبوری اور بے بسی کا اندازہ امیرشرہیدی کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے جلوس سے پہلے دیا۔ جس میں اس نے واضح طور پر کہا ہے، “جلوسوں پر کوئی پابندی نہیں ہے اور کوئی پابندی لگا بھی نہیں سکتا،آزاداری ہوگی اور جلوس نکالے جائیں گے۔”
کیا ان کا یہ بیان ریاستی قانون کو چیلنج نہیں کرتا؟؟ پھر بھی ان کے خلاف کوئی ری ایکشن سامنے نہیں آیااور آنے کے کوئی امکانات بھی نہیں ہیں۔
اب ناچاہتے ہوئے بھی انسان یہ سوچنے اور سمجھنےپر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخرکچھ تو ایسا ہے کہ جس کی بدولت ہر غیر مسلم بلاخوف و خطر، قانون اور اسلام کی،جب اور جہاں چاہتا ہے دھجیاں بکھیر دیتا اور ہماری حکومت ان کے خلاف کوئی بھی ایکشن لینے سے ہمیشہ قاصر رہتی ہے ۔

اگر چند سال قبل اور موجودہ حالات کی کڑیاں آپس میں ملائیں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایک پراسرار نظام غیر محسوس طریقے سے ہم پر مسلط کیا جاچکا ہے،جس کے آگے ہم بے بس ہو کر رہ گئے ہیں۔ خصوصا ان چند سالوں میں تو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک طوفان
کھڑا کر دیا گیا ہے۔ آئے دن ہمیں ظلم و ستم اور ذہنی اذیت کے کئی مراحل سے گزارا جاتا ہے کبھی گستاخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر تو کبھی قادیانیوں کو آگے لا کر۔۔۔۔ کبھی ختم نبوت یاقانون رسالت میں ترمیم کے منصوبےبنائے جاتےہیں، تو کبھی حج کے فارم سے ختم نبوت کے حکم نامے اور پنجاب ٹیکسٹ بک سے ختم نبوت کے الفاظ کو نکالنے کی سازشیں کی جاتی ہیں۔کبھی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیتوں میں شامل کرنے کی باتیں ہوتی ہیں تو کبھی دشمنان صحابہ رض کو سر عام دہشت گردی اور شر پھیلانے کی اجازت فراہم کی جاتی ہے۔
یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ ہم کس قدر مجبور ہو کر رہ گئے ہیں۔ دشمنان اسلام ہمارے سینے پر پاءوں رکھ کر اپنے ناپاک عزائم مکمل کر رہےہیں اور ہم صرف چیخنے اور چلانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔
ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسوء رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مقدم رکھیں۔ وہ نظام جو آقامدنی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے اس کے نفاذ اور دین اسلام کی سربلندی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ یہی ہماری نجات اور عزت کا واحد راستہ ہے، جس پر ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے