Home / کالم / وقت کی قدر و قیمت

وقت کی قدر و قیمت

تحریر۔۔۔
محمد عثمان،کراچی

اللہ تعالی کی نعمتیں دن رات ہم پر موسلادھار بارش کی طرح مسلسل برس رہی ہیں۔ ہر لحظہ و ہر آن اِن نعمتوں کا تسلسل جاری ہے۔ایمان و اسلام، صحت وعافیت،یادداشت کی نعمت، عمر اور وقت کی نعمت ربّ ذوالجلال کی بہت بھاری اور بڑی نعمتوں میں سے ہیں۔
اللہ نے قرآن میں انسان کو مخاطب فرما کر پیارا ارشاد فرمایا ہے: اور تم اپنے پالنہار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاٶگے؟“
پھر ان بیش بہا نعمتوں میں سے جن اشیا ٕ کی قدر اور حفاظت انسان بڑے اہتمام سے کرتا ہے، وقت ان میں سرِ فہرست اور عمدہ ترین ہے، یہ بات انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ وہ اپنی عمدہ ترین چیز کو اپنے پسندیدہ مقصد کے حصول کے لیے صرف کرتا ہے; لہذٰا انسان کو چاہیے کہ اپنے وقت کو اللہ تعالی کی رضا اور خوش نودی حاصل کرنے میں صرف کرے، کیوں کہ عمر اور وقت ایک سواری ہے،جب یہ سواری ہی نہ رہے تو انسان اپنی منزلِ مقصودتک نہیں پہنچ سکتا، اور نہ ہی اپنی مراد حاصل کر سکتا ہے۔

امام حسن البنا ؒ فرماتے ہیں کہ: ” وقت سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے کیونکہ آپ گمشدہ سونے سے کٸی گنا زیادہ دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں لیکن گٸے وقت اور گزرے زمانے آپ نہیں لوٹاسکتے“۔
اسی لیےوقت سونے سے زیادہ قیمتی ہے، الماس و گوہر سے زیادہ گراں قدر ہےاور ہر جوہر و عرض سے بالا ہے۔

رسول اللہﷺ نے وقت کی قدر و قیمت کا بہترین نقشہ اس حدیث میں پیش کیا ہے:
” ہر روز فجر طلوع ہوکر پکارتی ہے کہ اے ابنِ آدم! میں نٸی خلقت ہوں اور تیرے اعمال پر گواہ ہوں، تومیرے ذریعے زادِ راہ تیار کر لے;کیونکہ میں قیامت تک اب نہیں پلٹوں گی“۔
اور پھر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جواللہ کے اس فرمان کا مصداق بن جاٸے۔
” بھلا کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس کسی کو اس میں سوچنا سمجھنا ہوتا، وہ سمجھ لیتا؟ اور تمہارےپاس خبردار کرنے والا بھی آیا تھا ۔ اب مزا چکھو، کیونکہ کوٸی نہیں ہے جو ایسے ظالموں کا مددگار بنے۔۔(الفاطر ٣٧)

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سامنے ہر صبح اور ہر شام ایسی گھڑیاں آتی ہیں جس میں ہم اپنی روح کو پاکیزہ بنا سکتے ہیں۔ ہمارے آگے جمعے کا دن اور رات ہے، اس میں ہم اللہ کی رحمت کے بہتے سمندر سےسیراب ہو سکتے ہیں۔ ہمارے لیے طاعت کے خاص موسم، عبادات کے مخصوص ایّام اور قرب حاصل کرنے والی راتیں آتی ہیں جن کی طرف قرآنِ مجید اور رسول اللہ ﷺ نے توجّہ دلاٸی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ان مبارک اوقات میں غافل رہنے کے بجاٸے اللہ کو یاد کرنے والوں میں شامل ہونے کی تمنا کریں، مست پڑے رہنے کے بجاٸے عمل میں مصروف ہونے کی خواہش کریں۔

عربی زبان کا ایک محاورہ ہے جس کا ترجمہ ہے کہ:
” اور تو وقت کی طرح فیصلہ کن ہوجا۔ “شاید” میں میں خرابی ہی خرابی ہے اور “لیت و لعل” کو چھوڑدے کہ وہ سب سے بڑی علّت ہے“۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قبولیت والے اعمال اور برکت والے اوقات نصیب فرماٸے۔آمین

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے