Home / کالم / اسلام اور پاکستان کے پاسبان

اسلام اور پاکستان کے پاسبان

تحریر:
حافظ عمیرحنفی

اردو ایک وسیع مفہوم رکھنے والی شیرینی زبان ہے، اردو اپنی تمام تر اپنائیت جلوہ ریزی ، رعنائی اور ساحری کے باوجود بڑی صبر آزما اور کم آمیز ہے، ہر زبان کی طرح اس کی بھی اپنی ادائیں، اپنا ناز اور بانکپن ہے. اردو زبان فنی خوبیوں اور اصولی باریکیوں کا مجموعہ ہے اس پر عبور حاصل کرنے کے لیے مزاولت اور محنت ہائے شاقہ درکار ہوتی ہے، ہر زمانہ میں مختلف فنون کے طالب ان فنون کے ماہر اساتذہ سے اپنی تشنگی دور کرنے کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر کیا کرتے تھے ایک زمانہ تھا جب لوگ شوق مطالعہ میں بیسیوں کتب کا مطالعہ کرجاتے تھے، ہزاروں میل کا سفرصرف حصول علم کے لیے ہوا کرتا تھا علامہ ابن جوزیؒ نے ابوالوفإ ابن عقیل کے بارے میں لکھا ہے کہ اس اللہ کے بندے نے اسّی80 فنون کے بارے میں کتب لکھی ہیں، ایک کتاب 800 سو جلدوں میں ہے۔خود ابن جوزیؒ نے ہرفن پر کوئی نا کوئی کتاب چھوڑی ہے.

غرض کہ جو قومیں وقت کی قدر اور اپنی اہمیت و صلاحیتوں سے بخوبی واقف ہوجاتی ہیں وہ صحراٶں کو گلشن میں تبدیل اور فضاٶں پر قبضہ کرسکتی ہیں، وہ پہاڑوں کے جگر پاش پاش کرسکتی ہیں، وہ عناصر کو مسخر کرسکتی ہیں، وہ ستاروں پر کمندیں ڈال سکتی ہیں،وہ زمانہ کی زمام ِ قیادت سنبھال سکتی ہیں. ہر زمانہ میں اس وقت کی زبان کو فروغ و ترویج کے لیے مختلف جماعتوں نے اپنی بساط کے مطابق کام کیا ہے دور حاضر میڈیا کی جنگ کا دور ہے ہماری معاشی، معاشرتی، سماجی اور قومی ترقی کا راز اسی قلم و صحافت کے مثبت استعمال میں ہے اس قلم و قرطاس کا صحیح استعمال آنے والی قومیں بنا سکتا ہے.

رہتا ہے قلم سے نام قیامت تک اے ذوق
اولاد سے تو یہی دو پشت چار پشت

ایسے میں ہی انہی عزائم و مقاصد کو لیے دو سال قبل ایک ادبی کارواں کی بنیاد رکھی گئی جس کو “پاسبان بزم قلم پاکستان” کا نام دیا گیا. دھیرے دھیرے لوگ اس کارواں کے ساتھ ملنا شروع ہوگئے، جب نیت میں اخلاص، جذبوں میں سچائی اور سوچ مصفی ہو تو لوگ ملتے چلے جاتے ہیں. یہ کارواں بڑھنا شروع ہوا تو ادباء اور اہل قلم اکابرین کے سایہ کی کمی محسوس ہوئی تو بابائے صحافت جناب ڈاکٹر اجمل نیازی صاحب ودیگر نامور ادبی شخصیات نے دست شفقت رکھا. یہ کارواں ان کی دعا و سرپرستی میں پھر سے انگڑائی لے کر میدان ادب میں آگیا، ابھی حال ہی میں پہلی دفعہ ملکی سطح پر ممبرشپ کا اعلان کیا گیا جس میں اندرون و بیرون ملک سے ہزاروں لوگ شریک ہوئے. یوں یہ ایک بہت بڑا قافلہ بن گیا (اس کی سرپرستی فرمانے والے مولانا مفتی عبدالصمد ساجد ، مولانا جہاں یعقوب ، مولانا تنویر احمد اعوان، مولانا رضوان اللہ پشاوری مدظلہم اور جناب رانا زاہد اقبال صاحب ہیں. اس قافلہ کی رہبری جناب مدثر کلیم سبحانی کررہے ہیں جبکہ انتظامی امور کو حافظ عثمان علی معاویہ صاحب دیکھ رہے ہیں، نائب منصب کے فرائض جناب حافظ امیر حمزہ سر انجام دے رہے ہیں.جنرل سیکرٹری مولانا محمد نفیس دانش اورسیکرٹری انفارمیشن افضال احمد تتلا صاحب ہیں.
اس ممبر شپ مہم کے بعد باقاعدہ سیکھنے سکھانے کا عمل شروع ہوا اول ایک تحریری مقابلہ کروایا گیا تاکہ افراد کی قلمی قوتوں کا اندازہ ہوسکے جس میں خواتین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا واضح رہے کہ خواتین کے لیے علیحدہ گروپ ہے ان کی سرپرستی بھی ایک خاتون ہی کررہی ہیں.

بعدازاں کافی احباب اپنی قلمی جولانیاں دکھانے میدان عمل میں اترے اور اپنے کالمز اشاعت کےلیے پیش کیے

پہلے سینئر حضرات نے ان تحاریر کی تصحیح کی پھر شعبہ نشرواشاعت نے اس فریضہ کو انجام دینے کے لیے سر توڑ کوششیں کیں جس کے نتیجہ میں
علاقائی اخبارات سے ملکی اخبارات تک نئے لکھاریوں کے کالم لگنا شروع ہوگئے، اب کئ نامور لکھاری جو اس پاسبان کا اعزاز ہیں اور مرکزی رہنما ہیں روزانہ کی بنیاد پر مستقل مختلف قومی اخبارات میں لکھ رہے ہیں جن میں جناب رانا زاہد اقبال صاحب جناب شاہد ندیم احمد صاحب مولانا محمد نفیس دانش مولانا احمد ضیاء، مولانا محمد امجد، محمد سجاد اور خواتین میں محترمہ کہکشاں اسلم صاحبہ علیشہ چوہدری اور نوریہ مدثر سرفہرست ہیں. کئی لکھاری ملکی اخبارات میں مستقل لکھ رہے/ رہی ہیں.

پاسبان بزم قلم پاکستان اب تک 1000 ایک ہزار سے زیادہ کالم شائع کروا چکا ہے، اکثر خصوصی اشاعت کا سلسلہ بھی پاسبان کے ممبران کے لیے جاری رہتا ہے. اسی طرح ہر موقع پر ملکی آواز بن کر لکھنے کا اعزاز بھی پاسبان بزم قلم پاکستان کو ہی حاصل ہے! پاسبان کے ممبران اب باقاعدہ طور پر ملک کے نامور اخبارات جن میں روزنامہ پاکستان، روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ 92 نیوز، روزنامہ اسلام، روزنامہ نئی بات، روزنامہ مشرق، روزنامہ جہان پاکستان، روزنامہ افلاک، روزنامہ صحافت، روزنامہ طاقت، روزنامہ جناح، روزنامہ امن، روزنامہ اکثریت، روزنامہ بولتا پاکستان، روزنامہ لیڈر، روزنامہ آئین، روزنامہ حرمت ودیگر کئ ملکی اور علاقائی اخبارات میں لکھ رہے ہیں. ابھی چند دن قبل ایک آن لائن صحافت کورس کروایا گیا جس میں کئی لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کامیاب کورس رہا. پاسبان بزم قلم پاکستان کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر کام کو مزید منظم کردیا گیا ہے اور اپنے مقاصد کو واضح کیا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں

1:ہمارا مقصد ملک پاکستان کے باذوق احباب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے اردوادب کے میدان میں اجتماعی جدوجہد کیلئے تیار کرنا ہے ۔
(2) نئے لکھاریوں کی تلاش جواپنی بات قلم وکتاب کے ذریعے اپنے پیاروں تک پہنچانے کی خواہش رکھتے ہیں۔
(3) ہمارے اس فورم کا مقصد معیاری ادب اور اختراعی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر پڑھے لکھے نوجوان کے ہاتھ میں قلم تھما یا جا سکے اور اسی جدوجہد میں کوشاں ہیں ..!

(4) اور ہرنئے لکھاری کی تحریر مختلف اخبارات، رسائل اور ویب سائٹس پر شائع کروانے کے ساتھ بہترین انداز میں حوصلہ افزائی کرنا۔
پاسبان بزم قلم کے تمام ممبران کی شعبہ صحافت سے وابستگی کے ساتھ ملکی سطح کے رائٹرز حضرات سے باقاعدہ ملاقات کرائی جاتی ہیں ۔
(5) اردو ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل میں فکر و شعور اور اسلامی تشخص کو اجاگر کرنا۔
(6) ادب کے میدان میں نئے انداز میں کام کرنے والے تمام ممبران کابھرپور تعاون اور اس کے ساتھ بہترین انداز میں ان کی رہنمائی کرنا۔
(7) پاسبان بزم قلم اپنے تمام ممبران کو مختلف اوقات میں آن لائن صحافت کورس بھی کرواتا رہا ہے.
(8) ممبران کے ذوق ادب اور اختراعی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے تحریری مقابلے ،مضمون نویسی اور شاعری کے مقابلے بھی کرائے جاتے ہیں.

یقیناً پاسبان بزم قلم ایسے نوجوان صحافیوں، لکھاریوں کے دستہ کا نام ہے کہ جنہوں نے اپنے قلم کو الفت ومحبت، صداقت وامانت، اشاعت دین اور حق کے فروغ کا ذریعہ بنایا، جنہوں نے اپنی روشن تحریوں سے تاریک دلوں کو روشن کیا،جن قلم کاروں نے ملت کے درد کو تحریر کا جامہ پہنا کر فکر فردا کےلیے ہزاروں اور لاکھوں افراد کی ذہن سازی کی، جنہوں نے اپنے ضمیر کو بکنے نہ دیا اور حق کے پرچم کو جھکنے نہ دیا، دو سال قبل اردو ادب کے فروغ کے لیے آگے بڑھنے والا یہ فورم اب مزید کام کو فعال کرتے ہوۓ اپنے ممبران کے لیے بڑے پیمانہ پر مختلف ترتیبات شروع کررہا ہے مصنفین، علماۓ کرام ، لکھاری حضرات، معروف کالم نویس حضرات کے زیر سایہ کام کو مزید وسیع کردیا گیا ہے.
دعا ہے اللہ کریم اس قافلے کو حاسدین کی حسد سے بچائے، پوری ٹیم کو خلوص نیت سے ادب، اسلامیت، انسانیت اور پاکستانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، مولائے کریم اس بزم کو دن دگنی ترقیاں عطا فرمائے آمین ثم آمین

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے