Home / کالم / چل بسے!

چل بسے!

آہ!مفکر اسلام ڈاکٹر خالد محمود بھی چل بسے!
تحریر:
محمد عثمان شجاع آبادی

بیس رمضان المبارک 1441 بمطابق 14 مئی2020عیسوی بروز جمعرات دن تین بجے کے قریب عالم اسلام کی عظیم علمی وروحانی عبقری شخصیت دارالعلوم دیوبند کے چشم و چراغ،علم و عمل کی عملی تصویر حضرت الشیخ ڈاکٹر مولانا علامہ خالد محمود پی ایچ ڈی لندن کا انتقال پر ملال ہوگیا انا للہ وانا الیہ راجعون
آج ان الفاظ کو تحریر کرتے وقت دل افسردہ،آنکھ نم اور قلم لرز رہا ہے کہ عالم اسلام کی عظیم علمی و روحانی شخصیت ہمیں چھوڑ کر داعی اجل کو لبیک کہہ چکی ہے،حضرت الشیخ ڈاکٹر صاحب کا تعارف مجھے ان کی کتاب ” مقام حیات “ کا مطالعہ کرنے سے ہوا،حضرت ڈاکٹر صاحب کا دلنشیں،سادہ اور علمی طرز تحریر کا قلب پرایسا جادو ہوا کہ پوری کتاب کا مطالعہ کیے بغیر دل کو قرارنصیب نہیں ہوا۔
آپ مشنِ شاہ ولی اللہؒ کے پاسبان،فکر نانوتوی کے امین، انوری علوم و معارف کے وارث،علم و معرفت کا بحر بے کراں،اسرار شریعت کا نکتہ رس،دیوبند کی آنکھ کا تارا اور تحریک ختم نبوت کے مجاہد و رہنماء تھے۔یہ تنہاء علامہ صاحب کی وفات نہیں بلکہ چمنستان علم وعمل سے فصلِ بہار کی رخصت اور کمالِ علم کے پھولوں سے شادابی کا خاتمہ ہے۔
حضرت علامہ صاحب رحمہ اللہ کی پیدائش آپ کے بقول 1925 میں قصور میں ہوئی جبکہ ہم عصراور پرانے ساتھیوں کے بقول 1923 میں ہوئی یوں آپ نے کل عمر 98 سال اور بعض کے مطابق 96سال پائی۔
آپ ؒنے ابتدائی تعلیم دارالعلوم حنفیہ قصور میں حاصل کی،بعد ازاں دینی و عصری علوم کے لئے امرتسرتشریف لے گئے اوروہاں آپ نے مفتی محمد حسن صاحب ؒسے عربی علوم و فنون کی کتابیں پڑھیں،پھرعلوم شرعیہ کی تکمیل کے لیے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور درس نظامی کے آخری درجہ” دؤرہ حدیث “ میں داخلہ لیا اس وقت جامعہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ تھے آپ کے دؤرہ حدیث کی تکمیل سے پہلے حضرت مدنی رحمتہ اللہ علیہ گرفتار ہوگئے،آپ اپنے محبوب استاد کی گرفتاری کے بعد ڈاھبیل شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب رحمہ اللہ کے پاس تشریف لے گئے اور وہاں دورہ حدیث مکمل کیا،آپ کے دیگراساتذہ میں،حضرت علامہ ابراھیم بلیاوی، مفتی اعظم مفتی محمد شفیع عثمانی، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا، علامہ شمس الحق افغانی، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی، حضرت مفتی محمد حسن صاحب (بانی جامعہ اشرفیہ لاھور) رحمہم اللہ سرفھرست ہیں۔
عصری علوم میں ایم اے کرنے کے ساتھ ساتھ قانون کی ڈگری بھی حاصل کی،دینی و عصری علوم مکی تکمیل کے بعد آپ شعبہ تدریس و تالیف سے منسلک ہوگئے اورپاکستان کے اہم کالجز (مرے کالج سیالکوٹ، ایم او کالج لاہور، ڈگری کالج خانیوال) میں پروفیسر رہے۔ عصری تعلیمی اداروں میں تدریس کے ساتھ ساتھ آپ دینی تعلیمی اداروں میں بھی تدریس کرتے رہے،دینی علوم کی کتابوں،مناظرہ اور دیگر فنون پڑھانے میں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا،آپ کی علمی قابلیت اور علمائے کرام کے اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے آپ کو رد قادیانیت پر کتاب لکھنے کا حکم فرمایاچنانچہ آپ نے پہلی کتاب ”عقیدۃ الامت فی معنی ختم نبوت “ لکھی، اسی طرح آپ نے رد قادنیت پرمطالعہ قادنیت، عقیدۃ الامم فی مقامات عیسی ابن مریم، عقیدۃ السلام فی الفرق بین الکفر والاسلام، مرزاقادیانی شخصیت وکردارجیسی بڑی کتابوں کے علاوہ بہت سے رسائل بھی تحریر فرمائے،قادیانیوں کے منجھے ھوئے پاپی مناظرین نے ہمیشہ آپ سے منہ کی کھائی،اور دوبارہ کبھی آنے کی ہمت نہ کی،یورپی ممالک بالخصوص امریکہ، برطانیہ اور ساؤتھ افریقہ کے جنگلوں سے لے کر عدالتوں تک قادیانیت کو علمی میدان میں مار بھگانے میں آپ اپنی مثال آپ ہیں۔تصنیف و تالیف کے میدان میں آپ کی تعریف بزبانِ طیب(حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ)یوں ادا ہوئی کہ کسی کتاب کی حقانیت کے لئے اتنا کافی ہے کہ اس پر ڈاکٹر خالد محمود ؒ کا نام ہے،آپ کی علمی قابلیت کی تعریف جہاں دیگر اکابرین نے کی ہے وہاں امیر شریعت آپ کی علمی قابلیت کو ان خوبصورت الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں ” اگر ایک نیا فرقہ عصر کے وقت جنم لے، علامہ صاحب سورج غروب ہونے سے پہلے اس فرقے کا دلائل سے قلع قمع کرسکتے ہیں“
آپ کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ آپ نے فرقہائے باطلہ بالخصوص ”رد رافضیت“ میں تنہا ایک جماعت کا کام کیا ہے،دفاع صحابہ رض و تردید رفض پہ آپ کا کام آئندہ کے لیے سند اور مرجع کی حیثیت رکھتا ہے، ردرفض میں آپ کی اہم کتب ”عبقات 2جلد، تجلیات آفتاب 2جلد، خلفائے راشدین 2جلد، معیار صحابیت، محرم کی پہلی دس راتیں، دوازدہ احادیث، عظمت الاصحاب فی بیان ام الکتاب“ہیں۔مبتدعین کے رد میں دس جلدوں پہ مشتمل مطالعہ بریلویت آپ کا عظیم علمی وتاریخی شاہکار ہے۔
اس کے علاوہ عصری نوجوانوں کے لیے آپ کا تیار کردہ دینی تعلیم کا جاندار نصاب 4 کتب پہ مشتمل ہے، جوکہ مندرجہ ذیل ہیں:” آثارالتنزیل 2جلد، آثارالحدیث 2جلد، آثارالتشریع 2جلد، آثارالاحسان 2جلد “۔
حضرت ڈاکٹر صاحب کے وصالِ پرملال کے بعد اس نقار خانہ خدا میں اشرف المخلوقات کی زباں پر اپنے حزن وملال کے اظہار کے لئے الگ الگ جذبات ہیں
کسی نے کہا کہ آج سنیت یتیم ہوگئی، کسی نے کہا کہ آج عرب وعجم اور یورپ و ایشیا کے اس صدی کے سب سے بڑے عالم دین چل بسے، کسی نے کہا کہ اس صدی کا سب سے بڑا مناظر ومحقق رخصت ہوا، کسی نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند کا فخر چلا گیا، کسی نے فرمایا کہ حضرت پر قوتِ حافظہ،حاضر جوابی اور نکتہ رسی بھی ناز کرتی تھی، کسی نے فرمایا فقر اور درویشی کا تاجدار چل بسا، جو کہا جائے سب بجا ہے اور آج جتنا غم کیاجائے کم ہے۔شورش کاشمیریؒ کے ان اشعار کے ساتھ اپنے اس مضمون کا اختتام کرتا ہوں ……

عجب قیامت کا حادثہ ہے،کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے، اُفق پہ مہر مبین نہیں ہے
تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے